ایران میں تُرکوں اور فارْسوں کی باہم متعاون ہم زیستی – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زاده اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۳’ (تُرکانِ ایران: ۳) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا تۆرک‌لر، نه روسیادا اۏلدوغو گیبی محکوم و نه ده تۆرکیه‌ده اۏلدوغو گیبی حاکم بیر ملّت دئڲیل‌دیرلر.
ایران تۆرک‌لری، اصل ایران‌لې اۏلان فارس‌لارلا حقوق‌دا مساوی وطن‌داش حالینده بولونویۏرلار: عینې حق‌لارې، عینی امتیازلارې حائزدیرلر؛ اؤگه‌ی‌لیک چکمزلر.
بئش یۆز سنه‌دن بری ایران‌دا حکمران اۏلان پادشاه‌لار هپ تۆرک عِرقېندان گلدیلر؛ بوگۆن اجرایِ سلطنت ائدن قاچار سُلاله‌سی ده تۆرکمن قبیله‌لریندن بیر قبیله‌یه منسوب‌دور. فقط ایران حکم‌دار‌لارېنېن تۆرک اۏلماسې تۆرک‌لره خصوصی بیر امتیاز بخش ائتمه‌دیڲی گیبی، فارس ملّتینین تضییقینه ده سبب اۏلمامېش‌دېر.
حکم‌دارلارېن تۆرک‌لۆڲۆنه رغماً مملکتین لسانِ رسمی‌سی فارسی قالمېش و مراسم و تشریفات‌دا هپ فارسی عنعناتې مُحافظه اۏلونموش‌دور. ایران‌دا فارس‌لار، تۆرک‌لرین قوّت‌لی بازولارېنا، جنگاور‌لیک سجیه‌لرینه دایانمېش‌لار، تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینین معنویتینه استناد ائیله‌میشلر و بو صورت‌له تشریکِ مساعی ائده‌رک ایران حکومتِ حاضره‌سی‌نی وجودا گتیرمیش‌لردیر.
فارس‌لار تۆرک حکم‌دارلارې کندی ملیّت‌لرینه مُعارض بولمادېق‌لارېندان اۏن‌لارې ملّی ایران پادشاه‌لارې گیبی تقدیس ائتمیش‌لر؛ تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینی و فارس لسانېنې ملّی بیر لسانِ ادبی گیبی قبول ائیله‌میشلردیر. بو صورت‌له بئش یۆز سنه‌دن بری شاه‌لېق تختېندا بیر تۆرک خانې اۏتورویۏرسا دا گرک بو خان‌لار، گرک‌سه تۆرک اهالی ایران‌لې‌لاش‌مېش، یعنی فارس‌لار طرفېندان تمثیل اۏلونموش‌دور. جزئی مقدار‌دا تۆرکمن‌لردن باشقا تۆرک‌لر، یعنی آذربایجان‌لې‌لار و قاشقایی‌لر ایرانېن مذهبِ رسمی‌سی اۏلان شیعی‌لیڲه تابع‌دیرلر.
شیعی‌لیک ایران تۆرک‌لرینی اۏ قدر فارس‌لاشدېرمېش‌دېر که، شیمدی اۏن‌لار کندی‌لرینی تۆرک‌لشمیش فارس، یعنی اصلا‌ً ایران‌لې تلقّی ائدرلر!”

ترجمہ:
"ایران میں تُرکان نہ تُرکانِ رُوسیہ کی طرح ایک محکوم، اور نہ تُرکانِ تُرکیہ کی طرح ایک حاکم ملّت ہیں۔
ایران کے تُرکان اصل ایرانیوں یعنی فارْسوں کے ہم وطن ہیں اور اُن کے مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق اور ویسے ہی امتیازات کے مالک ہیں اور سوتیلے پن کا نشانہ نہیں بنتے۔
گذشتہ پانچ صدیوں سے ایران میں حکمرانی کرنے والے تمام پادشاہوں کا تعلق تُرک نسل و قوم سے تھا؛ موجودہ زمانے میں سلطنت کا اِجرا کرنے والا خاندانِ قاجار بھی ایک تُرکمن قبیلے سے منسوب ہے۔ لیکن ایران کے حکمرانوں کے تُرک ہونے نے نہ تُرکوں کو کوئی خصوصی امتیاز و برتری عطا کی ہے، اور نہ اِس کے باعث ملّتِ فارْس کسی محدودیت و فِشار میں مبتلا ہوئی ہے۔
حکمرانوں کے تُرک ہونے کے باوجود مملکت کی رسمی زبان فارسی رہی ہے، اور مراسم و تشریفات میں بھی تمام فارسی روایات محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ایران میں فارْسوں نے تُرکوں کے باقوّت بازوؤں اور اُن کی جنگاور فطرت پر تکیہ کیا ہے، جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدّن و ثقافت کی معنویات پر اِستِناد کیا ہے اور اس طرح تشریکِ مساعی کرتے ہوئے وہ ایران کی موجودہ حکومت کو وجود میں لائے ہیں۔
تُرک حکمرانوں کے ملّیتِ فارْس کے مُعارِض و مُخالف نہ ہونے کے باعث فارْسوں نے اُن تُرک حکمرانوں کی ایران کے ملّی پادشاہوں کی مانند تقدیس کی ہے؛ جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدن و ثقافت اور فارسی زبان کو ایک ملّی ادبی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اور اس طرح گذشتہ پانچ صدیوں سے اگرچہ تختِ شاہی پر کوئی تُرک خان بیٹھ رہا ہے، لیکن خواہ یہ خانان ہوں یا تُرک اہالی ہوں، دونوں ہی ایرانی شدہ ہو گئے ہیں، یعنی فارْسوں کی طرف سے نمائندے بنتے رہے ہیں۔ تُرکمَنوں کی ایک غیر اہم تعداد کے بجز دیگر تُرکان، یعنی آذربائجانیان اور قشْقائیان ایران کے رسمی مذہب شیعیت کے تابع ہیں۔
شیعیت نے ایران کے تُرکوں کو اِس قدر فارْس شُدہ کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو تُرک شدہ فارْس، یعنی اصلاً ایرانی مانتے ہیں!”

لاطینی رسم الخط میں:
"İran’da Türkler, ne Rusya’da olduğu gibi mahkum ve ne de Türkiye’de olduğu gibi hakim bir millet değildirler.
İran Türkleri, asıl İranlı olan Farslarla hukukta müsavi vatandaş halinde bulunuyorlar: Aynı hakları, aynı imtiyazları haizdirler; ögeylik çekmezler.
Beş yüz seneden beri İran’da hükümran olan padişahlar hep Türk ırkından geldiler; bugün icra-yı saltanat eden Kaçar sülalesi de Türkmen kabilelerinden bir kabileye mensuptur. Fakat İran hükümdarlarının Türk olması Türklere hususi bir imtiyaz bahşetmediği gibi, Fars milletinin tazyikine de sebep olmamıştır.
Hükümdarların Türklüğüne rağmen memleketin lisan-ı resmisi Farisi kalmış ve merasim ve teşrifatta hep Farisi an’anatı muhafaza olunmuştur. Iran’da Farslar, Türklerin kuvvetli bazularına, cengaverlik seciyelerine dayanmışlar, Türkler de Fars medeniyetinin ma’neviyetine istinad eylemişler ve bu suretle teşrik-i mesa’i ederek İran hükümet-i hazırasını vücuda getirmişlerdir.
Farslar Türk hükümdarları kendi milliyetlerine mu’arız bulmadıklarından onları milli İran padişahları gibi takdis etmişler; Türkler de Fars medeniyetini ve Fars lisanını milli bir lisan-ı edebi gibi kabul eylemişlerdir. Bu suretle beş yüz seneden beri şahlık tahtında bir Türk hanı oturuyorsa da gerek bu hanlar, gerekse Türk ahali İranlılaşmış, yani Farslar tarafından temsil olunmuştur. Cüz’i miktarda Türkmenlerden başka Türkler, yani Azerbaycanlılar ve Kaşkayiler İran’ın mezheb-i resmisi olan şiiliğe tabi’dirler.
Şiilik İran Türklerini o kadar farslaştırmıştır ki, şimdi onlar kendilerini Türkleşmiş Fars, yani aslen İranlı telakki ederler!..”

