گُلستانِ سعدی شیرازی کی ایک حکایت کا تُرکی ترجمہ

بیر گۆن جاوان‌لېق‌دا نادان‌لېق ائدیب آنامېن اۆستۆنه برْک قېشقېردېم. اۏ، قلبی اینجیمیش حال‌دا کۆنج‌ده اۏتوردو، آغلایېب دئدی: «کؤرپه‌لیڲین اونودوب‌سان کی، بئله کۏبودلوق ائدیرسن؟»
آنا اۏغلونو زۏرلو گؤرجک هامان،
بئله سؤیله‌دی: ای پلنگ اۏولایان!
یادا دۆشسه ایدی اوشاق‌لېق چاغېن،
کی قۏینوم‌دا گۆج‌سۆز چکه‌ردین فغان،
بو گۆن ائیله‌مزدین منه ظۆلم‌لر،
کی، سن گۆج‌لۆسن ایندی، من ناتوان.

مُتَرجِمان: محمدآقا سُلطانوف، رحیم سُلطانوف، اسماعیل شمس (از شُورَوی آذربائجان)

ایک روز جوانی میں نادانی کرتے ہوئے مَیں اپنی مادر پر سخت چِلّایا۔ وہ رنجیدہ دل حالت میں گوشے میں بیٹھی اور روتے ہوئے بولی: «کیا تم اپنی طِفلی کو فراموش کر گئے ہو جو اِس طرح بدتمیزی کر رہے ہو؟»
شعر:
مادر نے جیسے ہی اپنے پِسر کو پُرقوّت و زورمند دیکھا تو یہ کہا: اے تیندوے کو شِکار کرنے والے! اگر تمہارا زمانۂ طِفلی [تمہاری] یاد میں آ جاتا، کہ جب تم میری آغوش میں بے قُوّتی کے ساتھ فغاں کیا کرتے تھے، تو اِس روز تم مجھ پر ظُلم نہ کرتے، کہ [جب] تم اِس وقت قوی ہو اور میں ناتواں۔

Bir gün cavanlıqda nadanlıq edib anamın üstünə bərk qışqırdım. O, qəlbi incimiş halda küncdə oturdu, ağlayıb dedi:
– Körpəliyini unudubsan ki, belə kobudluq edirsən?
Ana oğlunu zorlu görcək haman,
Belə söylədi: – Ey pələng ovlayan!
Yada düşsə idi uşaqlıq çağın,
Ki, qoynumda gücsüz çəkərdin fəğan,
Bu gün eyləməzdin mənə zülmlər,
Ki, sən güclüsən indi, mən natəvan.


تُرکیہ میں رسم الخط کی تبدیلی کے باعث مسائل

"رسم الخط کے تبدیل ہو جانے پر ہم ایک دیگر مسئلے سے دوچار ہو گئے۔ ہماری تمام ثقافت ماضی میں رہ گئی۔ ہم ایسی صورتِ حال میں آ گئے کہ اپنی ثقافت تک پہنچ پانا ناممکن ہو گیا۔ یہ تا حال ہمارے لیے ایک کبیر مسئلہ ہے۔ نئی نسل ۵۰-۶۰ سال قبل لِکھی گئی حکایت، ناول، یا تحریر کو سمجھنے میں بھی مشکل محسوس کرتی ہے اور مُعاصر زبان میں ترجمے کی خواہش کرتی ہے۔ یہ ایک بدبختی ہے۔ دُنیا میں ایسی کوئی ثقافت نہیں ہے۔ کسی ثقافت سے منسوب شخص اگر ۶۰-۷۰ سال قبل لکھا گیا متن بھی خوان (پڑھ) کر نہ سمجھ سکتا ہو، تو اُس ثقافت کے لیے اپنے تسلسُل کو جاری رکھ پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اِس [صورتِ حال] کو درست کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔”
(تُرکِیَوی تاریخ شِناس «محمد گنچ»)

