کیا «تُرک» کوئی «نسل» ہے؟ جواب: قطعاً نہیں!

ہم میں ایک کبیر غلط فہمی یہ ہے کہ ہم «تُرک» کو ایک نسل و نژاد سمجھتے ہیں اور «تُرکوں» اور «تُرکی» کو بیسویں صدی میں وجود میں آنے والی ریاست «تُرکیہ» تک محدود سمجھتے ہیں۔ اور جب «تُرک» کا لفظ سنائی دیتا ہے تو ہمارے ذہن میں اناطولیہ اور مغربی تُرکیہ کے افراد کی شکل و صورت والے تُرکان آتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت بالکل مُختلف ہے۔ تُرکیہ کے بیشتر تُرکان مُترّک ہیں، اور یونانیوں، البانویوں، بوسنیائیوں، بلغاریوں، سلاووں، ارمنیوں، گُرجیوں، چرکَسوں، لازوں، کُردوں، شامیوں وغیرہ کی مسلمان و تُرک شدہ اولاد ہیں، جن سے اسلامی تُرک فتوحات کے زمانے میں وسطی ایشیائی تُرک مہاجرین مُختلِط ہوتے رہے۔ ویسے ہی جیسے دیارِ شام کے بیشتر مسلمان عرب بھی قدیم یونانیوں، سریانیوں، فینیقیوں، کنعانیوں اور بلقانی مہاجروں وغیرہ کی مسلمان و عرب شدہ اولاد ہیں۔ «تُرک» کوئی نسل نہیں ہے۔ عراق کے تُرکی گو تُرکان بالکل عراقی عربوں اور عراقی کُردوں جیسے نظر آتے ہیں، اور عراقی عربوں جیسی ہی طرزِ بود و باش اور طرزِ ملبوسات رکھتے ہیں۔ حالانکہ اُن کی زبان بالکل تُرکیہ کے مردُم جیسی ہے اور وہ بھی اناطولیائی تُرکوں کی مانند عُثمانی شہری رہ چکے ہیں۔ ‘«تُرکوں» کے درمیان تاریخی طور پر مشترک چیز تُرکی زبان، اور تُرک ہونے کا احساس ہے، نسل یا اجداد نہیں۔ ویسے بھی «نسل» نامی کسی شَے کا، خصوصاً کسی «خالص نسل» یا «برتر و عالی نسل» کا کوئی حقیقی اور معروضی وجود نہیں ہے۔ ہر شخص ہی مختلف قوموں اور مختلف طرح کے افراد کی طویل آمیزش کا نتیجہ ہے۔
تُرک کوئی یکساں تاریخی تجربات رکھنے والی واحد لسانی «مِلّت» بھی نہیں رہے ہیں، ورنہ آذربائجان اور تُرکیہ کے مردُم یکساں زبان رکھنے کے باوجود تین مختلف مُلکوں اور مِلّتوں میں مُنقسِم نہ ہوتے اور صفوی و عُثمانی سلطنتیں بنا کر صدیوں تک مُتحارِب حالت میں نہ رہتے۔ ہر خِطّے کے تُرکان اپنے مخصوص تاریخی تجربات کے مالک ہیں۔ فی زمانِنا، تُرکیہ اور مشرقی تُرکستان کے تُرکان اُسی طرح مُعاشرتی و ثقافتی لحاظ سے باہمی طور پر مختلف ہیں، جس طرح مراکش اور عراق کے عرب۔
اسلام سے قبل کے اصل قدیم تُرکان حالیہ منگولستان اور مشرقی تُرکستان کے اطراف کے مناطق کے تھے، اور اُن کی شکل و صورت منگولوں جیسی تھی۔ کلاسیکی فارسی و عربی ادبیات اور تاریخی کتابوں میں تُرکوں کو ہمیشہ چینیوں اور منگولوں جیسی ہیئتِ ظاہری والا دِکھایا گیا ہے۔ مثلاً قبل از اسلام دور کے تُرک خاقان «کول‌تیگین» کے چہرے کا مجسمہ دیکھیے:
تصویرِ اول
تصویرِ دوم
تصویرِ سوم
تصویرِ چہارم
اِس تُرک خاقان کی سلطنت حالیہ منگولستان میں تھی۔ آج کا کون سا اناطولیائی «تُرک» اِس جیسا نظر آتا ہے؟ قِرغِزوں، قزاقوں اور اُویغوروں نے قدیم تُرکوں کی شکل و صورت کو کافی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ باقی دیگر تُرکان جہاں جہاں جوق در جوق ہجرت کرتے رہے، مقامی آبادی میں ازدواجی پیوند قائم کر کے نسلی طور پر ضم ہوتے رہے۔ لہٰذا ایران کے حالیہ تُرکان (جو کثیر تعداد میں ہجرت کرنے والے تُرکوں اور مقامی ایرانیوں کے اختلاط کے نتیجے میں وجود میں آئے) ایرانیوں جیسے، پاکستان کے تُرک الاصل افراد پاکستانیوں جیسے، دیارِ عرب کے تُرکان عربوں جیسے، ماوراءالنہر کے تُرکانِ اُزبک تاجِکوں جیسے، اور اناطولیہ (دیارِ رُوم) کے تُرکان اناطولیائی، مشرقِ وسطائی اور بلقانی مردُم اور قوموں جیسے نظر آتے ہیں۔ جب عثمانی خلافت کے دست سے بلقانی اور قفقازی خِطّے نکل رہے تھے تو وہاں سے تقریباً ستر لاکھ سے زیادہ مسلمان عثمانی رعیت «دارِ کُفر» کو چھوڑ کر باقی ماندہ «دارِ اسلام» یعنی اناطولیہ اور بلادِ شام کی جانب ہجرت کر گئی تھی۔ آج کے تُرکیہ کی تقریباً ایک تہائی سے زیادہ آبادی اِن مہاجروں کی تُرک شدہ اولاد ہے۔ اِس لیے وہاں کے اکثر مردُم کا جسمانی قیافہ و خد و خال دیگر دیاروں کے تُرکوں سے مختلف ہے۔ تُرکیہ میں بیشتر کُردوں کے بجز دیگر تمام مسلمان اقوام اناطولیائی تُرکی زبان و ثقافت و شناخت اپنا کر «تُرک» ہو چکی ہیں۔
بدقسمتی سے اِس زمانے میں کثرتِ آبادی اور کثرتِ قوّت و وقار کی وجہ سے «تُرک» اور «تُرکیّت» کا معیار تُرکیہ بن گیا ہے۔ اِس لیے ہمارے ذہنوں میں وہاں کے مردُم ہی تُرک کے طور پر بیٹھ گئے ہیں۔ اِس غلط فہمی کو ختم اور دُور کرنا میری نظر میں ضروری ہے۔

