نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔

Advertisements

ظہیرالدین محمد بابر کے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار

ظہیرالدین محمد بابُر اپنی کتاب ‘بابُرنامہ’ کی ابتدا میں اپنے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار کے بارے میں لکھتے ہیں:

"حنفی مذهب‌لیق، پاکیزه اعتقادلیق کیشی اېدی، بېش وقت نمازنی ترک قیلمس اېدی، عُمری قضالری‌نی تمام قیلیب اېدی، اکثر تلاوت قیلور اېدی. حضرت خواجه عُبیدالله‌غه اِرادتی بار اېردی، صُحبت‌لری‌غه بسیار مُشرّف بۉلوب اېدی. حضرت خواجه هم فرزند دېب اېردیلر.
روان سوادی بار اېدی. خمسَتَین و مثنوی کتاب‌لرنی و تأریخ‌لرنی اۉقوب اېدی. اکثر شاه‌نامه اۉقور اېدی. طبعِ نظم بار اېدی، ولی شعرغه پروا قیلمس اېدی.”

"وہ حنفی مذہب و پاکیزہ اعتقاد شخص تھے، پنج وقتہ نمازوں کو ترک نہ کرتے تھے، اپنی قضائے عُمری کو تمام کر چکے تھے، اکثر تلاوتِ [قُرآن] کرتے تھے۔ وہ حضرت خواجہ عُبیداللہ [احرار] سے اِرادت رکھتے تھے، اور اُن کی صُحبتوں سے بِسیار مُشرّف ہو چکے تھے۔ حضرتِ خواجہ بھی [اُن کو] فرزند پُکارتے تھے۔
وہ روانی کے ساتھ خوان (پڑھ) سکتے تھے۔ خَمسَتَین، مثنوی اور تاریخ کی کتابوں کا مُطالعہ کر چکے تھے۔ اکثر شاہنامہ خوانا (پڑھا) کرتے تھے۔ وہ طبعِ شاعری رکھتے تھے، لیکن شعر [کہنے] کی پروا نہیں کرتے تھے۔”

× ‘خمسَتَین’ سے نظامی گنجوی اور امیر خُسرو کے پانچ پانچ مثنویوں کے مجموعے، اور ‘مثنوی’ سے مولانا رُومی کی مثنویِ معنوی مُراد ہے۔
× خوانْنا (بر وزنِ ‘جاننا’) = پڑھنا

Hanafiy mazhabliq, pokiza e’tiqodliq kishi edi, besh vaqt namozni tark qilmas edi, umriy qazolarini tamom qilib edi, aksar tilovat qilur edi. Hazrat Xoja Ubaydullog’a irodati bor erdi, suhbatlarig’a bisyor musharraf bo’lub edi. Hazrat Xoja ham farzand deb erdilar.
Ravon savodi bor edi. Xamsatayn va masnaviy kitoblarni va ta’rixlarni o’qub edi. Aksar Shohnoma o’qur edi. Tab’i nazmi bor edi, vale she’rg’a parvo qilmas edi.


