تُرکیہ میں رسم الخط کی تبدیلی کے باعث مسائل

"رسم الخط کے تبدیل ہو جانے پر ہم ایک دیگر مسئلے سے دوچار ہو گئے۔ ہماری تمام ثقافت ماضی میں رہ گئی۔ ہم ایسی صورتِ حال میں آ گئے کہ اپنی ثقافت تک پہنچ پانا ناممکن ہو گیا۔ یہ تا حال ہمارے لیے ایک کبیر مسئلہ ہے۔ نئی نسل ۵۰-۶۰ سال قبل لِکھی گئی حکایت، ناول، یا تحریر کو سمجھنے میں بھی مشکل محسوس کرتی ہے اور مُعاصر زبان میں ترجمے کی خواہش کرتی ہے۔ یہ ایک بدبختی ہے۔ دُنیا میں ایسی کوئی ثقافت نہیں ہے۔ کسی ثقافت سے منسوب شخص اگر ۶۰-۷۰ سال قبل لکھا گیا متن بھی خوان (پڑھ) کر نہ سمجھ سکتا ہو، تو اُس ثقافت کے لیے اپنے تسلسُل کو جاری رکھ پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اِس [صورتِ حال] کو درست کرنا ہمارے لیے لازم ہے۔”
(تُرکِیَوی تاریخ شِناس «محمد گنچ»)

"Alfabe değişince de başka bir problemle karşılaştık. Bütün kültürümüz geçmişte kalmış oldu. Kültürümüze ulaşamaz hale geldik. Bu, hala bizim için büyük bir problem olmaya devam ediyor. 50-60 yıl evvel yazılmış olan bir hikayeyi, romanı, yazıyı anlamakta zorluk çeken, bugünkü dile çevirmek isteyen bir kuşak var. Bu bir felakettir. Dünyada böyle bir kültür yok. Bir kültürün mensubu 60-70 yıl önce yazılan bir metni okuyup anlayamıyorsa, o kültürde sürekliliği devam ettirmenin imkanı olmaz. Bunu düzeltmemiz lazım.”
(Mehmet Genç)

مأخذ

Advertisements

مرزا غالب اپنے دادا کی زبان تُرکی نہیں جانتے تھے

میرزا غالب اپنی کتاب «دِرَفشِ کاویانی» میں فرہنگِ «بُرہانِ قاطع» کے مؤلّف محمد حُسین بن خلَف تبریزی پر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

"…در عهد سلطنت شاه عالَم نیای من از سمرقند به هندوستان آمد. آنانکه خان خُجسته‌گُهر را دیده‌اند می‌گفتند که همه گفتار خان تُرکی بود و هندی نمی‌دانست مگر اندکی. اینک منم که حرف تهجی تُرکی نیز نمی‌دانم، تا به سُخن گفتن چه رسد. من که، پدر پدر من از مرزبان‌زادگان کِشوَر ماوراءالنهر و از نازپروَردگان سمرقند شهر باشد، تُرکی ندانم. و مولوی دکنی که مولد پدر یا نیای او به تبریز باشد و او در هند متولّد گردد زبان فارسی چگونه تواند دانست؟”

"۔۔۔شاہ عالَم کی سلطنت کے عہد میں میرے دادا سمرقند سے ہندوستان آئے۔ جو اشخاص خانِ خُجستہ نژاد کو دیکھ چکے ہیں کہتے تھے کہ خان کی کُل گُفتار تُرکی تھی اور وہ ہندی نہیں جانتے تھے اِلّا ذرا سی۔ اور اب میں ہوں کہ حَرفِ تہجّیِ تُرکی بھی نہیں جانتا، چہ جائیکہ تُرکی بول سکوں۔ میں کہ، میرے داد مُلکِ ماوراءالنہر کے سرحدبان زادوں میں سے اور شہرِ سمرقند کے ناز پروَردگاں میں سے تھے، تُرکی نہیں جانتا۔ تو پھر مولوی دکَنی، کہ جس کے پدر یا دادا کا مَولِد تبریز ہے اور خود وہ ہند میں مُتولّد ہوا ہے، زبانِ فارسی کیسے جان سکتا ہے؟”


"ہم تُرکستانیوں کے لیے تُرکی و فارسی جاننا لازم ہے” – خواجہ محمود بہبودی

ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) نے تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے اپنے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) کا آغاز اِن الفاظ کے ساتھ کیا تھا:

