یا من بدا جمالک فی کل ما بدا – عبدالرحمٰن جامی

یا مَنْ بَدا جَمالُكَ فِي كُلِّ ما بَدا
بادا هزار جانِ مقدّس تو را فدا
می‌نالم از جداییِ تو دم به دم چو نَی
وین طُرفه‌تر که از تو نَیَم یک نَفَس جدا
عشق است و بس که در دو جهان جلوه می‌کند
گاه از لباسِ شاه و گه از کِسوتِ گدا
یک صوت بر دو گونه همی‌آیدت به گوش
گاهی ندا همی‌نِهیش نام و گه صدا
برخیز ساقیا ز کرم جُرعه‌ای بِریز
بر عاشقانِ غم‌زده زان جامِ غم‌زُدا
زان جامِ خاص کز خودی‌ام چون دهد خلاص
در دیدهٔ شُهود نمانَد به جز خدا
جامی رهِ هُدیٰ به خدا غیرِ عشق نیست
گفتیم والسّلامُ علیٰ تابِعِ الهُدیٰ
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
اے وہ کہ تمہارا جمال ہر اُس چیز میں ظاہر ہے جو وجود میں آئی ہے؛ ہزار جانِ گرامی تم پر فدا ہوں!
میں تمہاری جدائی کے باعث مسلسل نَے کی طرح نالہ و زاری کرتا رہتا ہوں؛ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ میں تم سے ایک لحظے کے لیے بھی جدا نہیں ہوں۔ ×
[یہ] عشق ہے اور بس، جو دو جہاں میں جلوہ کرتا ہے؛ کبھی شاہ کے لباس [کے وسیلے] سے اور کبھی گدا کے جامے [کے وسیلے] سے۔۔۔
ایک [ہی] آواز دو طرزوں پر تمہارے گوش میں آتی ہے؛ گاہے تم اُس کا نام ندا رکھتے ہو اور گاہے صدا۔ ×
اُٹھو، اے ساقی، [اور] از راہِ کرم غم زدہ عاشقوں کی جانب اُس غم مٹانے والے جام سے ایک جُرعہ اُنڈیلو۔ ×
اُس جامِ خاص سے کہ جب وہ مجھے اپنی خودی و انانیت سے نجات دے دے تو دیدۂ شُہود میں بجز خدا کچھ نہ رہے۔
اے جامی! خدا کی قسم، عشق کے سوا کوئی راہِ ہدایت نہیں ہے؛ ہم نے کہہ دیا، پس ہدایت و راہِ راست کے پیرَو پر سلام ہو!

× نَے = بانسری × گوش = کان × جُرعہ = گھونٹ
× یہ غزل عبدالرحمٰن جامی کے دیوانِ اول ‘فاتحۃ الشباب’ کی اولین غزل ہے۔

Advertisements

دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است – عبدالرحمٰن جامی (فارسی + اردو ترجمہ)

دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است
که بحرِ فقر و مُحیطِ فنا خُراسان است
نخُست گوهر از آن بحر شاهِ بسطامی‌ست
که قُطبِ زنده‌دلان و خداشناسان است
بِکَش لباسِ رعونت که شیخِ خرقانی
سِتاده خِرقه به کف بهرِ بی‌لباسان است
بگو سپاسِ مِهین عارفی که در مهنه‌ست
که عشق در پیِ آزارِ ناسپاسان است
به گوشِ جان بِشِنو نکته‌های پیرِ هرات
که مشکلاتِ طریق از بیانش آسان است
چو کأسِ خویش شکستی بیا که ساقیِ جام
نهاده باده به دستِ شکسته‌کأسان است
گداییِ درشان پیشه کرده‌ای جامی
به جز تو کیست گدایی که پادشاسان است
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
میرا دل خُراسان کے ہجر سے اِس لیے خوف زدہ ہے کیونکہ فقر کا بحر اور فنا کا اوقیانوس خُراسان ہے۔
اُس بحرِ کے گوہرِ اولیں شاہِ بسطامی (بایزید بسطامی) ہیں، جو زندہ دلوں اور خدا شناسوں کے قُطب ہیں۔
لباسِ رعونت و تکبّر کو اتار دو کہ شیخِ خرقانی (ابوالحسن خرقانی) بے لباسوں کے لیے [اپنے] دست میں خرقہ اٹھائے کھڑے ہیں۔
اُن عارفِ بریں کو سپاس کہو جو مہنہ میں ہیں (ابوسعید ابوالخیر)، کہ عشق ناشُکروں کے آزار کے در پَے ہے۔
پیرِ ہرات (خواجہ عبداللہ انصاری) کے نکتوں کو بہ گوشِ جاں سنو، کہ طریقت کی مشکلات اُن کے بیان کے ذریعے آسان ہیں۔
اگر تم نے اپنا کاسہ توڑ دیا تو آؤ کہ ساقیِ جام (شیخ احمد جامی) نے شکستہ کاسہ افراد کے دست میں بادہ رکھا ہے۔
اے جامی! تم نے اُن کے در کی گدائی کو پیشہ بنایا ہے؛ تمہارے بجز ایسا گدا کون ہے جو پادشاہ کی مانند ہے؟