Advertisements

محمود بن حسین بن محمد کاشغری کے بقول تُرکی سیکھنے کا ایک دینی سبب

قرنِ یازدہُمِ عیسوی کے ادیب محمود بن حُسین بن محمد کاشغری نے ۴۶۶ ہجری میں عربی زبان میں ‘دیوان لغات الترک’ کے نام سے ایک پُرحجم کتاب لکھی تھی، جو بنیادی طور پر اُس زمانے کی تُرکی (جس کو اب قاراخانی تُرکی کے نام سے جانا جاتا ہے) کی فرہنگ تھی اور اِس کتاب کو لکھنے سے اُن کا مقصود بغداد کے عبّاسی خُلَفاء اور عربی خواں مسلم علمی حلقوں کو تُرکی زبان و لہجوں و محاورات و اشعار و ثقافت و رسومات سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ کتاب پس از اسلام دور میں کسی تُرک کی جانب سے لکھی جانے والی اوّلین کتاب ہے۔ علاوہ بریں، پس اسلامی دور میں تُرکی زبان کے گُفتاری و نیم ادبی نمونے سب سے قبل اِسی کتاب میں ثبت ہوئے ہیں، لہٰذا ماہرینِ تُرک شناسی و زبان شناسی کے لیے یہ کتاب ایک معدنِ زر سے کم نہیں ہے، اور دیر زمانے سے یہ کتاب اُن کی تحقیقوں کا محور ہے۔ یہ کتاب اُس دور سے تعلق رکھتی ہے کہ جب حالیہ اُزبکستان، تُرکمنستان، آذربائجان اور تُرکیہ میں ہنوز تُرک قبائل کے جوق در جوق کُوچ اور کِشوَر کُشائی کا آغاز نہ ہوا تھا۔

بہر حال، محمود کاشغری اپنی کتاب کے پیش گُفتار میں حمد و ثنا و صلوات اور تُرکوں کی سِتائش کے بعد لکھتے ہیں:

"ولقد سمعت عن ثقة من أئمة بخارا وإمام آخر من اهل نیسابور کلاهما رویا باسناد لهما عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه لما ذکر أشراط الساعة وفتن آخر الزمان وخروج الترك الغُزّيّة فقال «تعلموا لسان الترك فأنَّ لهم ملكا طوالا» فالرواية برفع الطاء. فلئن صحَّ هذا الحديث والعهدة عليهما فيكون تعلمه واجباً ولئن لم يصح فالعقل يقتضيه.”

"سوگند یاد می‌کنم که من از یکی از امامان ثقه‌ی بخارا و نیز از یکی از امامان اهل نیشابور شنیدم، و هر دو با سلسله‌ی سند روایت کنند که پیامبر ما چون نشانه‌های رستاخیز و فتنه‌های آخرالزمان و نیز خروج ترکان اوغوز را بیان داشت، چنین فرمود: «زبان ترکی را بیاموزید، زیرا که آنان را فرمانروایی دراز آهنگ در پیش است».
اگر این حدیث صحیح باشد – بر عهده‌ی آن راویان – پس آموختن زبان ترکی کاری بس واجب است و اگر هم درست نباشد، خرد اقتضاء می‌کند که [مردم] فراگیرند.”
(فارسی ترجمہ: حُسین محمدزاده صدیق)

"یقیناً میں نے بُخارا کے ایک ثقہ امام سے، اور اہلِ نیشابور کے ایک امام سے سنا ہے، اور دونوں سلسلۂ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیه وسلم جب قیامت کی نشانیوں، آخرِ زماں کے فتنوں اور اوغوز تُرکوں کے خروج کو بیان کر رہے تھے تو اُنہوں نے یہ فرمایا: "تُرکوں کی زبان سیکھو، کیونکہ اُن کی فرماں روائی طویل ہو گی۔”
اگر یہ حدیث صحیح ہو – اور اِس کا ذمّہ اُن راویوں پر ہے – تو پس زبانِ تُرکی کو سیکھنا ایک کارِ واجب ہے، اور اگر درست نہ ہو تب بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ مردُم اِس کو سیکھیں۔”

