کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


تاجکوں اور پاکستانیوں کے ثقافتی تعلقات – امام علی رحمان

صدرِ تاجکستان امام علی رحمان کی جامعۂ قائدِ اعظم، اسلام آباد میں ۱۲ نومبر، ۲۰۱۵ء کے روز کی گئی تقریر سے ایک اقتباس:
"مناسبت‌های نیک و سازندهٔ تاجیکان و پاکستانیان از گذشتهٔ دُورِ تاریخ منشاء می‌گیرند. در عصرهای میانه مردمانِ ما را رابطه‌های گوناگون‌عرصه، به خصوص فرهنگِ مشترک و ادبیاتِ مشترک با یکدیگر پیوند می‌دادند. ریشه‌های مشترکِ فرهنگی و تاریخی و نزدیکیِ زبان‌های فارسی و اردو برای مردمانِ ما امکان می‌دهند از ارزش‌های فرهنگیِ همدیگر بهره‌مند باشند.”
ترجمہ: "تاجکوں اور پاکستانیوں کے خوب اور سودمند تعلقات تاریخ کے بعید زمانوں سے شروع ہوتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں ہمارے لوگوں کو کثیر جہتی رابطوں، بالخصوص مشترک ثقافت اور مشترک ادبیات نے ایک دوسرے سے پیوستہ رکھا تھا۔ مشترک ثقافتی و تاریخی بنیادیں اور فارسی اور اردو زبانوں کی نزدیکی ہمارے لوگوں کے لیے یہ ممکن بناتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی ثقافتی اقدار سے بہرہ مند ہو سکیں۔”
ماخذ


روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


"میر سید علی ہمدانی زبانِ فارسی کے مبلغ تھے”

"میر سید علی ہمدانی کی بے نظیر شخصیت اور پُرثروت تالیفات زمانوں سے اہلِ علم و دانش کی توجہ کو جلب کرتی آ رہی ہیں۔” یہ بات آج شہرِ دوشنبہ میں عالموں اور دانشمندوں کی موجودگی میں منعقد ہونے والے موتمر ‘میر سید علی ہمدانی کا عالمی تمدن میں مقام’ کے دوران کہی گئی۔
مذکورہ موتمر بزرگ مفکر میر سید علی ہمدانی کے سات سو سالہ جشن کے افتخار میں وزارتِ ثقافتِ تاجکستان کی تحقیق گاہِ علمیِ و تدقیقاتیِ ثقافت و اطلاعات کی کوششوں سے منعقد ہوا۔ موتمر کے آغاز میں تحقیق گاہ کے مدیر شریف کامل زادہ نے کہا کہ اس موتمر کا ہدف مشرق زمین کے مفکر میر سید علی ہمدانی کی غنی میراث سے آشنائی ہے۔
اکادمیِ علومِ جمہوریۂ تاجکستان کے نائب معتمدِ اعلیٰ میرزا مُلّا احمد اوف نے کہا: "حکومتِ جمہوریۂ تاجکستان کی قرارداد سے رواں سال میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی تجلیل مشرق زمین کے اس مفکرِ بزرگ کے احوال و اثار کو عمیق تر پہچاننے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نیز، عظیم شاعر و عارف کے افکار و خیالات کی تحقیق و آموزش کے نتیجے میں ہم میر سید علی ہمدانی کی تالیفات کی انسان دوستانہ اور اخلاقی جہات پر بیشتر توجہ کر کے اُن کے بہترین خیالات کو مردم تک پہنچا رہے ہیں، کیونکہ یہ عمل نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے بہت اہم ہے۔”
موتمر میں مشہور تاجک دانشمندوں میرزا مُلّا احمد، عسکر علی رجب اوف، جمال الدین سعیدزادہ اور دیگروں نے ‘میر سید علی ہمدانی کے انسان دوستانہ خیالات’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اُن کے زمانے کی ثقافت’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اقبالِ لاہوری’ جیسے موضوعات پر اور اِن بزرگ مفکر کے زمانے اور تالیفات کے دیگر پہلوؤں پر گفتگو کی۔ کہا گیا کہ میر سید علی ہمدانی کی تعلیمات قیمتی افکار کی حامل ہیں اور یہ جمہوریت، پاکیزگیِ اخلاق، تشکیلِ شخصیتِ انسان، اور دیگر خوب فضائل کی راہ میں بڑا کردار ادا کریں گی۔
میر سید علی ہمدانی ایک معروف ملّی، ثقافتی اور عرفانی شخصیت ہیں۔ وہ ایران کے شہر ہمدان میں متولد ہوئے، کشمیر میں شہرت مند ہوئے، اور حالیہ تاجکستان میں واقع خطۂ ختلان میں مدفون ہیں۔ یعنی اُنہوں نے تین قلمروؤں کو باہم متصل کیا ہے۔ یہ بزرگ مفکر خطۂ کشمیر میں مبلغِ اسلام ہونے کے ہمراہ، وہاں فارسی زبان اور تاجکوں کے تمدن کے ترغیب گروں میں سے ایک تھے۔
موتمر کے اختتام پر میر سید علی ہمدانی سے مربوط تصنیفات و ادبیات کی فہرست کی رونمائی کی گئی، اور اِن بزرگ مفکر کی تالیفات نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔

خبر کا ماخذ: تاجک اخبار ‘خاور’
خبر کی تاریخ: ۴ اگست ۲۰۱۵ء
خبرنگار: مرضیہ سعیدزادہ
مترجم: حسان ضیاء خان

× موتمر = کانفرنس


تاجکستانی نصابی کتاب میں شبلی نعمانی کا تذکرہ

تاجکستان کے مکاتب میں رائج کتاب ادبیاتِ تاجک: برائے صنفِ دہم میں صائب تبریزی پر مضمون میں یہ چیز پڑھنے کو ملی:

دانشمندِ هند شبلیِ نعمانی در ‘شعرالجم’ قضاوت می‌کند، که: "صائب، اگرچه تمامِ استادان و هم‌عصرانش را به ادب یاد می‌کرده، لیکن به بعضی اساتیدِ (استاد‌های) سخن نهایت عقیده‌مند بوده‌است. زیاده از همه، به خواجه حافظ ارادت می‌ورزد و این دلیلِ عمده‌ایست بر ذوقِ سلیمِ او…”
ترجمہ اور اصل اردو متن: ہند کے دانشمند شبلی نعمانی نے ‘شعرالعجم’ میں داوری کی ہے کہ: "صائب اگرچہ تمام اساتذہ بلکہ ہم عصروں کو ادب سے یاد کرتا تھا، لیکن خاص خاص اساتذہ کا نہایت معتقد تھا، سب سے زیادہ خواجہ حافظ کا معترف تھا اور یہ اس کی صحیح المذاقی کی بہت بڑی دلیل ہے۔”

مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ تاجکستانی طلبہ ہمارے عالمِ شہیر شبلی نعمانی اور اُن کی ممتاز تصنیف ‘شعرالعجم’ کا نام اپنی نصابی کتابوں میں پڑھتے ہیں، لیکن اس خوشی سے فزوں تر افسوس اس یادِ ماضی کی تلخ بازگشت پر ہوا کہ محض ایک صدی قبل ہم بھی اس ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور فارسی زبان و ادب و ثقافت کے اس وسیع منطقے سے منسلک تھے، لیکن گذشتہ صدی میں جس طرح ہمارا اس بلند مرتبہ فارسی تمدن سے تعلق منقطع ہوا ہے اور نتیجتاً جس طرح ہماری مجموعی ادبی و ثقافتی حیات رو بہ زوال بلکہ رو بہ مرگ ہوئی ہے، اگر میں اس انقلابِ فجیعِ روزگار پر حکیمِ طوس فردوسی کی ہم نوائی کرتے ہوئے ‘تفو بر تو اے چرخِ گردوں تفو’ کہوں تو بالکل بجا ہے۔

ویسے، اسی صنفِ دہم کی کتاب میں ابوالمعانی میرزا بیدل عظیم آبادی پر بھی ایک ۲۶ صفحات کا تفصیلی مضمون شامل ہے۔


من ‌نمی‌میرم – لائق شیرعلی

[من ‌نمی‌میرم]

