رجب طیب اردوغان کی زبان سے جنابِ حافظ شیرازی کی ایک بیت کی قرائت

صدرِ مملکتِ تُرکیہ «رجب طیّب اردوغان» نے صدرِ مملکتِ ایران «حسن روحانی» کی معیت میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۸ء کو انقرہ میں منعقد ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جنابِ «حافظ شیرازی» کی ایک بیت کی فارسی میں قرائت کی:

"ہم نے اپنی گفتگو و سُخن رانی (تقریر) کا آغاز «نظامی» سے کیا تھا، اور اب میں چاہتا ہوں کہ ہم اِس کا اختتام «حافظِ شیرازی» کے ساتھ کریں۔ ہمارے جُغرافیائی خِطّے کے ایک عظیم شاعر «حافظِ شیرازی» کہتے ہیں کہ:

درختِ دوستی بِنْشان، که کامِ دل به بار آرد
نهالِ دشمنی برکَن، که رنجِ بی‌شمار آرد
(حافظ شیرازی)
دوستی کا درخت بوؤ کہ یہ آرزوئے دل کا میوہ لاتا ہے (یعنی اِس کے باعث آرزو و مُرادِ دل برآوردہ ہوتی ہے)۔۔۔ دُشمنی کا نِہال (پودا) اُکھاڑ دو کہ یہ بے شُمار رنج لاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے۔

یاددہانی: اِس مُراسلے کو اِرسال کرنے کا سبب زبان و شعرِ پارسی اور حافظِ شیرازی سے محبّت ہے، اردوغان یا اُس کی سیاست کی حمایت و مُخالفت نہیں ہے۔

===============

پس نوشت: رجب طیّب اردوغان نے اپنی اِس تقریر کا آغاز جنابِ «نظامی گنجوی» کی اِس حمدیہ بیت سے کیا تھا:
ای نامِ تو بهترین سرآغاز
بی نامِ تو نامه کَی کنم باز
اے کہ تمہارا نام بہترین دیباچہ و آغاز ہے، میں تمہارے نام کے بغیر کتاب و نامہ کب کھولتا ہوں/ کھولوں گا؟

