محمد فضولی بغدادی کا ذکر بالآخر ایک پاکستانی اردو اخبار میں

جب میں نے انٹرنیٹ پر فارسی و تُرکی ادبیات کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی، اُس وقت تک پاکستان میں محمد فضولی بغدادی بالکل گُمنام شاعر تھے، حالانکہ وہ قومِ اتراک کے ایک عظیم ترین شاعر ہیں، اور اُن کا آذربائجان و تُرکیہ میں (نیز، تُرکستان اور عراقی و شامی تُرکوں میں بھی) وہی رُتبہ ہے جو فارسی گویوں میں جنابِ حافظ شیرازی کا ہے، یعنی تُرکی سرا شاعروں میں وہ معروف ترین ہیں، اور کلاسیکی تُرکی شاعری کا ہر قاری اُن کی شاعری سے آگاہی رکھتا ہے، اور اُن کی کئی ابیات اکثر تُرکی گویوں کو ازبر ہیں۔ علاوہ بریں، اُن کی فارسی شاعری بھی فصاحت و بلاغت اور شعری استعداد کے لِحاظ سے فُصَحائے عجم کی شاعری سے کم تر نہیں ہے۔ اِن چیزوں کے مدِّ نظر، میری اوّل روز سے کوشش رہی ہے کہ میں پاکستان میں جنابِ محمد فضولی بغدادی کے نام و آثار کی ترویج کرتا رہوں اور اِس مقصد کے لیے میں اُن کے فارسی و تُرکی اشعار کے ترجمے کرتا آیا ہوں۔ ارادہ تو یہ ہے کہ اگر مشیتِ الہٰی اجازت دے، اور مجھے فُرصت و موقع ملے، تو میں اُن کے کُل فارسی و تُرکی دواوین کا ترجمہ کروں گا۔ لیکن میں اِس وقت تک بھی اُن کی پانچ سو کے قریب فارسی و تُرکی ابیات کا ترجمہ کر چکا ہوں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دیکھنا میرے لیے باعثِ شادمانی ہے کہ انٹرنیٹ پر پاکستانیوں میں محمد فضولی بغدادی سے آشنائی کا آغاز ہو گیا ہے، اور اِمروز کئی مُحِبّانِ شعرِ فارسی اُن کے نام سے واقف ہیں، اور اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے ہیں۔ محمد فضولی بغدادی میرے پسندیدہ ترین تُرکی ادیب ہیں، اِس لیے مردُم کو اُن سے مُتعارف کرانا اپنی ادبی ذمّہ داری سمجھتا ہوں۔

اِمروز، بروزِ جمُعہ، سید شاہ زمان شمسی کی ایک تحریر «محسوسات و کیفیت کیا ہے؟» کے نام سے ایک اردو اخبار «وائس آف پاکستان» [ایک اردو اخبار کا نام انگریزی میں!] میں شائع ہوئی، جس میں اُنہوں نے فارسی نعتیہ شاعری پر چند کلمات لِکھے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اُس میں محمد فضولی بغدادی کی بھی نعتیہ ابیات، اُن کے نام کے ذکر کے ساتھ اور میرے ترجمے کی معیت میں، درج تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ، بے شک، یہ اردو تحریر محض چند انگُشت شُمار قاریوں کی نگاہوں ہی سے گُذری ہو گی، لیکن کیا یہ مُوَفّقیت و کامیابی کم ہے کہ فضولی بغدادی کا نام بالآخر ایک اردو اخبار کی بھی زینت بن گیا؟ ہرگز نہیں!