Advertisements

"البانوی شہر ارگِری کے تمام افراد فارسی خواں ہیں” – عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کا مشاہدہ

میری نظر میں عُثمانی سلطنت کی ایک لائقِ تحسین ترین چیز یہ ہے کہ وہ زبان و ادبیاتِ فارسی کی، بلقان تک کے علاقوں میں سرایت و اشاعت کا باعث بنی تھی۔ سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ ہشتم میں عُثمانی البانیہ کے شہر ارگِری کے مردُم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اکثریّا خلقې اربابِ معارف و شُعَرایِ مؤلّفین‌لردیر. باخُصوص بُکایی و فغانی و نالِشی و سُکوتی و فضایی نام شُعَرالار حالا بو شهرده موجودلاردېر کیم هر بیری بیرر فن‌ده یدِ طُولالارېن عیان ائتمیش‌لردیر، امّا نالِشی پنج‌بیت‌ده و قصیده‌پردازلېق‌ده لانظیردیر.
و اکثریّا خلقې مُحِبِّ خاندان اۏلوپ ‘یا علی’ دئر اۏتورور، ‘یا علی’ دئر قالقار. جُمله فارسی‌خوان اۏلوپ مُحبِّ خاندان اۏلدوق‌لارېندان بیر فرقه‌سې نِهانی‌جه مُعاویه‌یه سبّ ائدۆپ یزیده آشکاره لعنت ائدرلرمیش امّا استماع ائتمه‌دیم.”

ترجمہ:
"شہر کے اکثر مردُم اربابِ معارف اور شُعَرائے مُؤلفّین کے زُمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص بُکائی، فغانی، نالِشی، سُکوتی، اور فضائی تخلُّص والے شُعَراء اِس وقت اِس شہر میں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک ایک فن میں یدِ طُولیٰ عیاں کر چکا ہے، لیکن نالِشی پنج بیت (پنج بیتی غزل) اور قصیدہ پردازی میں بے نظیر ہے۔
اور اُس کے اکثر مردُم مُحبِّ خاندانِ [علی] ہیں، اور وہ ‘یا علی’ کہتے ہوئے اُٹھتے اور ‘یا علی’ کہتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ تمام افراد فارسی خواں ہیں، اور مُحبِّ خاندانِ [علی] ہونے کے باعث ظاہراً اُن میں سے ایک گروہ بطورِ نِہانی مُعاویہ پر سبّ کرتا ہے، اور یزید پر آشکارا لعنت کرتا ہے، لیکن میں نے [خود] نہیں سُنا۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Ekseriyyâ halkı erbâb-ı ma‘ârif ve şu‘arâ-yı mü’ellifînlerdir. Bâhusûs Bükâyî ve Figanî ve Nâlişî ve Sükûtî ve Feza‘î nâm şu‘arâlar hâlâ bu şehirde mevcûdlardır kim her [bir]i birer fende yed-i tûlâların ayân etmişlerdir, ammâ Nâlişî penç-beytde ve kasîdeperdâzlıkda lâ-nazîrdir.
Ve ekseriyyâ halkı muhibb-i Hânedân olup “yâ Alî” der oturur, “yâ Alî” der kalkar. Cümle Fârisî-hân olup muhibb-i Hânedân olduklarından bir fırkası nihânîce Mu‘âviye’ye sebb edüp Yezîd’e âşikâre la‘net ederlermiş ammâ istimâ‘ etmedim.


شیعہ صفوی قلمرَو میں ‘تبرّا’ سُننے پر سُنّی عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کے احساسات

سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ دوم میں صفوی قلمرَو میں واقع آذربائجانی قریے ‘کہریز’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"بین خانه‌لی تبریز خانې مُنشی‌سی کندی ایمیش. آلتې جامِعی و اۆچ حمّامې و ایکی مهمان‌سرایې واردېر. و باغې و باغچه‌سی حددن افزون معمور کنددیر. خدایِ قهّار خراب ایده. زیرا جُمله خلقې شیعی و تبرّایی اۏلماغېلا دیارِ عجم‌ده ابتدا (سبِّ) حضرتِ عُمره حاشا ثُمَّ حاشا سب ائتدیکلرین بوندا ایشیدۆپ عقلېم گیتدی. امّا نه چاره هنوز داخی ضعف‌دن بی‌تاب و بی‌مجال ایدیم. یۏخسا بیر حال ایله اۏل سبّابِ لعینی قتل ائتمک امرِ سهل ایدی. زیرا دیارِ عجم‌ده ائلچی‌لر رُوم طرفېندان گلدیکلرینده سربست‌لردیر. چاریارِ گُزین عشقېنا دؤرد قېزېل‌باشِ سبّاب قتل ائتسه مُعاف‌دېر. آنا اصلا جواب اۏلمازدېر. هر نه حال ایسه صبر ائدۆپ…”

ترجمہ:
"یہ ہزار گھروں کا ایک قریہ ہے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حاکمِ تبریز کے مُنشی کی مِلکیت میں ہے۔ اِس میں چھ مسجدیں، تین حمّام اور دو مہمان سرائے ہیں۔ اور یہ حد سے زیادہ باغوں اور باغیچوں والا ایک معمور قریہ ہے۔ خدائے قہّار اِس کو ویران کرے! کیونکہ اُس کے تمام مردُم شیعی اور تبرّائی ہیں۔ اور دیارِ عجم میں مَیں نے اُن کو حضرتِ عمر (رض) پر – حاشا ثُمَّ حاشا – سبّ و شِتم کرتے یہاں اوّلین بار سُنا تھا، اور [غضب سے] میں دیوانہ ہو گیا تھا۔ لیکن کیا کِیا جائے کہ میں اپنی ناتوانی و بے بسی کے باعث ہنوز بے طاقت و بے مجال تھا۔ ورنہ اُس سبّابِ لعین کو کسی طرح قتل کرنا کارِ سہل تھا۔ کیونکہ دیارِ عجم میں جب رُوم (عُثمانی سلطنت) کی طرف سے سفیران آتے ہیں تو چار یارِ گُزیں کی خاطر چار قِزلباشِ سبّاب کو قتل کرنے کی آزادی و اختیار رکھتے ہیں، اُن سے ہرگز بازپُرس نہیں ہوتی۔ بہر حال، میں نے صبر کیا۔۔۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Bin hâneli Tebrîz hânı münşîsi kendi imiş. Altı câmi’i ve üç hammâmı ve iki mihmân sarâyı vardır. Ve bâğı ve bâğçesi hadden efzûn ma’mûr kenddir. Hudâ-yı Kahhâr harâb ide. Zîrâ cümle halkı Şi’î ve Teberrâ’î olmağıla diyâr-ı Acemde ibtidâ (sebb-i) Hazret-i Ömer’e hâşâ sümme hâşâ seb etdiklerin bunda işidüp aklım gitdi. Ammâ ne çâre henüz dahi za’afdan bî-tâb u bî-mecâl idim. Yohsa bir hâl ile ol sebbâb-ı la’îni katl etmek emr-i sehl idi. Zîrâ diyâr-ı Acem’de elçiler Rûm tarafından geldiklerinde serbestlerdir. Çâr-yâr-ı güzîn aşkına dörd kızılbaş-ı sebbâb katl etse mu’âfdır. Anâ aslâ cevâb olmazdır. Her ne hâl ise sabr edüp..