"Alfabe değişince de başka bir problemle karşılaştık. Bütün kültürümüz geçmişte kalmış oldu. Kültürümüze ulaşamaz hale geldik. Bu, hala bizim için büyük bir problem olmaya devam ediyor. 50-60 yıl evvel yazılmış olan bir hikayeyi, romanı, yazıyı anlamakta zorluk çeken, bugünkü dile çevirmek isteyen bir kuşak var. Bu bir felakettir. Dünyada böyle bir kültür yok. Bir kültürün mensubu 60-70 yıl önce yazılan bir metni okuyup anlayamıyorsa, o kültürde sürekliliği devam ettirmenin imkanı olmaz. Bunu düzeltmemiz lazım.”
(Mehmet Genç)

مأخذ


ظہیرالدین محمد بابر کے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار

ظہیرالدین محمد بابُر اپنی کتاب ‘بابُرنامہ’ کی ابتدا میں اپنے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار کے بارے میں لکھتے ہیں:

"حنفی مذهب‌لیق، پاکیزه اعتقادلیق کیشی اېدی، بېش وقت نمازنی ترک قیلمس اېدی، عُمری قضالری‌نی تمام قیلیب اېدی، اکثر تلاوت قیلور اېدی. حضرت خواجه عُبیدالله‌غه اِرادتی بار اېردی، صُحبت‌لری‌غه بسیار مُشرّف بۉلوب اېدی. حضرت خواجه هم فرزند دېب اېردیلر.
روان سوادی بار اېدی. خمسَتَین و مثنوی کتاب‌لرنی و تأریخ‌لرنی اۉقوب اېدی. اکثر شاه‌نامه اۉقور اېدی. طبعِ نظم بار اېدی، ولی شعرغه پروا قیلمس اېدی.”

"وہ حنفی مذہب و پاکیزہ اعتقاد شخص تھے، پنج وقتہ نمازوں کو ترک نہ کرتے تھے، اپنی قضائے عُمری کو تمام کر چکے تھے، اکثر تلاوتِ [قُرآن] کرتے تھے۔ وہ حضرت خواجہ عُبیداللہ [احرار] سے اِرادت رکھتے تھے، اور اُن کی صُحبتوں سے بِسیار مُشرّف ہو چکے تھے۔ حضرتِ خواجہ بھی [اُن کو] فرزند پُکارتے تھے۔
وہ روانی کے ساتھ خوان (پڑھ) سکتے تھے۔ خَمسَتَین، مثنوی اور تاریخ کی کتابوں کا مُطالعہ کر چکے تھے۔ اکثر شاہنامہ خوانا (پڑھا) کرتے تھے۔ وہ طبعِ شاعری رکھتے تھے، لیکن شعر [کہنے] کی پروا نہیں کرتے تھے۔”

× ‘خمسَتَین’ سے نظامی گنجوی اور امیر خُسرو کے پانچ پانچ مثنویوں کے مجموعے، اور ‘مثنوی’ سے مولانا رُومی کی مثنویِ معنوی مُراد ہے۔
× خوانْنا (بر وزنِ ‘جاننا’) = پڑھنا

Hanafiy mazhabliq, pokiza e’tiqodliq kishi edi, besh vaqt namozni tark qilmas edi, umriy qazolarini tamom qilib edi, aksar tilovat qilur edi. Hazrat Xoja Ubaydullog’a irodati bor erdi, suhbatlarig’a bisyor musharraf bo’lub edi. Hazrat Xoja ham farzand deb erdilar.
Ravon savodi bor edi. Xamsatayn va masnaviy kitoblarni va ta’rixlarni o’qub edi. Aksar Shohnoma o’qur edi. Tab’i nazmi bor edi, vale she’rg’a parvo qilmas edi.


گُلستانِ سعدی شیرازی کی ایک حکایت کا اُزبکی ترجمہ

کۉردیم کی، بیر بدَوی (صحرایی عرب) اۉغلی‌گه شونده‌ی دېردی: «ای اۉغلیم، قیامت کونی سېن‌دن: «آتنگ کیم؟» دېب اېمس، «قنده‌ی هُنرینگ بار؟» دېب سۉره‌یدی‌لر».

