امشب شهادت‌نامهٔ عشاق امضا می‌شود – حبیب‌الله چایچیان «حسان»

شبِ عاشورا کی یاد میں کہی گئی ایک رِثائی نظم:

اِمشب شهادت‌نامهٔ عُشّاق اِمضا می‌شود
فردا ز خونِ عاشقان، این دشت دریا می‌شود
امشب کنارِ یک‌دِگر، بِنْشسته آلِ مُصطفیٰ
فردا پریشان جمعشان، چون قلبِ زهرا می‌شود
امشب بُوَد بر پا اگر، این خیمهٔ شاهنشهی
فردا به دست دُشمنان، برکَنده از جا می‌شود
امشب صدایِ خواندنِ قرآن به گوش آید ولی
فردا صدایِ الأمان، زین دشت بر پا می‌شود
امشب کنارِ مادرش، لب‌تشنه اصغر خُفته است
فردا‌‌، خُدایا!، بِستَرش، آغوشِ صحرا می‌شود
امشب که جمعِ کودکان، در خوابِ ناز آسوده‌اند
فردا به زیرِ خارها، گُم‌گشته پیدا می‌شود
امشب رُقیّه حلقهٔ زرّین اگر دارد به گوش
فردا دریغ این گوشوار از گوشِ او وا می‌شود
امشب به خیلِ تشنگان، عبّاس باشد پاسبان
فردا کنارِ علقَمه، بی دست، سقّا می‌شود
امشب که قاسم زینتِ گُلزارِ آل مُصطفاست
فردا ز مرکَب سرنگون، این سرْوِ رعنا می‌شود
امشب بُوِد جایِ علی، آغوشِ گرمِ مادرش
فردا چو گُل‌ها پیکرش، پامالِ اعدا می‌شود
امشب گرفته در میان، اصحاب، ثارالله را
فردا عزیزِ فاطمه، بی‌یار و تنها می‌شود
امشب به دستِ شاهِ دین، باشد سُلیمانی نِگین
فردا به دستِ ساربان، این حلقه یغما می‌شود
امشب سرِ سِرِّ خدا، بر دامنِ زینب بُوَد
فردا انیسِ خولی و دَیرِ نصاریٰ می‌شود
ترسم زمین و آسمان، زیر و زبر گردد «حسان»
فردا اسارت‌نامهٔ زینب چو اِجرا می‌شود
(حبیب‌الله چایچیان «حسان»)

اِس شب عاشقوں کے شہادت نامے پر اِمضا (دستخط) ہو رہا ہے۔۔۔ روزِ فردا عاشقوں کے خون سے یہ دشت دریا ہو جائے گا۔

اِس شب آلِ مُصطفیٰ ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھی ہوئی ہے۔۔۔ روزِ فردا یہ تمام افراد قلبِ زہرا کی مانند پراگندہ و درہم برہم ہو جائیں گے۔

اِس شب اگر یہ خیمۂ شاہنشاہی برپا ہے تو روزِ فردا دُشمنوں کے دست سے یہ خیمہ جگہ سے اُکھاڑ دیا جائے گا۔

اِس شب کانوں میں تلاوتِ قُرآن کی صدا آتی ہے۔۔۔ روزِ فردا اِس دشت سے الامان کی صدا برپا ہو گی۔

اِس شب اصغر اپنی مادر کے پہلو میں لب تشنہ سویا ہوا ہے۔۔۔ خُدایا! روزِ فردا اُس کا بِستَر آغوشِ صحرا ہو جائے گا!

اِس شب تمام بچّے خوابِ ناز میں آسودہ ہیں، [لیکن] روزِ فردا گُم گشتہ [طِفل] خاروں کے زیر میں سے مِلے گا۔

اگر اِس شب رُقیّہ کے کان میں حلقۂ زرّیں ہے تو افسوس! روزِ فردا اُس کے کان سے یہ گوشوار (بُندا) کُھل جائے گا۔

اِس شب عبّاس گروہِ تشنگاں کا پاسبان ہے۔۔۔ روزِ فردا وہ سقّا نہرِ علقَمہ کے کنارے بے دست ہو جائے گا!