آرزو ہے کہ ایک روز جنابِ فضولی کا نام اِس مُلک بھی اُسی طرح شُہرت سے ہمکنار ہو گا جس طرح مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے دیگر دیاروں میں مشہور و معروف ہے۔

سید شاہ زمان شمسی کی تحریر کا ربط
اخباری صفحے کا ربط

پس نوشت: یہی تحریر «صحافت»، «ہجوم»، اور «طالبِ نظر» میں بھی شائع ہوئی تھی۔

Advertisements

ایرانی تُرکی ادبیات میں مرثیوں اور نوحوں کی کثرت – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زادہ اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۵’ (تُرکانِ ایران: ۵) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا یازې‌لې تۆرک ادبیاتې باشلېجا ایکی شکل‌ده تجلّی ائتمیش‌دیر: مرثیه، مُضحِکه. آذربایجان تۆرک شاعرلری یا کؤر اۏلونجایا قدر آغلار و آغلادېرلار و یاخود بایېلېنجایا قدر گۆلر و گۆلدۆرۆرلر. ایران تۆرک‌لری‌نین دین‌دار، حتّیٰ مُتعصِّب اۏلدوق‌لارې‌نې ذکر ائتمیشیک. بو دین‌دار خلق، سنه‌نین قسمِ مُهِمی‌نی، خُصوصییله مُحرّمین ایلک گۆن‌لری‌نی نوحه و ماتم‌لر ایچه‌ری‌سینده گئچیریر. هر سنه بیر وظیفهٔ دین‌دارانه اۏلماق اۆزه‌ره شُهَدا، اولیا شرفینه و کربلا فاجعه‌سې مغدور‌لارې یادېنا غرّا مجلس‌لری قورارلار. بو مجلس‌لرین نوحه-گرلیڲی‌نی تۆرک شُعَراسې ایفا ائدرلر؛ و بونون‌چۆن دیوان‌لار دۏلوسو مرثیه یازارلار. بو مرثیه‌لری اهالی ازبرلر، اۏقور، آغلار و شاعرلرینه رحمت گؤندریر. مرثیه ادبیاتې فارس‌لاردا دا واردېر، فقط تۆرک مرثیه‌لری قدر مبذول دئڲیل‌دیر. مرثیه-نویس‌لرین ان مشهورو تبریزلی راجی‌دیر.
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربایجان شُعَراسې هپ‌سی مرثیه‌-نویس‌دیرلر. مشهورلارېندان بیری ده «دل‌سوز»دور.”

ترجمہ:
"ایران میں تحریری تُرک ادبیات نے بُنیادی طور پر دو صورتوں میں تجلّی کی ہے: مرثیہ اور مُضحِکہ۔ آذربائجان کے تُرک شاعران یا تو کور (اندھے) ہو جانے کی حد تک روتے اور رُلاتے ہیں، یا پھر بے ہوش ہو جانے کی حد تک ہنستے اور ہنساتے ہیں۔ تُرکانِ ایران کے دین دار، حتیٰ مُتَعَصِّب ہونے کے بارے میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ یہ دیندار قوم، سال کے اہم حِصّے کو، خصوصاً مُحرّم کے اوّلین ایّام کو نوحوں اور ماتموں کے اندر گُذارتی ہے۔ ہر سال ایک فریضۂ دیندارانہ کے طور پر شُہداء و اولیاء کے شرَف میں اور فاجعۂ کربلا کے مظلوموں کی یاد میں پُرشُکوہ مجالس برپا کرتے ہیں۔ اِن مجالس میں نوحہ گری تُرک شاعران کرتے ہیں؛ اور اِس کے لیے دواوین بھر دینے جتنے مرثیے لکھتے ہیں۔ اِن مرثیوں کو مردُم ازبر کرتے ہیں، خوانتے (پڑھتے) ہیں، گِریہ کرتے ہیں، اور اُن کے شاعروں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ رِثائی ادبیات فارْسوں میں بھی موجود ہے، لیکن وہ تُرکی مرثیوں کی مانند فراواں نہیں ہیں۔ مرثیہ نویسوں میں سے مشہور ترین راجی تبریزی ہے۔
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربائجان کے تمام شُعَراء مرثیہ نویس ہیں۔ اُن میں سے ایک مشہور شاعر ‘دل‌سوز’ بھی ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
İran’da yazılı Türk edebiyyatı başlıca iki şekilde tecelli etmiştir: Mersiyye, mudhike. Azerbaycan Türk şairleri ya kör oluncaya kadar ağlar ve ağlatırlar ve yahud bayılıncaya kadar güler ve güldürürler. İran Türkleri’nin dindar, hatta muta’assıb olduklarını zikretmiştik. Bu dindar halk, senenin kısm-ı mühimini, hususiyle Muharrem’in ilk günlerini nevha ve matemler içerisinde geçirir. Her sene bir vazife-i dindarane olmak üzere şüheda, evliya şerefine ve Kerbela faci’ası mağdurları yadına garra meclisleri kurarlar. Bu meclislerin nevha-gerliğini Türk şuarası ifa ederler; ve bununçün divanlar dolusu mersiyye yazarlar. Bu mersiyyeleri ahali ezberler, okur, ağlar ve şairlerine rahmet gönderir. Mersiyye edebiyyatı Farslar’da da vardır, fakat Türk mersiyyeleri kadar mebzul değildir. Mersiyye-nüvislerin en meşhuru Tebrizli Raci’dir.
—————-
Azerbaycan şuarası hepsi mersiyye-nüvistirler. Meşhurlarından biri de "Dilsuz’dur.”