ڈیڑھ سو سال قبل ماوراءالنہر و تُرکستان کی لسانی صورتِ حال

"تاجِکان فارسی کا ایک زبانچہ بولتے ہیں، جو اطراف کے تُرکی زبانچوں سے بِسیار زیادہ مُتاثر ہے، اور جس نے کئی تُرکی الفاظ قبول کر لیے ہیں۔ مع ہٰذا، اِس زبانچے میں ایسے کئی آریائی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں جو جدید فارسی میں استعمال نہیں ہوتے، اور یہ چیز اِن خِطّوں میں اِس [تاجک] نسل کے طویل دوام کا ایک ثبوت ہے۔ اُزبکوں کی قلیل تعداد [ہی] ‘تاجِک’ بولتی ہے، لیکن بیشتر تاجِکان تُرکی بولتے ہیں، جو اُزبکوں کی زبان ہے۔ تُرکی کا جو زبانچہ یہاں بولا جاتا ہے وہ چند یورپی عالِموں میں جَغَتائی کے نام سے معروف ہے، اگرچہ وسطی ایشیا میں اب چند افراد ہی یہ نام جانتے ہیں۔ اگر کسی مقامی شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی زبان بولتا ہے تو وہ جواب میں یا تو یہ کہے گا کہ "میں تُرکی بولتا ہوں”، یا پھر کہے گا "اُزبک زبان”۔ میرا ماننا ہے کہ اِس زبانچے کو جَغَتائی کا نام فارْسوں نے دیا تھا کیونکہ ایشیا کے اِس خِطّے کے اُزبک قبائل فارسی تاریخ نویسوں میں ‘مردُمِ جَغَتائی’ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور یہ چنگیز خان کے پِسر کا نام تھا جس کو یہ خِطّہ سونپا گیا تھا۔ چونکہ بیشتر تاجِکان، بجُز اُن ضِلعوں میں جہاں صرف وہ ہی مُقیم ہیں، تُرکی بولتے ہیں، لہٰذا اِس زبان کے ساتھ وسطی ایشیا میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ لیکن در عینِ حال، ‘تاجِک’ نزاکت و ثقافت کی زبان ہے، جس میں بیشتر تحریریں اور تمام سرکاری و رسمی دستاویزات لِکھی جاتی ہیں۔”

(تُرکستان: رُوسی تُرکستان، خوقند، بُخارا اور قولجہ میں سفر کی یادداشتیں، جلدِ اوّل، صفحہ ۱۰۹، یُوجین شُوئلر، ۱۸۷۶ء)

مُترْجِم: حسّان خان

× ‘تاجِک’ سے ماوراءالنہری فارسی مُراد ہے، جبکہ ‘جدید فارسی’ مُصنِّف نے جدید ایرانی فارسی کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

× کتاب کا انگریزی نام:
Turkistan: Notes of a Journey in Russian Turkistan, Khokand, Bukhara, and Kuldja – Eugene Schuyler


ایران میں تُرکوں اور فارْسوں کی باہم متعاون ہم زیستی – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زاده اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۳’ (تُرکانِ ایران: ۳) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا تۆرک‌لر، نه روسیادا اۏلدوغو گیبی محکوم و نه ده تۆرکیه‌ده اۏلدوغو گیبی حاکم بیر ملّت دئڲیل‌دیرلر.
ایران تۆرک‌لری، اصل ایران‌لې اۏلان فارس‌لارلا حقوق‌دا مساوی وطن‌داش حالینده بولونویۏرلار: عینې حق‌لارې، عینی امتیازلارې حائزدیرلر؛ اؤگه‌ی‌لیک چکمزلر.
بئش یۆز سنه‌دن بری ایران‌دا حکمران اۏلان پادشاه‌لار هپ تۆرک عِرقېندان گلدیلر؛ بوگۆن اجرایِ سلطنت ائدن قاچار سُلاله‌سی ده تۆرکمن قبیله‌لریندن بیر قبیله‌یه منسوب‌دور. فقط ایران حکم‌دار‌لارېنېن تۆرک اۏلماسې تۆرک‌لره خصوصی بیر امتیاز بخش ائتمه‌دیڲی گیبی، فارس ملّتینین تضییقینه ده سبب اۏلمامېش‌دېر.
حکم‌دارلارېن تۆرک‌لۆڲۆنه رغماً مملکتین لسانِ رسمی‌سی فارسی قالمېش و مراسم و تشریفات‌دا هپ فارسی عنعناتې مُحافظه اۏلونموش‌دور. ایران‌دا فارس‌لار، تۆرک‌لرین قوّت‌لی بازولارېنا، جنگاور‌لیک سجیه‌لرینه دایانمېش‌لار، تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینین معنویتینه استناد ائیله‌میشلر و بو صورت‌له تشریکِ مساعی ائده‌رک ایران حکومتِ حاضره‌سی‌نی وجودا گتیرمیش‌لردیر.
فارس‌لار تۆرک حکم‌دارلارې کندی ملیّت‌لرینه مُعارض بولمادېق‌لارېندان اۏن‌لارې ملّی ایران پادشاه‌لارې گیبی تقدیس ائتمیش‌لر؛ تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینی و فارس لسانېنې ملّی بیر لسانِ ادبی گیبی قبول ائیله‌میشلردیر. بو صورت‌له بئش یۆز سنه‌دن بری شاه‌لېق تختېندا بیر تۆرک خانې اۏتورویۏرسا دا گرک بو خان‌لار، گرک‌سه تۆرک اهالی ایران‌لې‌لاش‌مېش، یعنی فارس‌لار طرفېندان تمثیل اۏلونموش‌دور. جزئی مقدار‌دا تۆرکمن‌لردن باشقا تۆرک‌لر، یعنی آذربایجان‌لې‌لار و قاشقایی‌لر ایرانېن مذهبِ رسمی‌سی اۏلان شیعی‌لیڲه تابع‌دیرلر.
شیعی‌لیک ایران تۆرک‌لرینی اۏ قدر فارس‌لاشدېرمېش‌دېر که، شیمدی اۏن‌لار کندی‌لرینی تۆرک‌لشمیش فارس، یعنی اصلا‌ً ایران‌لې تلقّی ائدرلر!”