ویڈیو دیکھیے۔


تُرکِیَوی ادیب «علی نِہاد تارلان» کے ساتھ لاہور میں پیش آیا ایک دلچسپ واقعہ

"«اقبال اکادمی» کی جانب سے عظیم مُتفکّر [علّامہ اقبال] کے نام پر منعقد کردہ یادگاری جلسہ اختتام ہو گیا تھا۔ روزِ فردا پاکستان کے صدر نے شرفِ ملاقات بخشا۔ جنابِ صدر نے پوچھا کہ کیا میں لاہور – جہاں پر اقبال کا مقبرہ ہے – جا چکا ہوں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ "موسم بِسیار گرم ہے، میں جسارت نہیں کر پاتا۔” ظاہراً دو روز قبل وہاں زوردار بارشیں ہو چکیں تھیں، اور لاہور کا موسم مُعتدل ہو گیا تھا۔ اُس شب قصرِ صدارت کی طرف سے اقبال اکادمی کو اِس صورتِ حال کی اطلاع دی گئی، اور مجھ کو لاہور لے جانے کا امر فرمایا گیا۔ میں نے بھی اس موقع کو گنوانا نہ چاہا۔ روزِ فردا میری رفاقت کرنے والے محترم ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کے ساتھ میں لاہور چلا گیا۔ دانشگاہِ پنجاب کے شُعبۂ زبان و ادبیاتِ فارسی کے رئیس پروفیسر محمد باقر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں لاہور کے ایک کبیر و مُحتشَم مُسافرخانے میں ٹھہرا۔ میں اِس قدر پُرجوش، اور «اقبال» سے اِس قدر پُر تھا کہ کیا بتاؤں!
شب کے وقت میں نے اقبال کے بارے میں مثنویِ [رُومی] کے وزن میں «قونیۂ ثانی» عنوان کے ساتھ ایک نظم لِکھی۔ میں شب کو سو نہ سکا۔ صُبح کے وقت عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر مُسافرخانے میں آئے۔ میں نے جوش و ہیجان کے ساتھ اُن کو نظم سُنانا چاہی۔ ہنوز میں نے بیتِ اوّل ہی سُنائی تھی کہ وہ دونوں یک دہن ہو کر «واه واه» کہنے لگے۔
میں نے اِس چیز کو اِس طرح فہم کیا:
"یہ شخص ایک تُرک ہے۔ اِس کو خوش گُمانی ہے کہ اِس نے فارسی شاعری لِکھی ہے۔ افسوس! افسوس!۔۔” لیکن میں نے اپنی شعرخوانی کو روکا نہیں، جاری رکھا۔ چند ابیات پر وہ اِس «واه واه» کی تکرار کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ میری آواز تنگ و خفیف ہو گئی۔ میری رُوحیات مُضطرب ہو گئیں۔ ناراحتی کے باعث میں عرَق میں غرق ہو گیا۔ بالآخر نظم ختم ہو گئی۔ محمد باقر نے عبدالحمید عرفانی سے کہا: "الامان!! ہم اِس کو لاہور کے جریدوں میں شائع کریں گے۔ خارق العادت شاعری ہے!” اور مجھ سے کہا: "اِس نظم کو اپنی دست خطی سے لکھ دیجیے۔ تاکہ ہم دانشگاہ کے مجموعے میں اُس کی تصویری نقل چھاپیں۔” سوچیے میری حالت کو!۔۔۔ بعد میں مَیں سمجھا کہ یہ «واه، واه» بِسیار زیبا، آفرین کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اُس روز ہم نے مزارِ اقبال کی زیارت کی۔ ہمارے پہلو میں وہاں کے چند شُعَراء بھی موجود تھے۔ مزار میں مجھ سے نظم خوانوائی (پڑھوائی) گئی۔ بعد ازاں، پاکستان کے بُزُرگ ترین ادبی مجموعے «ہِلال» نے بھی شائع کی۔
زندگی کی طرح طرح کی تجلّیاں ہیں۔ کون کہتا کہ سالوں بعد مَیں مزارِ مولانا رُومی کے احاطے میں «اقبال» اور «نفْعی» کے نام پر ایک ایک دفتر کی تأسیس کے لیے مِلّی وزارتِ تعلیم سے رجوع کروں گا اور یہ پیش نِہاد (تجویز) قبول ہو جانے کے بعد وہ دفاتر فعالیّت کا آغاز کر دیں گے۔۔۔ اور قونیہ بھی لاہورِ ثانی ہو جائے گا۔۔۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

× تُرکی زبان میں «واه!» افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «نفْعی» = دیارِ آلِ عُثمان کے ایک مشہور شاعر کا تخلُّص

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

صدرِ پاکستان کی جانب سے علی نہاد تارلان کو دیا گیا «ستارۂ امتیاز» اُن کے سُپُرد کرتے وقت پاکستان کے سفیرِ اعلیٰ جناب س. م. حسن نے یہ فرمایا تھا:

"پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تارلان تُرکیہ کے مُمتاز ترین کلاسیکی عالموں میں سے ایک ہیں۔ وہ چالیس سالوں سے تُرکی و فارسی زبانیں سِکھا رہے اور رُبع صدی سے دانشگاہِ استانبول میں کلاسیکی تُرکی ادبیات کی کُرسیِ اُستادی پر مشغول ہیں۔ وہ فقط ایران اور پاکستان میں نہیں، بلکہ مغربی مُستشرقین کے درمیان بھی فارسی ادبیات میں صاحبِ صلاحیت کے طور پر معروف ہیں۔ اِس کے علاوہ، پروفیسر تارلان «اقبال» کے موضوع پر تُرکیہ میں اہم ترین مُتخصِّص ہونے کے ساتھ ساتھ، یہاں پاکستان کے مِلّی شاعر کو مُتعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والے شخص ہیں۔ اقبال کی تصنیفوں «پیامِ مشرق» اور «اسرار و رُموز» کا ترجمہ کرنے کے ذریعے سے اُنہوں نے پاکستان کے اِس عظیم شاعر کا پیغام ہم وطنوں کو سُنایا اور تشریح کیا ہے۔ پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان معنوی و ثقافتی رابطوں کو قوی تر کرنے کے لیے اُن کی خِدمات کے پیشِ نظر وہ ۱۹۵۷ء میں اقبال اکادمی کی جانب سے کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسۂ اقبال کی صدارت کرنے کے لیے پاکستان مدعو ہوئے تھے۔
"پروفیسر علی نہاد تارلان کی، پاکستان کے مِلّی شاعر کو برادر تُرک مِلّت سے مُتعارف کرانے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کی قدردانی میں پاکستان کے صدرِ مملکت نے کو اُن کو «ستارۂ امتیاز» سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی قابلیتوں میں تمایُز دِکھانے والے عالِموں کو دیے جانے والا یہ نشان پروفیسر علی نہاد تارلان کو دینے سے مَیں بِسیار شادمانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ نشان، باہمی تاریخی و روایتی دوستی کے رابطے رکھنے والے مُلکوں تُرکیہ اور پاکستان کو یک دیگر کے مزید نزدیک قریب لانے کی راہ میں کوششیں کرنے والے تُرک دانشوَروں کو ہمارا احترام پیش کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

