ایران میں تُرکی زبان کی تدریس

شہرِ شیراز میں شائع ہوئی تُرکی کتاب ‘مأذون قاشقایې شعرلری’ (اشعارِ مأذون قشقایی) پر لکھے گئے پیش لفظ میں ایران سے تعلق رکھنے والے اسداللہ مردانی رحیمی لکھتے ہیں:
"رېضا شاه زامانېندا تۆرک دیلینیڭ ائڲیتیمی ایران‌دا یاساق‌لاندې. بو یاساق‌لېق سوڭراکې حۆکۆمت یعنې محممد رېضا شاه پهلوی دؤنه‌مینده ده دوام ائتدی. آما سۏنوندا یاخلاشېق ۵۴ ایل‌دن سۏڭرا ۱۹۷۹ده ایسلام دئویریمی سۏنوج‌لارېندان دۏلایې، بو باسقې تۆرک دیلی اۆستۆندن گؤتۆرۆلدۆ. بو تارېخانچا آنجاق هنۆز تۆرک دیلی، مدرسه‌لرده درس وئریل‌مه‌ییر و فقط تبریز دانېش‌گاهېندا تۆرک دیلی و ادبیاتې بیر ریشته اۏلاراق تدریس اۏلماق‌دادېر.”
ترجمہ:
"رِضا شاہ کے زمانے میں تُرکی زبان کی تعلیم و تدریس ایران میں ممنوع قرار دے دی گئی۔ یہ ممانعت بعد میں آنے والی حکومت یعنی محمد رِضا شاہ پہلوی کے دور میں بھی جاری رہی۔ لیکن بالآخر تقریباً ۵۴ سال بعد ۱۹۷۹ء میں اسلامی انقلاب کے نتائج کے باعث یہ فِشار تُرکی زبان پر سے اُٹھا لیا گیا۔ لیکن ہنوز اِس روز تک تُرکی زبان مکتبوں میں تدریس نہیں کی جاتی، اور صرف دانشگاہِ تبریز میں تُرکی زبان و ادبیات ایک شُعبے کے طور پر تدریس ہوتا ہے۔”

Advertisements

"تُرکی بولنا ہمیں زیب نہیں دیتا”

قفقازی آذربائجانی طنزیہ شاعر میرزا علی اکبر صابر (وفات: ۱۹۱۱ء) ایک نظم میں خود کے زمانے کے ‘دانِشوروں’ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں:

"اینتئلیگئنتیک، بو که، بؤهتان دئییل،
تۆرکی دانېشماق بیزه شایان دئییل،
تۆرک دیلی قابیلِ عیرفان دئییل،
بیز بونا قائیل اۏلان اینسان‌لارېق!
آی باراکاللاه، نه گؤزل جان‌لارېق!..

تۆرک قزئتی وئرسه ده عقله ضییا،
من اۏنو آلمام الیمه مۆطلقا،
چۆنکی مۆسلمانجا قۏنوشماق بانا
عئیب‌دیر! اؤز عئیبیمیزی آنلارېق!
آی باراکاللاه، نه گؤزل جان‌لارېق!”
(میرزا علی‌اکبر صابر)

ہم دانِشور ہیں، [اور] یہ [کوئی] بُہتان نہیں ہے۔۔۔ تُرکی بولنا ہمیں زیب نہیں دیتا۔۔۔ تُرکی زبان قابلِ علم و معرفت نہیں ہے۔۔۔ ہم اِس چیز کے قائل انسان ہیں!۔۔۔ اے، بارک اللہ! ہم کس قدر خوب افراد ہیں!۔۔۔
تُرک (تُرکی) اخبار خواہ عقل کو روشنی دیتا ہو، [تو بھی] میں اُس کو ہرگز اپنے دست میں نہ لوں۔۔۔ کیونکہ مسلمانوں کی طرح گفتگو کرنا میرے لیے عیب ہے!۔۔۔ ہم اپنے عیب کو سمجھتے ہیں!۔۔۔ اے، بارک اللہ! ہم کس قدر خوب افراد ہیں!۔۔۔

"İnteligentik, bu ki, böhtan deyil,
Türki danışmaq bizə şayan deyil,
Türk dili qabili-irfan deyil,
Biz buna qail olan insanlarıq!
Ay barakallah, nə gözəl canlarıq!..

Türk qəzeti versə də əqlə ziya,
Mən onu almam əlimə mütləqa,
Çünki müsəlmanca qonuşmaq bana
Eybdir! Öz eybimizi anlarıq!
Ay barakallah, nə gözal canlarıq!”