× بَسْطام، خَرَقان اور تُربتِ جام ایران کا حصہ ہیں، مَہنہ ترکمنستان میں ہے، جبکہ ہِرات افغانستان میں واقع ہے۔


جامی خراسان اور ماوراءالنہر کے درمیان حلقۂ وصل تھے

تاجکستان میں واقع جمہوریۂ اسلامیِ افغانستان کے سفارت خانے میں عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد ہوئی جس میں ادیبوں، نقادوں، روزنامہ نگاروں اور ملکی دارالحکومت دوشنبہ میں مقیم افغانستان، تاجکستان اور ایران کے دانشوروں نے شرکت کی۔ آغاز میں قاری مرزائی نے کلامِ مجید سے چند آیات کی تلاوت کر کے فضائے محفل کو منور کیا۔
پھر افغانستان و تاجکستان کے قومی ترانوں کے احترام میں حاضرین کھڑے ہوئے اور ترانوں کو سنا۔ بعد میں تاجکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے حاضرین کو خیر مقدم کہتے ہوئے اس اجتماع کو ‘محفلِ عشق و فرہنگ’ کا نام دیا اور شرکت کرنے والوں کی خدمت میں افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی کے سلام اور احترامات پیش کیے۔ اُنہوں نے کہا: "وہ (یعنی صدر) یہ باور رکھتے ہیں کہ ہم ایک مشترکہ ثقافتی و تمدنی قلمرو میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم ایک مشترک تاریخی سرنوشت رکھتے ہیں، اُسی طرح ہمیں مداوم ثقافتی سفارت کاری کی مدد سے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے نزدیک آنے اور ایک متحد منطقہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔”
پھر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے شرکاء کے سامنے افغانستان کے وزیرِ امورِ خارجہ جناب ضرار احمد عثمانی کا نوشتہ پیام پڑھا۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ "مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کی تجلیل کا مطلب دینی، ثقافتی اور تمدنی شناخت کی اور ہمزبانی و ہمدلی کی تجلیل ہے۔ میرے اعتقاد میں افغانستان اور تاجکستان کے درمیان روابط کی مشروعیت ایک واحد شناخت پر مبنی ہے، جس کی مشترک دین، زبان اور ثقافت کے شاخصوں سے تعریف کی جاتی ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک ایسا بزرگ آئینہ ہیں جس میں دو ملتوں کی ہم دلی اور ہم آوازی نظر آتی ہے۔
سلطان حسین میرزا بایقرا کی مقتدرانہ رہبری اور میر علی شیر نوائی کی رفاقت میں حضرتِ جامی پندرہویں صدی عیسوی میں اپنے ‘نفحات الانس’ اور ‘ہفت اورنگ’ کی مدد سے تیموری تمدن کی اساس رکھ پائے تھے۔ تاریخ اس واقعیت کی بیان گر ہے۔ لہٰذا مولانا جامی اور ہفت اورنگ کی یہ پاسداری، عشق و ایماں اور ثقافت کی پاسداری ہے۔ یہ اُن لوگوں کی ہم دلی و ہم آوازی کی پاسداری ہے جو خرد ورزی، صلح جوئی، ہم زیستی، فراست اور اپنی نورانی ثقافتوں کے ہمراہ ایک ساتھ صمیمانہ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اور جن کی ثقافت پرور تحمل پذیری و رواداری کی ‘بوئے جوئے مولیاں’ مشترک تاریخ کی کیاری میں جاری رہی ہے۔”
ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے مولانا جامی کی شخصیت کے بارے میں مزید کہا: "وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے عشق کے باعث شہرۂ آفاق ہیں۔ شمس الدین محمد حافظ اگر ‘لسان الغیب’ سے متصف ہیں، بیدل ‘ابوالمعانی ‘سے متصف ہیں، تو جامی بھی ‘خاتم الشعراء’ سے ملقب ہیں۔جامی کیوں بزرگ ہے؟ میں بتاتا ہوں جامی کیوں بزرگ ہے۔ ہم اپنی تاریخی، ثقافتی و تمدنی قلمرو میں جامی جیسی کسی شخصیت کا مشکل ہی سے سراغ پا سکتے ہیں۔