"بیز تورکستان‌لی‌لرغه تورکی، فارسی، عربی، و روسی بیلماق لازم‌دور، تورکی، یعنی اۉزبېکی‌نی سببی شول که، تورکستان خلقی‌نینگ اکثری اۉزبکی سۉیله‌شور. فارسی بۉلسه، مدرَسه و اُدَبا تیلی‌دور. بوکون‌غه‌چه تورکستان‌نی هر طرفینداگی اېسکی و ینگی مکتب‌لرینده فارسی نظم و نثر کتاب‌لری تعلیم بېریلیب کېلگن‌دور.
برچه مدرَسه‌لرده شرعی و دینی کتاب‌لر عربی تعلیم بېریلسه هم، مُدرِّس‌لرنی تقریر و ترجمه‌لری فارسچه‌دور. بو قاعدہ، یعنی درس کتابی – عربی، مُعلِّم – تورکی، تقریر و ترجمه‌نی فارسی‌لیگی خیله عجیب‌دور.”

"ہم تُرکستانیوں کو تُرکی، فارسی، عرَبی اور رُوسی جاننا لازم ہے۔ تُرکی، یعنی اُزبَکی کا سبب یہ کہ مردُمِ تُرکستان کی اکثریت اُزبکی بولتی ہے۔ جبکہ فارسی اِس لیے کیونکہ یہ مدرَسے اور اُدباء کی زبان ہے۔ تا اِمروز تُرکستان میں ہر طرف قدیم و جدید مکتبوں میں فارسی نظم و نثر کی کتابیں تعلیم و تدریس ہوتی آئی ہیں۔
خواہ تمام مدرَسوں میں شرعی اور دینی کتابیں عربی میں تعلیم دی جائیں، لیکن مُدرِّسوں کی خط و کتابت اور ترجمے فارسی میں ہوتے ہیں۔ یہ قاعدہ، یعنی درسی کتاب: عربی، مُعلّم: تُرکی، خط کتابت و ترجمہ: فارسی، خیلے حیرت انگیز ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Biz turkistoniylarg‘a turkiy, forsiy, arabiy va rusiy bilmoq lozimdur. Turkiy, ya’ni o‘zbekini sababi shulki, Turkiston xalqining aksari o‘zbakiy so‘ylashur. Forsiy bo‘lsa, madrasa va udabo tilidur. Bukung‘acha Turkistonni har tarafindagi eski va yangi maktablarinda forsiy nazm va nasr kitoblari ta’lim berilib kelgandur.
Barcha madrasalarda shar’iy va diniy kitoblar arabiy ta’lim berilsa ham, mudarrislarni taqriru tarjimalari forschadur. Bu qoida, ya’ni dars kitobi —arabiy, muallim — turkiy, taqriru tarjimani forsiyligi xila ajibdur.”


ڈیڑھ سو سال قبل ماوراءالنہر و تُرکستان کی لسانی صورتِ حال

"تاجِکان فارسی کا ایک زبانچہ بولتے ہیں، جو اطراف کے تُرکی زبانچوں سے بِسیار زیادہ مُتاثر ہے، اور جس نے کئی تُرکی الفاظ قبول کر لیے ہیں۔ مع ہٰذا، اِس زبانچے میں ایسے کئی آریائی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں جو جدید فارسی میں استعمال نہیں ہوتے، اور یہ چیز اِن خِطّوں میں اِس [تاجک] نسل کے طویل دوام کا ایک ثبوت ہے۔ اُزبکوں کی قلیل تعداد [ہی] ‘تاجِک’ بولتی ہے، لیکن بیشتر تاجِکان تُرکی بولتے ہیں، جو اُزبکوں کی زبان ہے۔ تُرکی کا جو زبانچہ یہاں بولا جاتا ہے وہ چند یورپی عالِموں میں جَغَتائی کے نام سے معروف ہے، اگرچہ وسطی ایشیا میں اب چند افراد ہی یہ نام جانتے ہیں۔ اگر کسی مقامی شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی زبان بولتا ہے تو وہ جواب میں یا تو یہ کہے گا کہ "میں تُرکی بولتا ہوں”، یا پھر کہے گا "اُزبک زبان”۔ میرا ماننا ہے کہ اِس زبانچے کو جَغَتائی کا نام فارْسوں نے دیا تھا کیونکہ ایشیا کے اِس خِطّے کے اُزبک قبائل فارسی تاریخ نویسوں میں ‘مردُمِ جَغَتائی’ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور یہ چنگیز خان کے پِسر کا نام تھا جس کو یہ خِطّہ سونپا گیا تھا۔ چونکہ بیشتر تاجِکان، بجُز اُن ضِلعوں میں جہاں صرف وہ ہی مُقیم ہیں، تُرکی بولتے ہیں، لہٰذا اِس زبان کے ساتھ وسطی ایشیا میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ لیکن در عینِ حال، ‘تاجِک’ نزاکت و ثقافت کی زبان ہے، جس میں بیشتر تحریریں اور تمام سرکاری و رسمی دستاویزات لِکھی جاتی ہیں۔”