اِس شب قاسم زینتِ گُلزارِ آلِ مُصطفیٰ ہے، [لیکن] روزِ فردا یہ سرْوِ رعنا سواری سے سرنِگوں [گِر] جائے گا۔

اِس شبِ علیِ اکبر کا مسکن اپنی مادر کی گرم آغوش ہے۔۔۔ روزِ فردا گُلوں کی مانند اُس کا پیکر پامالِ دُشمناں ہو جائے گا۔

اِس شب اصحاب نے ثار الله (حضرتِ حُسین) کو اپنے درمیان لیا ہوا ہے۔۔۔ روزِ فردا عزیزِ فاطمہ بے یار و تنہا ہو جائے گا۔

اِس شب شاہِ دیں (حضرتِ حُسین) کے دست میں نِگینِ سُلیمانی ہے۔۔۔ روزِ فردا یہ انگُشتری ساربان کے بدست غارت و تاراج ہو جائے گی۔

اِس شب رازِ خُدا (حضرتِ حُسین) کا سر دامنِ زینب میں ہے۔۔۔ روزِ فردا وہ سر خولی اور دَیرِ نصاریٰ کا ہمدم و ہم نشین ہو جائے گا۔

اے «حسان»! مجھے خوف ہے کہ روزِ فردا جب زینب کا اسارت نامہ جاری ہو گا تو زمین و آسمان زیر و زبر ہو جائیں گے۔

Advertisements

رجب طیب اردوغان کی زبان سے جنابِ حافظ شیرازی کی ایک بیت کی قرائت

صدرِ مملکتِ تُرکیہ «رجب طیّب اردوغان» نے صدرِ مملکتِ ایران «حسن روحانی» کی معیت میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۸ء کو انقرہ میں منعقد ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جنابِ «حافظ شیرازی» کی ایک بیت کی فارسی میں قرائت کی:

"ہم نے اپنی گفتگو و سُخن رانی (تقریر) کا آغاز «نظامی» سے کیا تھا، اور اب میں چاہتا ہوں کہ ہم اِس کا اختتام «حافظِ شیرازی» کے ساتھ کریں۔ ہمارے جُغرافیائی خِطّے کے ایک عظیم شاعر «حافظِ شیرازی» کہتے ہیں کہ:

درختِ دوستی بِنْشان، که کامِ دل به بار آرد
نهالِ دشمنی برکَن، که رنجِ بی‌شمار آرد
(حافظ شیرازی)
دوستی کا درخت بوؤ کہ یہ آرزوئے دل کا میوہ لاتا ہے (یعنی اِس کے باعث آرزو و مُرادِ دل برآوردہ ہوتی ہے)۔۔۔ دُشمنی کا نِہال (پودا) اُکھاڑ دو کہ یہ بے شُمار رنج لاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے۔

یاددہانی: اِس مُراسلے کو اِرسال کرنے کا سبب زبان و شعرِ پارسی اور حافظِ شیرازی سے محبّت ہے، اردوغان یا اُس کی سیاست کی حمایت و مُخالفت نہیں ہے۔

===============

پس نوشت: رجب طیّب اردوغان نے اپنی اِس تقریر کا آغاز جنابِ «نظامی گنجوی» کی اِس حمدیہ بیت سے کیا تھا:
ای نامِ تو بهترین سرآغاز
بی نامِ تو نامه کَی کنم باز
اے کہ تمہارا نام بہترین دیباچہ و آغاز ہے، میں تمہارے نام کے بغیر کتاب و نامہ کب کھولتا ہوں/ کھولوں گا؟