تا نگیرم خون‌بهای جملهٔ قربانیان را،
تا نبخشم عمرِ آزادی همه زندانیان را،
تا نیابم راهِ دل‌های تمامِ زندگان را،
تا نبردارم به دوشم دوش‌بارِ این زمان را،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نشویم داغِ دل‌ها را به خونابِ دلم،
تا نیابم من ز دنیا دُرِّ نایابِ دلم،
تا نکابم صبح را از چشمِ بی‌خوابِ دلم،
تا نگویم داستانِ تازهٔ بابِ دلم،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نیاراید جوانی‌ام جهانِ پیر را،
تا نبندم با سرودم پیشِ راهِ تیر را،
تا نگیرم با قلم پیشِ دمِ شمشیر را،
تا نبنویسم ز نو من نامهٔ تقدیر را،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نسازم هیکلی بر یادگارِ مادرم،
تا نگردم همسرِ بامِ جهانِ کشورم،
تا نگردد مطلعِ عمرِ ابد بام و درم،
نشکند تا تشنگیِ تشنه را شعرِ ترم،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا دمی، که آفتاب از شرق بنماید طلوع،
تا دمی، که رودها از کوهسار آید فرو،
تا دمی، که زندگی باشد به راهِ آرزو،
تا دمی، که شعرِ حافظ باشد و جام و سبو،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا ندانم، که پس از من خوانده شعرم را کسی
خواب می‌بیند مرا، می‌پرسد این آواز کیست؟
تا ندانم زندگی را بعدِ من ره تا کجاست،
تا ندانم صاحبِ دنیا پس از من باز کیست،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

با دو چشمِ نورپالا،
با دو دستِ رزق‌پیما،
با دلِ دردآشنا و با سرِ پرشور و سودا،
تا قلم را پل نسازم در میانِ ساحلِ
امروز و فردا،
من نخواهم مرد عاجز،
من نخواهم مرد هرگز!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

========

[میں نہیں مروں گا]

جب تک میں تمام فداکاروں کا خوں بہا نہ لے لوں،
جب تک میں تمام زندانیوں کو ایک آزاد عمر نہ بخش دوں،
جب میں میں تمام زندوں کے دلوں کی راہ نہ پا لوں،
جب تک میں اس زمانے کا بارِ دوش اپنے شانوں پر نہ اٹھا لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں دلوں کے داغ کو اپنے دل کے خوناب سے نہ دھو لوں،
جب تک میں دنیا سے اپنے دل کا نایاب دُر حاصل نہ کر لوں،
جب تک میں صبح کو اپنے دل کی بے خواب چشم سے شق نہ کر لوں،
جب تک میں اپنے دل کے باب کی تازہ داستان نہ کہہ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میری جوانی جہانِ پیر کو آراستہ نہ کر لے،
جب تک میں اپنے سُرودوں سے تیر کی راہ نہ روک لوں،
جب تک میں قلم سے شمشیر کی دھار کُند نہ کر لوں،
جب تک میں از سرِ نو نامۂ تقدیر نہ لکھ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں اپنی مادر کی یادگار پر ایک مجسمہ نہ بنا لوں،
جب تک میں اپنے ملک کے بامِ جہاں کے برابر نہ ہو جاؤں،
جب تک میرے بام و در ابدی عمر کے مطالع نہ بن جائیں،
جب تک میرے تر اشعار پیاسے کی پیاس نہ بجھا دیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

اُس لحظے تک کہ مشرق سے آفتاب طلوع ہوتا رہے،
اُس لحظے تک کہ کوہسار سے دریا نیچے اترتے رہیں،
اُس لحظے تک کہ زندگی آرزو کی راہ پر گامزن رہے،
اُس لحظے تک کہ حافظ کے اشعار اور جام و سبو رہیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد کوئی شخص میرے اشعار پڑھ کر
مجھے خواب میں دیکھے گا، اور پوچھے گا کہ یہ صدا کون سی ہے؟
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد زندگی کی راہ کہاں تک ہے،
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد صاحبِ دنیا دوبارہ کون ہے،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

دو نُورپالا آنکھوں کے ساتھ،
دو رزق پیما ہاتھوں کے ساتھ،
درد آشنا دل اور پُرتلاطم و جُنوں سر کے ساتھ،
جب تک کہ میں قلم کو پُل نہ بنا لوں
امروز و فردا کے ساحلوں کے درمیان،
میں عاجز نہیں مروں گا،
میں ہرگز نہیں مروں گا!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

* بامِ جہاں = تاجکستانی صوبے بدخشاں اور وہاں موجود کوہ ہائے پامیر کا لقب
* مطالِع = مطلع (یعنی طلوع ہونے کی جگہ) کی جمع
* نُورپالا = نور کو صاف کرنے والا
* رزق پیما = رزق کی پیمائش کرنے والا