در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین – عثمانی ادیب ‘واحدی’

در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین

درودِ بی‌شمار اۏل چاریارِ کِبار ارواحېنه اۏلسون که احمدِ مختاروڭ اصحابِ بزرگوارې و خدایِ پروردگاروڭ اولیایِ کِبارې‌دورورلار رضوان الله تعالیٰ علیهم اجمعین.

نظم
چار دیوارِ سرایِ دینِ احمد چاریار
یعنی بوبکر و عمر عثمان علیِ نامدار
قلعهٔ شهرِ شریعت دوتدې آنلاردان اساس
اۏلېسار هم مُحکم و آباد تا دورِ شمار
جنّت ایچره آنلاروڭ ارواحېنی شاد ائیله‌سین
اۏل کریم [و] اۏل رحیم و اۏل غفورِ کردگار

لاطینی خط میں:

Der-Na’t-ı Çâr-Yâr-ı Kibâr Rıdvânu’l-lâhi ‘Aleyhim Ecma’în

Dürûd-ı bî-şümâr ol Çâr-Yâr-ı Kibâr ervâhına olsun ki Ahmed-i Muhtâruñ ashâb-ı büzürg-vârı ve Hudâ-yı Perverdigâruñ evliyâ-yı kibârıdururlar rıdvânu’l-lâhi te’âlâ ‘aleyhim ecma’în.

Nazm
Çâr dîvâr-ı sarây-ı dîn-i Ahmed çâr-yâr
Ya’nî Bû-Bekr ü ‘Ömer ‘Osman ‘Alî-i nâm-dâr
Kal’a-ı şehr-i şerî’at dutdı anlardan esâs
Olısar hem muhkem ü âbâd tâ devr-i şümâr
Cennet içre anlaruñ ervâhını şad eylesin
Ol Kerîm [ü] ol Rahîm ü ol Gafûr-ı Kird-gâr

ترجمہ:

در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین

درودِ بے شمار اُن چاریارِ کِبار کی ارواح پر ہو جو احمدِ مختار کے اصحابِ بزرگوار اور خدائے پروردگار کے اولیائے کِبار ہیں رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

نظم:
چاریار، یعنی ابوبکر و عمر و عثمان و علیِ نامدار، سرائے دینِ احمد کی چار دیواریں ہیں۔
قلعۂ شہرِ شریعت نے اُن سے اساس پائی، [اور اُن ہی سے وہ] تا روزِ شمار مُحکم و آباد رہے گا۔
وہ کریم و رحیم و غفورِ کردگار جنّت میں اُن [چاریار] کی ارواح کو شاد کرے!

مأخوذ از: خواجهٔ جهان و نتیجهٔ جان، واحدی

Advertisements

مکتب نه دئمکدیر؟​ – علی آقا واحد (مع اردو ترجمہ)

مکتب نه دئمکدیر؟​

مکتب دئمک انسانلار اوچون خانهٔ عبرت
مکتبدیر ائدن نوعِ بشر روحونو راحت​
مکتبدیر ایشیقلاندیران آفاقی سراسر
مکتبله فقط پاره‌لنیر پردهٔ ظلمت​
مکتب اگر اولمازسا بو دنیا اوزرینده
محو ائله‌یر انسانلاری بالمرّه جهالت​
شان و شرف انسانلارا مکبتله‌دیر آنجاق
مکتب‌سیز اولان کیمسه‌ده ظن ائتمه لیاقت!​
جاهل‌لری مکتبدیر ائدن مردِ خردمند
وحشی‌لری مکتبدیر ائدن واقفِ حکمت​
مکتبله بیلر خلق نه‌دیر خلقتِ عالم
مکتبدیر اولان کاشفِ اسرارِ طبیعت​
مکتبدیر ائدن ظلمدن انسانلاری آزاد
مکتبله اولور مقصده نائل بشریت​
انسان، بلی، مکتبله اولور هر ایشه دارا
مکتبله تاپار خلقِ جهان راهِ حقیقت​
مکتبله فقط گؤستریر اولادِ زمانه
تاریخده، هم علمده، صنعتده مهارت​

(علی آقا واحد)​

=========
(لاطینی خط میں نظم)

Məktəb nə deməkdir?