ویڈیو دیکھیے۔


اگر تو فارغی از حالِ دوستان یارا – سعدی شیرازی

اگر تو فارغی از حالِ دوستان یارا
فراغت از تو مُیسّر نمی‌شود ما را
تو را در آینه دیدن جمالِ طلعتِ خویش
بیان کند که چه بوده‌ست ناشِکیبا را
بِیا که وقتِ بهار است تا من و تو به هم
به دیگران بِگُذاریم باغ و صحرا را
به جایِ سروِ بلند ایستاده بر لبِ جُوی
چرا نظر نکنی یارِ سرْوبالا را
شَمایلی که در اوصافِ حُسنِ ترکیبش
مجالِ نُطق نمانَد زبانِ گویا را
که گُفت در رُخِ زیبا نظر خطا باشد
خطا بُوَد که نبینند رویِ زیبا را
به دوستی که اگر زهر باشد از دستت
چنان به ذوق و ارادت خورم که حلوا را
کسی ملامتِ وامق کند به نادانی
حبیبِ من که ندیده‌ست رویِ عذرا را
گرفتم آتشِ پنهان خبر نمی‌داری
نگاه می‌نکنی آبِ چشمِ پیدا را
نگُفتمت که به یغما روَد دلت سعدی
چو دل به عشق دِهی دل‌برانِ یغما را
هنوز با همه دردم اُمیدِ درمان است
که آخِری بُوَد آخِر شبانِ یلدا را
(سعدی شیرازی)

اے یار! اگر تم دوستوں کے حال سے فارغ و بے نیاز ہو، [تو] ہم کو [کسی لمحہ] تم سے فراغت مُیسّر نہیں ہوتی۔

تمہیں آئینے میں اپنے چہرے کی زیبائی کا نظارہ بیان کر دے گا کہ تمہارے عاشقِ بے صبر و حوصلہ پر کیا گذرتی رہی ہے۔

آ جاؤ کہ وقتِ بہار ہے تاکہ ہم اور تم باہم [مِل کر] باغ و صحرا کو دیگروں کے لیے چھوڑ دیں (یا دیگروں کے سُپُرد کر دیں)۔ (یعنی سعدی کے نزدیک موسمِ بہار میں باغ و صحرا میں سَیر و تفریح کی بجائے معشوق کے ساتھ ہم نشینی بہتر ہے۔ وہ گردشِ باغ و بوستان پر محفلِ اُنس کو، اور لذّتِ بہارِ دُنیا پر لذّتِ مُصاحبت کو ترجیح دیتا ہے۔ جس جگہ سعدی کا یار ہو، وہاں خود ہی باغ ظاہر ہو جاتا ہے، لہٰذا سعدی کو بہار کے وقت باغ میں جانے کی حاجت محسوس نہیں ہوتی۔)

لبِ جُو (یعنی نہر کے کنارے) پر کھڑے سرْوِ بُلند کی بجائے تم یارِ سرْو قامت پر نظر کیوں نہیں کرتے؟

وہ اِک ایسی شکل و صورت ہے کہ اُس کے حُسنِ ترکیب (یعنی جمال و زیبائی) کی توصیف میں، بولنے والی زبان کو مجالِ نُطْق و تکلُّم نہیں رہتا۔ (یعنی زبانِ گویا اُس کی زیبائی کے وصف میں سُخن نہیں کہہ سکتی، یا زبان اُس کی زیبائی بیان کرنے پر قادر نہیں ہے۔)

کس نے کہا کہ رُخ زیبا پر نظر کرنا خطا ہے؟ خطا تو یہ ہے کہ چہرۂ زیبا کو نہ دیکھا جائے۔

دوستی کی قسم! اگر تمہارے دست سے زہر ہو تو میں اُسے ایسے ذوق و ارادت کے ساتھ کھاؤں گا کہ جیسے حلوے کو [کھا رہا ہوؤں۔]

اے میرے حبیب! وہ ہی شخص نادانی سے وامق کی ملامت کرتا ہے جس نے عذرا کا چہرہ نہ دیکھا ہو۔ (وامِق، عذرا کا عاشق تھا۔)

میں نے مان لیا کہ تم کو [میری] آتشِ پنہاں کی خبر نہیں ہے۔۔۔ [لیکن کیا] تم [میرے] ظاہر اشکِ چشم پر نگاہ نہیں کرتے؟