(تُرکستان: رُوسی تُرکستان، خوقند، بُخارا اور قولجہ میں سفر کی یادداشتیں، جلدِ اوّل، صفحہ ۱۰۹، یُوجین شُوئلر، ۱۸۷۶ء)

مُترْجِم: حسّان خان

× ‘تاجِک’ سے ماوراءالنہری فارسی مُراد ہے، جبکہ ‘جدید فارسی’ مُصنِّف نے جدید ایرانی فارسی کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

× کتاب کا انگریزی نام:
Turkistan: Notes of a Journey in Russian Turkistan, Khokand, Bukhara, and Kuldja – Eugene Schuyler


"ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے”

ماوراءالنہری مُفکِّر و ادیب «محمود خواجه بهبودی» (وفات: ۱۹۱۹ء) تُرکستان سے جاری ہونے والے مجلّے «آینه» میں ۱۹۱۳ء میں لکھے گئے مقالے «ایککی اېمس، تۉرت تیل لازم» (دو نہیں، چار زبانیں لازم ہیں) میں ایک جا لکھتے ہیں:

"تُرکستان‌نینگ سمرقند و فرغانه ولایت‌لرینده فارسچه سۉیله‌تورگن بیر نېچه شهر و قیشلاق‌لر باردور. بُخارا حکومتی‌نینگ تیلی فارسی‌دور. فارس شاعر و اُدَباسی اثرلری قیامت‌غه‌چه لذّتی کېتمه‌یتورگن خزینهٔ معنوی‌دور که، موندان فایده‌لنماق اوچون آوروپایی‌لر میلیه‌ردلر صرف اېترلر.
بیزغه سعادت‌دور که، تورکی و فارسی‌نی تحصیل‌سیز بیلورمیز. هر تورک‌نی فارسی و هر فارس‌نی تورکی بیلماغی لازم‌دور.
فارسی بیلگن کیشی فردوسی، بېدل، سعدی، «مثنوی»دن قنده‌ی لذّت آلسا، تورکی بیلگن‌لر فضولی، نوایی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم‌بېک، سنایی، نابی، ناجی‌لردن، ینه تالستۉی، جول ورن و عُلَمایِ زمانی اثرینی تورکی ترجمه‌سی‌دن لذّت شونده‌ی آله‌دور.”

ترجمہ:
"تُرکستان کی سمرقند و فرغانہ ولایتوں میں فارسی بولنے والے کئی ایک شہر اور قریے موجود ہیں۔ حکومتِ بُخارا کی زبان فارسی ہے۔ فارسی شاعروں اور ادیبوں کی تألیفات ایسا خزینۂ معنوی (روحانی) ہیں کہ جس کی لذت قیامت تک نہ جائے گی، اور جس سے فائدہ یاب ہونے کے لیے اہلِ یورپ اربوں خرچ کرتے ہیں۔
ہمارے لیے سعادت ہے کہ ہم تُرکی و فارسی کو تحصیلِ علم کے بغیر ہی جانتے ہیں۔ ہر تُرک کے لیے فارسی اور ہر فارس کے لیے تُرکی جاننا لازم ہے۔
فارسی جاننے والا شخص جس طرح فردوسی، بیدل، سعدی، مثنویِ معنوی سے لذّت لیتا ہے، تُرکی جاننے والے اشخاص [بھی] اُسی طرح فضولی، نوائی، باقی، سامی، عبدالحق حامد، اکرم بیگ، سنائی، نابی، ناجی وغیرہ سے، نیز تالستوی، جُول وَرْن، اور عُلمائے عصر کی تألیفات کے تُرکی ترجمے سے لذّت لیتے ہیں۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Turkistonning Samarqand va Farg’ona viloyatlarinda forscha so’ylayturgan bir necha shahar va qishloqlar bordur. Buxoro hukumatining tili forsiydur. Fors shoiru udabosi asarlari qiyomatg’acha lazzati ketmayturgan xazinai ma’naviydurki, mundan foydalanmoq uchun ovrupoyilar milyardlar sarf etarlar.
Bizg’a saodatdurki, turkiy va forsiyni tahsilsiz bilurmiz. Har turkni forsiy va har forsni turkiy bilmog’i lozimdur.
Forsiy bilgan kishi Firdavsiy, Bedil, Sa’diy, «Masnaviy»dan qanday lazzat olsa, turkiy bilganlar Fuzuliy, Navoiy, Boqiy, Somiy, Abdulhaq Homid, Akrambek, Sanoyi, Nobiy, Nojiylardan, yana Tolsto’y, Jul Vern va ulamoi zamoniy asarini turkiy tarjimasidan lazzat shunday oladur.