ترجمہ:
"ایران میں تُرکان نہ تُرکانِ رُوسیہ کی طرح ایک محکوم، اور نہ تُرکانِ تُرکیہ کی طرح ایک حاکم ملّت ہیں۔
ایران کے تُرکان اصل ایرانیوں یعنی فارْسوں کے ہم وطن ہیں اور اُن کے مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق اور ویسے ہی امتیازات کے مالک ہیں اور سوتیلے پن کا نشانہ نہیں بنتے۔
گذشتہ پانچ صدیوں سے ایران میں حکمرانی کرنے والے تمام پادشاہوں کا تعلق تُرک نسل و قوم سے تھا؛ موجودہ زمانے میں سلطنت کا اِجرا کرنے والا خاندانِ قاجار بھی ایک تُرکمن قبیلے سے منسوب ہے۔ لیکن ایران کے حکمرانوں کے تُرک ہونے نے نہ تُرکوں کو کوئی خصوصی امتیاز و برتری عطا کی ہے، اور نہ اِس کے باعث ملّتِ فارْس کسی محدودیت و فِشار میں مبتلا ہوئی ہے۔
حکمرانوں کے تُرک ہونے کے باوجود مملکت کی رسمی زبان فارسی رہی ہے، اور مراسم و تشریفات میں بھی تمام فارسی روایات محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ایران میں فارْسوں نے تُرکوں کے باقوّت بازوؤں اور اُن کی جنگاور فطرت پر تکیہ کیا ہے، جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدّن و ثقافت کی معنویات پر اِستِناد کیا ہے اور اس طرح تشریکِ مساعی کرتے ہوئے وہ ایران کی موجودہ حکومت کو وجود میں لائے ہیں۔
تُرک حکمرانوں کے ملّیتِ فارْس کے مُعارِض و مُخالف نہ ہونے کے باعث فارْسوں نے اُن تُرک حکمرانوں کی ایران کے ملّی پادشاہوں کی مانند تقدیس کی ہے؛ جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدن و ثقافت اور فارسی زبان کو ایک ملّی ادبی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اور اس طرح گذشتہ پانچ صدیوں سے اگرچہ تختِ شاہی پر کوئی تُرک خان بیٹھ رہا ہے، لیکن خواہ یہ خانان ہوں یا تُرک اہالی ہوں، دونوں ہی ایرانی شدہ ہو گئے ہیں، یعنی فارْسوں کی طرف سے نمائندے بنتے رہے ہیں۔ تُرکمَنوں کی ایک غیر اہم تعداد کے بجز دیگر تُرکان، یعنی آذربائجانیان اور قشْقائیان ایران کے رسمی مذہب شیعیت کے تابع ہیں۔
شیعیت نے ایران کے تُرکوں کو اِس قدر فارْس شُدہ کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو تُرک شدہ فارْس، یعنی اصلاً ایرانی مانتے ہیں!”