کعبه یاپقیچی‌نی اۉپیشر اېکن،
ایپک قورت طُفَیلی بۉلمه‌دی اولوغ.
بیر نېچه کون بۉلدی عزیز اېگنی‌ده،
شونینگ بیلن بۉلدی اۉزی هم قوتلوغ.

مترجمِ نثر: رُستم کامِلوف
مترجمانِ نظم: غفور غُلام، شاه‌اسلام شاه‌مُحمدّوف

ترجمہ:
میں نے دیکھا کہ ایک بدَوی (صحرائی عرب) اپنے پِسر سے یہ کہہ رہا تھا: «اے میرے پِسر، بہ روزِ قیامت تم سے «تمہارا پدر کون ہے؟» نہیں، بلکہ «تم کس طرح کا ہُنر رکھتے ہو؟» سوال کیا جائے گا۔»

کعبہ کے غِلاف کو جو مردُم بوسہ دیتے ہیں
وہ کِرمِ ریشم کے طُفیل عالی و عظیم نہیں ہوا
[بلکہ] وہ کئی روز تک [ایک] عزیز [چیز] کے شانے پر رہا
اِس طرح سے وہ خود بھی مُبارک ہو گیا

(یعنی غلافِ کعبہ کی عظمت اُس کے ریشمی ہونے کے باعث نہیں ہے، بلکہ کعبے سے نِسبت رکھنے کے باعث ہے۔)

لاطینی رسم الخط میں:
Ko’rdimki, bir badaviy (sahroyi arab) o’g’liga shunday derdi: "Ey o’g’lim, qiyomat kuni sendan: "Otang kim?” deb emas, "Qanday hunaring bor?” deb so’raydilar”.

Ka’ba yopqichini o’pishar ekan,
Ipak qurt tufayli bo’lmadi ulug’.
Bir necha kun bo’ldi aziz egnida,
Shuning bilan bo’ldi o’zi ham qutlug’.

× ترجمے میں قِطعہ گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔


"ہم تُرکستانیوں کے لیے تُرکی و فارسی جاننا لازم ہے” – خواجہ محمود بہبودی

ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) نے تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے اپنے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) کا آغاز اِن الفاظ کے ساتھ کیا تھا:

"بیز تورکستان‌لی‌لرغه تورکی، فارسی، عربی، و روسی بیلماق لازم‌دور، تورکی، یعنی اۉزبېکی‌نی سببی شول که، تورکستان خلقی‌نینگ اکثری اۉزبکی سۉیله‌شور. فارسی بۉلسه، مدرَسه و اُدَبا تیلی‌دور. بوکون‌غه‌چه تورکستان‌نی هر طرفینداگی اېسکی و ینگی مکتب‌لرینده فارسی نظم و نثر کتاب‌لری تعلیم بېریلیب کېلگن‌دور.
برچه مدرَسه‌لرده شرعی و دینی کتاب‌لر عربی تعلیم بېریلسه هم، مُدرِّس‌لرنی تقریر و ترجمه‌لری فارسچه‌دور. بو قاعدہ، یعنی درس کتابی – عربی، مُعلِّم – تورکی، تقریر و ترجمه‌نی فارسی‌لیگی خیله عجیب‌دور.”