(یاد دہانی: اِس مُراسلے کو ارسال کرنے کا مقصد اِس حدیث کی صحت و سقم پر یا اِس اقتباس کی دینی اَبعاد پر بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کو صرف اِس لیے ارسال کیا گیا ہے کیونکہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ کو یہ سطور جالبِ توجُّہ محسوس ہوئیں، اور میرے دل میں آیا کہ اِن کو دیگروں کی نظروں میں بھی لانا چاہیے۔ اِسی بہانے محمود کاشغری اور اُن کی بِسیار اہم کتاب کا مختصر تعارف بھی ہو جائے گا۔)


عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔


میں نے تُرکی کیوں سیکھی؟

دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے تعلق رکھنے والے دوست ارسلان بای، جن کی مادری زبان دیگر آذربائجانیوں اور تبریزیوں کی طرح تُرکی ہے، نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا:

سوال:
حسان بئی، سن نئجه آذربایجان تۆرکجه‌سینه علاقه تاپدېن و بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین؟
من بیلمه‌دیم سن نه‌دن مین‌لرجه دیل آراسېندان آذربایجان تۆرکجه‌سینی اؤیرنمک اۆچۆن سئچدین! هانسې کتاب‌لارې اۏخوماقلا بو دیلی آذربایجان تۆرک‌لریندن داها یاخشې اؤیره‌نه‌بیلدین
تۆرکجه‌یه بو سئوگین هارادان گلیر؟
ترجمہ:
آقائے حسان، آذربائجانی تُرکی میں تمہاری دلچسپی کس طرح پیدا ہوئی، اور اِس زبان کو تم کس طرح آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
میں سمجھ نہیں پایا کہ ہزاروں زبانوں کے درمیان تم نے سیکھنے کے لیے آذربائجانی تُرکی [ہی] کو کس وجہ سے مُنتخَب کیا! کن کتابوں کا مطالعہ کر کے تم اِس زبان کو آذربائجانی تُرکوں سے خوب تر سیکھ پائے ہو؟
تُرکی زبان سے تمہاری یہ محبّت کس سبب سے ہے؟