لاطینی رسم الخط میں:
"İran’da Türkler, ne Rusya’da olduğu gibi mahkum ve ne de Türkiye’de olduğu gibi hakim bir millet değildirler.
İran Türkleri, asıl İranlı olan Farslarla hukukta müsavi vatandaş halinde bulunuyorlar: Aynı hakları, aynı imtiyazları haizdirler; ögeylik çekmezler.
Beş yüz seneden beri İran’da hükümran olan padişahlar hep Türk ırkından geldiler; bugün icra-yı saltanat eden Kaçar sülalesi de Türkmen kabilelerinden bir kabileye mensuptur. Fakat İran hükümdarlarının Türk olması Türklere hususi bir imtiyaz bahşetmediği gibi, Fars milletinin tazyikine de sebep olmamıştır.
Hükümdarların Türklüğüne rağmen memleketin lisan-ı resmisi Farisi kalmış ve merasim ve teşrifatta hep Farisi an’anatı muhafaza olunmuştur. Iran’da Farslar, Türklerin kuvvetli bazularına, cengaverlik seciyelerine dayanmışlar, Türkler de Fars medeniyetinin ma’neviyetine istinad eylemişler ve bu suretle teşrik-i mesa’i ederek İran hükümet-i hazırasını vücuda getirmişlerdir.
Farslar Türk hükümdarları kendi milliyetlerine mu’arız bulmadıklarından onları milli İran padişahları gibi takdis etmişler; Türkler de Fars medeniyetini ve Fars lisanını milli bir lisan-ı edebi gibi kabul eylemişlerdir. Bu suretle beş yüz seneden beri şahlık tahtında bir Türk hanı oturuyorsa da gerek bu hanlar, gerekse Türk ahali İranlılaşmış, yani Farslar tarafından temsil olunmuştur. Cüz’i miktarda Türkmenlerden başka Türkler, yani Azerbaycanlılar ve Kaşkayiler İran’ın mezheb-i resmisi olan şiiliğe tabi’dirler.
Şiilik İran Türklerini o kadar farslaştırmıştır ki, şimdi onlar kendilerini Türkleşmiş Fars, yani aslen İranlı telakki ederler!..”


"البانوی شہر ارگِری کے تمام افراد فارسی خواں ہیں” – عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کا مشاہدہ

میری نظر میں عُثمانی سلطنت کی ایک لائقِ تحسین ترین چیز یہ ہے کہ وہ زبان و ادبیاتِ فارسی کی، بلقان تک کے علاقوں میں سرایت و اشاعت کا باعث بنی تھی۔ سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ ہشتم میں عُثمانی البانیہ کے شہر ارگِری کے مردُم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اکثریّا خلقې اربابِ معارف و شُعَرایِ مؤلّفین‌لردیر. باخُصوص بُکایی و فغانی و نالِشی و سُکوتی و فضایی نام شُعَرالار حالا بو شهرده موجودلاردېر کیم هر بیری بیرر فن‌ده یدِ طُولالارېن عیان ائتمیش‌لردیر، امّا نالِشی پنج‌بیت‌ده و قصیده‌پردازلېق‌ده لانظیردیر.
و اکثریّا خلقې مُحِبِّ خاندان اۏلوپ ‘یا علی’ دئر اۏتورور، ‘یا علی’ دئر قالقار. جُمله فارسی‌خوان اۏلوپ مُحبِّ خاندان اۏلدوق‌لارېندان بیر فرقه‌سې نِهانی‌جه مُعاویه‌یه سبّ ائدۆپ یزیده آشکاره لعنت ائدرلرمیش امّا استماع ائتمه‌دیم.”