جامی اجتماعی مصلح ہے، جامی دین کے میدان کا محقق ہے، جامی اسلام شناسی کے میدان میں ممتاز ہے، جامی عرفانِ نظری و عملی کے میدان میں بے گمان ایک بلند قامت شخصیت ہے، جامی ابنِ عربی کا شاگرد ہے اور اس کے ساتھ ہی ابنِ عربی کی تالیفات کی شرح میں بلاتردید اُس کو کوئی ہمتا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشان دہ ہیں کہ جامی بزرگ ہے۔
بالخصوص چنگیز، منگول اور تیموری فتنوں کے بعد، کہ جب تیمور کی آل کشور کشائی اور آتش کشی میں مشغول تھی تو یہی جامی تھے جنہوں نے تیموری خاندان سے سلطان حسین میرزا بایقرا جیسے علم و ثقافت پرور اور بلند قامت چہرے کو اوپر ابھارا تھا۔ جامی ہرات اور سمرقند کے مابین حلقۂ وصل تھے۔ چنگیزی فتنوں کے بعد عرفان محض خانقاہی بن گیا تھا۔ جامی نے ابنِ عربی کے عرفان کا اُس کی تمام ابعاد کے ساتھ احیا کیا۔”
صدرالدین عینی کے نام پر قائم دانشگاہِ دولتیِ آموزگاری کے رئیسِ عالی عبدالجبار رحمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ جامی کا پندرہویں صدی عیسوی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے احوال اور تالیفات کے متعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بہت ساری تحقیقات انجام پا چکی ہیں۔ جامی کے غنی اور مضامین سے پُر اشعار انسان اور اور مقامِ انسان کے بارے میں تازہ و سلیم فکروں پر مشتمل ہیں۔
جامی کے سمرقند کی جانب سفر اور وہاں اُن کی تحصیل نے اُن کی زندگی پر بڑا اثر ڈالا تھا۔ جامی کے استاد سعدالدین کاشغری نے جامی کی معرفت سے آشنا ہونے کے بعد یہ لکھا تھا کہ جامی سے دانش مندی میں بالاتر کوئی انسان بھی آمو دریا کو پار کر کے اس طرف نہیں آیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے سمرقند میں بہت سے علمائے علم و فنون سے آشنائی حاصل کی تھی اور اُن سے زمانے کے علوم سیکھے تھے۔ اسی سمرقند ہی میں وہ نقشبندی طریقت سے نزدیکی سے متعارف ہوئے تھے اور بعد میں عرفان کی جانب اُن کی توجہ بیشتر ہو گئی تھی۔
بعداً انہوں نے بزرگانِ عرفان کے بارے میں ‘نفحات الانس’ نامی کتاب لکھی تھی۔ جامی کی ایک اور خدمت علمی بحث و مناظرہ کی تشکیل اور انجام دہی تھی جس کے بعد میں سودمند نتائج نکلے۔ عبدالرحمٰن جامی کو سعدی شیرازی کے ہمراہ معلمِ اخلاق کہا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار رحمان نے اس بات پر بھی فخر ظاہر کیا کہ سوویت دور میں اُنہیں یہ موقع میسر آیا تھا کہ ہرات میں اقامت کر سکیں اور جہانِ ادب و عرفان کے اس بزرگ مرد کے مقبرے کی زیارت سے شرف یاب ہو سکیں۔
بعد میں تاجکستان میں مقیم معروف ایرانی خبرنگار اور سخنور بانو یگانہ احمدی نے جامی کی ‘ہفت اورنگ’ سے دو کوتاہ اقتباسات خوبصورت طریقے سے حاظرین کے سامنے پیش کیے۔
تاجک دانشمند پروفیسر عبدالنبی ستارزادہ نے کہا کہ "شعراء معمولاً تین گروہوں میں گروہ بندی کیے جاتے ہیں: شاعرانِ شاعر، شاعرانِ عالم اور شاعرانِ عارف۔ اس گروہ بندی کی نظر سے مولانا جامی شاعرانِ عالم و عارف کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب بھی ہم مولانا جامی کی تالیفات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں اُن تالیفات کا تمام جہات سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بعض محققوں نے جامی کی میراث کو تنہا اُن کے شاعر ہونے کے حوالے سے یا پھر اُن کے عارف ہونے یا عالم ہونے کے حوالے سے سراہا ہے۔
