شرلوک ہومز کی زبان سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش

شرلوک ہومز کے کردار کے خالق «آرتھر کونن ڈائل» کی ایک داستان «شناخت کا قضیہ» (A Case of Identity) کے اختتام پر شرلوک ہومز اپنے دوست و مُعاوِن ڈاکٹر واٹسن سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش کرتے ہوئے، اور اُن کا لاطینی شاعر «ہوراس» سے تقابُل کرتے ہوئے کہتا ہے:

"You may remember the old Persian saying, ‘There is danger for him who taketh the tiger cub, and danger also for whoso snatches a delusion from a woman.’ There is as much sense in Hafiz as in Horace, and as much knowledge of the world.”

"شاید تمہیں وہ فارسی ضرب المثَل یاد ہو گی کہ ‘جو بھی شخص چِیتے کے بچّے کو ہتھیاتا ہے، یا جو بھی شخص کسی عورت سے وہم چھینتا ہے، اُس کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے’۔ حافظ میں اُسی قدر حِکمت و اِدراک و معرفتِ جہان موجود ہے جس قدر ہوراس میں۔”

اگرچہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ شرلوک نے جس ضرب المثَل کو حافظ کی شاعری کے طور پر پیش کیا ہے، وہ حافظ کی کسی بیت میں نہیں ہے، اور ایسی کوئی ضرب المثَل بھی میں نے کبھی فارسی میں نہیں دیکھی۔ ظاہراً، نویسندۂ داستان نے اِس سُنی ہوئی مَثَل کو غلطی سے حافظ کا قول سمجھ لیا تھا۔

Advertisements

محمد فضولی بغدادی کا ذکر بالآخر ایک پاکستانی اردو اخبار میں

جب میں نے انٹرنیٹ پر فارسی و تُرکی ادبیات کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی، اُس وقت تک پاکستان میں محمد فضولی بغدادی بالکل گُمنام شاعر تھے، حالانکہ وہ قومِ اتراک کے ایک عظیم ترین شاعر ہیں، اور اُن کا آذربائجان و تُرکیہ میں (نیز، تُرکستان اور عراقی و شامی تُرکوں میں بھی) وہی رُتبہ ہے جو فارسی گویوں میں جنابِ حافظ شیرازی کا ہے، یعنی تُرکی سرا شاعروں میں وہ معروف ترین ہیں، اور کلاسیکی تُرکی شاعری کا ہر قاری اُن کی شاعری سے آگاہی رکھتا ہے، اور اُن کی کئی ابیات اکثر تُرکی گویوں کو ازبر ہیں۔ علاوہ بریں، اُن کی فارسی شاعری بھی فصاحت و بلاغت اور شعری استعداد کے لِحاظ سے فُصَحائے عجم کی شاعری سے کم تر نہیں ہے۔ اِن چیزوں کے مدِّ نظر، میری اوّل روز سے کوشش رہی ہے کہ میں پاکستان میں جنابِ محمد فضولی بغدادی کے نام و آثار کی ترویج کرتا رہوں اور اِس مقصد کے لیے میں اُن کے فارسی و تُرکی اشعار کے ترجمے کرتا آیا ہوں۔ ارادہ تو یہ ہے کہ اگر مشیتِ الہٰی اجازت دے، اور مجھے فُرصت و موقع ملے، تو میں اُن کے کُل فارسی و تُرکی دواوین کا ترجمہ کروں گا۔ لیکن میں اِس وقت تک بھی اُن کی پانچ سو کے قریب فارسی و تُرکی ابیات کا ترجمہ کر چکا ہوں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دیکھنا میرے لیے باعثِ شادمانی ہے کہ انٹرنیٹ پر پاکستانیوں میں محمد فضولی بغدادی سے آشنائی کا آغاز ہو گیا ہے، اور اِمروز کئی مُحِبّانِ شعرِ فارسی اُن کے نام سے واقف ہیں، اور اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے ہیں۔ محمد فضولی بغدادی میرے پسندیدہ ترین تُرکی ادیب ہیں، اِس لیے مردُم کو اُن سے مُتعارف کرانا اپنی ادبی ذمّہ داری سمجھتا ہوں۔