در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین – عثمانی ادیب ‘واحدی’

در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین

درودِ بی‌شمار اۏل چاریارِ کِبار ارواحېنه اۏلسون که احمدِ مختاروڭ اصحابِ بزرگوارې و خدایِ پروردگاروڭ اولیایِ کِبارې‌دورورلار رضوان الله تعالیٰ علیهم اجمعین.

نظم
چار دیوارِ سرایِ دینِ احمد چاریار
یعنی بوبکر و عمر عثمان علیِ نامدار
قلعهٔ شهرِ شریعت دوتدې آنلاردان اساس
اۏلېسار هم مُحکم و آباد تا دورِ شمار
جنّت ایچره آنلاروڭ ارواحېنی شاد ائیله‌سین
اۏل کریم [و] اۏل رحیم و اۏل غفورِ کردگار

لاطینی خط میں:

Der-Na’t-ı Çâr-Yâr-ı Kibâr Rıdvânu’l-lâhi ‘Aleyhim Ecma’în

Dürûd-ı bî-şümâr ol Çâr-Yâr-ı Kibâr ervâhına olsun ki Ahmed-i Muhtâruñ ashâb-ı büzürg-vârı ve Hudâ-yı Perverdigâruñ evliyâ-yı kibârıdururlar rıdvânu’l-lâhi te’âlâ ‘aleyhim ecma’în.

Nazm
Çâr dîvâr-ı sarây-ı dîn-i Ahmed çâr-yâr
Ya’nî Bû-Bekr ü ‘Ömer ‘Osman ‘Alî-i nâm-dâr
Kal’a-ı şehr-i şerî’at dutdı anlardan esâs
Olısar hem muhkem ü âbâd tâ devr-i şümâr
Cennet içre anlaruñ ervâhını şad eylesin
Ol Kerîm [ü] ol Rahîm ü ol Gafûr-ı Kird-gâr

ترجمہ:

در نعتِ چاریارِ کِبار رضوان الله علیهم اجمعین

درودِ بے شمار اُن چاریارِ کِبار کی ارواح پر ہو جو احمدِ مختار کے اصحابِ بزرگوار اور خدائے پروردگار کے اولیائے کِبار ہیں رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔

نظم:
چاریار، یعنی ابوبکر و عمر و عثمان و علیِ نامدار، سرائے دینِ احمد کی چار دیواریں ہیں۔
قلعۂ شہرِ شریعت نے اُن سے اساس پائی، [اور اُن ہی سے وہ] تا روزِ شمار مُحکم و آباد رہے گا۔
وہ کریم و رحیم و غفورِ کردگار جنّت میں اُن [چاریار] کی ارواح کو شاد کرے!