جواب:
سلام علیکم!
اجازه دهید که پاسخم را به فارسی بنویسم، چون ترکی‌ام آن قدر هم خوب نیست که بتوانم جواب‌های طولانی را به راحتی به ترکی بنویسم.
من به شعر و شاعری علاقه‌ی وافری داشتم، و مذهب تشیع و کشور ایران نیز برایم جالب توجه بوده… ما پاکستانیان زبان فارسی را دوست داریم، چون مشاهده کرده‌اید که اردو خیلی به فارسی قرابت دارد. تقریبا‌ً ده سال پیش من از طریق انترنت یاد گرفتن فارسی را آغاز کردم، چون می‌خواستم که بتوانم شعر و کتب فارسی را بدون ترجمه بخوانم. در آن زمان من در بارهٔ آذربایجان و ترکان آذربایجان و زبان ترکی هیچ چیزی نمی‌دانستم… من گمان می‌کردم که در ایران هر کسی به فارسی صحبت می‌کند و زبان ترکی محدود به ترکیه است. روزی یک دوست انترنتی‌ام، که اسپانیایی بود و فارسی و ترکی هر دو را بلد بود، نشان داد که تا چه حدی ترکی کلاسیک ممزوج به فارسی بوده و شعر ترکی هم مثل شعر فارسی دارای لطافت و ظرافت و زیبایی خارق العاده بوده… به محض دیدن این، شوق زبان ترکی به شدت دامنم گرفت و تمایلی شدید به یاد گرفتن ترکی پیدا کردم… لذا شروع به یادگیری زبان ترکی هم کردم…. آن گاه من مطلع شدم که ترکی در ایران هم گویشوران زیادی دارد، و حتّیٰ ترکان ایران، برخلاف ترکان ترکیه، سنت‌های والای ملی و هزارساله‌ی خود را بهتر نگه داشته‌اند… آگاه شدم که در مقایسه با ترکی ترکیه، ترکی آذربایجان با ترکی کلاسیک هزارساله نزدیک‌تر است، و آذربایجانیان می‌توانند به راحتی آثار گرانقدر کلاسیک ترکی را بخوانند، که برای اهل ترکیه دیگر ممکن نیست، و آنها مجبورند که آثار فضولی و نسیمی وغیره را همراه با ترجمه به ترکی معاصر بخوانند. اهل ترکیه را از گذشتهٔ ادبی خود منقطع کرده‌اند، ولی این وضعیت اسف‌ناک در مورد آذربایجانیان صادق نمی‌آید. رفته رفته من عاشق آذربایجان شدم و بعد شروع کردم به دیدن آذربایجان چون وطن معنوی خودم… واقعاً دیار آذربایجان را خیلی دوست دارم و می‌خواهم که روزی بروم آنجا و خاک پاک آن دیار را ببوسم… گفته بودم که من عاشق آذربایجانم… از این رو زبان ترکی را مثل زبان مادری خود می‌پندارم و دوستش دارم. و سعی دارم که به زبان ترکی تسلط کاملی پیدا کنم.
از صدا و صوت‌های زبان ترکی خوشم می‌آید. خیلی زبان شیرینی‌ست. 🙂
ترجمہ:
السلام علیکم!
مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا جواب فارسی میں لکھوں، کیونکہ میری تُرکی اس قدر بھی خوب نہیں ہے کہ میں طویل جوابوں کو آسانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکوں۔
مجھے شعر و شاعری سے وافر دلچسپی تھی، اور مذہبِ تشیُّع اور مُلکِ ایران بھی میرے لیے جالبِ توجہ تھے۔۔۔ ہم پاکستانی فارسی سے محبّت کرتے ہیں، کیونکہ آپ مشاہدہ کر چکے ہیں کہ اردو فارسی سے بِسیار قرابت رکھتی ہے۔ تقریباً دس سال قبل میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے فارسی سیکھنے کا آغاز کیا، کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں فارسی شاعری اور کتابوں کو ترجمے کے بغیر خوان (پڑھ) سکوں۔ اُس وقت میں آذربائجان، تُرکانِ آذربائجان اور زبانِ تُرکی کے بارے میں کوئی چیز بھی نہیں جانتا تھا۔ میں گمان کرتا تھا کہ ایران میں ہر شخص فارسی میں گفتگو کرتا ہے، اور زبانِ تُرکی تُرکیہ تک محدود ہے۔ ایک روز میری ایک ہسپانوی انٹرنیٹی دوست نے، جو فارسی و تُرکی ہر دو زبانوں کو جانتی تھی، نے دکھایا کہ کلاسیکی تُرکی کس حد تک فارسی کے ساتھ مخلوط رہی ہے، اور تُرکی شاعری بھی فارسی شاعری کی طرح فوق العادت لطافت و ظرافت و زیبائی کی مالک رہی ہے۔ یہ دیکھتے ہی تُرکی زبان سیکھنے کا شوق شدّت سے دامن گیر ہو گیا اور مجھ میں تُرکی سیکھنے کے شدید تمایُلات پیدا ہو گئے۔ لہٰذا میں نے تُرکی زبان سیکھنا بھی شروع کر دی۔ اُس وقت میں آگاہ ہوا کہ ایران میں بھی کثیر تعداد میں تُرکی گو موجود ہیں، حتّیٰ کہ تُرکانِ ایران نے، تُرکانِ تُرکیہ کے برخلاف، اپنی ہزارسالہ عالی ملّی روایات کی بہتر مُحافظت کی ہے۔۔۔ میں آگاہ ہوا کہ تُرکیہ کی تُرکی کے مقابلے میں آذربائجان کی تُرکی ہزارسالہ کلاسیکی تُرکی سے نزدیک تر ہے، اور آذربائجانیان آسانی کے ساتھ گراں قدر کلاسیکی تُرکی آثار کو خوان سکتے ہیں، جو اہلِ‌ تُرکیہ کے لیے مزید ممکن نہیں ہیں اور وہ فضولی و نسیمی وغیرہ کے آثار کو مُعاصر تُرکی میں ترجمے کے ساتھ خواننے (پڑھنے) پر مجبور ہیں۔ اہلِ تُرکیہ کو اُن کے ادبی ماضی سے منقطع کر دیا گیا ہے، لیکن یہ افسوس ناک صورتِ حال آذربائجانیوں کے بارے میں صادق نہیں آتی۔ آہستہ آہستہ میں آذربائجان کا عاشق ہو گیا اور میں آذربائجان کو خود کے روحانی وطن کے طور پر دیکھنے لگا۔ واقعاً میں دیارِ آذربائجان سے بِسیار محبّت کرتا ہوں اور خواہش مند ہوں کہ ایک روز وہاں جاؤں اور اُس دیار کی خاکِ پاک کو بوسہ دوں۔۔۔ میں آپ سے کہہ چکا تھا میں عاشقِ آذربائجان ہوں۔۔۔ اِس لیے میں زبانِ تُرکی کو اپنی مادری زبان کے مثل تصوُّر کرتا ہوں اور اُس سے محبّت کرتا ہوں۔ اور میری کوشش ہے کہ میں تُرکی زبان پر کامل تسلُّط پیدا کر سکوں۔
مجھے زبانِ تُرکی کی صدائیں اور اصوات پسند ہیں۔ یہ ایک بِسیار شیریں زبان ہے۔ 🙂

(یاد دہانی: آقائے ارسلان کی یہ خوش گُمانی ہے، جس کے لیے بہر حال میں مُتَشکِّر ہوں، کہ میں آذربائجانی تُرکوں سے بہتر تُرکی جانتا ہوں، حالانکہ میں تُرکی زیادہ خوب نہیں جانتا، اِس کا ثبوت یہی ہے کہ میں جواب کو تُرکی میں نہ لکھ سکا۔
اُن کا ایسا گُمان رکھنے کی شاید وجہ یہ ہے کہ اُن سے مراسلت کرتے ہوئے میں معیاری کتابی تُرکی میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے کتابوں کی مدد سے معیاری ادبی زبان ہی کس قدر سیکھی ہے۔ جبکہ اہلِ آذربائجانِ ایران ہنوز مکتبوں میں تُرکی کی بطورِ مضمون بھی تدریس حاصل نہیں کر پاتے، جس کے باعث اُن میں سے اکثر افراد تُرکی لکھنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، اور گُفتاری زبانچوں میں یا فارسی میں مراسلت و مکاتبت وغیرہ کرتے ہیں۔ وہ تُرکی کی بجائے فارسی زیادہ بہتر طریقے سے لکھ سکتے ہیں، کیونکہ اُن کی تعلیم و تدریس فارسی ہی میں ہوئی ہوتی ہے۔ آرزو کرتا ہوں کہ ایران میں تُرکی گویوں کو مکاتب میں اپنی مادری زبان بخوبی سیکھنے اور اُس میں تعلیم یاب ہونے کا حق حاصل ہو جائے، تاکہ تُرکیہ اور جمہوریۂ آذربائجان کے مردُم کی طرح وہ بھی روانی و خوبی و فراوانی کے ساتھ تُرکی میں لکھ سکیں!)