اِمروز، بروزِ جمُعہ، سید شاہ زمان شمسی کی ایک تحریر «محسوسات و کیفیت کیا ہے؟» کے نام سے ایک اردو اخبار «وائس آف پاکستان» [ایک اردو اخبار کا نام انگریزی میں!] میں شائع ہوئی، جس میں اُنہوں نے فارسی نعتیہ شاعری پر چند کلمات لِکھے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اُس میں محمد فضولی بغدادی کی بھی نعتیہ ابیات، اُن کے نام کے ذکر کے ساتھ اور میرے ترجمے کی معیت میں، درج تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ، بے شک، یہ اردو تحریر محض چند انگُشت شُمار قاریوں کی نگاہوں ہی سے گُذری ہو گی، لیکن کیا یہ مُوَفّقیت و کامیابی کم ہے کہ فضولی بغدادی کا نام بالآخر ایک اردو اخبار کی بھی زینت بن گیا؟ ہرگز نہیں!

آرزو ہے کہ ایک روز جنابِ فضولی کا نام اِس مُلک بھی اُسی طرح شُہرت سے ہمکنار ہو گا جس طرح مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے دیگر دیاروں میں مشہور و معروف ہے۔

سید شاہ زمان شمسی کی تحریر کا ربط
اخباری صفحے کا ربط

پس نوشت: یہی تحریر «صحافت»، «ہجوم»، اور «طالبِ نظر» میں بھی شائع ہوئی تھی۔


کیا «تُرک» کوئی «نسل» ہے؟ جواب: قطعاً نہیں!