"میں نے عربی، تُرکی و فارسی میں شاعری کی” – محمد فضولی بغدادی

امیرِ شعرِ تُرکی «محمدِ فُضولی بغدادی» اپنے دیوانِ فارسی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

"گاهی به اشعار عربی پرداختم و فصحای عرب را به فنون تازی فی‌الجمله محظوظ ساختم. و آن بر من آسان نمود، زیرا زبان مباحثهٔ علمی من بود. و گاهی در میدان ترکی سمند طبیعت دواندم و ظریفان ترک را به لطافت گفتار ترکی تمتّعی رسانیدم. آن نیز چندان تشویشم نداد. چون به سلیقهٔ اصلی من موافق افتاد. و گاهی به رشتهٔ عبارت فارسی گهر کشیدم و از آن شاخسار، میوهٔ کام دل چیدم.”

ترجمہ:
"گاہے میں عربی شعر گوئی میں مشغول ہوا، اور خُلاصۂ کلام یہ کہ میں نے فُصَحائے عرب کو مُختلف فنونِ عربی سے محظوظ کیا۔ اور یہ میرے لیے آسان رہا، کیونکہ [عربی] میرے علمی مباحث کی زبان تھی۔ اور گاہے میں نے میدانِ تُرکی میں اسپِ طبیعت دوڑایا اور ظریفانِ تُرک کو گُفتارِ تُرکی کی لطافت سے مُتَمتّع کیا۔ اُس نے بھی مجھ کو زیادہ پریشانی نہ دی۔ چونکہ [تُرکی شاعری] میرے ذوقِ اصلی کے موافق واقع ہوئی۔ اور گاہے میں نے رِشتۂ عبارتِ فارسی میں گُوہر پِروئے اور اُس شاخسار سے میوۂ مُرادِ دل چُنا۔”


تُرکی میں اسماء کی جمع بنانے کا طریقہ

تُرکی میں مُفرَد اسماء کو جمع میں تبدیل کرنے کے لیے دوشکلی لاحقہ ‘لر/لار’ استعمال ہوتا ہے۔ جن اِسموں کا آخری مُصوّت (ووول) دہن کے اگلے حصّے سے نکلتا ہو (ə, e, i, ö, ü)، اُن کو جمع کی حالت میں لانے کے لیے ‘لر’ استعمال ہو گا، جبکہ جن اِسموں کا آخری مصوّت دہن کے عقبی حصّے سے نکلتا ہو (a, ı, o, u)، اُن کے لیے ‘لار’ کو بروئے کار لایا جائے گا۔ مثالیں دے کر واضح کرتا ہوں:

قلم/qələm -> قلم‌لر/qələmlər
ائو/ev -> ائولر/evlər (ائو = خانہ، گھر، مکان)
مسجید/məscid -> مسجیدلر/məscidlər (مسجید = مسجد)
گؤز/göz -> گؤزلر/gözlər (گؤز = چشم، آنکھ)
گۆن/gün -> گۆن‌لر/günlər (گۆن = روز، دن، یوم)

کیتاب/kitab -> کیتاب‌لار/kitablar (کیتاب = کتاب)
قاپې/qapı -> قاپې‌لار/qapılar (قاپې = در، دروازہ)
دۏست/dost -> دۏست‌لار/dostlar
سۏرو/soru -> سۏرو‌لار/sorular (سۏرو = سوال)