× قِزِلباش = صفویوں کے مُرید اور غالی و متعصب شیعہ تُرک جنگجوؤں کو اُن کی سُرخ کُلاہ کے باعث قِزِلباش (قِزِل = سُرخ، باش = سر) کہا جاتا تھا۔ صفوی دور کے ماوراءالنہری و عُثمانی ادبیات میں عموماً یہ لفظ مُطلقاً ‘شیعہ’ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔


آلِ سلجوق اور فارسی زبان

"اپنے پیشروؤں غزنویوں کی طرح، سلجوقیوں اور اُن کے تُرک جنگجوؤں کو جلد ہی اُس فارسی ثقافت نے مسخَّر کر لیا جسے حال ہی میں فردوسی نے اپنی اوج پر پہنچایا تھا۔ اُنہوں نے سریعاً فارسی کو تعلیم یافتگان کی زبان کے طور پر، اور پھر بہ زودی روزمرہ زندگی کی زبان کے طور پر اپنا لیا۔ یہ خود اہلِ فارس نہیں، بلکہ آلِ سلجوق تھے جنہوں نے اِس زبان کو وہ وقار بخشا تھا جو سطحِ مرتفعِ فارس سے کہیں دورتر پھیل گیا اور جس نے بالآخر تُرک ثقافت کو ایک خاص خصوصیت عطا کی، جس کے آثار تا امروز نمایاں ہیں۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۰)

"۔۔۔آلِ سلجوق وہ اوّلین حکمران تھے جنہوں نے ایرانی قوم کی ثقافت کو مافوقِ قومیت وقار بخشا تھا۔ یہ وقار بہ تدریج اُن ناموں میں بھی نمودار ہوا جو اِس تُرک شاہی سلسلے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے منتخب کیے گئے۔ سلجوقیوں میں، خصوصاً سلجوقیانِ رُوم میں، اب نام فارسی قہرَمانی افسانوں سے اخذ کیے جانے لگے تھے۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۱)

"چونکہ تُرک سلجوقوں کی اپنی کوئی اسلامی روایت یا قوی ادبی میراث نہیں تھی، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ایرانی اسلامی معلّموں کی ثقافتی زبان کو اپنا لیا۔ اِس طرح ادبی فارسی تمام ایران میں پھیل گئی، اور عربی زبان اُس ملک میں فقط دینی علوم کی کتابوں تک محدود رہ گئی۔”
(ماخذ: دانش نامۂ بریتانیکا)


اسلامی عہد کے ہند میں فارسی زبان

"جن مسلمان حملہ آوروں نے بھارت پر حملہ کر کے اُس پر سالہا سال تک حکومت کی تھی، وہ نہ عرب تھے اور نہ ایرانی، وہ ترک تھے۔ سکندر کے حملے سے پہلے کسی زمانے میں ایران کی سلطنت بہت وسیع تھی۔ بھارت کا سندھ بھی اُسی میں تھا۔ ایشیا میں وہ وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا تھا اور یورپ میں بھی بحرِ ایجہ تک اُس کی سرحد تھی۔ لہٰذا جس طرح انگریزی آج بین الاقوامی زبان ہے، اُسی طرح اُس وقت فارسی تھی۔ ترک اپنی ترکی زبان کے بجائے اُسی بین الاقوامی زبان کے پیروکار تھے، جس طرح آج کانگریس کے رہنما انگریزی کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمود غزنوی کی تعریف میں فردوسی نے جو شاہنامہ لکھا تھا، وہ ترکی کے بجائے فارسی ہی میں لکھا گیا تھا۔ لہٰذا ترکی زبان جہاں تھی، وہیں رہ گئی، اور فارسی حکومت کی زبان بن گئی۔ سبب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ترکی زبان حکومت کی زبان بننے کے لائق ویسے ہی نہیں سمجھی گئی جیسے آج ہندی نہیں سمجھی جاتی۔

اس طریق سے فارسی مسلم حکومت کی زبان بن گئی، خواہ دلی کے بادشاہ ترک تھے یا پٹھان یا پھر مغل۔ اس لیے سرکاری نوکریاں پانے کے لیے ہندوؤں میں کایستھوں نے پہلے پہل فارسی پڑھی اور سکندر لودی کے زمانے میں تقریباً ۱۵۲۰ء کے آس پاس وہ شاہی دفتروں میں داخل ہونے لگے۔ پھر تو کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ملک کے لوگ کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہاں، مال گزاری کے کاغذات اور دستور العمل ہندی ہی میں رہے۔ یہ صورتِ حال اکبری عہدِ حکومت کے نصفِ اول تک رہی۔ بعد ازاں، ڈاکٹر بلاکمین کے مطابق، اکبر کے وزیرِ مالیات ٹوڈرمل کے حکم سے یہ دستور العمل بھی فارسی میں کر دیے گئے۔ اس طرح ملک کی زبان اور حکومت کی زبان کے مابین کوئی تعلق نہیں رہا۔ پھر تو مغلوں کی عملداری جہاں کہیں رہی، وہاں فارسی ہی کا بول بالا ہو گیا۔”

(اَمبِکا پرَساد واجپئی کے مضمون ‘سَرَسْوَتی کے آوِربھاو کے سمے ہندی کی اَوَسْتھا‘ سے اقتباس اور ترجمہ)


