نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔

Advertisements

نعتِ حضرتِ رسول – ظهیرالدین محمد بابر

تیموری پادشاہ ظہیرالدین محمد بابُر نے نقشبندی صوفی شیخ خواجہ عُبیداللہ احرار کے «رسالۂ والدیّہ» کا فارسی سے تُرکی میں منظوم ترجمہ کیا تھا۔ مندرجۂ ذیل نعت اُسی تُرکی مثنوی سے مأخوذ ہے۔

یا حبیبِ عربیِ قُرَشی
غم و دردینگ منگا شادی و خوشی
چرخ‌نینگ گردشی مَیلینگ بیرله
باری خلق اۉلدی طُفیلینگ بیرله
انبیا خَیلی‌غه سروَر سېن‌سېن
جُملهٔ خلق‌غه رهبر سېن‌سېن
مېن بسی کاهل و یۉل اسرو ییراق
عُمر کۉپ قیسقه و یۉل اوزون‌راق
مېنِ گُمراه‌قه کۉرسات بیر یۉل
مېنی مقصودقه یېتکورگای اۉل
قۉیمه بابُرنی بو حِرمان بیرله
چاره قیل دردی‌غه درمان بیرله
(ظهیرالدین محمد بابر)

اے حبیبِ عرَبی و قُرَشی!۔۔۔ آپ کے [عشق میں] غم و درد میرے لیے شادمانی و خوشی ہے۔۔۔ چرخ کی گردش آپ کے مَیل و رغبت سے ہوتی ہے۔۔۔ تمام چیزیں آپ کے طُفیل خَلق ہوئی ہیں۔۔۔ گروہِ انبیا کے سروَر، اور جُملہ خَلق کے رہبر آپ ہیں۔۔۔ میں بِسیار کاہل ہوں، اور راہ خیلے دُور ہے۔۔۔ عُمر بِسیار کوتاہ ہے اور راہ طویل تر ہے۔۔۔ مجھ گُمراہ کو ایک ایسی راہ دِکھائیے جو مجھ کو مقصود تک لے جائے۔۔۔ بابُر کو اِس مایوسی و حِرمان میں مت چھوڑیے۔۔۔ اور درمان کے ساتھ اُس کے درد کا چارہ کیجیے۔


اکسۆک اۏلماز جانا جَور و دردِ جانان هر گیجه – بورسالې هجری

اکسۆک اۏلماز جانا جَور و دردِ جانان هر گیجه
جمع اۏلور بو کُلبهٔ احزانا یاران هر گیجه
هِجریله اؤلدۆرمه شاید بیر گۆن اۏلا دییه‌سین
قانې اۏل شوریده کیم ائیلردی افغان هر گیجه
تارومار ائیلر ساچې گیبی شبیخون ائیله‌یۆپ
صبر و هوشوم عسکرین اۏل نامسلمان هر گیجه
زُلفی گاهی گۆن یۆزینه حایل اۏلسا وجْهی وار
طالِع اۏلماز ای گؤڭۆل چۆن ماهِ تابان هر گیجه
هر ساچې لَیلی‌دن ای دل اومما گُل‌بویِ وفا
خِضرا روزی اۏلمامېش‌دور آبِ حیوان هر گیجه
شمعِ عالَم‌تاب‌وش مِهرِ جمالۆڭ شوقینه
آغلاروم تا صُبح اۏلېنجا زار و گِریان هر گیجه
(بورسالې هِجری)

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

جان پر جاناں کا سِتم و درد کسی بھی شب کم نہیں ہوتا۔۔۔ اِس کُلبۂ غم میں یاراں ہر شب جمع ہوتے ہیں۔ (کُلبہ = جھونپڑی)
[مجھ کو] ہجر کے ذریعے قتل مت کرو، [کیونکہ] شاید ایک روز [ایسا] آئے کہ تم کہو: کہاں ہے وہ شوریدہ جو ہر شب فغاں کرتا تھا؟
وہ نامسُلمان ہر شب شبیخون کر کے میرے صبر و ہوش کی سِپاہ کو اپنی زُلف کی طرح تار و مار کر دیتا ہے۔
اگر اُس کی زُلف گاہے اُس کے [مثلِ] خورشید چہرے پر حائل ہو جائے تو اِس کی وجہ ہے۔۔۔ کیونکہ، اے دل، ماہِ تاباں ہر شب طلوع نہیں ہوتا۔
اے دل! ہر لیلیٰ زُلف [معشوق] سے (یعنی ہر سیاہ زُلف معشوق سے) گُل بُوئے وفا کی اُمید مت رکھو۔۔۔ خِضر کو آبِ حیات ہر شب نصیب نہیں ہوا ہے۔
میں شمعِ عالَم تاب کی طرح تمہارے خُورشیدِ جمال کے اشتیاق میں ہر شب صُبح ہونے تک زار و گِریاں روتا ہوں۔

Eksük olmaz câna cevr ü derd-i cânân her gice
Cem’ olur bu külbe-i ahzâna yârân her gice
Hicrile öldürme şâyed bir gün ola diyesin
Kanı ol şûrîde kim eylerdi efgân her gice
Târumâr eyler saçı gibi şebihûn eyleyüp
Sabr u hûşum ‘askerin ol nâ-müselmân her gice
Zülfi gâhî gün yüzine hâyil olsa vechi var
Tâli’ olmaz ey göñül çün mâh-ı tâbân her gice
Her saçı leylîden ey dil umma gül-bûy-ı vefâ
Hızra rûzî olmamışdur âb-ı hayvân her gice
Şem-i ‘âlem-tâb-veş mihr-i cemâlüñ şevkine
Aglarum tâ subh olınca zâr u giryân her gice
(Bursalı Hicrî)