ہم میں ایک کبیر غلط فہمی یہ ہے کہ ہم «تُرک» کو ایک نسل و نژاد سمجھتے ہیں اور «تُرکوں» اور «تُرکی» کو بیسویں صدی میں وجود میں آنے والی ریاست «تُرکیہ» تک محدود سمجھتے ہیں۔ اور جب «تُرک» کا لفظ سنائی دیتا ہے تو ہمارے ذہن میں اناطولیہ اور مغربی تُرکیہ کے افراد کی شکل و صورت والے تُرکان آتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل مُختلف ہے۔ تُرکیہ کے بیشتر تُرکان مُترّک ہیں، اور یونانیوں، البانویوں، بوسنیائیوں، بلغاریوں، سلاووں، ارمنیوں، گُرجیوں، چرکَسوں، لازوں، کُردوں، شامیوں وغیرہ کی مسلمان و تُرک شدہ اولاد ہیں، جن سے اسلامی تُرک فتوحات کے زمانے میں وسطی ایشیائی تُرک مہاجرین مُختلِط ہوتے رہے۔ ویسے ہی جیسے دیارِ شام کے بیشتر مسلمان عرب بھی قدیم یونانیوں، سریانیوں، فینیقیوں، کنعانیوں اور بلقانی مہاجروں وغیرہ کی مسلمان و عرب شدہ اولاد ہیں۔ «تُرک» کوئی نسل نہیں ہے۔ عراق کے تُرکی گو تُرکان بالکل عراقی عربوں اور عراقی کُردوں جیسے نظر آتے ہیں، اور عراقی عربوں جیسی ہی طرزِ بود و باش اور طرزِ ملبوسات رکھتے ہیں۔ حالانکہ اُن کی زبان بالکل تُرکیہ کے مردُم جیسی ہے اور وہ بھی اناطولیائی تُرکوں کی مانند عُثمانی شہری رہ چکے ہیں۔ ‘«تُرکوں» کے درمیان تاریخی طور پر مشترک چیز تُرکی زبان، اور تُرک ہونے کا احساس ہے، نسل یا اجداد نہیں۔ ویسے بھی «نسل» نامی کسی شَے کا، خصوصاً کسی «خالص نسل» یا «برتر و عالی نسل» کا کوئی حقیقی اور معروضی وجود نہیں ہے۔ ہر شخص ہی مختلف قوموں اور مختلف طرح کے افراد کی طویل آمیزش کا نتیجہ ہے۔
تُرک کوئی یکساں تاریخی تجربات رکھنے والی واحد لسانی «مِلّت» بھی نہیں رہے ہیں، ورنہ آذربائجان اور تُرکیہ کے مردُم یکساں زبان رکھنے کے باوجود تین مختلف مُلکوں اور مِلّتوں میں مُنقسِم نہ ہوتے اور صفوی و عُثمانی سلطنتیں بنا کر صدیوں تک مُتحارِب حالت میں نہ رہتے۔ ہر خِطّے کے تُرکان اپنے مخصوص تاریخی تجربات کے مالک ہیں۔ فی زمانِنا، تُرکیہ اور مشرقی تُرکستان کے تُرکان اُسی طرح مُعاشرتی و ثقافتی لحاظ سے باہمی طور پر مختلف ہیں، جس طرح مراکش اور عراق کے عرب۔
اسلام سے قبل کے اصل قدیم تُرکان حالیہ منگولستان اور مشرقی تُرکستان کے اطراف کے مناطق کے تھے، اور اُن کی شکل و صورت منگولوں جیسی تھی۔ کلاسیکی فارسی و عربی ادبیات اور تاریخی کتابوں میں تُرکوں کو ہمیشہ چینیوں اور منگولوں جیسی ہیئتِ ظاہری والا دِکھایا گیا ہے۔ مثلاً قبل از اسلام دور کے تُرک خاقان «کول‌تیگین» کے چہرے کا مجسمہ دیکھیے:
تصویرِ اول
تصویرِ دوم
تصویرِ سوم
تصویرِ چہارم
اِس تُرک خاقان کی سلطنت حالیہ منگولستان میں تھی۔ آج کا کون سا اناطولیائی «تُرک» اِس جیسا نظر آتا ہے؟ قِرغِزوں، قزاقوں اور اُویغوروں نے قدیم تُرکوں کی شکل و صورت کو کافی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ باقی دیگر تُرکان جہاں جہاں جوق در جوق ہجرت کرتے رہے، مقامی آبادی میں ازدواجی پیوند قائم کر کے نسلی طور پر ضم ہوتے رہے۔ لہٰذا ایران کے حالیہ تُرکان (جو کثیر تعداد میں ہجرت کرنے والے تُرکوں اور مقامی ایرانیوں کے اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے) ایرانیوں جیسے، پاکستان کے تُرک الاصل افراد پاکستانیوں جیسے، دیارِ عرب کے تُرکان عربوں جیسے، ماوراءالنہر کے تُرکانِ اُزبک تاجِکوں جیسے، اور اناطولیہ (دیارِ رُوم) کے تُرکان اناطولیائی، مشرقِ وسطائی اور بلقانی مردُم اور قوموں جیسے نظر آتے ہیں۔ جب عثمانی خلافت کے دست سے بلقانی اور قفقازی خِطّے نکل رہے تھے تو وہاں سے تقریباً ستر لاکھ سے زیادہ مسلمان عثمانی رعیت «دارِ کُفر» کو چھوڑ کر باقی ماندہ «دارِ اسلام» یعنی اناطولیہ اور بلادِ شام کی جانب ہجرت کر گئی تھی۔ آج کے تُرکیہ کی تقریباً ایک تہائی سے زیادہ آبادی اِن مہاجروں کی تُرک شدہ اولاد ہے۔ اِس لیے وہاں کے اکثر مردُم کا جسمانی قیافہ و خد و خال دیگر دیاروں کے تُرکوں سے مختلف ہے۔ تُرکیہ میں بیشتر کُردوں کے بجز دیگر تمام مسلمان اقوام اناطولیائی تُرکی زبان و ثقافت و شناخت اپنا کر «تُرک» ہو چکی ہیں۔
بدقسمتی سے اِس زمانے میں کثرتِ آبادی اور کثرتِ قوّت و وقار کی وجہ سے «تُرک» اور «تُرکیّت» کا معیار تُرکیہ بن گیا ہے۔ اِس لیے ہمارے ذہنوں میں وہاں کے مردُم ہی تُرک کے طور پر بیٹھ گئے ہیں۔ اِس غلط فہمی کو ختم اور دُور کرنا میری نظر میں ضروری ہے۔