شرحِ احوالِ امیر نظام الدین علی شیر نوائی

نظام الدین علی شیر نوائی کلاسیکی ازبک ادبیات کے اساس گزار ہیں جو اپنی ممتاز تالیفات کے ہمراہ ازبکوں اور ترک نژادوں کے ادب کی تاریخ میں بہت شائستہ مقام رکھتے ہیں۔
وہ ۱۴۴۱ء میں شہرِ ہرات میں متولد ہوئے تھے۔ اُن کے والد غیاث الدین کیچکینہ بہادر تیموری دربار کے عملداروں میں سے تھے تاہم وہ لکھنا پڑھا نہیں جانتے تھے۔ لیکن ناخواندہ ہونے کے باوجود، اُنہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم و تحصیل میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا، اور اس سلسلے میں بہت کوششیں کیں۔ نوائی نے اپنی ابتدائی اور وسطی تعلیم ہرات میں حاصل کی، جس کے بعد وہ مشہد چلے گئے۔ وہاں انہوں نے ابوالقاسم بابر میرزا کے دربار سے وابستہ ہونے کے علاوہ اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔ خاص طور پر، وہ فارسی کے بزرگ ادیبوں نظامی گنجوی، امیر خسرو دہلوی، کمال خجندی اور حافظ شیرازی کی تخلیقات کے مطالعے میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ نوائی نے اُن سے کلامِ موزوں کا سحر، سخنوری کا ہنر، اور تمثال آفرینی کے طرز و اصول سیکھے، اور اُن کی پیروی میں اپنے اولین اشعار انشا کرنے شروع کیے۔ اس کے علاوہ، نوائی اس شہر میں عالموں اور شاعروں کی صحبت میں بھی اشتراک کرتے تھے اور اُن سے درسِ زندگی حاصل کرتے تھے۔ اسی جگہ نوائی نے اپنے اولین دیوان کو مرتّب کیا تھا۔ ۱۴۶۶ء میں علی شیر نوائی ہرات واپس آ گئے۔ تاہم وہاں کی سیاسی و اجتماعی حیات کے نامساعد ہونے اور ابوسعید میرزا کی جنگوں اور خوں ریزیوں کے سبب نوائی اُسی سال ہرات کو ترک کر کے سمرقند کی جانب عازمِ سفر ہو گئے۔ سمرقند میں علی شیر نوائی دوبارہ تحصیلِ علم و ادب میں مشغول ہو گئے اور وہاں انہوں نے اپنے زمانے کے ایک مشہور عالم خواجہ فضل اللہ ابو لیث سے علمِ فقہ حاصل کیا۔
۱۴۶۹ء میں جس وقت حسین بایقرا – جو نوائی کا ہم مکتب اور رضاعی برادر تھا – ہرات آ کر مسندِ پادشاہی پر بیٹھا تو اُس نے نوائی کو اپنے دربار میں دعوت دی۔ علی شیر نوائی کو حسین بایقرا کے دربار میں مُہرداری کا عہدہ عطا ہوا۔ اسی زمانے میں نوائی کی جامی کے ساتھ دوستی کا آغاز ہوا اور وہ جامی کے مرید بن گئے۔
علی شیر نوائی انسان دوست اور رعیت پرور شخص تھے۔ وہ ریاستی امور کے اجرا کے دوران بیچاری عوام کو فائدہ پہنچایا کرتے تھے اور اُن کے خیرخواہ رہتے تھے۔ مثلاً سال ۱۴۷۰ء میں عملداروں اور حاکموں کے ظلم و استثمار اور حد سے زیادہ خراج کی وصولی سے لوگوں کی اقتصادی زندگی نہایت دشوار ہو جانے کے باعث عوام نے ظالموں کی اس بیدادگری کے خلاف شورش برپا کر دی تھی۔ صرف علی شیر نوائی کی عاقلانہ تدبیروں کی وجہ سے اس شورش کو ختم کیا گیا۔ نوائی نے سلطان حسین بایقرا کو مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ظالموں کو سزا دی جائے اور پھر عوام سے لیے جانے والے خراج میں کچھ حد تک کمی کی جائے۔ اس قضیے کے بعد لوگوں کے درمیان نوائی کی قدر و منزلت میں اضافہ ہو گیا اور وہ اُن کی پہلے سے بھی زیادہ حرمت کرنے لگے۔
علی شیر نوائی ۱۴۷۲ء میں مرتبۂ وزارت پر فائز ہوئے۔ دقیقاً اسی زمانے میں سیاسی و اجتماعی وضع بہت حد تک آسودہ ہو گئی جس کے نتیجے میں تمدنی و ادبی زندگی میں بہت پیش رفت واقع ہوئی۔ لیکن نوائی کے بہت سے کام شاہ اور سلطنتی عملداروں کے خشم و غضب کا باعث بنے اور وہ نوائی کو رنج و آزار پہنچانے کے در پے ہو گئے۔ شاہ کے سامنے حکّام اور وزراء [نوائی کی نسبت] ہر طرح کی بہتان طرازی کیا کرتے تھے۔ انہی وجوہات کی بنا پر نوائی سال ۱۴۷۶ء میں منصبِ وزارت سے دست کَش ہو گئے۔ بعدازاں، اُنہوں نے گیارہ سال کی مدت ریاستی امور کو ایک طرف رکھ کر علمی و ادبی تالیفات کی تخلیق میں مشغول رہ کر گذاری۔ اسی دور میں اُنہوں نے اپنے ‘خمسہ’ نامی پانچ مثنویوں کے مجموعے کو تکمیل تک پہنچایا۔ ان گیارہ سالوں بعد حسین بایقرا نے اُنہیں پھر استرآباد کا حاکم متعین کیا، لیکن استرآباد میں نوائی فقط ایک سال مقیم رہے اور ۱۴۸۸ء میں واپس ہرات آ گئے۔ اس کے بعد وہ اپنی عمر کے اختتام تک پھر کبھی سلطنتی امور میں مشغول نہیں ہوئے اور اپنے وقت کو اُنہوں نے صرف تصنیفی کاموں میں صرف کیا۔
علی شیر نوائی کا انتقال جنوری ۱۵۰۱ء میں شہرِ ہرات میں ہوا۔ ‘حبیب السیر’ کے مؤلف خواندمیر نے بزرگ شاعر نوائی کی وفات پر ہرات کے لوگوں کے غم و اندوہ اور احساسات کو سوز و گداز کے ساتھ بیان کرنے کے بعد ابیاتِ ذیل سے اُن کا خلاصہ نکالا ہے:
چرا خون نبارید چشمِ سپهر؟
چرا گشت روشن دگر ماه و مهر؟
چرا سلکِ ایام درهم نشد؟
چرا ماه و سال از جهان کم نشد؟
نوائی کے جسد کو ہرات کے اُسی گنبد میں سپردِ خاک کیا گیا جسے اُنہوں نے خود تعمیر کرایا تھا۔

(وزارتِ معارفِ تاجکستان کی شائع کردہ نصابی کتاب ‘ادبیاتِ تاجک: کتابِ درسی برائے صنفِ نہم’ سے اقتباس اور ترجمہ)