جس طرح ایران پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان جغرافیائی پُل ہے، اُسی طرح زبانِ فارسی کو بھی پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان حلقۂ واصِل کہا جا سکتا ہے۔ تُرکِیہ کے ادبیات شِناسوں کی ایک کثیر تعداد فارسی زبان جانتی ہے، کیونکہ فارسی کے علم کے بغیر کلاسیکی و عُثمانی تُرکی ادبیات کا مُطالعہ قریباً ناممکن ہے۔ فارسی پاکستان اور تُرکیہ ہر دو مُلکوں کی کلاسیکی ادبی زبان ہے۔


کیا «تُرک» کوئی «نسل» ہے؟ جواب: قطعاً نہیں!

ہم میں ایک کبیر غلط فہمی یہ ہے کہ ہم «تُرک» کو ایک نسل و نژاد سمجھتے ہیں اور «تُرکوں» اور «تُرکی» کو بیسویں صدی میں وجود میں آنے والی ریاست «تُرکیہ» تک محدود سمجھتے ہیں۔ اور جب «تُرک» کا لفظ سنائی دیتا ہے تو ہمارے ذہن میں اناطولیہ اور مغربی تُرکیہ کے افراد کی شکل و صورت والے تُرکان آتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل مُختلف ہے۔ تُرکیہ کے بیشتر تُرکان مُترّک ہیں، اور یونانیوں، البانویوں، بوسنیائیوں، بلغاریوں، سلاووں، ارمنیوں، گُرجیوں، چرکَسوں، لازوں، کُردوں، شامیوں وغیرہ کی مسلمان و تُرک شدہ اولاد ہیں، جن سے اسلامی تُرک فتوحات کے زمانے میں وسطی ایشیائی تُرک مہاجرین مُختلِط ہوتے رہے۔ ویسے ہی جیسے دیارِ شام کے بیشتر مسلمان عرب بھی قدیم یونانیوں، سریانیوں، فینیقیوں، کنعانیوں اور بلقانی مہاجروں وغیرہ کی مسلمان و عرب شدہ اولاد ہیں۔ «تُرک» کوئی نسل نہیں ہے۔ عراق کے تُرکی گو تُرکان بالکل عراقی عربوں اور عراقی کُردوں جیسے نظر آتے ہیں، اور عراقی عربوں جیسی ہی طرزِ بود و باش اور طرزِ ملبوسات رکھتے ہیں۔ حالانکہ اُن کی زبان بالکل تُرکیہ کے مردُم جیسی ہے اور وہ بھی اناطولیائی تُرکوں کی مانند عُثمانی شہری رہ چکے ہیں۔ ‘«تُرکوں» کے درمیان تاریخی طور پر مشترک چیز تُرکی زبان، اور تُرک ہونے کا احساس ہے، نسل یا اجداد نہیں۔ ویسے بھی «نسل» نامی کسی شَے کا، خصوصاً کسی «خالص نسل» یا «برتر و عالی نسل» کا کوئی حقیقی اور معروضی وجود نہیں ہے۔ ہر شخص ہی مختلف قوموں اور مختلف طرح کے افراد کی طویل آمیزش کا نتیجہ ہے۔
تُرک کوئی یکساں تاریخی تجربات رکھنے والی واحد لسانی «مِلّت» بھی نہیں رہے ہیں، ورنہ آذربائجان اور تُرکیہ کے مردُم یکساں زبان رکھنے کے باوجود تین مختلف مُلکوں اور مِلّتوں میں مُنقسِم نہ ہوتے اور صفوی و عُثمانی سلطنتیں بنا کر صدیوں تک مُتحارِب حالت میں نہ رہتے۔ ہر خِطّے کے تُرکان اپنے مخصوص تاریخی تجربات کے مالک ہیں۔ فی زمانِنا، تُرکیہ اور مشرقی تُرکستان کے تُرکان اُسی طرح مُعاشرتی و ثقافتی لحاظ سے باہمی طور پر مختلف ہیں، جس طرح مراکش اور عراق کے عرب۔