ترجمہ:
"شہر کے اکثر مردُم اربابِ معارف اور شُعَرائے مُؤلفّین کے زُمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص بُکائی، فغانی، نالِشی، سُکوتی، اور فضائی تخلُّص والے شُعَراء اِس وقت اِس شہر میں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک ایک فن میں یدِ طُولیٰ عیاں کر چکا ہے، لیکن نالِشی پنج بیت (پنج بیتی غزل) اور قصیدہ پردازی میں بے نظیر ہے۔
اور اُس کے اکثر مردُم مُحبِّ خاندانِ [علی] ہیں، اور وہ ‘یا علی’ کہتے ہوئے اُٹھتے اور ‘یا علی’ کہتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ تمام افراد فارسی خواں ہیں، اور مُحبِّ خاندانِ [علی] ہونے کے باعث ظاہراً اُن میں سے ایک گروہ بطورِ نِہانی مُعاویہ پر سبّ کرتا ہے، اور یزید پر آشکارا لعنت کرتا ہے، لیکن میں نے [خود] نہیں سُنا۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Ekseriyyâ halkı erbâb-ı ma‘ârif ve şu‘arâ-yı mü’ellifînlerdir. Bâhusûs Bükâyî ve Figanî ve Nâlişî ve Sükûtî ve Feza‘î nâm şu‘arâlar hâlâ bu şehirde mevcûdlardır kim her [bir]i birer fende yed-i tûlâların ayân etmişlerdir, ammâ Nâlişî penç-beytde ve kasîdeperdâzlıkda lâ-nazîrdir.
Ve ekseriyyâ halkı muhibb-i Hânedân olup “yâ Alî” der oturur, “yâ Alî” der kalkar. Cümle Fârisî-hân olup muhibb-i Hânedân olduklarından bir fırkası nihânîce Mu‘âviye’ye sebb edüp Yezîd’e âşikâre la‘net ederlermiş ammâ istimâ‘ etmedim.


شیعہ صفوی قلمرَو میں ‘تبرّا’ سُننے پر سُنّی عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کے احساسات

سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ دوم میں صفوی قلمرَو میں واقع آذربائجانی قریے ‘کہریز’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"بین خانه‌لی تبریز خانې مُنشی‌سی کندی ایمیش. آلتې جامِعی و اۆچ حمّامې و ایکی مهمان‌سرایې واردېر. و باغې و باغچه‌سی حددن افزون معمور کنددیر. خدایِ قهّار خراب ایده. زیرا جُمله خلقې شیعی و تبرّایی اۏلماغېلا دیارِ عجم‌ده ابتدا (سبِّ) حضرتِ عُمره حاشا ثُمَّ حاشا سب ائتدیکلرین بوندا ایشیدۆپ عقلېم گیتدی. امّا نه چاره هنوز داخی ضعف‌دن بی‌تاب و بی‌مجال ایدیم. یۏخسا بیر حال ایله اۏل سبّابِ لعینی قتل ائتمک امرِ سهل ایدی. زیرا دیارِ عجم‌ده ائلچی‌لر رُوم طرفېندان گلدیکلرینده سربست‌لردیر. چاریارِ گُزین عشقېنا دؤرد قېزېل‌باشِ سبّاب قتل ائتسه مُعاف‌دېر. آنا اصلا جواب اۏلمازدېر. هر نه حال ایسه صبر ائدۆپ…”