ایرانی تُرکی ادبیات میں مرثیوں اور نوحوں کی کثرت – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زادہ اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۵’ (تُرکانِ ایران: ۵) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا یازې‌لې تۆرک ادبیاتې باشلېجا ایکی شکل‌ده تجلّی ائتمیش‌دیر: مرثیه، مُضحِکه. آذربایجان تۆرک شاعرلری یا کؤر اۏلونجایا قدر آغلار و آغلادېرلار و یاخود بایېلېنجایا قدر گۆلر و گۆلدۆرۆرلر. ایران تۆرک‌لری‌نین دین‌دار، حتّیٰ مُتعصِّب اۏلدوق‌لارې‌نې ذکر ائتمیشیک. بو دین‌دار خلق، سنه‌نین قسمِ مُهِمی‌نی، خُصوصییله مُحرّمین ایلک گۆن‌لری‌نی نوحه و ماتم‌لر ایچه‌ری‌سینده گئچیریر. هر سنه بیر وظیفهٔ دین‌دارانه اۏلماق اۆزه‌ره شُهَدا، اولیا شرفینه و کربلا فاجعه‌سې مغدور‌لارې یادېنا غرّا مجلس‌لری قورارلار. بو مجلس‌لرین نوحه-گرلیڲی‌نی تۆرک شُعَراسې ایفا ائدرلر؛ و بونون‌چۆن دیوان‌لار دۏلوسو مرثیه یازارلار. بو مرثیه‌لری اهالی ازبرلر، اۏقور، آغلار و شاعرلرینه رحمت گؤندریر. مرثیه ادبیاتې فارس‌لاردا دا واردېر، فقط تۆرک مرثیه‌لری قدر مبذول دئڲیل‌دیر. مرثیه-نویس‌لرین ان مشهورو تبریزلی راجی‌دیر.
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربایجان شُعَراسې هپ‌سی مرثیه‌-نویس‌دیرلر. مشهورلارېندان بیری ده «دل‌سوز»دور.”

ترجمہ:
"ایران میں تحریری تُرک ادبیات نے بُنیادی طور پر دو صورتوں میں تجلّی کی ہے: مرثیہ اور مُضحِکہ۔ آذربائجان کے تُرک شاعران یا تو کور (اندھے) ہو جانے کی حد تک روتے اور رُلاتے ہیں، یا پھر بے ہوش ہو جانے کی حد تک ہنستے اور ہنساتے ہیں۔ تُرکانِ ایران کے دین دار، حتیٰ مُتَعَصِّب ہونے کے بارے میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔ یہ دیندار قوم، سال کے اہم حِصّے کو، خصوصاً مُحرّم کے اوّلین ایّام کو نوحوں اور ماتموں کے اندر گُذارتی ہے۔ ہر سال ایک فریضۂ دیندارانہ کے طور پر شُہداء و اولیاء کے شرَف میں اور فاجعۂ کربلا کے مظلوموں کی یاد میں پُرشُکوہ مجالس برپا کرتے ہیں۔ اِن مجالس میں نوحہ گری تُرک شاعران کرتے ہیں؛ اور اِس کے لیے دواوین بھر دینے جتنے مرثیے لکھتے ہیں۔ اِن مرثیوں کو مردُم ازبر کرتے ہیں، خوانتے (پڑھتے) ہیں، گِریہ کرتے ہیں، اور اُن کے شاعروں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ رِثائی ادبیات فارْسوں میں بھی موجود ہے، لیکن وہ تُرکی مرثیوں کی مانند فراواں نہیں ہیں۔ مرثیہ نویسوں میں سے مشہور ترین راجی تبریزی ہے۔
[راجی تبریزی کے مرثیے کے نمونے کو حذف کر دیا گیا ہے۔]
آذربائجان کے تمام شُعَراء مرثیہ نویس ہیں۔ اُن میں سے ایک مشہور شاعر ‘دل‌سوز’ بھی ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
İran’da yazılı Türk edebiyyatı başlıca iki şekilde tecelli etmiştir: Mersiyye, mudhike. Azerbaycan Türk şairleri ya kör oluncaya kadar ağlar ve ağlatırlar ve yahud bayılıncaya kadar güler ve güldürürler. İran Türkleri’nin dindar, hatta muta’assıb olduklarını zikretmiştik. Bu dindar halk, senenin kısm-ı mühimini, hususiyle Muharrem’in ilk günlerini nevha ve matemler içerisinde geçirir. Her sene bir vazife-i dindarane olmak üzere şüheda, evliya şerefine ve Kerbela faci’ası mağdurları yadına garra meclisleri kurarlar. Bu meclislerin nevha-gerliğini Türk şuarası ifa ederler; ve bununçün divanlar dolusu mersiyye yazarlar. Bu mersiyyeleri ahali ezberler, okur, ağlar ve şairlerine rahmet gönderir. Mersiyye edebiyyatı Farslar’da da vardır, fakat Türk mersiyyeleri kadar mebzul değildir. Mersiyye-nüvislerin en meşhuru Tebrizli Raci’dir.
—————-
Azerbaycan şuarası hepsi mersiyye-nüvistirler. Meşhurlarından biri de "Dilsuz’dur.”


ایران میں تُرکوں اور فارْسوں کی باہم متعاون ہم زیستی – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زاده اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۳’ (تُرکانِ ایران: ۳) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا تۆرک‌لر، نه روسیادا اۏلدوغو گیبی محکوم و نه ده تۆرکیه‌ده اۏلدوغو گیبی حاکم بیر ملّت دئڲیل‌دیرلر.
ایران تۆرک‌لری، اصل ایران‌لې اۏلان فارس‌لارلا حقوق‌دا مساوی وطن‌داش حالینده بولونویۏرلار: عینې حق‌لارې، عینی امتیازلارې حائزدیرلر؛ اؤگه‌ی‌لیک چکمزلر.
بئش یۆز سنه‌دن بری ایران‌دا حکمران اۏلان پادشاه‌لار هپ تۆرک عِرقېندان گلدیلر؛ بوگۆن اجرایِ سلطنت ائدن قاچار سُلاله‌سی ده تۆرکمن قبیله‌لریندن بیر قبیله‌یه منسوب‌دور. فقط ایران حکم‌دار‌لارېنېن تۆرک اۏلماسې تۆرک‌لره خصوصی بیر امتیاز بخش ائتمه‌دیڲی گیبی، فارس ملّتینین تضییقینه ده سبب اۏلمامېش‌دېر.
حکم‌دارلارېن تۆرک‌لۆڲۆنه رغماً مملکتین لسانِ رسمی‌سی فارسی قالمېش و مراسم و تشریفات‌دا هپ فارسی عنعناتې مُحافظه اۏلونموش‌دور. ایران‌دا فارس‌لار، تۆرک‌لرین قوّت‌لی بازولارېنا، جنگاور‌لیک سجیه‌لرینه دایانمېش‌لار، تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینین معنویتینه استناد ائیله‌میشلر و بو صورت‌له تشریکِ مساعی ائده‌رک ایران حکومتِ حاضره‌سی‌نی وجودا گتیرمیش‌لردیر.
فارس‌لار تۆرک حکم‌دارلارې کندی ملیّت‌لرینه مُعارض بولمادېق‌لارېندان اۏن‌لارې ملّی ایران پادشاه‌لارې گیبی تقدیس ائتمیش‌لر؛ تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینی و فارس لسانېنې ملّی بیر لسانِ ادبی گیبی قبول ائیله‌میشلردیر. بو صورت‌له بئش یۆز سنه‌دن بری شاه‌لېق تختېندا بیر تۆرک خانې اۏتورویۏرسا دا گرک بو خان‌لار، گرک‌سه تۆرک اهالی ایران‌لې‌لاش‌مېش، یعنی فارس‌لار طرفېندان تمثیل اۏلونموش‌دور. جزئی مقدار‌دا تۆرکمن‌لردن باشقا تۆرک‌لر، یعنی آذربایجان‌لې‌لار و قاشقایی‌لر ایرانېن مذهبِ رسمی‌سی اۏلان شیعی‌لیڲه تابع‌دیرلر.
شیعی‌لیک ایران تۆرک‌لرینی اۏ قدر فارس‌لاشدېرمېش‌دېر که، شیمدی اۏن‌لار کندی‌لرینی تۆرک‌لشمیش فارس، یعنی اصلا‌ً ایران‌لې تلقّی ائدرلر!”

ترجمہ:
"ایران میں تُرکان نہ تُرکانِ رُوسیہ کی طرح ایک محکوم، اور نہ تُرکانِ تُرکیہ کی طرح ایک حاکم ملّت ہیں۔
ایران کے تُرکان اصل ایرانیوں یعنی فارْسوں کے ہم وطن ہیں اور اُن کے مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق اور ویسے ہی امتیازات کے مالک ہیں اور سوتیلے پن کا نشانہ نہیں بنتے۔
گذشتہ پانچ صدیوں سے ایران میں حکمرانی کرنے والے تمام پادشاہوں کا تعلق تُرک نسل و قوم سے تھا؛ موجودہ زمانے میں سلطنت کا اِجرا کرنے والا خاندانِ قاجار بھی ایک تُرکمن قبیلے سے منسوب ہے۔ لیکن ایران کے حکمرانوں کے تُرک ہونے نے نہ تُرکوں کو کوئی خصوصی امتیاز و برتری عطا کی ہے، اور نہ اِس کے باعث ملّتِ فارْس کسی محدودیت و فِشار میں مبتلا ہوئی ہے۔
حکمرانوں کے تُرک ہونے کے باوجود مملکت کی رسمی زبان فارسی رہی ہے، اور مراسم و تشریفات میں بھی تمام فارسی روایات محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ایران میں فارْسوں نے تُرکوں کے باقوّت بازوؤں اور اُن کی جنگاور فطرت پر تکیہ کیا ہے، جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدّن و ثقافت کی معنویات پر اِستِناد کیا ہے اور اس طرح تشریکِ مساعی کرتے ہوئے وہ ایران کی موجودہ حکومت کو وجود میں لائے ہیں۔
تُرک حکمرانوں کے ملّیتِ فارْس کے مُعارِض و مُخالف نہ ہونے کے باعث فارْسوں نے اُن تُرک حکمرانوں کی ایران کے ملّی پادشاہوں کی مانند تقدیس کی ہے؛ جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدن و ثقافت اور فارسی زبان کو ایک ملّی ادبی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اور اس طرح گذشتہ پانچ صدیوں سے اگرچہ تختِ شاہی پر کوئی تُرک خان بیٹھ رہا ہے، لیکن خواہ یہ خانان ہوں یا تُرک اہالی ہوں، دونوں ہی ایرانی شدہ ہو گئے ہیں، یعنی فارْسوں کی طرف سے نمائندے بنتے رہے ہیں۔ تُرکمَنوں کی ایک غیر اہم تعداد کے بجز دیگر تُرکان، یعنی آذربائجانیان اور قشْقائیان ایران کے رسمی مذہب شیعیت کے تابع ہیں۔
شیعیت نے ایران کے تُرکوں کو اِس قدر فارْس شُدہ کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو تُرک شدہ فارْس، یعنی اصلاً ایرانی مانتے ہیں!”

لاطینی رسم الخط میں:
"İran’da Türkler, ne Rusya’da olduğu gibi mahkum ve ne de Türkiye’de olduğu gibi hakim bir millet değildirler.
İran Türkleri, asıl İranlı olan Farslarla hukukta müsavi vatandaş halinde bulunuyorlar: Aynı hakları, aynı imtiyazları haizdirler; ögeylik çekmezler.
Beş yüz seneden beri İran’da hükümran olan padişahlar hep Türk ırkından geldiler; bugün icra-yı saltanat eden Kaçar sülalesi de Türkmen kabilelerinden bir kabileye mensuptur. Fakat İran hükümdarlarının Türk olması Türklere hususi bir imtiyaz bahşetmediği gibi, Fars milletinin tazyikine de sebep olmamıştır.
Hükümdarların Türklüğüne rağmen memleketin lisan-ı resmisi Farisi kalmış ve merasim ve teşrifatta hep Farisi an’anatı muhafaza olunmuştur. Iran’da Farslar, Türklerin kuvvetli bazularına, cengaverlik seciyelerine dayanmışlar, Türkler de Fars medeniyetinin ma’neviyetine istinad eylemişler ve bu suretle teşrik-i mesa’i ederek İran hükümet-i hazırasını vücuda getirmişlerdir.
Farslar Türk hükümdarları kendi milliyetlerine mu’arız bulmadıklarından onları milli İran padişahları gibi takdis etmişler; Türkler de Fars medeniyetini ve Fars lisanını milli bir lisan-ı edebi gibi kabul eylemişlerdir. Bu suretle beş yüz seneden beri şahlık tahtında bir Türk hanı oturuyorsa da gerek bu hanlar, gerekse Türk ahali İranlılaşmış, yani Farslar tarafından temsil olunmuştur. Cüz’i miktarda Türkmenlerden başka Türkler, yani Azerbaycanlılar ve Kaşkayiler İran’ın mezheb-i resmisi olan şiiliğe tabi’dirler.
Şiilik İran Türklerini o kadar farslaştırmıştır ki, şimdi onlar kendilerini Türkleşmiş Fars, yani aslen İranlı telakki ederler!..”


ایران میں تُرکان

اردو محفل پر اِن روز ایک دوست ‘ارسلان بای’ کے مُستعاری نام سے آنے لگے ہیں، جن کا تعلق دیارِ آذربائجان کے قلب شہرِ تبریز سے ہے، اور جن کی مادری زبان تُرکی ہے۔ اُنہوں نے ایران میں تُرکوں/تُرکی گویوں کی وضعیت کے بارے میں تُرکی میں یہ مُراسلہ لکھا تھا، جس کو اردو ترجمے کے ساتھ اپنے تارنِگار پر شریک کر رہا ہوں:

"ایران دا یاشایان بیر تورک اولاراق سؤیله‌ییرم، قاجار خانلیغی دؤنمی ایرانین یوزه قیرخی تورک ایدی لکن پهلوی شاهلیغی دؤنمیندن باشلایاراق ایران دا تورکلره قارشی نفرت حسّی تبلیغ اولونوب تورکلری تحقیر ائتمه یاییلدی، بو تحقیر و نفرت اثرینده تورکلرین بیر قسمی اؤز کیملیکلرینی دانیب اؤزلرینه فارس دئدیلر، بونون اوچون تورکلرین جمعیتی آزالدی (آسیمیلاسیون)
بو گون ایران دا یوزه قیرخ جمعیتین آتاسی یا آناسیندان بیری تورک دور لکن اؤزون تورک بیلن اؤزونه تورک دئین تقریب ایله یوزه اوتوز دور، بو گون ایران دا پهلوی دؤنمی کیمی تورکلری تحقیر ائتمه تاسفله دوام ائدیر، خصوصا ایران دا سوسیال دموکرات دوشونجه‌سینه باغلی اولان حزبلر (اصلاح طلبلر) طرفیندن بو تحقیرلر داها گوجلو دور، بونون ندنی ده اونلارین دوشونجه‌لرینین اروپادا کؤکلنمه‌سی دیر، بیلدیگینیز کیمی مسلمان تورک عسگرلرین صلیبی ساواشلاردا اروپالی‌لارا غلبه ائتمه‌سی اروپالی‌لاردا تورکلردن بیر تاریخی نفرت یارالدیب دیر، اصلاح طلب‌لر چوخ آغیر شکل ده «یورو سنتریک» دوشونجه‌لری وار دیر و سیاسی باخیشلارینی اروپا فلسفه‌چی‌لریندن آلیب‌لار، بعلاوه بعضی‌لر تاریخ ده ایرانین (باستانی آنلاییش ایله، ساسانی‌لر، هخامنشی‌لری نظرده آلاراق) گوجلنمه‌سینی دایاندیران عاملی، تورکلر بیلیرلر (بیلدیگینیز کیمی سامانی لر و باشقا دولتلر تورکلر (قاراخانلی‌لار) یوروشو ایله سقوط ائدیبلر)

ایران دا تورکلر یاشایان بؤلگه‌لر: آذربایجان شرقی، آذربایجان غربی، اردبیل، زنجان، همدان (شمال قسمینده)، کردستان (شمال و شرق قسمینده بیجار و قروه)، کرمانشاه (شرق قسمینده سونقور)، خوزستان (شمال قسمینده آغاجاری)، اراک (داغینیق شکلده خلجلر و آذربایجان تورکلری)، قزوین، تهران (تقریب ایله یوزه اوتوز بئش تورک دور)، گیلان (غرب قسمینده آستارا و باشقا یئرلر) مازندران (شرق قسمینده گلوگاه)، گلستان (تورکمنلر، قزل باشلار و آذربایجان دان کؤچن تورکلر)، خراسان شمالی (شمال و مرکز قسمینده)، سمنان (شمال قسمینده آز جمعیت ایله)، کرج (تقریب ایله یوزه قیرخ تورک دور)، اصفهان و فارس و کهگلویه بویر احمد (قشقایی تورکلری داغینیق شکلده)، کرمان (پیچاقچی و افشار ایل‌لری داغینیق شکلده)، قم (خلج تورکلری داغینیق شکلده و آذربایجان دان کؤچن تورکلر)
باشقا بؤلگه‌لرده داها مهاجرت ائدیب یاشایان تورکلر واردیر.”

تُرکی سے ترجمہ:
"ایران میں رہنے والے ایک تُرک کے طور پر کہہ رہا ہوں: قاجاری سلطنت کے دور میں ایران کا چالیس فیصد تُرک تھا، لیکن پہلوی شہنشاہی کے زمانے سے ایران میں تُرکوں کے خلاف احساسِ نفرت کی تبلیغ اور تُرکوں کی تحقیر کی اشاعت کا آغاز ہوا۔ اِس تحقیر و نفرت کے اثر میں تُرکوں کے ایک حصّے نے خود کی شناخت کا اِنکار کر کے خود کو فارس کہا، لہٰذا تُرکوں کی آبادی کم ہو گئی (ضم سازی)
اِس وقت ایران میں چالیس فیصد آبادی کے مادر و پدر میں سے کوئی ایک تُرک ہے، لیکن خود کو تُرک جاننے اور خود کو تُرک کہنے والے تقریباً تیس فیصد ہیں۔ مُتأسفانہ، اِس وقت ایران میں پہلوی دور کی طرح تُرکوں کی تحقیر کُنی جاری ہے۔ خصوصاً ایران میں مُعاشرتی جمہوریت خواہ (سوشل ڈیموکریٹ) فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں (اصلاح طلَبوں) کی جانب سے یہ تحقیریں زیادہ شدّت کے ساتھ کی جاتی ہیں، اِس کا سبب یہ ہے کہ اُن کے تفکُّرات یورپ سے مأخوذ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ صلیبی جنگوں میں مُسلمان تُرک افواج کے یورپیوں پر غلبہ پانے نے یورپیوں میں تُرکوں کی نسبت ایک تاریخی نفرت پیدا کر دی تھی۔ اصلاح طلَبوں میں شدید نوع کے یورپ محور (یورو سینٹرک) تفکُّرات موجود ہیں، اور اُنہوں نے اپنے سیاسی نُقطہ ہائے نظر کو یورپی فلسفیوں سے اخذ کیا ہے۔ علاوہ بریں، بعض افراد تاریخ میں ایران (اگر عہدِ قدیم کے مفہوم کے مطابق ساسانیوں اور ہخامنَشیوں کو مدِ نظر رکھا جائے) کی قوّت یابی کو روکنے کا عامِل تُرکوں کو جانتے ہیں (جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سامانیوں اور دیگر سلطنتوں نے تُرکوں (قاراخانیوں) کے حملے کے باعث سُقوط کیا تھا۔)

ایران میں تُرک نشیں خطّے: مشرقی آذربائجان، مغربی آذربائجان، اردَبیل، زنجان، ہمَدان (شمالی حصّے میں)، کُردستان (شمالی و مشرقی حصّے میں بیجار و قروہ)، کِرمانشاہ (مشرقی حصّے میں سونقوز)، خوزستان (شمالی حصّے میں آغاجاری)، اراک (پراگندہ شکل میں خلَج اور آذربائجانی تُرک)، قزوین، تہران (تقریباً پینتیس فیصد تُرک ہے)، گیلان (مغربی حصّے میں آستارا اور دیگر جگہیں)، مازَندران (مشرقی حصّے میں گلوگاہ)، گُلستان (تُرکمَنان، قِزِلباشان، اور آذربائجان سے کوچ کردہ تُرکان)، شمالی خُراسان (شمالی اور مرکزی حصّے میں)، سمنان (شمالی حصّے میں اقلیت)، کرَج (تقریباً چالیس فیصد تُرک)، اصفہان و فارس و کُہگیلُویہ و بویَر احمد (قشقائی تُرکان پراگندہ شکل میں)، کِرمان (پیچاقچی اور افشار قبائل پراگندہ شکل میں)، قُم (خلَجی تُرکان پراگندہ شکل میں اور آذربائجان سے کوچ کردہ تُرکان)۔
دیگر خِطّوں میں بھی مُہاجرت کر کے زندگی بسر کرنے والے تُرکان موجود ہیں۔”