اسلام سے قبل کے اصل قدیم تُرکان حالیہ منگولستان اور مشرقی تُرکستان کے اطراف کے مناطق کے تھے، اور اُن کی شکل و صورت منگولوں جیسی تھی۔ کلاسیکی فارسی و عربی ادبیات اور تاریخی کتابوں میں تُرکوں کو ہمیشہ چینیوں اور منگولوں جیسی ہیئتِ ظاہری والا دِکھایا گیا ہے۔ مثلاً قبل از اسلام دور کے تُرک خاقان «کول‌تیگین» کے چہرے کا مجسمہ دیکھیے:
تصویرِ اول
تصویرِ دوم
تصویرِ سوم
تصویرِ چہارم
اِس تُرک خاقان کی سلطنت حالیہ منگولستان میں تھی۔ آج کا کون سا اناطولیائی «تُرک» اِس جیسا نظر آتا ہے؟ قِرغِزوں، قزاقوں اور اُویغوروں نے قدیم تُرکوں کی شکل و صورت کو کافی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ باقی دیگر تُرکان جہاں جہاں جوق در جوق ہجرت کرتے رہے، مقامی آبادی میں ازدواجی پیوند قائم کر کے نسلی طور پر ضم ہوتے رہے۔ لہٰذا ایران کے حالیہ تُرکان (جو کثیر تعداد میں ہجرت کرنے والے تُرکوں اور مقامی ایرانیوں کے اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے) ایرانیوں جیسے، پاکستان کے تُرک الاصل افراد پاکستانیوں جیسے، دیارِ عرب کے تُرکان عربوں جیسے، ماوراءالنہر کے تُرکانِ اُزبک تاجِکوں جیسے، اور اناطولیہ (دیارِ رُوم) کے تُرکان اناطولیائی، مشرقِ وسطائی اور بلقانی مردُم اور قوموں جیسے نظر آتے ہیں۔ جب عثمانی خلافت کے دست سے بلقانی اور قفقازی خِطّے نکل رہے تھے تو وہاں سے تقریباً ستر لاکھ سے زیادہ مسلمان عثمانی رعیت «دارِ کُفر» کو چھوڑ کر باقی ماندہ «دارِ اسلام» یعنی اناطولیہ اور بلادِ شام کی جانب ہجرت کر گئی تھی۔ آج کے تُرکیہ کی تقریباً ایک تہائی سے زیادہ آبادی اِن مہاجروں کی تُرک شدہ اولاد ہے۔ اِس لیے وہاں کے اکثر مردُم کا جسمانی قیافہ و خد و خال دیگر دیاروں کے تُرکوں سے مختلف ہے۔ تُرکیہ میں بیشتر کُردوں کے بجز دیگر تمام مسلمان اقوام اناطولیائی تُرکی زبان و ثقافت و شناخت اپنا کر «تُرک» ہو چکی ہیں۔
بدقسمتی سے اِس زمانے میں کثرتِ آبادی اور کثرتِ قوّت و وقار کی وجہ سے «تُرک» اور «تُرکیّت» کا معیار تُرکیہ بن گیا ہے۔ اِس لیے ہمارے ذہنوں میں وہاں کے مردُم ہی تُرک کے طور پر بیٹھ گئے ہیں۔ اِس غلط فہمی کو ختم اور دُور کرنا میری نظر میں ضروری ہے۔