فارسی اور تُرکی کی باہمی قُربت – علی بیگ حُسین زادہ

آذربائجانی-تُرکِیَوی مُصنّف علی بیگ حُسین زادہ قفقازی آذربائجان سے شائع ہونے والے تُرکی مجلّے ‘فُیوضات’ میں سال ۱۹۰۶ء میں لکھتے ہیں:

"قومیت بحثینه گلینجه معلوم‌دور که، روسیا اهالیسی‌نین بیر قسمی تۆرک‌لردن عبارت اۏلدوغو کیمی، ایرانېن دا بۆتۆن جهتِ شمالیه‌سی بالخاصّه آذربایجان قطعه‌سی تۆرک‌دۆر.
ایرانېن ایالتِ جنوبیه‌سینه گلینجه بورادا ساکن اۏلان فارس‌لارېن عادت، اخلاق و حتیٰ لسانجا تۆرک‌لردن اۏ قدر فرق‌لری یۏخدور، حتیٰ لسانجا دییوریز، چۆنکه هر ایکی دیل مسلمان‌لاشدېغې اۆچۆن بیر-بیرلرینه اۏ قدر تقرُّب ائتمیشدیر که، جُزئی بیر همّت‌له فارس تۆرکۆن، تۆرک فارسېن لسانېنې آ‌نلایا بیلیر، چۆنکه فرق لغت‌لرده اۏلمایېب آنجاق قواعدده‌دیر. مثال اۆچۆن بیر جمله ایراد ائده‌ییم:
فارس دئییر: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تۆرک دئییر: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”
(علی بیگ حُسین‌زاده، فُیوضات، ۱۹۰۶ء)

ترجمہ:
"قومیت کے موضوع پر آیا جائے تو واضح ہے کہ جس طرح اہالیِ رُوس کا ایک حصّہ تُرکوں پر مشتمل ہے، اُسی طرح ایران کی کُل شمالی سَمت، خصوصاً قطعۂ آذربائجان تُرک ہے۔
جہاں تک ایران کے جنوبی صوبوں کا تعلق ہے، وہاں سُکونت رکھنے والے فارس عادات، اخلاق، اور حتیٰ زبان کے لحاظ سے تُرکوں سے زیادہ فرق نہیں رکھتے، ہم کہہ رہے ہیں حتیٰ زبان کے لحاظ سے، کیونکہ دونوں زبانیں مُشرّف بہ اسلام ہو جانے کے باعث ایک دوسرے سے اِس قدر قریب آ گئی ہیں کہ اِک ذرا سی کوشش سے فارس تُرک کی، اور تُرک فارس کی زبان فہم کر سکتا ہے، کیونکہ فرق الفاظ میں نہیں، فقط قواعد میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک جملہ پیش کر رہا ہوں:
فارس کہتا ہے: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تُرک کہتا ہے: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”

"Qövmiyyət bəhsinə gəlincə məlumdur ki, Rusiya əhalisinin bir qismi türklərdən ibarət olduğu kimi, İranın da bütün cəhəti-şimaliyyəsi, bilxassə Azərbaycan qitəsi türkdür.
İranın əyaləti-cənubiyyəsina gəlincə burada sakin olan farsların adət, əxlaq və hətta lisanca türklərdən o qədər fərqləri yoxdur, hətta lisanca diyoriz, çünki hər iki dil müsəlmanlaşdığı üçün bir-birlərina o qədər təqarrüb etmişdir ki, cüzi bir himmətlə fars türkün, türk farsın lisanını anlaya bilir, çünki fərq lüğətlərdə olmayıb ancaq qəvaiddədir. Misal üçün bir cümlə irad edəyim:
Fars deyir: İn cəridə ke əhle-Qafqas qeraət mikonəd, be lesane-torki mühərrir əst.
Türk deyir: Bu cəridə ki, əhli-Qafqas qiraət ediyor, lisani-türki üzrə mühərrirdir.”​


شاہ اسماعیل صفوی کا اپنی مادری زبان تُرکی میں نوشتہ ایک مکتوب

Şah İsmail Musa Doğurt türkcə məktubتاریخِ نوشتگی: ۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ/۲۳ مئی ۱۵۱۲ء
زمانہ: دورِ صفویہ
جائے حفاظت: توپ قاپی سرائے عجائب خانہ محفوظیات، شمارہ ۵۴۶۰
خطِّ کتابت: شکستہ نستعلیق