یخشی کۉرماق/نغز دیدن

اُزبکی میں «یخْشی کۉرماق» (خوب دیکھنا‌) پسند کرنے، دوست رکھنے، محبت کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ماوراءالنہری فارسی کے جو گُفتاری زبانچے اُزبکی سے بِسیار زیاد مُتاثر ہیں، اُن میں بھی «نغْز دیدن» (خوب دیکھنا) اِسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اُن زبانچوں میں «میں تم سے محبت کرتا ہوں/میں تم کو پسند کرتا ہوں» کے لیے «من تُویه نغْز می‌بینم» (میں تم کو خوب دیکھتا ہوں) کہا جائے گا جو اُزبکی کے «مېن سېنی یخْشی کۉره‌من» کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ہے۔ ادبی ماوراءالنہری فارسی میں اِس عِبارت کا استعمال نادر ہے۔
ماوراءالنہر میں شُمالی تاجکستان اور اُزبکستان کے فارسی زبانچے سب سے زیادہ اُزبکی و تُرکی سے مُتاثر ہیں۔ سمرقند و بُخارا و خُجند و وادیِ فرغانہ کے گُفتاری زبانچے اِسی زُمرے میں آتے ہیں۔

پس نوِشت:
جس طرح «نغْز دیدن» محبّت کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اُسی طرح اِس کی ضِد و نقیض «بد دیدن» نفرت کرنے کے معنی میں بروئے کار لائی جاتی ہے۔ دونوں کے استعمال کی ایک ادبی مثال دیکھیے:
"گُل‌چهر بهرام را بد می‌بیند. امّا به بهروز مَیل و رغبت و محبّت دارد. بهروز هم گُل‌چهر را نغْز می‌بیند. ولی عشقش را اظهار نمی‌کند.”
ترجمہ: گُل‌چہر بہرام سے نفرت کرتی ہے۔ لیکن بہروز کی جانب مَیل و رغبت و محبّت رکھتی ہے۔ بہروز بھی گُل‌چہر سے محبّت کرتا ہے۔ لیکن اپنے عشق کا اظہار نہیں کرتا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مُحاورہ اُزبَکی الاصل نہ ہو بلکہ تاجیکی الاصل ہو اور ماوراءالنہری فارسی سے اُزبَکی میں گیا ہو۔ لیکن اُزبکی میں اِس کا استعمال زیادہ ہے اور ادبی اُزبَکی میں بھی «یخْشی کۉرماق» کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ یا یہ امکان بھی ہے کہ ہر دو زبان میں یہ محاورہ بہ یک وقت استعمال ہونا شروع ہوا ہو۔ گُذشتہ صدیوں میں ماوراءالنہری شہروں کے بیشتر مردُم دوزبانی تھے، اِس لیے یہ دونوں زبانیں مُتَقابلاً ایک دوسرے پر اثر ڈالتی رہی ہیں۔