امیر علی شیر نوائی: تُرکوں کے چَوسر

مغربی یورپ اور امریکی برِ اعظموں کے اکثر لوگوں کے نزدیک لفظ ‘ترک’ کا مطلب صرف ترکی کا باشندہ ہے۔ بہت کم لوگ ہی یہ ادراک کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے نو کروڑ ترکوں – یعنی کوئی ترک زبان اور بولی بولنے والے لوگوں – کی ساٹھ فیصد تعداد جمہوریۂ ترکی سے باہر مقیم ہے۔
مثال کے طور پر سوویت اتحاد کے ترکوں – یعنی ازبکوں، تاتاروں، قزاقوں، آذریوں، ترکمنوں، قرغیزوں، باشقُردوں، قراقالپاقوں، قُومُوقوں، یاقُوتوں، اویغروں اور قراچائیوں – کی تعداد کم و بیش ترکی کے ترکوں ہی کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ چین، ایران، افغانستان، بلغاریہ، قبرص، عراق، شام، یونان، یوگوسلاویہ، رومانیہ اور منگولیہ میں بھی قابلِ ذکر ترک اقلیتیں موجود ہیں۔ ترک نام کا یہ مجموعی گروہ مختلف قسم کے لوگوں کا مجموعہ ہے جو کثیر الانواع جسمانی ہیئتوں، معاشرتی ڈھانچوں، زندگی کی طرزوں، سیاسی ہمدردیوں اور ثقافتی وابستگیوں کے حامل ہیں۔
مع ہٰذا، ان باہمی فًرقوں کو دو عواملِ اتحاد کم کرتے ہیں: اسلام – پچانوے فیصد ترک مسلمان ہیں – اور ترک ماضی کی تقریباً نامعلوم عظمتوں پر فخر۔ انہی عظمتوں کی ایک عمدہ مثال پندرہویں صدی کے معزز مصنف میر علی شیر نوائی ہیں، جنہیں اسلام کے انگریز مؤرخ اور مستشرق برنارڈ لوئس نے ‘ترکوں کے چوسر’ کا لقب دیا ہے۔
نوائی کے تخلص سے مشہورِ عالم میر علی شیر نے ترک ادبیات کی بنیاد نہیں رکھی تھی۔ در حقیقت، ترک ادبیات کی تاریخ تو نوائی سے بھی کم سے کم سات سو سال پہلے تک جاتی ہے۔ لیکن نوائی نے وہ کام کیا جو چوسر نے ایک صدی قبل انگلستان میں کیا تھا، یعنی اُنہوں نے ترک گفتاری بولی میں اولین ممتاز ادیب بن کر ایک نئے قومی ادب کا انقلاب برپا کیا تھا۔
نوائی کے باصلاحیت ہاتھوں میں ترکی زبان کو، جسے اُس وقت کے اہلِ قلم روایتی طور پر گنوار اور ادنیٰ سمجھتے تھے، اعلیٰ ترین درجے کی نظم و نثر کے دل پذیر ذریعے کے طور پر پہچان ملی۔ اگرچہ اُس وقت کے عربی اور فارسی سے وابستہ ادبی حلقے اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ وحشی ترکی زبان لطیف خیالات اور ارفع جذبات کو فصاحت، لطافت اور قوت کے ساتھ بیان کرنے پر قادر نہیں ہے، لیکن نوائی نے اپنے بے نظیر فن کی بدولت، اُنہیں غلط ثابت کر دکھایا۔
میر علی شیر نوائی ۱۴۴۱ء میں ہرات میں پیدا ہوئے تھے جو اب شمال مغربی افغانستان میں واقع ہے۔ اُس زمانے میں شہرِ ہرات خراسان کے حاکم اور عظیم تیمور لنگ کے چوتھے اور سب سے قابل بیٹے شاہزادہ شاہ رخ کا دارالحکومت اور قیام گاہ تھا۔ اگرچہ تیمور لنگ کا دارالحکومت آمو دریا کے شمال میں واقع شہر سمرقند تھا، لیکن یہ خراسان کا شہر ہرات تھا کہ جسے شاہ رخ کے ۱۳۹۷ء سے لے کر ۱۴۴۷ء تک جاری رہنے والے تابندہ و درخشاں دورِ حکومت میں مشرقی اسلامی دنیا کے والاترین علمی و ثقافتی مرکز بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہرات کے حریف شہروں میں دوسرے درجے پر سمرقند تھا جو ۱۴۰۹ء سے ۱۴۴۶ء تک شاہ رخ کے بیٹے، اور مشہور ریاضی دان اور ستارہ شناس، الوغ بیگ کی حاکمیت میں تھا۔
پندرہویں صدی کے پہلے نصف کے پورے عرصے کے دوران شہرِ ہرات کی غالب ثقافت فارسی/ایرانی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ شاہ رخ خود ترک تھا، نیز حکمران طبقے کے ارکان کی اکثریت اور ہرات کے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ترک تھی۔ لیکن اوائلی فارسی/ایرانی تمدن کے چکاچوند کر دینے والے کارنامے سب کے سامنے اظہر من الشمس تھے، اور اس کے وقار اور مسلّمہ درخشندگی پر وسطی ایشیائی ترک فریفتہ تھے۔ ترک الاصل ادباء فارسی زبان میں لکھنے کو ترجیح دیتے تھے، جسے مسلم مشرق میں ثقافت اور علم کی زبان کے طور پر سراہا جاتا تھا۔ جبکہ ترک نسل کے مصور کلاسیکی فارسی/ایرانی نمونوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس سے قبل، خود فارسی/ایرانی تمدن کو بھی عرب، اسلام کی جلا بخش توانائی کے ذریعے، ناقابلِ تنسیخ طور پر بدل چکے تھے۔
یہ تھا وہ ماحول جس میں نوائی نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔ اُنہوں نے مشہد (موجودہ شمال مشرقی ایران کا شہر)، ہرات اور سمرقند میں تعلیم حاصل کی تھی، بعد ازاں وہ ۱۴۶۹ء میں ہرات واپس آ گئے تھے جہاں اُن کا پرانا ہم مکتب اور تیمور کا پر پوتا حسین بایقرا خراسان کا سلطان بن چکا تھا۔ نوائی کی اس زمانے سے پہلے کی ادبی کوششوں کے بارے میں کوئی معلومات دسترس میں نہیں ہے۔ البتہ اگلی تین دہائیوں میں وہ اسلامی ادبیات کی تاریخ میں اپنے لیے حقیقی معنوں میں ایک زمانہ ساز ادیب کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اور انہوں نے ان دہائیوں میں ہرات کو وہ رتبہ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے بارے میں فرانسیسی مستشرق رینے گروسیت کے الفاظ یہ ہیں کہ اُس وقت کا ہرات ‘تیموری نشاۃِ ثانیہ کے نام سے درست طور پر یاد کی جانے والی تحریک کا فلورنس تھا۔’ [اس قول کا پس منظر یہ ہے یورپی تہذیبی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز فلورنس سے ہوا تھا۔]