"ہم تُرکستانیوں کو تُرکی، فارسی، عرَبی اور رُوسی جاننا لازم ہے۔ تُرکی، یعنی اُزبَکی کا سبب یہ کہ مردُمِ تُرکستان کی اکثریت اُزبکی بولتی ہے۔ جبکہ فارسی اِس لیے کیونکہ یہ مدرَسے اور اُدباء کی زبان ہے۔ تا اِمروز تُرکستان میں ہر طرف قدیم و جدید مکتبوں میں فارسی نظم و نثر کی کتابیں تعلیم و تدریس ہوتی آئی ہیں۔
خواہ تمام مدرَسوں میں شرعی اور دینی کتابیں عربی میں تعلیم دی جائیں، لیکن مُدرِّسوں کی خط و کتابت اور ترجمے فارسی میں ہوتے ہیں۔ یہ قاعدہ، یعنی درسی کتاب: عربی، مُعلّم: تُرکی، خط کتابت و ترجمہ: فارسی، خیلے حیرت انگیز ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Biz turkistoniylarg‘a turkiy, forsiy, arabiy va rusiy bilmoq lozimdur. Turkiy, ya’ni o‘zbekini sababi shulki, Turkiston xalqining aksari o‘zbakiy so‘ylashur. Forsiy bo‘lsa, madrasa va udabo tilidur. Bukung‘acha Turkistonni har tarafindagi eski va yangi maktablarinda forsiy nazm va nasr kitoblari ta’lim berilib kelgandur.
Barcha madrasalarda shar’iy va diniy kitoblar arabiy ta’lim berilsa ham, mudarrislarni taqriru tarjimalari forschadur. Bu qoida, ya’ni dars kitobi —arabiy, muallim — turkiy, taqriru tarjimani forsiyligi xila ajibdur.”


ظہیرالدین محمد بابر کی زبان سے جنابِ امیر علی شیر نوائی کا ذکرِ خیر

ظہیرالدین محمد بابر اپنی گراں بہا تألیف ‘بابرنامہ’ میں ایک جا فخرِ شہرِ ہِرات و دیارِ خُراسان جنابِ امیر علی‌شیر نوایی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اهلِ فضل و اهلِ هُنرغه علی‌شېر‌بېک‌چه مُربّی و مُقوّی معلوم اېمس کیم، هرگز پیدا بۉلمیش بۉلغه‌ی. اُستاذ قول‌محمّد و شیخی نایی و حُسین عودی کیم، سازده سرآمد اېدی‌لر، بېک‌نینگ تربیت و تقویتی بیله مونچه ترقّی و شُهرت قیلدی‌لر. اُستاذ بهزاد و شاه مُظفّر تصویرده بېک‌نینگ سعی و اهتمامی بیله مونداق مشهور و معروف بۉلدی‌لر. مونچه بِنایِ خیر کیم، اول قیلدی، کم کیشی مونداق‌قه مُوَفّق بۉلمیش بۉلغه‌ی.”

"اہلِ فضل و اہلِ ہُنر کے لیے علی شیر بیگ جیسا کوئی مُربّی و مُقوّی ہرگز ظاہر نہ ہوا ہو گا۔ اُستاد قول‌محمّد اور شیخی نایی اور حُسین عُودی نے، کہ جو ساز [و موسیقی] میں برتر و مُمتاز تھے، بیگ [ہی] کی تربیت و تقویت سے اِس قدر ترقّی و شُہرت پائی تھی۔ اُستاد بہزاد اور شاہ مُظفّر مُصوِّری میں بیگ کی سعی و اہتمام سے اِس طرح مشہور و معروف ہوئے تھے۔ جس قدر کارِ خیر اُنہوں نے [انجام دیے] ہیں، کم اشخاص ہی اُس طرح کامیاب ہوئے ہوں گے۔”

«Ahli fazl va ahli hunarg‘a Alisherbekcha murabbiy va muqavviy ma’lum emaskim, hargiz paydo bo‘lmish bo‘lg‘ay. Ustoz Qulmuhammad va Shayxiy Noyi va Husayn Udiykim, sozda saromad edilar, bekning tarbiyat va taqviyati bila muncha taraqqiy va shuhrat qildilar. Ustoz Behzod va Shoh Muzaffar tasvirda bekning sa’y va ehtimomi bila mundoq mashhur va ma’ruf bo‘ldilar. Muncha binoyi xayrkim, ul qildi, kam kishi mundoqqa muvaffaq bo‘lmish bo‘lg‘ay»


‘بابرنامہ’ ہی سے ایک دیگر اقتباس:

"علی‌شېربېک نظیری یۉق کیشی اېردی. تورکی تیل بیله تا شعر أیتیبدورلر، هېچ کیم آنچه کۉپ و خۉب أیتقان اېمس.”

"علی شیر بیگ ایک بے نظیر شخص تھے۔ زبانِ تُرکی میں جب سے شاعری کہی گئی ہے، اُن کے قدر زیادہ و خوب [اشعار] کسی شخص نے نہیں کہے ہیں۔”

Alisherbek naziri yo’q kishi erdi. Turkiy til bila to she’r aytibdurlar, hech kim oncha ko‘p va xo‘b aytqon emas.


"ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے”

ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) میں ایک جا لکھتے ہیں:

"تُرکستان‌نینگ سمرقند و فرغانه ولایت‌لرینده فارسچه سۉیله‌تورگن بیر نېچه شهر و قیشلاق‌لر باردور. بُخارا حکومتی‌نینگ تیلی فارسی‌دور. فارس شاعر و اُدَباسی اثرلری قیامت‌غه‌چه لذّتی کېتمه‌یتورگن خزینهٔ معنوی‌دور که، موندان فایده‌لنماق اوچون آوروپایی‌لر میلیه‌ردلر صرف اېترلر.
بیزغه سعادت‌دور که، تورکی و فارسی‌نی تحصیل‌سیز بیلورمیز. هر تورک‌نی فارسی و هر فارس‌نی تورکی بیلماغی لازم‌دور.
فارسی بیلگن کیشی فردوسی، بېدل، سعدی، «مثنوی»دن قنده‌ی لذّت آلسا، تورکی بیلگن‌لر فضولی، نوایی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم‌بېک، سنایی، نابی، ناجی‌لردن، ینه تالستۉی، جول ورن و عُلَمایِ زمانی اثرینی تورکی ترجمه‌سی‌دن لذّت شونده‌ی آله‌دور.”

ترجمہ:
"تُرکستان کی سمرقند و فرغانہ ولایتوں میں فارسی بولنے والے کئی ایک شہر اور قریے موجود ہیں۔ حکومتِ بُخارا کی زبان فارسی ہے۔ فارسی شاعروں اور ادیبوں کی تألیفات ایسا خزینۂ معنوی (روحانی) ہیں کہ جس کی لذت قیامت تک نہ جائے گی، اور جس سے فائدہ یاب ہونے کے لیے اہلِ یورپ اربوں خرچ کرتے ہیں۔
ہمارے لیے سعادت ہے کہ ہم تُرکی و فارسی کو تحصیلِ علم کے بغیر ہی جانتے ہیں۔ ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے۔
فارسی جاننے والا شخص جس طرح فردوسی، بیدل، سعدی، مثنویِ معنوی سے لذّت لیتا ہے، تُرکی جاننے والے اشخاص [بھی] اُسی طرح فضولی، نوائی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم بیگ، سنائی، نابی، ناجی وغیرہ سے، نیز تالستوی، جُول وَرْن، اور عُلمائے عصر کی تألیفات کے تُرکی ترجمے سے لذّت لیتے ہیں۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Turkistonning Samarqand va Farg’ona viloyatlarinda forscha so’ylayturgan bir necha shahar va qishloqlar bordur. Buxoro hukumatining tili forsiydur. Fors shoiru udabosi asarlari qiyomatg’acha lazzati ketmayturgan xazinai ma’naviydurki, mundan foydalanmoq uchun ovrupoyilar milyardlar sarf etarlar.
Bizg’a saodatdurki, turkiy va forsiyni tahsilsiz bilurmiz. Har turkni forsiy va har forsni turkiy bilmog’i lozimdur.
Forsiy bilgan kishi Firdavsiy, Bedil, Sa’diy, «Masnaviy»dan qanday lazzat olsa, turkiy bilganlar Fuzuliy, Navoiy, Boqiy, Somiy, Abdulhaq Homid, Akrambek, Sanoyi, Nobiy, Nojiylardan, yana Tolsto’y, Jul Vern va ulamoi zamoniy asarini turkiy tarjimasidan lazzat shunday oladur.