خواننا

مجھے اردو زبان میں «ڑ» اور «ڑھ» کی آوازیں سخت ناپسند ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسے الفاظ کا استعمال کم سے کم کروں جن میں یہ آوازیں پائی جاتی ہوں، اِس لیے لِکھتے وقت مَیں ہمیشہ اِن آوازوں والے الفاظ کا فارسی-عربی مُتبادِل استعمال کرتا ہوں۔ مثلاً میں لفظِ «کڑوا» ہرگز استعمال نہیں کرتا، بلکہ ہمیشہ اُس کی بجائے «تلخ» استعمال کرتا ہوں۔ میری زبان فارسی کا لفظ «تلخ» اپنے تلخ معنی کے باوجود شیریں صدا رکھتا ہے، جبکہ «کڑوا» میرے گوش (کان) کو کریہہ الصّوت معلوم ہوتا ہے۔ لہٰذا میرے ذخیرۂ الفاظ میں «کڑوا» اور اِس جیسے دیگر الفاظ کے لیے کوئی جا نہیں ہے۔ اگر میں کہوں کہ مجھے زبانِ اردو کے اِس گروہِ الفاظ سے نفرت محسوس ہوتی ہے تو نادرست نہ ہو گا۔
اسماء و صفات کی جگہ پر تو فارسی متبادلات کا استعمال آسانی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن افعال ایسی چیز ہیں کہ کئی بار مجبوراً اور ناچار «ڑ» والے افعال کو استعمال کرنا پڑتا ہے، مثلاً مجھے اِس جملے ہی میں اردو فعل «پڑنا» کا استعمال کرنا پڑا، جس میں ‘ڑ’ کی آواز ہے۔ مُتأسفانہ، اِس فعل کا کوئی متبادل مجھے معلوم نہیں ہے، لہٰذا اِس فعل کو استعمال کر لیتا ہوں تاکہ جو معنی اِس فعل میں موجود ہے اُس کی قُربانی نہ دینی پڑے۔ معنی بہر حال لفظ سے مُقدّم و اَولیٰ ہے۔
ایک ایسا ہی کثیر الاستعمال فعل «پڑھنا» ہے، جس سے مجھے اکثر سر و کار رہتا ہے۔ میں اردو کو رد کر کے فارسی کو اپنی واحد قلبی زبان کے طور پر اپنا لینے کے بعد بھی کئی زمانے تک اِس فعل کو استعمال کرتا رہا ہوں، کیونکہ کتابیں «پڑھنا» میرا مشغلہ، بلکہ جُنون رہا ہے، اِس لیے اِس فعل کو استعمال کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ ایک روز ذہن میں آیا کہ فارسی کے مصدر «خوانْدن» (تلفظ: خانْدن) کی مدد سے «پڑھنا» کا متبادل مصدر «خوانْنا» (تلفظ: خانْنا) جعل کیا جا سکتا ہے۔ کیوں نہ اِس کو استعمال کرنا شروع کیا جائے۔ لہٰذا میں نے اپنی تحریروں میں اِس مصدر کو اور اِس کی مُختلف تصریفی حالتوں کو کام میں لانا شروع کر دیا۔ اور میری کوشش ہے کہ اِسی کو استعمال کرنے کا اِلتِزام جاری رکھوں۔ میں باخبر ہوں کہ مردُم میری پَیروی میں اِس کو استعمال کرنا شروع نہیں کریں گے، لیکن کم از کم اِس طرح مَیں تو «پڑھنا» کے «ڑ» سے راہِ فرار حاصل کر سکتا اور اِس مصدر سے ناپسندیدگی کا اِظہار کر سکتا ہوں۔ یہ اردو کی اُن آوازوں کے خلاف میرا ایک احتجاج اور اِظہارِ بے زاری ہے جو مجھے اور میرے کانوں کو ناپسندیدہ لگتی ہیں۔ (یہ ناپسندیدگی مجھے «ٹ»، «ٹھ»، «ڈ»، «ڈھ» آوازوں سے بھی ہے، لیکن «ڑ» اور «ڑھ» سب سے زیادہ کریہہ لگتی ہیں۔)
فارسی مصدروں کی مدد سے اردو مصادر جعل کرنا کوئی تازہ چیز نہیں ہے۔ اردو میں لرزنا، تراشنا، خراشنا وغیرہ جیسے جعلی مصادر استعمال ہوتے آئے ہیں۔ «خواندن» بھی اردو گویوں کے لیے اجنبی نہیں ہے، اور اُن کی لسانی و ادبی یادداشت کا حصّہ ہے۔ ہر شخص قُرآن خوانی، خواندگی، نعت خواں وغیرہ الفاظ استعمال کرتا ہے۔