ترجمہ:
"یہ ہزار گھروں کا ایک قریہ ہے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حاکمِ تبریز کے مُنشی کی مِلکیت میں ہے۔ اِس میں چھ مسجدیں، تین حمّام اور دو مہمان سرائے ہیں۔ اور یہ حد سے زیادہ باغوں اور باغیچوں والا ایک معمور قریہ ہے۔ خدائے قہّار اِس کو ویران کرے! کیونکہ اُس کے تمام مردُم شیعی اور تبرّائی ہیں۔ اور دیارِ عجم میں مَیں نے اُن کو حضرتِ عمر (رض) پر – حاشا ثُمَّ حاشا – سبّ و شِتم کرتے یہاں اوّلین بار سُنا تھا، اور [غضب سے] میں دیوانہ ہو گیا تھا۔ لیکن کیا کِیا جائے کہ میں اپنی ناتوانی و بے بسی کے باعث ہنوز بے طاقت و بے مجال تھا۔ ورنہ اُس سبّابِ لعین کو کسی طرح قتل کرنا کارِ سہل تھا۔ کیونکہ دیارِ عجم میں جب رُوم (عُثمانی سلطنت) کی طرف سے سفیران آتے ہیں تو چار یارِ گُزیں کی خاطر چار قِزلباشِ سبّاب کو قتل کرنے کی آزادی و اختیار رکھتے ہیں، اُن سے ہرگز بازپُرس نہیں ہوتی۔ بہر حال، میں نے صبر کیا۔۔۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Bin hâneli Tebrîz hânı münşîsi kendi imiş. Altı câmi’i ve üç hammâmı ve iki mihmân sarâyı vardır. Ve bâğı ve bâğçesi hadden efzûn ma’mûr kenddir. Hudâ-yı Kahhâr harâb ide. Zîrâ cümle halkı Şi’î ve Teberrâ’î olmağıla diyâr-ı Acemde ibtidâ (sebb-i) Hazret-i Ömer’e hâşâ sümme hâşâ seb etdiklerin bunda işidüp aklım gitdi. Ammâ ne çâre henüz dahi za’afdan bî-tâb u bî-mecâl idim. Yohsa bir hâl ile ol sebbâb-ı la’îni katl etmek emr-i sehl idi. Zîrâ diyâr-ı Acem’de elçiler Rûm tarafından geldiklerinde serbestlerdir. Çâr-yâr-ı güzîn aşkına dörd kızılbaş-ı sebbâb katl etse mu’âfdır. Anâ aslâ cevâb olmazdır. Her ne hâl ise sabr edüp..

× قِزِلباش = صفویوں کے مُرید اور غالی و متعصب شیعہ تُرک جنگجوؤں کو اُن کی سُرخ کُلاہ کے باعث قِزِلباش (قِزِل = سُرخ، باش = سر) کہا جاتا تھا۔ صفوی دور کے ماوراءالنہری و عُثمانی ادبیات میں عموماً یہ لفظ مُطلقاً ‘شیعہ’ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔


آلِ سلجوق اور فارسی زبان

"اپنے پیشروؤں غزنویوں کی طرح، سلجوقیوں اور اُن کے تُرک جنگجوؤں کو جلد ہی اُس فارسی ثقافت نے مسخَّر کر لیا جسے حال ہی میں فردوسی نے اپنی اوج پر پہنچایا تھا۔ اُنہوں نے سریعاً فارسی کو تعلیم یافتگان کی زبان کے طور پر، اور پھر بہ زودی روزمرہ زندگی کی زبان کے طور پر اپنا لیا۔ یہ خود اہلِ فارس نہیں، بلکہ آلِ سلجوق تھے جنہوں نے اِس زبان کو وہ وقار بخشا تھا جو سطحِ مرتفعِ فارس سے کہیں دورتر پھیل گیا اور جس نے بالآخر تُرک ثقافت کو ایک خاص خصوصیت عطا کی، جس کے آثار تا امروز نمایاں ہیں۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۰)

"۔۔۔آلِ سلجوق وہ اوّلین حکمران تھے جنہوں نے ایرانی قوم کی ثقافت کو مافوقِ قومیت وقار بخشا تھا۔ یہ وقار بہ تدریج اُن ناموں میں بھی نمودار ہوا جو اِس تُرک شاہی سلسلے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے منتخب کیے گئے۔ سلجوقیوں میں، خصوصاً سلجوقیانِ رُوم میں، اب نام فارسی قہرَمانی افسانوں سے اخذ کیے جانے لگے تھے۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۱)

"چونکہ تُرک سلجوقوں کی اپنی کوئی اسلامی روایت یا قوی ادبی میراث نہیں تھی، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ایرانی اسلامی معلّموں کی ثقافتی زبان کو اپنا لیا۔ اِس طرح ادبی فارسی تمام ایران میں پھیل گئی، اور عربی زبان اُس ملک میں فقط دینی علوم کی کتابوں تک محدود رہ گئی۔”
(ماخذ: دانش نامۂ بریتانیکا)