جن لوگوں نے صرف اُن کے شعروں کے حوالے سے ان کا استاد رودکی، حافظ، سعدی، مولوی، نظامی، اور دوسرے بزرگ شاعروں سے تقابل کیا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ضعیف شاعر ہیں۔ اور جن لوگوں نے صرف اُن کی بطور ایک عارف ارزیابی کی ہے، انہوں نے کہا ہے اُن کے عارفانہ اشعار کو مولوی، سنائی یا عطار کے عارفانہ اشعار کے برابر میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک یہ ارزیابی چنداں منصفانہ نہیں ہے۔ مولانا جامی کی تصنیفات پر ہر جہت سے نظر ڈالنی چاہیے۔”
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جامی کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کے موقع پر کی گئی تقریر میں جامی شناسی پر بخوبی ایک نظر ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کا تحلیل و تجزیہ کیا کہ جامی شناسی تا‌ حال کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نیز انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جامی شناسی کے رشد و ارتقاء میں تاجک جامی شناسوں خاص طور پر استادِ مرحوم اعلیٰ خان افصح زاد کا حصہ قابلِ قدر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے جامی کو ایران، افغانستان، تاجکستان اور دیگر مقامات میں ابھی تک درست طور پر نہیں پہچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمیِ علومِ تاجکستان نے جامی کے چھ سو سالہ جشن کے موقع پر ‘آثارِ جامی’ کے نام سے چودہ جلدی کتاب نشر کے لیے آمادہ کی ہے۔ ان کتابوں میں حضرتِ جامی کے کتب و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامی کے جملہ آثار کی ماہیت اُن کی انسان دوستی نے معیّن کی ہے:
ای که می‌پرسی بهترین کس کیست؟
گویم از قولِ بهترین کسان
بهترین کس کسی بوَد، که ز خلق
بیش باشد به خلق نفع‌رسان
دانشگاہِ ہرات کے استاد محمد داؤد منیر نے اپنی تقریر میں جامی کے اشعار پر محققوں کی جانب سے کی گئی داوری کے بارے میں گفتگو کی۔ موقع کی مناسبت سے انہوں نے غزلیاتِ جامی کے متعلق اپنی ہی نادر تحقیقات میں سے بھی کچھ حصے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔
افغانستان کے ایک جامی شناس محی الدین نظامی نے اپنی تقریر کے آغاز میں افغان شاعر استاد خلیل اللہ خلیلی کے مولانا جامی کی توصیف میں کہے گئے وہ اشعار پڑھے جو اُنہوں نے مولانا جامی کے پانچ سو پچاس سالہ جشن کے موقع پر لکھے تھے۔
پیغمبرانِ معنی روشن‌گرانِ فکرند
در هر کجا تپد دل باشد جهانِ جامی
ابرار سبحه سازند، احرار تحفه آرند
خاکِ مزارِ جامی، نقدِ روانِ جامی
برخاست بادِ شوقی از جانبِ سمرقند
کز بوی مشک‌بیزش شد زنده جانِ جامی
از غزنه تا بخارا وز وخش تا هرات است
هم جلوه‌گاهِ جامی، هم آشیانِ جامی
تجلیلِ این بزرگان تعظیمِ علم و فضل است
فرخنده باد این جشن بر پیروانِ جامی​
محفل کے اختتام پر حاضرین سفارت خانۂ افغانستان کے ایوانِ ‘ہفت اورنگ’ میں افغانستان کے چیرہ دست ہنرمند جناب شجاع محمد فقیری کی نمائش کے لیے پیش کردہ نقاشیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

(منبع: تاجک اخبار ‘روزگار’)
خبر کی تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۴ء