ذیل میں مَیں بطورِ مثال ایسے چند جُملے لِکھ رہا ہوں، جن میں «خوانْنا» کی مُختلف تصریفی حالتوں کا استعمال کیا گیا ہے:
میں نے کتاب خوانی۔
وہ تمام شب کتاب خوانتا رہا۔
میں عربی کتابوں کو ترجمے کے بغیر خواننا چاہتا ہوں۔
کیا یہ تم یہ کتاب خوان چُکے ہو؟
اُس نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے تک اِس کتاب کو خوان کر ختم کر لے گا۔
یہ کتاب بے حد خوب ہے۔ اِس کو ضرور خوانیے گا۔
درسی کتابیں خوان خوان کر سر میں درد ہو گیا۔
و علیٰ ہٰذِہِ القیاس۔

میں اِس چیز سے واقف ہوں کہ بعض افراد کو میری اِس شخصی رائے سے کامِلاً اِختلاف ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اُن کو یہ آوازیں (جو میری نظر میں بدصورت و دُرُشت ہیں) بدصدا نہیں معلوم ہوتی ہوں گی (کیونکہ بہر حال میں بھی یہ قبول کرتا ہوں کہ پسندیدگی و ناپسندیدگی ایک حد تک شخصی و نفْسی چیز ہے)۔ اُن سے بحث کرنے یا اُن کو اپنی رائے کی جانب راغب کرنے کے لیے مَیں نے یہ تحریر نہیں لِکھی ہے، بلکہ یہ تحریر صرف اِس لیے لِکھی ہے کہ اگر میرے تارنِگار (بلاگ) پر کوئی قاری آئے، اور اُس کو «خواننا» کا معنی سمجھ نہ آ رہا ہو یا میرے «خواننا» استعمال کرنے کا سبب سمجھ نہ آ رہا ہو تو وہ اِس تحریر کے ذریعے سے سمجھ سکے۔
مُستقبل میں ایسے چند مزید مصادر جعل کرنے کا اِرادہ ہے۔ ویسے بھی میں اِس پر یقین رکھتا ہوں کہ اُردو جس قدر فارسی کے نزدیک آتی جائے، بہتر ہے۔


تُرکی میں اسماء کی جمع بنانے کا طریقہ

تُرکی میں مُفرَد اسماء کو جمع میں تبدیل کرنے کے لیے دوشکلی لاحقہ ‘لر/لار’ استعمال ہوتا ہے۔ جن اِسموں کا آخری مُصوّت (ووول) دہن کے اگلے حصّے سے نکلتا ہو (ə, e, i, ö, ü)، اُن کو جمع کی حالت میں لانے کے لیے ‘لر’ استعمال ہو گا، جبکہ جن اِسموں کا آخری مصوّت دہن کے عقبی حصّے سے نکلتا ہو (a, ı, o, u)، اُن کے لیے ‘لار’ کو بروئے کار لایا جائے گا۔ مثالیں دے کر واضح کرتا ہوں:

قلم/qələm -> قلم‌لر/qələmlər
ائو/ev -> ائولر/evlər (ائو = خانہ، گھر، مکان)
مسجید/məscid -> مسجیدلر/məscidlər (مسجید = مسجد)
گؤز/göz -> گؤزلر/gözlər (گؤز = چشم، آنکھ)
گۆن/gün -> گۆن‌لر/günlər (گۆن = روز، دن، یوم)

کیتاب/kitab -> کیتاب‌لار/kitablar (کیتاب = کتاب)
قاپې/qapı -> قاپې‌لار/qapılar (قاپې = در، دروازہ)
دۏست/dost -> دۏست‌لار/dostlar
سۏرو/soru -> سۏرو‌لار/sorular (سۏرو = سوال)