تُرکیہ میں رسم الخط کی تبدیلی کے باعث مسائل

"رسم الخط کے تبدیل ہو جانے پر ہم ایک دیگر مسئلے سے دوچار ہو گئے۔ ہماری تمام ثقافت ماضی میں رہ گئی۔ ہم ایسی صورتِ حال میں آ گئے کہ اپنی ثقافت تک پہنچ پانا ناممکن ہو گیا۔ یہ تا حال ہمارے لیے ایک کبیر مسئلہ ہے۔ نئی نسل ۵۰-۶۰ سال قبل لِکھی گئی حکایت، ناول، یا تحریر کو سمجھنے میں بھی مشکل محسوس کرتی ہے اور مُعاصر زبان میں ترجمے کی خواہش کرتی ہے۔ یہ ایک بدبختی ہے۔ دُنیا میں ایسی کوئی ثقافت نہیں ہے۔ کسی ثقافت سے منسوب شخص اگر ۶۰-۷۰ سال قبل لکھا گیا متن بھی خوان (پڑھ) کر نہ سمجھ سکتا ہو، تو اُس ثقافت کے لیے اپنے تسلسُل کو جاری رکھ پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اِس [صورتِ حال] کو درست کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔”
(تُرکِیَوی تاریخ شِناس «محمد گنچ»)

"Alfabe değişince de başka bir problemle karşılaştık. Bütün kültürümüz geçmişte kalmış oldu. Kültürümüze ulaşamaz hale geldik. Bu, hala bizim için büyük bir problem olmaya devam ediyor. 50-60 yıl evvel yazılmış olan bir hikayeyi, romanı, yazıyı anlamakta zorluk çeken, bugünkü dile çevirmek isteyen bir kuşak var. Bu bir felakettir. Dünyada böyle bir kültür yok. Bir kültürün mensubu 60-70 yıl önce yazılan bir metni okuyup anlayamıyorsa, o kültürde sürekliliği devam ettirmenin imkanı olmaz. Bunu düzeltmemiz lazım.”
(Mehmet Genç)

مأخذ


عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔


میں نے تُرکی کیوں سیکھی؟

دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے تعلق رکھنے والے دوست ارسلان بای، جن کی مادری زبان دیگر آذربائجانیوں اور تبریزیوں کی طرح تُرکی ہے، نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا:

سوال:
حسان بئی، سن نئجه آذربایجان تۆرکجه‌سینه علاقه تاپدېن و بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین؟
من بیلمه‌دیم سن نه‌دن مین‌لرجه دیل آراسېندان آذربایجان تۆرکجه‌سینی اؤیرنمک اۆچۆن سئچدین! هانسې کتاب‌لارې اۏخوماقلا بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین
تۆرکجه‌یه بو سئوگین هارادان گلیر؟
ترجمہ:
آقائے حسان، آذربائجانی تُرکی میں تمہاری دلچسپی کس طرح پیدا ہوئی، اور اِس زبان کو تم کس طرح آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
میں سمجھ نہیں پایا کہ ہزاروں زبانوں کے درمیان تم نے سیکھنے کے لیے آذربائجانی تُرکی [ہی] کو کس وجہ سے مُنتخَب کیا! کن کتابوں کا مطالعہ کر کے تم اِس زبان کو آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
تُرکی زبان سے تمہاری یہ محبّت کس سبب سے ہے؟