شاہ اسماعیل صفوی نے ۱۵۱۲ء میں اپنے ایک امیر احمد آقا قارامانلی کو ایک تُرکی مکتوب کے ساتھ تُورغُوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے موسیٰ بیگ کی جانب بھیج کر اناطولیہ میں قزلباشی تبلیغ کے لیے ایک کوشش کی تھی۔ یہ مکتوب تُرکی میں میں لکھا گیا تھا اور سلطان سلیم عثمانی کے تخت نشیں ہونے کے محض ایک ماہ بعد اِرسال کیا گیا تھا۔ اِس وثیقے (دستاویز) سے دیارِ آلِ عثمان، خصوصاً اناطولیہ میں قزلباشی مریدوں کے ایک وسیع شَبَکے (نیٹ ورک) کی موجودگی کا اِثبات ہوتا ہے۔ سَنَد میں شاہِ‌ قزلباش نے امارتِ آلِ قارامان سے تعلق رکھنے والے بزرگ ترین تُرکمن قبیلے بنی تورغوت کے رئیس کے سفیرِ قزلباش احمد آقا قارامانلی کے ساتھ ارتباط برقرار کرنے، اُس کے فرمانوں کی بجا آوری کرنے، نیز خطّے میں کی جانے والی اپنی سرگرمیوں کی تفصیلی اطلاع دینے کا تقاضا کیا ہے۔
اِس سَنَد کے بارے میں اولین معلومات شہاب الدین تکینداغ نے دی تھیں: "۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ (ستمبر ۱۵۱۲ء) کی تاریخ رکھنے والے اور امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغورت اوغلو کی طرف افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامانلی کے بھیجے جانے کی اطلاع دینے والے شاہ اسماعیل صفوی کے اِس فرمان میں ‘الحکم للہ ابوالمظفر اسماعیل بہادر سؤزوموز’ کی عبارت پر مشتمل طُغرے کے زیر میں دوازدہ اماموں کے ناموں والی مُہر موجود ہے۔”
فاروق سُومر کی دی گئی معلومات کے مطابق "بنی تورغوت نے قبیلۂ قارامان کی سرزمین کے عثمانیوں کے دست میں چلے جانے کے بعد بھی سیاسی قوّت کے طور پر اپنی موجودگی کو مزید کچھ عرصے جاری رکھا تھا۔” "دولتِ صفویہ کی تأسیس اور نشو و نما سے تعلق رکھنے والے ایک مأخذ میں، کہ جس کے مؤلف کا نام معلوم نہیں ہے، ۹۰۶ھ (۱۵۰۰ء-۱۵۰۱ء) میں ارزنجان میں صفوی شیخ اسماعیل کے حضور میں آنے والوں کے درمیان قارامانی مریدوں کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ اسماعیل نے شاہ ہونے کے بعد ۹۱۸ھ (۱۵۱۲) میں آلِ تورغوت کے موسیٰ بیگ کو بھیجے گئے اپنے ایک تُرکی مکتوب میں احمد آقا قارامانی کی خواہش کے مطابق اِقدام کرنے اور اُس کے ساتھ ہم خیالی و اتحاد کرنے کے علاوہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے فرمان تحریر کیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی موت کے پانچ سال بعد (۹۳۵ھ/۱۵۲۸-۲۹ء) شاہ طہماسب کے امیروں کے درمیان حسن سلطان تورغوت اوغلو کا نام مِلتا ہے۔ حسن سلطان نے طہماسب کے سفرِ خُراسان کے دوران اُس کی مصاحبت اختیار کی تھی۔ حسن سلطان کے علاوہ اُسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاسم علی بیگ بھی مذکورہ حُکمران کی خدمت میں موجود تھے۔ شہزادہ بایزید عثمانی کے ایک امیر پیر حُسین بیگ شاہزادے کے ہمراہ ایران گئے تھے اور وہیں رُک گئے تھے۔ صفوی خدمت میں اِن امیروں کے سوا کسی دیگر تورغوت بیگ کا نام نہیں مِلتا۔”
طوفان گوندوز نے [اپنی کتاب میں] شاہ اسماعیل کے موسیٰ تورغوت اوغلو کی طرف ۱۵۱۲ء میں بھیجے گئے اِس نامے کے ذریعے قارامان علاقے میں اپنے مُریدوں کی رہنمائی کرنے کی شاہ کی خواہش کو واضح کیا ہے۔ اِس مکتوب کے دو سال بعد دونوں تُرک سلطنتیں [صفوی و عثمانی] چالدران کے میدان میں بالمقابل آ گئیں۔