× «بورسالې» کا معنی یہ ہے کہ شاعر کا تعلق شہرِ «بورسا» سے تھا۔


تُرکِیَوی ادیب «علی نِہاد تارلان» کے ساتھ لاہور میں پیش آیا ایک دلچسپ واقعہ

"«اقبال اکادمی» کی جانب سے عظیم مُتفکّر [علّامہ اقبال] کے نام پر منعقد کردہ یادگاری جلسہ اختتام ہو گیا تھا۔ روزِ فردا پاکستان کے صدر نے شرفِ ملاقات بخشا۔ جنابِ صدر نے پوچھا کہ کیا میں لاہور – جہاں پر اقبال کا مقبرہ ہے – جا چکا ہوں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ "موسم بِسیار گرم ہے، میں جسارت نہیں کر پاتا۔” ظاہراً دو روز قبل وہاں زوردار بارشیں ہو چکیں تھیں، اور لاہور کا موسم مُعتدل ہو گیا تھا۔ اُس شب قصرِ صدارت کی طرف سے اقبال اکادمی کو اِس صورتِ حال کی اطلاع دی گئی، اور مجھ کو لاہور لے جانے کا امر فرمایا گیا۔ میں نے بھی اس موقع کو گنوانا نہ چاہا۔ روزِ فردا میری رفاقت کرنے والے محترم ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کے ساتھ میں لاہور چلا گیا۔ دانشگاہِ پنجاب کے شُعبۂ زبان و ادبیاتِ فارسی کے رئیس پروفیسر محمد باقر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں لاہور کے ایک کبیر و مُحتشَم مُسافرخانے میں ٹھہرا۔ میں اِس قدر پُرجوش، اور «اقبال» سے اِس قدر پُر تھا کہ کیا بتاؤں!
شب کے وقت میں نے اقبال کے بارے میں مثنویِ [رُومی] کے وزن میں «قونیۂ ثانی» عنوان کے ساتھ ایک نظم لِکھی۔ میں شب کو سو نہ سکا۔ صُبح کے وقت عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر مُسافرخانے میں آئے۔ میں نے جوش و ہیجان کے ساتھ اُن کو نظم سُنانا چاہی۔ ہنوز میں نے بیتِ اوّل ہی سُنائی تھی کہ وہ دونوں یک دہن ہو کر «واه واه» کہنے لگے۔
میں نے اِس چیز کو اِس طرح فہم کیا:
"یہ شخص ایک تُرک ہے۔ اِس کو خوش گُمانی ہے کہ اِس نے فارسی شاعری لِکھی ہے۔ افسوس! افسوس!۔۔” لیکن میں نے اپنی شعرخوانی کو روکا نہیں، جاری رکھا۔ چند ابیات پر وہ اِس «واه واه» کی تکرار کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ میری آواز تنگ و خفیف ہو گئی۔ میری رُوحیات مُضطرب ہو گئیں۔ ناراحتی کے باعث میں عرَق میں غرق ہو گیا۔ بالآخر نظم ختم ہو گئی۔ محمد باقر نے عبدالحمید عرفانی سے کہا: "الامان!! ہم اِس کو لاہور کے جریدوں میں شائع کریں گے۔ خارق العادت شاعری ہے!” اور مجھ سے کہا: "اِس نظم کو اپنی دست خطی سے لکھ دیجیے۔ تاکہ ہم دانشگاہ کے مجموعے میں اُس کی تصویری نقل چھاپیں۔” سوچیے میری حالت کو!۔۔۔ بعد میں مَیں سمجھا کہ یہ «واه، واه» بِسیار زیبا، آفرین کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اُس روز ہم نے مزارِ اقبال کی زیارت کی۔ ہمارے پہلو میں وہاں کے چند شُعَراء بھی موجود تھے۔ مزار میں مجھ سے نظم خوانوائی (پڑھوائی) گئی۔ بعد ازاں، پاکستان کے بُزُرگ ترین ادبی مجموعے «ہِلال» نے بھی شائع کی۔
زندگی کی طرح طرح کی تجلّیاں ہیں۔ کون کہتا کہ سالوں بعد مَیں مزارِ مولانا رُومی کے احاطے میں «اقبال» اور «نفْعی» کے نام پر ایک ایک دفتر کی تأسیس کے لیے مِلّی وزارتِ تعلیم سے رجوع کروں گا اور یہ پیش نِہاد (تجویز) قبول ہو جانے کے بعد وہ دفاتر فعالیّت کا آغاز کر دیں گے۔۔۔ اور قونیہ بھی لاہورِ ثانی ہو جائے گا۔۔۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

× تُرکی زبان میں «واه!» افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «نفْعی» = دیارِ آلِ عُثمان کے ایک مشہور شاعر کا تخلُّص

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

صدرِ پاکستان کی جانب سے علی نہاد تارلان کو دیا گیا «ستارۂ امتیاز» اُن کے سُپُرد کرتے وقت پاکستان کے سفیرِ اعلیٰ جناب س. م. حسن نے یہ فرمایا تھا:

"پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تارلان تُرکیہ کے مُمتاز ترین کلاسیکی عالموں میں سے ایک ہیں۔ وہ چالیس سالوں سے تُرکی و فارسی زبانیں سِکھا رہے اور رُبع صدی سے دانشگاہِ استانبول میں کلاسیکی تُرکی ادبیات کی کُرسیِ اُستادی پر مشغول ہیں۔ وہ فقط ایران اور پاکستان میں نہیں، بلکہ مغربی مُستشرقین کے درمیان بھی فارسی ادبیات میں صاحبِ صلاحیت کے طور پر معروف ہیں۔ اِس کے علاوہ، پروفیسر تارلان «اقبال» کے موضوع پر تُرکیہ میں اہم ترین مُتخصِّص ہونے کے ساتھ ساتھ، یہاں پاکستان کے مِلّی شاعر کو مُتعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والے شخص ہیں۔ اقبال کی تصنیفوں «پیامِ مشرق» اور «اسرار و رُموز» کا ترجمہ کرنے کے ذریعے سے اُنہوں نے پاکستان کے اِس عظیم شاعر کا پیغام ہم وطنوں کو سُنایا اور تشریح کیا ہے۔ پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان معنوی و ثقافتی رابطوں کو قوی تر کرنے کے لیے اُن کی خِدمات کے پیشِ نظر وہ ۱۹۵۷ء میں اقبال اکادمی کی جانب سے کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسۂ اقبال کی صدارت کرنے کے لیے پاکستان مدعو ہوئے تھے۔
"پروفیسر علی نہاد تارلان کی، پاکستان کے مِلّی شاعر کو برادر تُرک مِلّت سے مُتعارف کرانے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کی قدردانی میں پاکستان کے صدرِ مملکت نے کو اُن کو «ستارۂ امتیاز» سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی قابلیتوں میں تمایُز دِکھانے والے عالِموں کو دیے جانے والا یہ نشان پروفیسر علی نہاد تارلان کو دینے سے مَیں بِسیار شادمانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ نشان، باہمی تاریخی و روایتی دوستی کے رابطے رکھنے والے مُلکوں تُرکیہ اور پاکستان کو یک دیگر کے مزید نزدیک قریب لانے کی راہ میں کوششیں کرنے والے تُرک دانشوَروں کو ہمارا احترام پیش کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

جس طرح ایران پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان جغرافیائی پُل ہے، اُسی طرح زبانِ فارسی کو بھی پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان حلقۂ واصِل کہا جا سکتا ہے۔ تُرکِیہ کے ادبیات شِناسوں کی ایک کثیر تعداد فارسی زبان جانتی ہے، کیونکہ فارسی کے علم کے بغیر کلاسیکی و عُثمانی تُرکی ادبیات کا مُطالعہ قریباً ناممکن ہے۔ فارسی پاکستان اور تُرکیہ ہر دو مُلکوں کی کلاسیکی ادبی زبان ہے۔


اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را – شهزاده بایزید بن سلطان سلیمان قانونی

خلیفۂ عُثمانی سلطان سُلیمان قانونی کے پِسر شہزادہ بایزید متخلّص بہ ‘شاہی’ کی ایک فارسی غزل:

اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را
به تیغِ قهرَمانی برگُشایم مُلکِ دنیا را
اگر یاری دِهد بختم به آیینِ سلیمانی
چو اِنس و جن به فرمان آورم از قاف عنقا را
سرِ طهماسب را از تن به ضربِ تیغ بردارم
به زیرِ حُکمِ خویش آرم سمرقند و بخارا را
مُحبِّ چار یار و آل و اصحابِ محمّد شو
بِیا ای رافضی بر جانِ خود کن آن تبرّا را
به راهِ شرعِ روشن شو مشو گم‌ره به نادانی
بُرون آر از دماغِ خُشک این بیهوده سودا را
من از بهرِ جهان‌گیری چرا بیهوده اندیشم
که خود از دل رِضا دادم قضایِ حق تعالیٰ را
اُمیدم هست ای شاهی مُعینم گر مُعین باشد
به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را
(شه‌زاده بایزید ‘شاهی’)

اگر ہمیں تاجِ جہاں داری مُیسّر ہو گا تو میں [اپنی] پہلوانی تیغ سے مُلکِ دُنیا فتح کر لوں گا۔
اگر میری قسمت یاوری کرے تو میں سُلیمانی طریقے سے اِنس و جِن کی طرح عنقا کو [بھی] کوہِ قاف سے زیرِ فرمان لے آؤں گا۔
تہماسب صفوی کے سر کو بہ ضربِ تیغ تن سے جدا کر دوں گا اور سمرقند و بخارا کو اپنے زیرِ حُکم لے آؤں گا۔
حضرتِ محمد (ص) کے چار یار اور اُن کی آل و اصحاب کے محب بنو۔۔۔ اے رافضی! آؤ اور وہ تبرّا خود کی جان پر کرو۔
شریعتِ مُبین کی راہ پر آ جاؤ، نادانی کے باعث گُمراہ مت ہوؤ۔۔۔ اپنے دماغِ خُشک سے اِس بے فائدہ و ناحق جُنون کو بیرون کر دو۔
میں جہاں گیری کے لیے کس لیے عبَث فِکر کروں؟ کہ میں خود دل سے قضائے حق تعالیٰ پر رِضامند ہوا ہوں۔
اے ‘شاہی’! مجھے اُمید ہے کہ اگر خدائے مُعین میری یاوری کرے تو میں شمشیرِ جہاں گیری سے مُلکِ دُنیا کو فتح کر لوں گا۔

به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را

شہزادہ بایزید کے فارسی دیوانچے کے ترتیب دہندہ ‘مصطفیٰ چیچک‌لر’ کے مطابق ایک نسخے میں مندرجۂ بالا مصرعے میں «…گُشایم مُلکِ دنیا را» کی بجائے «…گُشایم رُویِ غبرا را» ہے، یعنی: ۔۔۔میں رُوئے زمین کو فتح کر لوں گا۔


آذربایجان‌دادېر – سلیمان رستم

(آذربایجان‌دادېر)
نئیله‌ییم، دۏست‌لار، یئنه قان قارداشېم توفان‌دادېر،
یئلکه‌نیم – هر دالغاسې، داغ‌دان بؤیۆک عۆممان‌دا‌دېر.
ائل بیلیر، یۏخ ماهنېما، یۏخ شئعریمه سرحد منیم،
سؤزلریم دیل‌لرده‌دیر، تبریزده‌دیر، زنجان‌دادېر.
بیرجه آن اۏلسون دا آیرېلمېر اۏ تای‌دان گؤزلریم،
تبریزین هر گوشه‌سی باش‌دان-باشا آل قان‌دا‌دېر.
یوردومون هر ذرره‌سی دۏغما، عزیزدیر کؤنلۆمه،
وصله یۏل‌لار آختاران کؤنلۆم هله هیجران‌دادېر.
اؤزگه بیر تۏرپاق‌دا یۏخ‌دور، یۏخ گؤزۆم – عالم بیلیر،
وارلېغېم، عئشقیم، منیم روحوم آذربایجان‌دادېر.
(سُلیمان رُستم)

(آذربائجان میں ہے)
اے دوستو! میں کیا کروں، میرا خونی برادر دوبارہ طوفان میں ہے۔۔۔ میری بادبانی کشتی ایسے اوقیانوس میں ہے کہ جس کی ہر موج کوہ سے بھی زیادہ کبیر و بُلند ہے۔
خَلق جانتی ہے کہ میرے نغمے، میری شاعری کی [کوئی] سرحد نہیں ہے۔۔۔ میرے سُخن زبانوں پر ہیں، تبریز میں ہیں، زنجان میں ہیں۔
میری چشمیں ایک لمحہ بھی اُس جانب سے جُدا نہیں ہوتیں۔۔۔ تبریز کا ہر گوشہ سر تا سر سُرخ خون میں [آغُشتہ] ہے۔
میرے وطن کا ہر ذرّہ میرے دل کے لیے سگا و عزیز ہے۔۔۔ وصل کی جانب راہیں تلاش کر رہا میرا دل ہنوز ہِجراں میں ہے۔
عالَم جانتا ہے کہ میری نظر کسی [بھی] دیگر خاک پر نہیں ہے، نہیں ہے۔۔۔ میری ہستی، میرا عشق، میری روح آذربائجان میں ہے۔

(Azərbaycandadır)
Neyləyim, dostlar, yenə qan qardaşım tufandadır,
Yelkənim – hər dalğası, dağdan böyük ümmandadır.
El bilir, yox mahnıma, yox şerimə sərhəd mənim,
Sözlərim dillərdədir, Təbrizdədir, Zəncandadır.
Bircə an olsun da ayrılmır o taydan gözlərim,
Təbrizin hər guşəsi başdan-başa al qandadır.
Yurdumun hər zərrəsi doğma, əzizdir könlümə,
Vəslə yollar axtaran könlüm hələ hicrandadır.
Özgə bir torpaqda yoxdur, yox gözüm – aləm bilir,
Varlığım, eşqim, mənim ruhum Azərbaycandadır.
(Süleyman Rüstəm)

× شاعر کا تعلق شُورَوی آذربائجان سے تھا۔ شاعر نے مندرجۂ بالا نظم ایرانی آذربائجان اور ایرانی آذربائجانیوں کے نام لِکھی تھی، اور اِس میں اُنہوں نے دیارِ آذربائجان سے اپنی محبّت، ایرانی آذربائجانیوں اور اُن کی جِدّ و جہد سے اپنی ہم دِلی، اور ایرانی آذربائجان سے جُدائی کے باعث حسرت کا اِظہار کیا ہے۔ اپنے مُنقسِم دیار کے لیے ایسی پُرحسرت وطن پرستانہ نظمیں مُعاصِر آذربائجانی تُرکی شاعری، خصوصاً قفقازی آذربائجان کی تُرکی شاعری کا اہم حِصّہ رہی ہیں۔
× «تبریز» اور «زنجان» ایرانی آذربائجان کے شہر ہیں۔


در حقِّ خاندانِ نُبُوّت و چهاریارِ باصفا رضی الله عنهُم – لیلیٰ خانم

(در حقِّ خاندانِ نُبُوّت و چهاریارِ باصفا رضی الله عنهُم)
فدا قېل ای گؤڭۆل وار ایسه جانېڭ
یۏلېندا خاندانِ مُصطفانېڭ
ایدن‌لر حضرتِ بوبکری انکار
جمالین گؤرمه‌سۆن‌لر انبیانېڭ
گُنه‌کارېم اگرچه بنده‌سی‌ییم
عُمر عُثمان علیُّ المُرتضانېڭ
عجب مُنکِرلریڭ یۏق مې دو چشمی
که گؤرمز جذبه‌سین آلِ عبانېڭ
بو ادنیٰ بنده‌سین دور ایتمه‌یه حق
قاپوسې سگ‌لریندن اَولیانېڭ
گؤرۆپ انکار ایدرلر اَولیایې
سن آنې سانما وار ایمانې آنېڭ
قولوڭ لَیلایې یا رب ایتمه مطرود
دریندن چاریارِ باصفانېڭ
(لیلیٰ خانم)

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن

ترجمہ:
اے دل! اگر تم جان رکھتے ہو تو [اُس کو] خاندانِ مُصطفیٰ کی راہ میں فدا کر دو۔
جو اشخاص حضرتِ ابوبکر کا انکار کرتے ہیں، [خدا کرے کہ] وہ انبیا کا جمال نہ دیکھیں!
اگرچہ میں گُناہ کار ہوں، [لیکن] میں عُمر و عُثمان و علی المرتضیٰ کی کنیز ہوں۔
عجَبا! کیا مُنکِروں کے پاس دو چشمیں نہیں ہیں جو وہ آلِ عبا کی جذّابیت اور وجد و استغراقِ روحانی کو نہیں دیکھتے؟
حق تعالیٰ اپنی اِس ادنیٰ کنیز کو اولیا کے در کے سگوں سے دُور نہ کرے!
وہ اشخاص اولیا کو دیکھ کر [اُن کا] انکار کرتے ہیں۔۔۔ تم یہ گُمان مت کرو کہ وہ ایمان رکھتے ہیں۔
یا رب! اپنی غُلام «لیلیٰ» کو چار یارِ باصفا کے در سے دُور مت کرو۔

(Der-Hakk-ı Hânedân-ı Nübüvvet ve Çehâr-Yâr-ı Bâ-Safâ Radiyalâhu ‘Anhüm)
Fedâ kıl ey göñül var ise cânıñ
Yolında hânedân-ı Mustafâ’nıñ
İdenler Hazret-i Bû-Bekr’i inkâr
Cemâlin görmesünler enbiyânıñ
Güneh-kârım egerçi bendesiyim
‘Ömer ‘Osmân ‘Aliyyü’l-Murtazâ’nıñ
‘Aceb münkirleriñ yok mı dü-çeşmi
Ki görmez cezbesin Âl-i ‘Abâ’nıñ
Bu ednâ bendesin dûr itmeye Hak
Kapusı seglerinden evliyânıñ
Görüp inkâr iderler evliyâyı
Sen ânı sanma var îmânı ânıñ
Kuluñ Leylâyı yâ Rab itme matrûd
Derinden Çâr-Yâr-ı Bâ-Safâ’nıñ
(Leylâ Hanım)