۱۴۶۹ء سے لے کر ۱۵۰۱ء میں اپنی وفات تک، در حقیقت، ایک نہیں بلکہ چار مختلف میر علی شیر نوائی گذرے ہیں، جن میں سے ہر ایک نوائی کی اسلامی تاریخ میں اپنی خاص اہمیت ہے۔ نوائی اپنی پہلی حیثیت میں سلطان حسین بایقرا کے معتمد و مشیر اور عوامی منتظم تھے۔ عمومی طور پر اگرچہ نوائی نے اپنے فن و ہنر کے لیے خود کو شدت سے وقف کر رکھا تھا، لیکن وہ دوسرے دنیاوی امور سے قطعاً بے علاقہ نہیں تھے۔ وہ سیاست اور قوانین سازی کے امور میں بہ طورِ کامل مشغول تھے، اور وہ اس سیاسی دنیا میں بڑی حد تک سلطان حسین سے اپنی قریبی، مگر بعض اوقات اتار چڑھاؤ رکھنے والی، دوستی کے نتیجے میں داخل ہوئے تھے۔ باوجودیکہ کچھ یورپی مصنفوں نے ادعا کیا ہے کہ نوائی سلطنت کے وزیر تھے، حقیقت یہ ہے کہ نوائی ہرات کے تیموری دربار سے کبھی وزیر یا وزیرِ اعظم کی حیثیت سے وابستہ نہیں رہے، گو وہ اس سے کم درجے کے سرکاری عہدوں پر ضرور فائز رہے تھے۔ تاہم گاہ گاہ اُن کی عمل داری تقریباً ایک وزیر ہی کے برابر ہوتی تھی: کم از کم ایک موقع پر ایسا ضرور تھا جب انہوں نے ۱۴۷۹ء میں سلطان حسین کی غیر موجودگی میں ہرات پر حاکمیت کی تھی۔ یہ دنیاوی و سیاسی امور یقیناً نوائی کے تحریر کے لیے وقف وقت میں شدید تخفیف کا باعث بنتے ہوں گے، لیکن یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے سلطان اور سلطنت کے مفادِ عامہ کی جانب ذمہ داری کا حقیقی جذبہ محسوس کرتے تھے۔
نوائی اپنی دوسری حیثیت میں ایک معمار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف خراسان ہی میں وہ ۳۷۰ کے قریب مسجدوں، مکتبوں، کتب خانوں، شفا خانوں، کاروان سرایوں، اور دیگر علمی، مذہبی اور رفاہی اداروں کی بنیاد، مرمت اور عطا و بخشش کا باعث بنے تھے۔ شاید ان تمام کارِ خیر کے لیے اُنہوں نے اپنے معقول ذاتی وسائل کے علاوہ دربار میں موجود اپنے اثر و رسوخ کا بھی استعمال کیا ہو گا۔ ہرات میں واقع خالصیہ مدرسہ اور نیشاپور (شمال مشرقی ایران) میں واقع تیرہویں صدی کے عارف شاعر فریدالدین عطار کا مقبرہ وہ چند مشہور عمارتیں ہیں جن کی تعمیر میں اُن کا ہاتھ تھا۔
البتہ ہم تمدن میں پائدار شراکتوں کے لیے سب سے زیادہ نوائی کی آخری دو حیثیتوں کے مرہونِ منت ہیں۔ اور وہ دو حیثیتیں ہیں: نوائی بطور علم، فن اور ادب کے سرپرست و مروِّج؛ اور نوائی بطور ادیب و مصنف۔
چونکہ نوائی خود ایک موسیقی داں، نغمہ ساز، خطاط، مصور، مجمسہ ساز اور بہت ہی زیادہ ہر فن مولا اور ہمہ گیر ادیب تھے، لہٰذا وہ فنی اظہار کی تمام تخلیقی صورتوں سے وابستہ تھے۔ وہ تیموری ثقافت کے کئی مثالی نابغوں کے دوست اور فیاض سرپرست تھے، جن کی فہرست میں مشہور فارسی شاعر جامی کا – کہ جن کی مدح و تمجید میں نوائی نے خمسۃ المتحیّرین لکھی تھی -، فارسی مؤرخوں میرخواند اور اُن کے پوتے خواندمیر کا، کتابوں کی تذہیب کے لیے مصوری اور نگارگری کرنے والے بہزاد اور شاہ مظفر کا، اور قل محمد، شیخ نائی اور حسین عودی جیسے موسیقاروں کا نام لیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان سب چیزوں سے بڑھ کر، نوائی کو آج اس لیے یاد کیا اور موردِ احترام مانا جاتا ہے کیونکہ اُنہوں نے حیرت انگیز انداز سے ترکی ادب کو ایک کامیاب شکل عطا کی تھی اور اسے خوب فروغ دیا تھا۔ ۱۴۰۰ء سے قبل بھی غیر سنجیدہ اور لوک ادب کے لیے ترکی لہجوں کا استعمال عام تھا، لیکن پندرہویں صدری عیسوی کے پہلے نصف میں وسطی ایشیائی ادیبوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے پہلی بار ادبیاتِ عالیہ و لطیفہ کے لیے ترکی زبان کے استعمال کی جانب لڑکھڑاتے قدم اٹھائے تھے۔ اس نئے ادب کی بنیاد رکھنے والوں کو، جن میں سکّاکی، لطفی، یقینی اور گدائی جیسے شعراء شامل تھے، ایک خاص اور دشوار مسئلہ درپیش تھا۔ وہ اپنی شاعری کو فارسی-عربی شعر گوئی کے قبول کردہ قواعد اور معیارات کے مطابق لکھنا چاہتے تھے، لیکن اُن کے پاس خام مال کے طور پر جو ترکی زبان موجود تھی وہ ان قواعد و معیارات کے لیے کچھ زیادہ موزوں نہیں تھی۔ بہرحال، اُن لوگوں نے ترکی کے مکمل ذخیرۂ الفاظ اور مختلف دستوری ترکیبوں کے ماہرانہ استعمال سے اور عربی اور فارسی سے بے شمار الفاظ اور عبارات اخذ کر کے وسطی ایشیا اور خراسان کی ترکی بولی سے ایک نئی ادبی زبان کی تخلیق کی تھی جسے ‘چغتائی ترکی’ یا صرف ‘چغتائی’ کے نام سے جانا گیا۔
چغتائی زبان میں تحریر شدہ کچھ ابتدائی تصنیفات، مثلاً لطفی کی شاعری، یقیناً دائمی خوبیوں کی حامل ہیں۔ لیکن مختلف علاقائی پس منظر کی وجہ سے ان ابتدائی چغتائی مصنفوں کی اور حتیٰ کہ ایک ہی شہر میں رہنے والے مختلف مصنفوں کی زبانیں بھی باہم متفاوت اور بے ثبات ہوتی تھیں۔ نوائی نے یہ منظرنامہ پوری طرح بدل دیا۔ تین دہائیوں پر محیط اُن کی تیس کے قریب چغتائی تصنیفات کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ اس نئی ادبی زبان کا معیار مقرر ہو گیا اور اسے ثبات و استحکام مل گیا۔ اور یہ صرف اور صرف نوائی کی شاعری کی بے مثال خوبیوں کی بدولت تھا کہ ترکی زبان اپنے آپ کو ادبی اظہار کے قابلِ قدر ذریعے کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو سکی۔
نوائی کے معروف ترین اشعار اُن کے چار دیوانوں – غرائب الصغر، نوادر الشباب، بدائع الوسط اور فوائد الکبر ۔ میں موجود ہیں۔ اُنہوں نے چغتائی زبان میں شاعری سے متعلق کچھ فنی رسالوں کی تصنیف کرنا بھی اپنا فرض سمجھا تاکہ دوسرے ترکی گو شعراء کو ان سے مدد مل سکے۔ مثال کے طور اُنہوں نے میزان الاوزان کے نام سے شعری اوزان پر ایک مفصل رسالہ لکھا۔ اس کے علاوہ مجالس النفائس نامی ایک ضخیم تذکرہ بھی مرتب کیا، جس میں ۴۵۰ چھوٹے بڑے ہم عصر شاعروں کے سوانحی خاکے درج ہیں۔ یہ مؤخرالذکر کتاب تیموری ثقافت کے کسی بھی مؤرخ کے لیے سونے کی کان سے کم نہیں ہے۔
البتہ، نوائی کی شاید سب سے زیادہ دل سے لکھی گئی اور جذبات کی حامل تحریر اُن کی سب سے آخری تصنیف محاکمۃ اللغتین تھی جو اُن کی وفات سے تیرہ ماہ قبل دسمبر ۱۴۹۹ء میں مکمل ہوئی تھی۔ اس تصنیف میں نوائی نے طویل مضمون کی شکل میں ترکی زبان کی زوردار وکالت کی ہے۔ دوسرے ترک الاصل مصنفوں کو فارسی کے بجائے چغتائی میں لکھنے کی ترغیب دینے کی امید میں انہوں نے اس نگارش میں اپنے زاویۂ نظر کے حوالے سے فارسی پر ترکی کی فطری برتریوں کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے پسندیدہ ترین موضوعِ گفتگو پر حتمی فیصلے کی نیت سے لکھی گئی نوائی کی محاکمۃ اللغتین ایک ایسی تصنیف کی بہت ہی کامل مثال ہے جو کسی مصنف کی آخری کتاب کے ساتھ ہی اُس کے آخری وصیت نامے کے مثل بھی ہو۔
اس تصنیف کی ابتداء میں نوائی یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اس دنیا میں زبانوں کی چار بنیادی انواع – یعنی عربی، فارسی، ترکی اور ہندی – ہیں اور ان میں سے ہر ایک اصل نوع کی ‘بہت ساری فروع ہیں۔’ چونکہ وہ ایک صادق الاعتقاد مسلمان تھے، اس لیے اپنے دینی عقیدے کے بموجب وہ دیگر زبانوں پر عربی کی مطلق برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے اور اس ضمن میں کہتے ہیں کہ "ان [تمام زبانوں] کے درمیان عربی آئینِ فصاحت کے لحاظ سے ممتاز اور تزئینِ بلاغت کے لحاظ سے معجزہ طراز ہے اور اس باب میں کسی اہلِ تکلم و صدق و تسلیم کو کسی قسم کا مجالِ دعویٰ نہیں ہے؛ کیونکہ کلامِ معجز نظامِ مَلِکِ علّام – جلّ و علا – اس زبان میں نازل اور احادیثِ سعادت انجامِ رسول – علیہ الصلواۃ والسلام – اس لفظ میں وارد ہوئی ہیں، اور اولیائے کبار و مشائخِ عالی مقدار – قدس اللہ اسرارہم – نے جو حقائق و معارف بیان کے ہیں اور جن معانیِ زیبا کو لباسِ تقریر پہنایا ہے، وہ جملہ اسی عبارتِ فرخندہ و الفاظ و اشاراتِ خجستہ صورت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔” البتہ وہ اپنے نقطۂ نظر کے تحت مختصراً ہندی کو ‘شکستہ قلم کی خراش’ جیسی سنائی دینے والی اور اُس کے رسمِ خط کو ‘کوے کے قدموں کے نشان جیسا’ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ عربی اور ہندی کے بارے میں رائے دینے کے بعد، ہرات اور پورے مسلم وسطی ایشیا میں بولی جانے والی دو زبانیں ترکی اور فارسی داوری کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔
محاکمۃ اللغتین میں نوائی نے مکرراً فارسی الفاظ کے بر خلاف ترکی الفاظ کی ثروتمندی، واضحیت اور اشتقاق پذیری پر زور دیا ہے۔ مثلاً وہ ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ ترکوں کی زبان میں عورت کے چہرے پر موجود زیبائی کے نشان کے لیے ایک خاص لفظ موجود ہے، لیکن فارسی زبان میں ایسا کوئی متبادل لفظ ناپید ہے۔ نوائی کے مطابق، کئی ترکی الفاظ کے تین، چار یا اس سے بھی زیادہ معانی ہیں جبکہ فارسی میں اس طرح کے لچک دار الفاظ کا فقدان ہے۔ ترکی زبان کی مختلف چیزوں کے مابین دقیق امتیاز کرنے کی قابلیت کو بیان کرنے کے لیے وہ ایسے نو ترکی الفاظ کی فہرست پیش کرتے ہیں جو بطخوں کی مختلف انواع کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن فارسی کے بارے میں وہ ادعا کرتے ہیں کہ اس میں ان تمام انواع کے لیے ایک ہی لفظ موجود ہے۔ کتاب کا ایک کے بعد ایک صفحہ اسی طرح کے استدلالوں سے پُر ہے۔
نوائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ فارسی کے مقابلے میں ترکی میں اچھا لکھنا زیادہ مشکل ہے۔ محاکمۃ اللغتین کے مندرجہ ذیل اقتباس میں اپنے ہم عصر نوجواں ترکی گو شاعروں کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے اور اُن شاعروں کے فنّی شش و پنج کی ہمدردانہ تفہیم ظاہر کرتے ہوئے نوائی لکھتے ہیں:
"بے شک، اس زبان میں موجود عجیب اور نادر معانی کا استعمال مبتدیوں کے لیے آغاز میں آسان کام نہیں ہے۔ اس طرح کی دشواریوں کے مقابل مبتدی شعراء [ترکی سے] منہ موڑ لیتے ہیں اور ایک آسان تر راہ [یعنی فارسی] کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، اور جب ایسا چند بار ہو جاتا ہے تو وہ اس حال کے خو گرفتہ ہو جاتے ہیں، اور پھر اُن کے لیے اس عادت کو ترک کر کے مشکل تر راستے پر آنا بہ سہولت امکان پذیر نہیں رہتا۔ بعدازاں، جب دوسرے مبتدی اپنے متقدموں کے طرزِ عمل اور تالیفات کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس راہ سے منحرف ہونا مناسب نہیں سمجھتے۔ نتیجتاً وہ بھی اپنی نظمیں فارسی میں لکھتے ہیں۔
مبتدیوں کے لیے یہ بات فطری ہے کہ جو کچھ انہوں نے لکھا اور کہا ہے وہ اُسے اہلِ فن اور اساتذہ کو دکھانا پسند کرتے ہیں، اور جملہ صاحبانِ قلم کی یہی عادت ہے۔ لیکن چونکہ اس فن کے اساتذہ فارسی گو ہیں اور وہ کلامِ ترکی سے بہرہ مند نہیں ہیں، لہٰذا جوانانِ ترک بھی فارسی کی طرف ملتفت ہو کر اسی میں سخن سرائی کرنے لگتے اور اسی خیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔”
لیکن وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ترک الاصل شاعروں کو ترکی میں لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شاید مبتدی مصنفوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے، کتاب میں نوائی حکایت کرتے ہیں کہ کیسے اُنہوں نے اپنے ایامِ جوانی میں ترکی کی ناقابلِ توصیف شان و شوکت کو دریافت کیا تھا:
"بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ شاعری کے ذریعے کے طور پر فارسی کے مقابلے میں ترکی کی فوقیت، عُمق اور وسعت کی جانب ہر کوئی متوجہ نہیں ہوا ہے۔۔۔ یہ خاکسار اوائلِ شباب میں تھا جب میرے صندوقِ جواہرات جیسے دہن سے کچھ گوہر ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ یہ گوہر، ہنوز سلکِ نظم میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن اس غوّاص طبع کی سعی سے دریائے ضمیر سے وہ گوہر ساحلِ دہن تک پہنچنے لگے جو سلکِ نظم میں پروئے جانے کے قابل تھے۔
چونکہ میں عاداتِ مذکورہ سے خود کو بری کرنا نہیں جانتا تھا اس لیے میں بھی اُسی طرح فارسی میں سخن سرائی کرتا رہا۔ لیکن جس وقت میں نے سنِ تعقل و شعور میں قدم رکھا تو حق سبحانہ وتعالیٰ نے مجھے غرابت الطبع، دقت نظری اور مشکل پسندی کی خصلتیں ودیعت کیں۔ [لہٰذا] مجھے ترکی الفاظ میں غور و فکر کرنا لازم نظر آیا۔ [اس کے نتیجے میں] میری آنکھوں کے سامنے ایک عالم ظاہر ہوا جو اٹھارہ ہزار عالموں سے بزرگ تر تھا، اور جس کے سپہر کی زیب و زینت فلک کی نو کرسیوں سے برتر تھی، اور جس کے مخزنِ رفعت و فضل کے جواہرات کواکب سے رخشاں تر تھے۔ میں اس عالم کے گلزار میں، جس کے گُل اخترانِ سپہر سے درخشندہ تر تھے، گلگشت کے لیے داخل ہوا۔ اس باغ کے حریم کی اطراف قدموں کی گذرگاہ سے محفوظ، جبکہ اس کی نادر اجناس اغیار کی دسترس سے مامون تھیں۔”
میر علی شیر نوائی کا انتقال ۳ جنوری ۱۵۰۱ء کو ہوا۔ سلطان حسین بایقرا نے جنازے میں شرکت کی اور بعد ازاں اپنے عمر بھر کے دوست کے لیے تین دن سوگ منایا۔ شہر میں ایک بہت بڑی عزائی تقریب منعقد کی گئی تاکہ ہرات کے تمام باشندے اپنے فوت شدہ ملک الشعراء کو اجتماعی طور پر خراجِ تحسین پیش کر سکیں۔
تقریباً اس کے فوراً بعد ہی دوسرے مصنفوں نے بھی ادبی ترکی کا معیار اپنا لیا۔ مغل سلطنت کے بانی اور تیمور و چنگیز دونوں کے خلف ظہیرالدین بابر (۱۴۸۳-۱۵۳۰ء) نے اپنی مشہورِ زمانہ سوانحِ عمری چغتائی زبان میں لکھی تھی۔ دوسری جانب مغربی سمت میں واقع عثمانی سلطنت میں عثمانی ترکی میں لکھنے والے مصنفوں نے نوائی کی تالیفات کا عرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اُن کی نظموں کو بطور نمونہ پیشِ نظر رکھ کر اپنی شاعری کہی۔ ہرات کے اس بلبل نے اگرچہ ترکی کے ایک مختلف لہجے میں اپنی تصنیفات تحریر فرمائی تھیں، لیکن اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ اُن کی تالیفات ہی عثمانی شاعری کے ارتقاء و تکامل کا محرّک بنیں۔ نوائی نے آذربائجانی شاعر فضولی بغدادی (متوفی ۱۵۵۴ء) پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا تھا، جو کہ صدیوں سے پوری ترکی گو دنیا کا محبوب ترین شاعر رہا ہے۔ عظیم عثمانی اور آذری شعراء کے منصۂ شہود پر آنے سے ترکی زبان کا اسلام کی تیسری کلاسیکی زبان ہونے کا درجہ راسخ ہو گیا۔
وسطی ایشیا ہی کی بات کی جائے تو وہاں چغتائی زبان و ادب کے بے ہمتا استاد کے طور پر نوائی کی شہرت مسلّم رہی، اور مرورِ زمانہ کے ساتھ اُن کی قدر و منزلت ہی میں اضافہ ہوا۔ نوائی کی وفات کے چار سو سال بعد تک چغتائی زبان وولگا سے لے کر چینی ترکستان کے مسلمان ترکوں کی ادبی زبان کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی۔ اس پورے دورانیے میں چغتائی کی قدامت پسندی کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ چغتائی زبان کا کوئی ادیب نوائی سے بڑھ کر باوقار ہونے اور اثر و رسوخ رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا، نیز تمام ادباء ہی نوائی کے اسلوب اور ذخیرۂ الفاظ کی نقل کرنے پر مائل رہتے تھے۔ لیکن انجامِ کار، چغتائی زبان کی افادیت کم ہو گئی، اور اس نے اپنی دختر زبانوں – یعنی وسطی ایشیا کی جدید ترک زبانوں مثلاً ازبکی، قزاقی، قرغیزی اور مشرقی ترکی (جسے جدید اویغری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) – کے لیے راستہ صاف کر دیا اور خود کنارہ کش ہو گئی۔ چغتائی کی جگہ پر اُس کی دختروں کا تخت نشیں ہونا ایسا ہی ہے جیسے یورپ میں پچھلی صدیوں میں لاطینی کے مقام پر اُس کی دختر زبانیں فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور پرتگالی وغیرہ متمکّن ہو گئی تھیں۔
البتہ نوائی کی کہانی اس صدی کے اوائل میں ہونے والی چغتائی کی وفات پر ہرگز ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ اب تو اُن کی کہانی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے،  اور اس کی وجہ وہ غیر معمولی تعظیم ہے جو سوویت اتحاد، افغانستان اور چین کے مسلمان ازبک اس شاعر کی کرتے ہیں۔ اگر نوائی بالعموم تمام ترکوں کے چوسر ہیں، تو وہ ترکوں کے اس مخصوص گروہ کے لیے چوسر، دانتے، سیروانتیس اور شیکسپئر سب ہی کچھ ہیں۔
چین اور سوویت اتحاد کے مسلم اویغروں کی زبان مشرقی ترکی کے ہمراہ ازبکی ہی وہ جدید زبان ہے جو کلاسیکی چغتائی سے سب سے زیادہ قرابت رکھتی ہے۔ ازبک لوگوں نے نوائی کو اپنے قومی شاعر کے طور پر منتخب کر لیا ہے، اور سوویت اتحاد میں چغتائی کو عموماً ‘قدیم ازبکی’ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ۱۹۶۶ء میں جب نوائی کی پیدائش کی ۵۲۵ویں برسی تھی تو اُس موقع پر ازبکستان میں سرکاری سطح پر اور دل کی گہرائیوں سے اس شاعر کا جشن منایا گیا تھا۔ اسی ازبکستان ہی میں اسلامی تمدن کے یہ پانچ تاریخی مراکز موجود ہیں: تاشقند، سمرقند، بخارا، خوقند اور خیوہ۔ شاعر کی تجلیل اور اُن کے جملہ آثار تک دسترس آسان بنانے کی غرض سے اُن کی تمام تصنیفات پندرجہ جلدوں میں ازبک دارالحکومت تاشقند میں شائع ہوئی تھیں۔ اُن کی انفرادی کتابیں اور رسالوں کی کئی اشاعتیں اور منتخب تحریروں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں اور اس پورے زمانے میں نوائی کی زندگی پر مبنی کئی ناول اور تمثیلیں اور اُن سے تعلق رکھنے والی بے شمار تحقیقاتی اور سوانحی کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ نوائی صرف ازبکوں ہی کی اختصاصی ملکیت نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی مسلمان ترک پائے جاتے ہیں – خواہ وہ ترکی کا استانبول ہو، خواہ ایران کا تبریز ہو، خواہ تاتارستان کا قازان ہو، خواہ وسطی ایشیا کا تاشقند ہو یا خواہ چینی ترکستان کا اورومچی ہو؛ اور خواہ یہ شہر ایک دوسرے سے کتنے ہی دور یا مختلف کیوں نہ ہوں – وہاں نوائی کی وفات کے تقریباً پانچ سو سال بعد بھی اُن کی شاعری سے اُسی طرح لطف اٹھایا جاتا ہے۔ اپنے پیشروؤں دانتے اور چوسر کی طرح، نوائی نے بھی تنِ تنہا ہی ایک زبان کو قابلِ احترام بنایا اور اسے دنیا کے اہم ادبوں کی صف میں لا کر کھڑا کیا تھا۔ ہمارے لیے ایسا کوئی بھی آئندہ زمانہ تصور کرنا ناممکن ہے جب نوائی کی تالیفات کا مطالعہ ختم ہو جائے گا، اور یہ بات جتنی دانتے اور چوسر کے حق میں درست ہے، اُسی طرح نوائی پر بھی کاملاً صادق ٹھہرتی ہے۔

(نویسندہ: بیری ہابرمین)

یہ مضمون سعودی آرامکو ورلڈ مجلّے کے جنوری/فروری ۱۹۸۵ء کے شمارے میں چھپا تھا جس کا میں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اگر ترجمے میں کوئی خامی نظر آئے یا کوئی اور تجویز ہو تو ضرور گوش گزار کیجیے گا۔ اصل انگریزی مضمون یہاں سے پڑھا جا سکتا ہے۔