محمود بن حسین بن محمد کاشغری کے بقول تُرکی سیکھنے کا ایک دینی سبب

قرنِ یازدہُمِ عیسوی کے ادیب محمود بن حُسین بن محمد کاشغری نے ۴۶۶ ہجری میں عربی زبان میں ‘دیوان لغات الترک’ کے نام سے ایک پُرحجم کتاب لکھی تھی، جو بنیادی طور پر اُس زمانے کی تُرکی (جس کو اب قاراخانی تُرکی کے نام سے جانا جاتا ہے) کی فرہنگ تھی اور اِس کتاب کو لکھنے سے اُن کا مقصود بغداد کے عبّاسی خُلَفاء اور عربی خواں مسلم علمی حلقوں کو تُرکی زبان و لہجوں و محاورات و اشعار و ثقافت و رسومات سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ کتاب پس از اسلام دور میں کسی تُرک کی جانب سے لکھی جانے والی اوّلین کتاب ہے۔ علاوہ بریں، پس اسلامی دور میں تُرکی زبان کے گُفتاری و نیم ادبی نمونے سب سے قبل اِسی کتاب میں ثبت ہوئے ہیں، لہٰذا ماہرینِ تُرک شناسی و زبان شناسی کے لیے یہ کتاب ایک معدنِ زر سے کم نہیں ہے، اور دیر زمانے سے یہ کتاب اُن کی تحقیقوں کا محور ہے۔ یہ کتاب اُس دور سے تعلق رکھتی ہے کہ جب حالیہ اُزبکستان، تُرکمنستان، آذربائجان اور تُرکیہ میں ہنوز تُرک قبائل کے جوق در جوق کُوچ اور کِشوَر کُشائی کا آغاز نہ ہوا تھا۔

بہر حال، محمود کاشغری اپنی کتاب کے پیش گُفتار میں حمد و ثنا و صلوات اور تُرکوں کی سِتائش کے بعد لکھتے ہیں:

"ولقد سمعت عن ثقة من أئمة بخارا وإمام آخر من اهل نیسابور کلاهما رویا باسناد لهما عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه لما ذکر أشراط الساعة وفتن آخر الزمان وخروج الترك الغُزّيّة فقال «تعلموا لسان الترك فأنَّ لهم ملكا طوالا» فالرواية برفع الطاء. فلئن صحَّ هذا الحديث والعهدة عليهما فيكون تعلمه واجباً ولئن لم يصح فالعقل يقتضيه.”

"سوگند یاد می‌کنم که من از یکی از امامان ثقه‌ی بخارا و نیز از یکی از امامان اهل نیشابور شنیدم، و هر دو با سلسله‌ی سند روایت کنند که پیامبر ما چون نشانه‌های رستاخیز و فتنه‌های آخرالزمان و نیز خروج ترکان اوغوز را بیان داشت، چنین فرمود: «زبان ترکی را بیاموزید، زیرا که آنان را فرمانروایی دراز آهنگ در پیش است».
اگر این حدیث صحیح باشد – بر عهده‌ی آن راویان – پس آموختن زبان ترکی کاری بس واجب است و اگر هم درست نباشد، خرد اقتضاء می‌کند که [مردم] فراگیرند.”
(فارسی ترجمہ: حُسین محمدزاده صدیق)

"یقیناً میں نے بُخارا کے ایک ثقہ امام سے، اور اہلِ نیشابور کے ایک امام سے سنا ہے، اور دونوں سلسلۂ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیه وسلم جب قیامت کی نشانیوں، آخرِ زماں کے فتنوں اور اوغوز تُرکوں کے خروج کو بیان کر رہے تھے تو اُنہوں نے یہ فرمایا: "تُرکوں کی زبان سیکھو، کیونکہ اُن کی فرماں روائی طویل ہو گی۔”
اگر یہ حدیث صحیح ہو – اور اِس کا ذمّہ اُن راویوں پر ہے – تو پس زبانِ تُرکی کو سیکھنا ایک کارِ واجب ہے، اور اگر درست نہ ہو تب بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ مردُم اِس کو سیکھیں۔”

(یاد دہانی: اِس مُراسلے کو ارسال کرنے کا مقصد اِس حدیث کی صحت و سقم پر یا اِس اقتباس کی دینی اَبعاد پر بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کو صرف اِس لیے ارسال کیا گیا ہے کیونکہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ کو یہ سطور جالبِ توجُّہ محسوس ہوئیں، اور میرے دل میں آیا کہ اِن کو دیگروں کی نظروں میں بھی لانا چاہیے۔ اِسی بہانے محمود کاشغری اور اُن کی بِسیار اہم کتاب کا مختصر تعارف بھی ہو جائے گا۔)