مأخوذ از: خواجهٔ جهان و نتیجهٔ جان، واحدی


مکتب نه دئمکدیر؟​ – علی آقا واحد (مع اردو ترجمہ)

مکتب نه دئمکدیر؟​

مکتب دئمک انسانلار اوچون خانهٔ عبرت
مکتبدیر ائدن نوعِ بشر روحونو راحت​
مکتبدیر ایشیقلاندیران آفاقی سراسر
مکتبله فقط پاره‌لنیر پردهٔ ظلمت​
مکتب اگر اولمازسا بو دنیا اوزرینده
محو ائله‌یر انسانلاری بالمرّه جهالت​
شان و شرف انسانلارا مکبتله‌دیر آنجاق
مکتب‌سیز اولان کیمسه‌ده ظن ائتمه لیاقت!​
جاهل‌لری مکتبدیر ائدن مردِ خردمند
وحشی‌لری مکتبدیر ائدن واقفِ حکمت​
مکتبله بیلر خلق نه‌دیر خلقتِ عالم
مکتبدیر اولان کاشفِ اسرارِ طبیعت​
مکتبدیر ائدن ظلمدن انسانلاری آزاد
مکتبله اولور مقصده نائل بشریت​
انسان، بلی، مکتبله اولور هر ایشه دارا
مکتبله تاپار خلقِ جهان راهِ حقیقت​
مکتبله فقط گؤستریر اولادِ زمانه
تاریخده، هم علمده، صنعتده مهارت​

(علی آقا واحد)​

=========
(لاطینی خط میں نظم)

Məktəb nə deməkdir?

Məktəb demək insanlar üçün xaneyi-ibrət,
Məktəbdir edən növi-başər ruhunu rahət.
Məktəbdir işıqlandıran afaqı sərasər,
Məktəblə fəqət parələnir pərdeyi-zülmət.
Məktəb əgər olmazsa bu dünya üzərində,
Məhv eyləyər insanları bilmərrə cəhalət.
Şənü şərəf insanlara məktəblədir ancaq,
Məktəbsiz olan kimsədə zənn etmə ləyaqət!
Cahilləri məktəbdir edən mərdi-xirədmənd,
Vəhşiləri məktəbdir edən vaqifi-hikmət.
Məktəblə bilər xalq nədir xilqəti-aləm,
Məktəbdir olan kaşifi-əsrari-təbiət.
Məktəbdir edən zülmdən insanları azad,
Məktəbla olur məqsədə nail başəriyyət.
İnsan, bəli, məktəblə olur hər işə dara,
Məktəblə tapar xəlqi-cahan rahi-həqiqət.
Məktəblə fəqət göstərir övladi-zəmanə
Tarixda, həm elmdə, sənətdə məharət.

(Əliağa Vahid)

=========
(اردو ترجمہ)

مکتب کا کیا مطلب ہے؟​

مکتب (درس گاہ) کا مطلب ہے انسانوں کے لیے خانۂ عبرت۔۔۔ مکتب ہی وہ چیز ہے جو نوعِ بشر کی روح کو راحت بخشتی ہے۔​
مکتب ہی وہ (جگہ) ہے جو تمام آفاق کو منور کرتی ہے۔۔ پردۂ ظلمت مکتب کے توسط ہی سے پارہ پارہ ہوتا ہے۔​
اگر اس دنیا میں مکتب نہ ہوں تو جہالت انسانوں کو تماماً محو کر ڈالے۔​
انسانوں کو شان و شرف صرف مکتب ہی سے حاصل ہے۔۔۔ جو شخص بے مکتب (ناخواندہ/جاہل) ہے اُس میں لیاقت ہونے کا ظن مت رکھو۔​
جاہلوں کو مکتب ہی مردِ خردمند بناتا ہے۔۔ وحشیوں کو مکتب ہی واقفِ حکمت کرتا ہے۔۔۔​
مکتب سے انسان جانتا ہے کہ خلقتِ عالم کیا ہے۔۔ مکتب ہی اسرارِ طبیعت سے پردہ اٹھانے والی جگہ ہے۔​
مکتب انسانوں کو ظلم سے آزاد کرتا ہے۔۔۔ مکتب کے توسط سے بشریت اپنے مقصدِ غایت تک پہنچ پاتی ہے۔​
ہاں، انسان مکتب ہی سے ہر چیز کا مالک بنتا ہے۔۔۔ مکتب ہی سے خلقِ جہاں راہِ حقیقت پاتی ہے۔​
فقط مکتب کے توسط ہی سے ابنائے زمانہ تاریخ، علم اور صنعت میں مہارت دکھاتے ہیں۔​