Məktəb demək insanlar üçün xaneyi-ibrət,
Məktəbdir edən növi-başər ruhunu rahət.
Məktəbdir işıqlandıran afaqı sərasər,
Məktəblə fəqət parələnir pərdeyi-zülmət.
Məktəb əgər olmazsa bu dünya üzərində,
Məhv eyləyər insanları bilmərrə cəhalət.
Şənü şərəf insanlara məktəblədir ancaq,
Məktəbsiz olan kimsədə zənn etmə ləyaqət!
Cahilləri məktəbdir edən mərdi-xirədmənd,
Vəhşiləri məktəbdir edən vaqifi-hikmət.
Məktəblə bilər xalq nədir xilqəti-aləm,
Məktəbdir olan kaşifi-əsrari-təbiət.
Məktəbdir edən zülmdən insanları azad,
Məktəbla olur məqsədə nail başəriyyət.
İnsan, bəli, məktəblə olur hər işə dara,
Məktəblə tapar xəlqi-cahan rahi-həqiqət.
Məktəblə fəqət göstərir övladi-zəmanə
Tarixda, həm elmdə, sənətdə məharət.

(Əliağa Vahid)

=========
(اردو ترجمہ)

مکتب کا کیا مطلب ہے؟​

مکتب (درس گاہ) کا مطلب ہے انسانوں کے لیے خانۂ عبرت۔۔۔ مکتب ہی وہ چیز ہے جو نوعِ بشر کی روح کو راحت بخشتی ہے۔​
مکتب ہی وہ (جگہ) ہے جو تمام آفاق کو منور کرتی ہے۔۔ پردۂ ظلمت مکتب کے توسط ہی سے پارہ پارہ ہوتا ہے۔​
اگر اس دنیا میں مکتب نہ ہوں تو جہالت انسانوں کو تماماً محو کر ڈالے۔​
انسانوں کو شان و شرف صرف مکتب ہی سے حاصل ہے۔۔۔ جو شخص بے مکتب (ناخواندہ/جاہل) ہے اُس میں لیاقت ہونے کا ظن مت رکھو۔​
جاہلوں کو مکتب ہی مردِ خردمند بناتا ہے۔۔ وحشیوں کو مکتب ہی واقفِ حکمت کرتا ہے۔۔۔​
مکتب سے انسان جانتا ہے کہ خلقتِ عالم کیا ہے۔۔ مکتب ہی اسرارِ طبیعت سے پردہ اٹھانے والی جگہ ہے۔​
مکتب انسانوں کو ظلم سے آزاد کرتا ہے۔۔۔ مکتب کے توسط سے بشریت اپنے مقصدِ غایت تک پہنچ پاتی ہے۔​
ہاں، انسان مکتب ہی سے ہر چیز کا مالک بنتا ہے۔۔۔ مکتب ہی سے خلقِ جہاں راہِ حقیقت پاتی ہے۔​
فقط مکتب کے توسط ہی سے ابنائے زمانہ تاریخ، علم اور صنعت میں مہارت دکھاتے ہیں۔​

(علی آقا واحد)​

* شاعر کے نام کے جز ‘آقا’ کو ایران اور جمہوریۂ آذربائجان میں آغا پڑھا جاتا ہے۔


صدیقہ بلخی: امیر علی شیر نوائی اور اُن کے نام پر منعقد ہونے والے مؤتمر کا مشترک ہدف محبت کے بیج بونا تھا

افغانستان کی رکنِ ایوانِ بالا صدیقہ بلخی نے اخبار کے خبرنگار سے اپنی گفتگو کے دوران مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں میدانِ ادب و ثقافت کے مفکروں کے ایک جگہ جمع ہونے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور انہوں نے اس موقع کو مؤتمر میں شریک افغانستانی مفکروں کے لیے بہت قیمتی اور مفید شمار کیا۔
امیر علی شیر نوائی مؤتمر کی مہمانِ خصوصی نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے مہمانوں کے مابین احساسِ محبت کی ایجاد کو امیر علی شیر نوائی کی اصل خواہش اور تمدنی میدان کے علماء کی باہمی نشست کا منطقی نتیجہ سمجھا۔
اس طرح کے جلسوں کی اہمیت کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر اُنہوں نے جواب دیا: "زمانۂ حاضر میں خطے کے ہمسایہ اور مسلمان و ہم زبان ممالک ایک دوسرے کے تفکروں اور خیالات کے حامی ہیں۔ اگر خطے کے لوگوں کو امیر علی شیر نوائی جیسی کسی شخصیت سے اُس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح کے تعارف کے وہ مستحق ہیں تو وہ شخصیت باہمی نزدیکی کا محور بن سکتی ہے۔”
انہوں نے اضافہ کیا: "امیر علی شیر نوائی ایک ازبک، افغانستانی یا ایرانی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس خطے کی دیگر تاریخی شخصیات مثلاً خواجہ عبداللہ انصاری، سنائی غزنوی، اور مولانا بلخی رومی کی طرح ایک ماورائے سرحد فرد ہیں جو کسی خاص ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔”
صدیقہ بلخی نے امیر علی شیر نوائی کی ذات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اُنہوں نے کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق کو اپنی تالیفات کی فضائے فکر سے خارج کر دیا تھا اور آج اُن کی یاد میں اس مؤتمر کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ اس منطقے اور منطقے کے باہر بھی تمدنی نزدیکی کے لیے اُن کی تدبیریں کامیاب رہی ہیں۔”
افغانستان کی اس سیاسی-ثقافتی شخصیت نے کہا: "امیر علی شیر نوائی جیسے لوگ مشترکہ عوامی شخصیتیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کی اختصاصی ملکیت نہیں ہیں۔ ان جیسے لوگوں کے افکار و خیالات اس تمدنی علاقے کے مختلف ملکوں کے جوانوں کو متوجہ کرنے اور اُن میں باہمی نزدیکی کا جذبہ پیدا کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔”
اُنہوں نے کہا: "آپ دیکھیے کہ مختلف ملکوں سے جو مہمان یہاں حاضر ہوئے ہیں اور جن کے درمیان یہاں محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے، وہ اسی نگاہ اور اثر کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹیں گے اور یہ چیز نیک بختیوں کا باعث بنے گی۔”
صدیقہ بلخی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ہمیں ایرانی، افغانستانی، ازبکی، تاجکی جیسے کلمات کے استعمال کے بجائے وحدتِ زبانی کی طرح ڈالنے کی سعی اور منطقے کی مختلف اقوام اور گوناگوں زبانوں کو باہم نزدیک کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۱۰ فروری ۲۰۱۵ء


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس


نوائی و جامی

نوائی
تیموری دور کا کوئی علمی و ادبی تذکرہ علی شیر نوائی اور مولانا جامی کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جو بلاشک و شبہ اس دور کی عظیم ترین علمی و ادبی شخصیتیں ہیں اور جنہوں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان دونوں کا حسین بائیقرا کے دور سے تعلق ہے۔ علی شیر نوائی ہرات میں ۸۴۴ھ میں پیدا ہوئے اور وہیں ۱۲ جمادی الثانی ۹۰۶ھ کو وفات پائی۔ ان کی زندگی کا کچھ حصہ سمرقند اور استرآباد میں بھی گذرا جہاں وہ کئی سال حسین بائیقرا کے زمانے میں والی رہے تھے۔ زمانۂ طالب علمی میں وہ حسین بائیقرا کے ہم جماعت رہے تھے۔ بائیقرا نے بادشاہ بننے کے بعد اپنی اس دوستی کو آخر تک برقرار رکھا۔ علی شیر نوائی ایک مدت تک حسین بائیقرا کے مُہر بردار بھی رہے، لیکن بعض حاسدوں کی سازشوں کو دیکھ کر خود ہی اس عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ علی شیر نہ صرف ترکی زبان کے ایک عظیم شاعر اور ادیب تھے بلکہ وہ اپنے زمانے میں عالموں، شاعروں، ادیبوں اور فن کاروں کے سرپرست بھی تھے۔ وہ ۲۹ کتابوں کے مصنف تھے جو زیادہ تر چغتائی ترکی میں ہیں۔ ان کی تصانیف میں محاکمۃ اللغتین یعنی دو زبانوں کے درمیان محاکمہ بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ترکی زبان ایک ادبی زبان کی حیثیت سے فارسی سے کسی طرح کمتر نہیں۔ ان کی ایک اور کتاب مجالس النفائس اپنے زمانے کے شاعروں کا تذکرہ ہے۔ علی شیر نوائی ترکی میں نوائی تخلص کرتے تھے اور ان کا شمار ترکی کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ چغتائی ترکی کے وہ بلا شک و شبہ سب سے بڑے شاعر تھے۔ انہوں نے ترکی زبان میں چار دیوان اور پانچ مثنویاں مرتب کیں۔ مصنف ہونے کے علاوہ نوائی مصور، نغمہ ساز اور موسیقار بھی تھے۔
نوائی صرف ایک امیر تھے لیکن وہ عالموں اور شاعروں اور فن کاروں کی سرپرستی میں بادشاہِ وقت سے بھی کچھ آگے تھے۔ اس زمانے کے تقریباً تمام باکمال لوگ ان سے وابستہ تھے۔ وہ تیموری دور کے سب سے بڑے فارسی شاعر اور بزرگ جامی کے دوست اور سرپرست تھے اور جامی نے اپنی کئی کتابیں نوائی کے نام معنون کیں۔ مشہور مؤرخ میرخواند اور خواندمیر کی ان کے دربار میں تربیت ہوئی۔ مصوروں میں بہزاد اور شاہ مظفر اور موسیقاروں میں گل محمد، شیخی نامی، اور حسین عودی کی انہوں نے سرپرستی کی۔ یہ سب اپنے زمانے کے ممتاز ترین فن کار تھے۔
رفاہِ عام اور فلاح و بہبود کے کاموں سے نوائی کو خاص دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں خراسان میں تین سو ستر مسجدیں، مدرسے، سرائے، شفاخانے اور خانقاہیں یا تو تعمیر کرائیں یا ان کی تجدید کی۔ صرف ہرات میں انہوں نے بارہ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کیں جن میں جامعِ قدسیہ، مدرسۂ اخلاصیہ اور ایک شفاخانہ شامل ہیں۔

جامی
حسین بائیقرا کے زمانے کی دوسری عظیم ادبی شخصیت عبدالرحمٰن جامی (۸۱۷ھ تا ۸۹۸ھ) کی ہے۔ جامی بہت بڑے مصنف اور شاعر تھے۔ انہوں نے ایک سَو کے قریب کتابیں لکھیں۔ ایران میں وہ فارسی کے آخری بڑے شاعر تھے، اس کے بعد فارسی کے بڑے شاعر ایران میں نہیں بلکہ برِ صغیرِ پاکستان و ہند میں ہوئے، لیکن وہ بھی جامی کے مقام تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کی شاعری نے ایران اور ترکی کے شاعروں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کی کتاب ‘نفحات الانس’، جس میں اولیاء اللہ کے حالات لکھے گئے ہیں، بڑی مقبول کتاب ہے۔ ان کی ایک اور اہم کتاب ‘بہارستان’ ہے جو سعدی کی گلستان کے طرز پر لکھی گئی ہے۔

(ثروت صولت کی کتاب ‘ملتِ اسلامیہ کی مختصر تاریخ: حصۂ دوم’ سے مقتبس)