جواب:
سلام علیکم!
اجازه دهید که پاسخم را به فارسی بنویسم، چون ترکی‌ام آن قدر هم خوب نیست که بتوانم جواب‌های طولانی را به راحتی به ترکی بنویسم.
من به شعر و شاعری علاقه‌ی وافری داشتم، و مذهب تشیع و کشور ایران نیز برایم جالب توجه بوده… ما پاکستانیان زبان فارسی را دوست داریم، چون مشاهده کرده‌اید که اردو خیلی به فارسی قرابت دارد. تقریبا‌ً ده سال پیش من از طریق انترنت یاد گرفتن فارسی را آغاز کردم، چون می‌خواستم که بتوانم شعر و کتب فارسی را بدون ترجمه بخوانم. در آن زمان من در بارهٔ آذربایجان و ترکان آذربایجان و زبان ترکی هیچ چیزی نمی‌دانستم… من گمان می‌کردم که در ایران هر کسی به فارسی صحبت می‌کند و زبان ترکی محدود به ترکیه است. روزی یک دوست انترنتی‌ام، که اسپانیایی بود و فارسی و ترکی هر دو را بلد بود، نشان داد که تا چه حدی ترکی کلاسیک ممزوج به فارسی بوده و شعر ترکی هم مثل شعر فارسی دارای لطافت و ظرافت و زیبایی خارق العاده بوده… به محض دیدن این، شوق زبان ترکی به شدت دامنم گرفت و تمایلی شدید به یاد گرفتن ترکی پیدا کردم… لذا شروع به یادگیری زبان ترکی هم کردم…. آن گاه من مطلع شدم که ترکی در ایران هم گویشوران زیادی دارد، و حتّیٰ ترکان ایران، برخلاف ترکان ترکیه، سنت‌های والای ملی و هزارساله‌ی خود را بهتر نگه داشته‌اند… آگاه شدم که در مقایسه با ترکی ترکیه، ترکی آذربایجان با ترکی کلاسیک هزارساله نزدیک‌تر است، و آذربایجانیان می‌توانند به راحتی آثار گرانقدر کلاسیک ترکی را بخوانند، که برای اهل ترکیه دیگر ممکن نیست، و آنها مجبورند که آثار فضولی و نسیمی وغیره را همراه با ترجمه به ترکی معاصر بخوانند. اهل ترکیه را از گذشتهٔ ادبی خود منقطع کرده‌اند، ولی این وضعیت اسف‌ناک در مورد آذربایجانیان صادق نمی‌آید. رفته رفته من عاشق آذربایجان شدم و بعد شروع کردم به دیدن آذربایجان چون وطن معنوی خودم… واقعاً دیار آذربایجان را خیلی دوست دارم و می‌خواهم که روزی بروم آنجا و خاک پاک آن دیار را ببوسم… گفته بودم که من عاشق آذربایجانم… از این رو زبان ترکی را مثل زبان مادری خود می‌پندارم و دوستش دارم. و سعی دارم که به زبان ترکی تسلط کاملی پیدا کنم.
از صدا و صوت‌های زبان ترکی خوشم می‌آید. خیلی زبان شیرینی‌ست. 🙂
ترجمہ:
السلام علیکم!
مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا جواب فارسی میں لکھوں، کیونکہ میری تُرکی اس قدر بھی خوب نہیں ہے کہ میں طویل جوابوں کو آسانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکوں۔
مجھے شعر و شاعری سے وافر دلچسپی تھی، اور مذہبِ تشیُّع اور مُلکِ ایران بھی میرے لیے جالبِ توجہ تھے۔۔۔ ہم پاکستانی فارسی سے محبّت کرتے ہیں، کیونکہ آپ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اردو فارسی سے بِسیار قرابت رکھتی ہے۔ تقریباً دس سال قبل میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے فارسی سیکھنے کا آغاز کیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں فارسی شاعری اور کتابوں کو ترجمے کے بغیر خوان (پڑھ) سکوں۔ اُس وقت میں آذربائجان، تُرکانِ آذربائجان اور زبانِ تُرکی کے بارے میں کوئی چیز بھی نہیں جانتا تھا۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایران میں ہر شخص فارسی میں گفتگو کرتا ہے، اور زبانِ تُرکی تُرکیہ تک محدود ہے۔ ایک روز میری ایک ہسپانوی انٹرنیٹی دوست نے، جو فارسی و تُرکی ہر دو زبانوں کو جانتی تھی، نے دکھایا کہ کلاسیکی تُرکی کس حد تک فارسی کے ساتھ مخلوط رہی ہے، اور تُرکی شاعری بھی فارسی شاعری کی طرح فوق العادت لطافت و ظرافت و زیبائی کی مالک رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی تُرکی زبان سیکھنے کا شوق شدّت سے دامن گیر ہو گیا اور مجھ میں تُرکی سیکھنے کے شدید تمایُلات پیدا ہو گئے۔ لہٰذا میں نے تُرکی زبان سیکھنا بھی شروع کر دی۔ اُس وقت میں آگاہ ہوا کہ ایران میں بھی کثیر تعداد میں تُرکی گو موجود ہیں، حتّیٰ کہ تُرکانِ ایران نے، تُرکانِ تُرکیہ کے برخلاف، اپنی ہزارسالہ عالی ملّی روایات کی بہتر مُحافظت کی ہے۔۔۔ میں آگاہ ہوا کہ تُرکیہ کی تُرکی کے مقابلے میں آذربائجان کی تُرکی ہزارسالہ کلاسیکی تُرکی سے نزدیک تر ہے، اور آذربائجانیان آسانی کے ساتھ گراں قدر کلاسیکی تُرکی آثار کو خوان سکتے ہیں، جو اہلِ‌ تُرکیہ کے لیے مزید ممکن نہیں ہیں اور وہ فضولی و نسیمی وغیرہ کے آثار کو مُعاصر تُرکی میں ترجمے کے ساتھ خواننے (پڑھنے) پر مجبور ہیں۔ اہلِ تُرکیہ کو اُن کے ادبی ماضی سے منقطع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ افسوس ناک صورتِ حال آذربائجانیوں کے بارے میں صادق نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ میں آذربائجان کا عاشق ہو گیا اور میں آذربائجان کو خود کے روحانی وطن کے طور پر دیکھنے لگا۔ واقعاً میں دیارِ آذربائجان سے بِسیار محبّت کرتا ہوں اور خواہش مند ہوں کہ ایک روز وہاں جاؤں اور اُس دیار کی خاکِ پاک کو بوسہ دوں۔۔۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا میں عاشقِ آذربائجان ہوں۔۔۔ اِس لیے میں زبانِ تُرکی کو اپنی مادری زبان کے مثل تصوُّر کرتا ہوں اور اُس سے محبّت کرتا ہوں۔ اور میری کوشش ہے کہ میں تُرکی زبان پر کامل تسلُّط پیدا کر سکوں۔
مجھے زبانِ تُرکی کی صدائیں اور اصوات پسند ہیں۔ یہ ایک بِسیار شیریں زبان ہے۔ 🙂