اے سعدی! [کیا] میں نے نہیں کہا تھا کہ جب تم «یغما» کے دلبروں کو عشق میں دل دو گے تو تمہارا دل غارت و تاراج ہو جائے گا؟ (یغْما = مشرقی تُرکستان کے ایک قبیلے اور شہر کا نام، جو اپنے زیبا رُوؤں کے لیے فارسی شاعری میں مشہور رہا ہے۔)

[اپنے] تمام درد کے باجود ہنوز مجھے اُمیدِ درماں ہے، کیونکہ شبانِ یلدا کا آخرکار ایک اختتام ہوتا ہے۔ (شبِ یلدا = سال کی طویل ترین شب)


«شبِ یلدا» کیا ہے؟

«یلْدا» سُریانی زبان کا لفظ ہے جس کا عربی معنی «مِیلاد» ہے۔ چونکہ شبِ یلدا کو میلادِ حضرتِ مسیح کے ساتھ مُطابقت دی جاتی تھی، اِس لیے اِس شب کو یہ نام دیا گیا تھا۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ اب ۲۵ دسمبر کو منایا جانے والا جشنِ میلادِ مسیح مُحقِّقوں کی تحقیق کے مُطابق در اصل «میترا (مِہر)» کے ظُہور کا جشن تھا کہ جس کو مسیحیوں نے قرنِ چہارمِ عیسوی میں روزِ تولُّدِ عیسیٰ مُقرّر کر دیا تھا۔ یلدا موسمِ سرما کی شبِ اوّل، اور موسمِ خَزاں کی شبِ آخر ہے اور یہ سال کی طویل ترین شب ہے جس میں یا جس کے نزدیک خورشید بُرجِ جَدی میں داخل ہوتا ہے۔ قُدَما اِس شب کو سخت منحوس و نامُبارک تصوُّر کرتے تھے۔ ایران کی بیشتر جگہوں میں اِس شب میں چند مراسِم انجام دیے جاتے ہیں۔ شُعرا زُلفِ یار کو، اور اِسی طرح روزِ ہجراں کو سیاہی و درازی کے لحاظ سے اِس شب سے تشبیہ کرتے ہیں اور سنائی و امیر مُعِزّی جیسے بعض فارسی شُعرا کے اشعار سے مسیح و یلدا کے مابین رابطہ مسحوس ہوتا ہے۔ شبِ یلدا شمسی ہجری تقویم کے مطابق ماہِ جدی/دَے کی شبِ اوّل، جبکہ عیسوی تقویم کے مطابق دسمبر کی شبِ بیست و یکُم کو آتی ہے۔

(مأخوذ از لُغت‌نامۂ دہخُدا)

× مُعاصر فارسی ثقافتی خِطّوں میں «شبِ یلدا» کو اب نامُبارک نہیں سمجھا جاتا، بلکہ شادمانی کے ساتھ اِس کا جشن منایا جاتا ہے۔


قانسې گُلشن گُلبُنی سروِ خرامانېنجا وار – محمد فضولی بغدادی

قانسې گُلشن گُلبُنی سروِ خرامانېنجا وار
قانسې گُلبُن اۆزره غُنچه لعلِ خندانېنجا وار
قانسې گُل‌زار ایچره بیر گُل آچېلېر حُسنۆن کیمی
قانسې گُل برگی لبِ لعلِ دُرافشانېنجا وار
قانسې باغېن وار بیر نخلی قدین تک باروَر
قانسې نخلین حاصلی سیبِ زنَخدانېنجا وار
قانسې خونی سن کیمی جلّادا اۏلموش‌دور اسیر
قانسې جلّادېن قېلېنجې نوکِ مژگانېنجا وار
قانسې بزم اۏلموش مُنوّر بیر قدین تک شمع‌دن
قانسې شمعین شُعله‌سی رُخسارِ تابانېنجا وار
قانسې یئرده بولونور نسبت سنه بیر گنجِ حُسن
قانسې گنجین اژدری زُلفِ پریشانېنجا وار
قانسې گُلشن بُلبُلۆن دئرلر فضولی سن کیمی
قانسې بُلبُل ناله‌سی فریاد و افغانېنجا وار
(محمد فضولی بغدادی)