اصلی تحریر:
ابوالمظفر [اسماعیل بهادر] سوزومیز
امیر اعظم اکرم موسی دورغوت اغلی عنایت و شفقتمزه امیدوار اولندن صونکره شیله بیلسون کیم افتخار الاعاظم و الاعیان احمد اقا قرامانلو اول طرفه کوندردوک و اول یرنک اختیارلکنی کندونه شفقت ایتسونک کرک کیم مشارالیه سوزوندن و مصلحتندن چخمسون و متابعت و یاردم او انکا قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ایتمک مرادی و استکی اولسه حاصل دور. کوندن کونه هر ایش واقع بولسه احمد اقا اتفاقی ایله درکاه معلامزه بیلدورسونلر کیم هر نوع بویرغمز اولسه عمل ایتسون کونکلیمزه خوش دوتوب مرحمتمزه امیدوار السون. تحریراً ربیع الاول سنه ۹۱۸.

جدید املاء میں تحریر:
ابوالمظفّر اسماعیل باهادور سؤزوموز
امیرِ اعظمِ اکرم موسی دوُرغوت اوْغلو عنایت و شفقتیمیزه امیدوار اوْلاندان صوْنرا شؤیله بیلسون کیم إفتخار الاعاظم و الاعیان احمد آقا قارامانلو اوْل طرفه گؤندردوک و اوْل یئرین اختیارلیغینی کندینه (بیله‌سینه) شفقت ائتسون. گره‌ک کیم مُشارإلیه سؤزوندن و مصلحتیندن چخماسون و متابعت و یاردیم اوْ آنگا (اونا) قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ائتمک مرادی و ایسته‌گی اوْلسا حاصل‌دور. گوندن گونه هر ایش واقع بوُلسا احمد آقا اتفاقی ایله درگاهٔ معلّامیزا بیلدورسونلر کیم هر نوع بویروغوموز اوْلسا عمل ائتسون؛ کونلوموزه (کؤنلوموزو) خوْش دوتوب مرحمتیمیزه اومیدوار اوْلسون. تحریراً ربیع الاوّل سنه ۹۱۸.

لاطینی رسم الخط میں تحریر:
«[1] [Əl-hükmü Billâh] Əbu’l-Müzəffər [İsmâ’il Bahadur] SÖZÜMİZ (Tuğra):
[2] Əmir-i ə’zəm-i əkrəm Mûsâ Durğut oğlı ‘inâyət və şəfqətimizə
[3] ümîdvâr olandan son͡gra şöylə bilsün kim iftixârü’l-ə’âzim
[4] və’l-ə’yân Əhməd Âqa Qaramanlu ol tərəfə göndərdük və ol yerin͡g ixtiyârligini kəndünə şəfqət etsün͡g.
[5] Gərək kim müşârüniləyh sözündən və məsləhətindən çıxmasun və mütâbə’ət və yardım o an͡ga (ona) qılsun kim inşâallâh
[6] tə’âlâ hər nə kim etmək murâdı və istəgi olsa hâsildür. Gündən-günə hər iş vâqe’ bulsa
[7] Əhməd Âqa ittifâqı ilə dərgâh-ı mu’əllâmıza bildürsünlər kim, hər nəv’ buyruğumuz olsa ‘əməl etsün; kön͡glümüzü xoş dutup, mərhəmətimizə ümîdvâr olsun. Təhrîrən [fî] 7 Rəbî’u’l-əvvəl sənə 918»

اردو ترجمہ:
ابوالمظفر [اسماعیل بہادر] ہمارا فرمان (طُغرا)
[الحکم باللہ]
امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغوت اوغلو ہماری عنایت و شفت کا امیدوار ہونے کے بعد یہ جان لے کہ ہم نے افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامنلی کو اُس طرف بھیجا ہے اور وہ جو فیصلہ منتخَب کرے اُس کی بجا آوری ہونی چاہیے۔ لازم ہے کہ ہر چیز میں مُشارٌ اِلَیہ کے حُکم و صوابدید کی متابعت اور مدد کی جائے تاکہ ان شاء اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی اُس کی مراد و آرزو ہو، وہ حاصل ہو جائے۔ روزانہ کے جو بھی واقعات ہوں، احمد آقا کی ہمکاری و اتفاق کے ساتھ اُن سے ہماری درگاہِ مُعلّیٰ کو مطّلع کیا جائے، تاکہ ہمارا جو بھی فرمان ہو اُس پر عمل ہو جائے؛ اور پس ہمارا دل شاد ہو جائے اور وہ ہماری مہربانی کے امیدوار ہو جائیں۔ تحریراً [فی] ربیع الاول سنہ ۹۱۸.