(علی آقا واحد)​

* شاعر کے نام کے جز ‘آقا’ کو ایران اور جمہوریۂ آذربائجان میں آغا پڑھا جاتا ہے۔


صدیقہ بلخی: امیر علی شیر نوائی اور اُن کے نام پر منعقد ہونے والے مؤتمر کا مشترک ہدف محبت کے بیج بونا تھا

افغانستان کی رکنِ ایوانِ بالا صدیقہ بلخی نے اخبار کے خبرنگار سے اپنی گفتگو کے دوران مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں میدانِ ادب و ثقافت کے مفکروں کے ایک جگہ جمع ہونے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور انہوں نے اس موقع کو مؤتمر میں شریک افغانستانی مفکروں کے لیے بہت قیمتی اور مفید شمار کیا۔
امیر علی شیر نوائی مؤتمر کی مہمانِ خصوصی نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے مہمانوں کے مابین احساسِ محبت کی ایجاد کو امیر علی شیر نوائی کی اصل خواہش اور تمدنی میدان کے علماء کی باہمی نشست کا منطقی نتیجہ سمجھا۔
اس طرح کے جلسوں کی اہمیت کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر اُنہوں نے جواب دیا: "زمانۂ حاضر میں خطے کے ہمسایہ اور مسلمان و ہم زبان ممالک ایک دوسرے کے تفکروں اور خیالات کے حامی ہیں۔ اگر خطے کے لوگوں کو امیر علی شیر نوائی جیسی کسی شخصیت سے اُس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح کے تعارف کے وہ مستحق ہیں تو وہ شخصیت باہمی نزدیکی کا محور بن سکتی ہے۔”
انہوں نے اضافہ کیا: "امیر علی شیر نوائی ایک ازبک، افغانستانی یا ایرانی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس خطے کی دیگر تاریخی شخصیات مثلاً خواجہ عبداللہ انصاری، سنائی غزنوی، اور مولانا بلخی رومی کی طرح ایک ماورائے سرحد فرد ہیں جو کسی خاص ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔”
صدیقہ بلخی نے امیر علی شیر نوائی کی ذات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اُنہوں نے کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق کو اپنی تالیفات کی فضائے فکر سے خارج کر دیا تھا اور آج اُن کی یاد میں اس مؤتمر کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ اس منطقے اور منطقے کے باہر بھی تمدنی نزدیکی کے لیے اُن کی تدبیریں کامیاب رہی ہیں۔”
افغانستان کی اس سیاسی-ثقافتی شخصیت نے کہا: "امیر علی شیر نوائی جیسے لوگ مشترکہ عوامی شخصیتیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کی اختصاصی ملکیت نہیں ہیں۔ ان جیسے لوگوں کے افکار و خیالات اس تمدنی علاقے کے مختلف ملکوں کے جوانوں کو متوجہ کرنے اور اُن میں باہمی نزدیکی کا جذبہ پیدا کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔”
اُنہوں نے کہا: "آپ دیکھیے کہ مختلف ملکوں سے جو مہمان یہاں حاضر ہوئے ہیں اور جن کے درمیان یہاں محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے، وہ اسی نگاہ اور اثر کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹیں گے اور یہ چیز نیک بختیوں کا باعث بنے گی۔”
صدیقہ بلخی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ہمیں ایرانی، افغانستانی، ازبکی، تاجکی جیسے کلمات کے استعمال کے بجائے وحدتِ زبانی کی طرح ڈالنے کی سعی اور منطقے کی مختلف اقوام اور گوناگوں زبانوں کو باہم نزدیک کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۱۰ فروری ۲۰۱۵ء


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس