این زبانِ پارسی گنجینهٔ فرهنگِ ماست

زبانِ فارسی کی سِتائش میں ایک بیت، اردو ترجمہ و تشریح کے ساتھ:

این زبانِ پارسی گنجینهٔ فرهنگِ ماست
وز سرِ گنجینه باید دُور کردن مُوش و مار
(علام‌علی رعدی آذرَخشی)

یہ زبانِ فارسی ہماری ثقافت کا گنجینہ ہے، اور گنجینے کے نزد سے چوہے اور سانپ کو دُور کرنا لازم ہے۔

تشریح: یعنی یہ زبانِ فارسی ہماری ثقافت کا مخزن ہے، یعنی ہماری جُملہ ثقافت و ہماری کُل روایات اِس زبانِ فارسی کے اندر موجود ہیں، اور اِس زبان نے ہمارے تمدُّن و ہماری گُذشتہ تاریخ کو ایک گنجینے کی مانند محفوظ رکھا ہوا ہے، اور جس طرح کسی عام خزانے کے پاس سے مُوذی چیزوں کو دُور کرنا ضروری ہوتا ہے، اُسی طرح ہم کو اِس گنجینۂ زبانِ فارسی سے بھی مُوذی و ضررآور چیزوں کو دُور کرنا لازم ہے، مبادا یہ شریر و مُوذی جانور و اشیاء ہماری زبان کے خزانے کو مخدوش و معیوب کر دیں۔ «مُوش و مار» (چُوہا و سانپ) سے شاید زبانِ فارسی کے دُشمنوں وَ بدخواہوں کی جانب اشارہ ہے۔

Advertisements