تُرکی مضمون کا مأخذ
اردو مترجم: حسّان خان


مُلّا نصرالدین اور فارسی زبان

امروز یہ پُرمزاح حکایت ترکی زبان میں پڑھنے کو ملی:

ملّا نصرالدین ایک گفتگو میں شامل ہوا۔ یہاں وہاں کی اور آب و ہوا کی باتیں ہونے لگیں۔ گفتگو کے دوران وہاں موجود ایک شخص نے اُس سے کہا:
"خواجۂ من، آپ کی خواجگی پر ہمیں کوئی کلام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آپ فارسی نہیں جانتے! اِسی باعث مسجد میں دیے جانے والے آپ کے وعظ اِس قدر پُرکیف و پُرلذت نہیں ہوتے!"
جب دیگر افراد بھی اِن سخنوں کی تائید کرنے لگے تو ملّا نے پوچھا:
"آپ نے کیسے فیصلہ کر لیا کہ میں فارسی نہیں جانتا؟”
وہاں موجود مردم نے کہا:
"اگر جانتے ہیں تو کوئی فارسی بیت سنائیے!”
ملّا نے فوراً یہ دو سطریں پڑھیں:
"Mor menekşe boynun eğmiş uyurest
Kafir soğan kat kat urba giyirest!”
(بنفشی گُلِ بنفشہ کی گردن خمیدہ ہے اور وہ سویا ہوا ہے؛ کافر پیاز نے تہ بہ تہ جامہ پہنا ہوا ہے۔)
جب ملّا یہ شعر سنا چکا تو سامعین نے اعتراضں کرتے ہوئے پوچھا:
"خواجہ، اِس میں فارسی کہاں ہے؟”
ملّا نے ہنستے ہوئے یہ جواب دیا:
"آخر میں آپ کو ‘است’ نظر نہیں آ رہے؟”

ماخذ

× ملّا کا پورا شعر ترکی میں ہے، صرف دونوں مصرعوں کے آخر میں ‘است’ فارسی کا ہے۔
× بَنَفشی = وائلٹ


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


اعتراف

عموماً‌ لوگ سب سے زیادہ اپنی مادری زبان سے محبت کرتے ہیں، لیکن میں اپنی مادری زبان کی بجائے زبانِ فارسی سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام روحانی، ادبی، شناختی، ثقافتی اور تمدنی تمنّائیں اور ضروریات ہر زبان سے بیشتر فارسی ہی کے توسط سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں اِس شہد سے شیریں زبان کو عزیز از جان رکھتا ہوں اور اس کی ترویج کے لیے شب و روز کوشاں ہوں۔ اگر صاف صاف کہوں تو اردو میری مادری زبان صرف ایک حادثۂ ولادت کے باعث ہے، ورنہ میں تو اپنی حقیقی قلبی زبان فارسی کو تصور کرتا ہوں اور میرے اختیار میں ہوتا تو میں کسی فارسی گو خانوادے میں پیدا ہونا اپنے لیے منتخب کرتا اور اِسے باعثِ صد افتخار و نازش جانتا۔
"طرزِ گفتارِ دری شیرین‌تر است”
(علامہ اقبال)

پس نوشت: مجھے کلاسیکی اردو اور کلاسیکی ترکی فقط اس لیے عزیز ہیں کہ یہ دو زبانیں براہِ راست فارسی زبان و ادب کی پروردہ زبانیں ہیں اور اپنے عالمِ طفولیت سے زمانۂ شباب تک یہ دو زبانیں اپنی رضاعی مادر فارسی کے زیرِ سایہ نشو و نما پاتی اور اپنی رہنمائی کے لیے ہمیشہ فارسی کی جانب نگاہ کرتی رہی ہیں۔ جبکہ عربی زبان مجھے اس لیے عزیز ہے کہ فارسی زبان و ادب کے ساتھ اس کا ہزار سالہ قریبی تعلق ہے اور عربی کی واقفیت سے فارسی دانی کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ مسلّم حقیقت ہے کہ فارسی پر عربی سے بیشتر کوئی اور زبان اثر انداز نہیں ہوئی ہے، بلکہ فارسیِ دری کی بنیاد ہی عربی کے زیرِ اثر رکھی گئی تھی۔