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

کس گُلشن کا درختِ گُل تمہارے سرْوِ خراماں جیسا ہے؟۔۔۔۔ کس درختِ گُل پر غُنچہ تمہارے لعلِ خنداں جیسا ہے؟
کون سے گُلزار کے اندر تمہارے حُسن جیسا کوئی گُل کِھلتا ہے؟۔۔۔ کون سا برگِ گُل تمہارے لبِ لعلِ دُر افشاں جیسا ہے؟
کون سے باغ کے پاس تمہارے قد جیسا کوئی باروَر و ثمردار نخْل ہے؟۔۔۔ کون سے نخْل کا حاصل و ثمر تمہارے سیبِ زنَخداں جیسا ہے؟ (زنَخداں = ذقن، چانہ، ٹھوڑی)
کون سا خُونی (قاتل) تم جیسے جلّاد کا اسیر ہوا ہے؟۔۔۔ کس جلّاد کی تیغ تمہاری مِژگاں کی نوک جیسی ہے؟
کون سی بزم تمہارے قد جیسی اِک شمع سے مُنوّر ہوئی ہے؟۔۔۔ کس شمع کا شُعلہ تمہارے رُخسارِ تاباں جیسا ہے؟
کون سی جگہ میں تمہارے جیسا کوئی خزانۂ حُسن مِلتا ہے؟۔۔۔ کون سے خزانے کا اژدہا تمہاری زُلفِ پریشاں جیسا ہے؟
اے فُضولی! کس گُلشن کے بُلبُل کو تمہارے جیسا کہتے ہیں؟۔۔۔ کس بُلبُل کا نالہ تمہاری فریاد و فغاں جیسا ہے؟

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Qansı gülşən gülbüni sərvi-xuramanınca var?
Qansı gülbün üzrə qönçə, lə’li-xəndanınca var?
Qansı gülzar içrə bir gül açılır hüsnün kimi,
Qansı gül bərgi ləbi-lə’li-dürəfşanınca var?
Qansı bağın var bir nəxli, qədin tək barvər,
Qansı nəxlin hasili sibi-zənəxdanınca var?
Qansı xuni sən kimi cəlladə olmuşdur əsir,
Qansı cəlladın qılıncı növki-müjganınca var?
Qansı bəzm olmuş münəvvər bir qədin tək şəm’dən,
Qansı şəm’in şö’ləsi rüxsari-tabanınca var?
Qansı yerdə bulunur nisbət sənə bir gənci-hüsn,
Qansı gəncin əjdəri zülfi-pərişanınca var?
Qansı gülşən bülbülün derlər, Füzuli, sən kimi,
Qansı bülbül naləsi fəryadü əfğanınca var?

تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
Kansı gülşen gülbüni serv-i hırâmânuñca var
Kansı gülbün üzre gonca la’l-i handânuñca var
Kansı gülzâr içre bir gül açılur hüsnuñ gibi
Kansı gül bergi lebi-la’l-i dür-efşânuñca var
Kansı bâguñ var bir nahli kadüñ tek bârver
Kansı nahlüñ hâsılı sîb-i zenahdânuñca var
Kansı hûnî sen gibi cellâda olmışdur esîr
Kansı cellâduñ kılıcı nevk-i müjgânuñca var
Kansı bezm olmış münevver bir kadüñ tek şem’den
Kansı şem’üñ şu’lesi ruhsâr-ı tâbânuñca var
Kansı bezm olmış münevver bir kadüñ tek şem’den
Kansı şem’üñ şu’lesi ruhsâr-ı tâbânuñca var
Kansı gülşen bülbülin dirler Fuzûlî sen gibi
Kansı bülbül nâlesi feryâd ü efgânuñca var


زبانِ تُرکی کی سِتائش – محمد بن منصور مُبارک‌شاه فخرِ مُدبِّر

قُطب‌الدین ایبَک کو اہداء کی گئی کتاب «شجرۂ انساب» یا «بحرالانساب» کے مُقدِّمے میں، جو «تاریخِ فخرالدین مُبارک‌شاه» کے نام سے مشہور ہے، میں محمد بن منصور مُبارک‌شاه فخرِ مُدبِّر زبانِ تُرکی کے بارے میں لکھتے ہیں:

"۔۔۔بعد از لغت زبان تازی هیچ سخنی و لغتی بهتر و باهیبت‌تر از زبان ترکی نیست و امروز رغبت مردمان به زبان ترکی بیش از آن است که در روزگارهای پیشین بدان سبب که بیش‌تر امیران و سپه‌سالاران ترکان‌اند و دولت به‌ایشان است و نعمت و زر و سیم در دست ایشان است و جملهٔ خلائق را بدان حاجت است و اصیلان و بزرگان و بزرگ‌زادگان در خدمت ترکان‌اند و از دولت ایشان آسوده و مستظهر و باحرمت‌اند.”

"زبانِ عربی کے بعد کوئی بھی سُخن و لُغت زبانِ تُرکی سے زیادہ بہتر و باحشمت نہیں ہے اور اِمروز زبانِ تُرکی کی جانب مردُم کی رغبت ایامِ گُذشتہ سے زیادہ ہے کیونکہ بیشتر حُکمران و سپاہ سالار تُرک ہیں اور اقتدار اُن کے پاس ہے اور نعمت و زر و سِیم اُن کے دست میں ہے اور کُل خلائق اُس کی حاجت مند ہے اور نجیبان و بُزُرگان و بُزُرگ زادگان تُرکوں کی خدمت میں ہیں اور اُن کی حُکومت و اقبال مندی سے آسودہ و مددیاب و باحُرمت ہیں۔”


شهِ ممالکِ دردم بلا پناهِ من است – سلطان سلیم خان اول عثمانی

شهِ ممالکِ دردم بلا پناهِ من است
غمی که بی حد و پایان بُوَد سپاهِ من است
شبم ز رَوزن اگر ماهِ آسمان آید
جهَم ز جای تصوُّر کنم که ماهِ من است
به راهِ عشقِ تو جانا بسی بلا دیدم
هنوز تا ز فراقت چه‌ها به راهِ من است
دم از محبّتِ زُلفت زدم خطایی شد
ولیک عَفْوِ تو افزون‌تر از گُناهِ من است
ز دُودِ دل ورَقی نقش کرده‌ام سویت
قبول ساز که سرنامهٔ سیاهِ من است
سلیم بر سرِ کُویت به خاک یکسان شد
روا بُوَد که بِگویی که خاکِ راهِ من است
(سلطان سلیم خان اول)

میں ممالکِ درد کا شاہ ہوں، بلا میری پناہ ہے۔۔۔ جو غم بے حد و بے پایاں ہے، میری سِپاہ ہے۔
شب کے وقت میرے روشن دان [میں] سے اگر ماہِ آسمان آئے (یعنی اگر ماہِ آسمان نظر آئے) تو میں جگہ سے اُچھل پڑتا ہوں اور تصوُّر کرتا ہوں کہ میرا ماہ (یعنی میرا محبوب) ہے۔
اے جان! میں نے تمہارے عشق کی راہ میں کئی بلائیں دیکھیں۔۔۔ [اب دیکھتے ہیں کہ] تمہارے فراق کے باعث میری راہ میں ہنوز کیا کیا [بلائیں باقی] ہے؟
میں نے تمہاری زُلف کی محبّت کا دعویٰ کیا، [مجھ سے] اِک خطا ہو گئی۔۔۔ لیکن تمہاری مُعافی میرے گُناہ سے [کئی] زیادہ ہے۔
میں نے [اپنے] دل کے دُھوئیں سے ایک ورَق تمہاری جانب نقش کر [کے بھیجا] ہے۔۔۔ قبول کرو کہ وہ میرا سیاہ سرنامہ ہے۔ (سرنامہ = عُنوانِ نامہ)
‘سلیم’ تمہارے سرِ کُوچہ میں خاک کے ساتھ یکساں ہو گیا۔۔۔ روا ہے کہ تم کہو کہ "یہ میری خاکِ راہ ہے”۔