(یاد دہانی: آقائے ارسلان کی یہ خوش گُمانی ہے، جس کے لیے بہر حال میں مُتَشکِّر ہوں، کہ میں آذربائجانی تُرکوں سے بہتر تُرکی جانتا ہوں، حالانکہ میں تُرکی زیادہ خوب نہیں جانتا، اِس کا ثبوت یہی ہے کہ میں جواب کو تُرکی میں نہ لکھ سکا۔
اُن کا ایسا گُمان رکھنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اُن سے مراسلت کرتے ہوئے میں معیاری کتابی تُرکی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے کتابوں کی مدد سے معیاری ادبی زبان ہی کس قدر سیکھی ہے۔ جبکہ اہلِ آذربائجانِ ایران ہنوز مکتبوں میں تُرکی کی بطورِ مضمون بھی تدریس حاصل نہیں کر پاتے، جس کے باعث اُن میں سے اکثر افراد تُرکی لکھنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، اور گُفتاری زبانچوں میں یا فارسی میں مراسلت و مکاتبت وغیرہ کرتے ہیں۔ وہ تُرکی کی بجائے فارسی زیادہ بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اُن کی تعلیم و تدریس فارسی ہی میں ہوئی ہوتی ہے۔ آرزو کرتا ہوں کہ ایران میں تُرکی گویوں کو مکاتب میں اپنی مادری زبان بخوبی سیکھنے اور اُس میں تعلیم یاب ہونے کا حق حاصل ہو جائے، تاکہ تُرکیہ اور جمہوریۂ آذربائجان کے مردُم کی طرح وہ بھی روانی و خوبی و فراوانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکیں!)