امیر علی شیر نوائی پر ادبیاتِ فارسی کا اثر

"وسطی ایشیائی ترکی گویوں کے ادبیات کی عظیم شخصیات میں ایک چہرۂ دیگر امیر علی شیر نوائی کا ہے، کہ جو دیوانِ ترکی کے علاوہ ایک دیوان فارسی زبان میں بھی رکھتے ہیں جس میں اُن کا تخلص ‘فانی’ ہے۔ یہ معروف شاعر، قرنِ نہمِ ہجری کے بزرگ ترین اور عالم ترین فارسی گو شاعر نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے ہم عصر تھے اور ملا جامی کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ نیز، انہوں ہی نے جامی کی شرحِ حال میں ‘خمسۃ المتحیرین’ کے نام سے ایک کتاب چغتائی ترکی میں تحریر کی تھی۔
اگر ہم نوائی کی تالیفات پر از روئے انصاف نظر ڈالیں، تو ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنے عصر کی اُن تمام ادبی اصناف میں سخن آفرینی کی ہے جو ادبیاتِ فارسی میں رائج رہی ہیں اور اس سلسلے میں وہ وافر کمالات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ مثنوی ‘حیرت الابرار’ میں کہتے ہیں:
اُول صفا اهلی پاک فرجامی
پاک فرجام و پاکفر جامی
اُول یقین ساری دستگیر منگا
قبله و اوستاد و پیر منگا
نوائی کے جو اشعار ہم نے پیش کیے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ وہ عبدالرحمٰن جامی کے احترام کے کس حد تک قائل تھے۔ وہ ان اشعار میں جامی کو اپنا استاد، پیر اور قبلہ پکار کر اُن کی عظمت میں رطب اللسان ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس کے مقابل میں مولانا جامی نیز اُن سے کامل محبت رکھتے تھے اور در حقیقت ان دو بزرگوں کے مابین رابطہ، شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کے باہمی ارتباط کی طرح تھا۔ اگر کوئی تفاوت تھا تو وہ یہ تھا کہ شمس اور مولانا رومی دونوں ایرانی تھے جبکہ نوائی اور جامی میں سے اول الذکر ترک اور ثانی الذکر تاجک تھے۔
علی شیر نوائی کی تالیفات پر جامی کی تصنیفات، اور بالعموم فارسی ادبیات کے اثر کے موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں بطورِ مثال نوائی کے ایک شعر کو لانے اور اُس شعر کے ایک فارسی گو شاعر کے شعر سے موازنہ کرنے ہی پر اکتفا کر رہا ہوں:
عارضین یاپغاچ کؤزیمدین ساچیلور هر لحظه یاش
اؤیله کیم پیدا بؤلور یولدوز، نهان بؤلغاچ قویاش
یہ مندرجہ بالا شعر کمال خجندی کے ایک بیت کے مضمون کی کاملاً تکرار ہے:
تا رخ نپوشد کی شود از دیده اشکِ ما روان
پنهان نگشته آفتاب اختر نمی‌آید برون
(اردو ترجمہ:جب تک وہ اپنا رخ پوشیدہ نہ کر لے اُس وقت تک آنکھ سے ہمارے آنسو کیسے رواں ہو سکتے ہیں؟ جب تک آفتاب پنہاں نہ ہو جائے، اُس وقت تک ستارہ باہر نہیں آتا۔)
اس طرح اس بات کی بھی یاد آوری کرنی چاہیے کہ ‘خمسۂ نوائی’ میں بھی شاعر نے موضوع اور اسلوب دونوں کے لحاظ سے حکیم نظامی گنجوی اور امیر خسرو دہلوی کے ‘خمسوں’ کی پیروی کی ہے۔
نوائی کی تالیفات میں شیخِ اجل سعدی شیرازی کی کتابوں ‘گلستان’ اور ‘بوستان’ کے مضامین کا بھی فراواں استعمال ہوا ہے اور اُن کے جملہ آثار میں لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کی غزلوں کا اثر بخوبی مشہود ہے۔”

(صَفَر عبداللہ کی کتاب ‘نورِ سخن’ میں شامل مضمون ‘نقشِ ادبیاتِ فارسی در شکل گیریِ ادبیاتِ اقوامِ ترکی زبانِ آسیائے مرکزی’ سے اقتباس اور ترجمہ)