فارسی کو اردو پر ترجیح دینے کا سبب

میں شخصاً فارسی کو اردو پر اب اس لیے ترجیح دیتا ہوں کیونکہ فارسی زبان اُن دو، اور میری نظر میں قے آور اور ثقافتی لحاظ سے بیگانہ، چیزوں سے پاک ہے جن سے غالب و اقبال وغیرہم کی عجمی روح کی حامل زبانِ اردوئے معلّیٰ بھی پاک تھی لیکن جنہوں نے موجودہ دور میں میری اردو زبان پر یورش کر کے اِسے نہایت بدنما و بدریخت بنا دیا ہے۔ اور وہ دو چیزیں ہیں: فرنگیت اور بھارتیت۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے اب عصرِ حاضر کی ‘اردو’ کتابیں، مطبوعات اور اخبارات پڑھنا عموماً ترک کر دیے ہیں، کیونکہ جس زبان سے میں ثقافتی و احساساتی وابستگی محسوس نہ کر سکوں، اور جس کی پست شکل کو دیکھ کر ہی قے آتی ہو، اُسے پڑھ پانے اور محظوظ ہونے سے میں قاصر ہوں۔ میرے لیے زبانِ اردو وہی ہے جو ۱۹۷۰ء کے عشرے تک کتابوں میں نظر آیا کرتی تھی، اور اُسی زمانۂ گذشتہ کی اردو زبان کو میں ‘اپنی’ زبان مانتا ہوں۔ فی زمانہ جو ‘اردو’ کے نام سے رطب و یابس منتشر ہو رہا ہے، اُسے میں ‘اپنی’ زبان نہیں مانتا اور نہ اُس سے کوئی وابستگی محسوس کرتا ہوں۔
میں اردو کے عالی ترین شاعروں اور ادیبوں کی طرح فارسیت کا عاشقِ والہ ہوں۔ جب مجھے معاصر اردو تحریروں میں فارسیت کی بجائے فرنگیت نظر آ رہی ہو تو میرے پاس اس کے بجز کوئی چارہ نہیں بچتا کہ میں کاملاً فارسی کی جانب رخ موڑ لوں کہ پھر فارسی ہی میرے شخصی مزاج اور ثقافتی نقطۂ نظر سے نزدیک رہ جاتی ہے۔
اردو سے زیادہ تو اب مجھے انگریزی زبان میں پڑھنے میں مزہ آتا ہے، کیونکہ انگریزی کتابوں میں تا حال انگریزی زبان اپنی کامل تمدنی و ثقافتی شان و شوکت اور زیبائی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے اور یہ چیز مجھے بہت لطف دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب اردو مطبوعات میں ایک ایسی پُرآلائش، فرومایہ اور عامیانہ زبان نظروں سے ٹکراتی ہے جسے کم از کم میں تو قطعاً کتابوں کے درخور اور عالی ثقافت کا ذریعہ نہیں مان سکتا۔
یہ وہ چند وجوہات ہیں جن کے باعث میں معاصر اردو سے احساساتی طور پر منقطع ہو کر فارسی زبان کو لسانی و ثقافتی لحاظ سے حبل المتین اور عروۃ الوثقیٰ مانتے ہوئے اِس کے دامن میں اپنے تمام احساسات اور آرزوؤں کے ساتھ پناہ گزیں ہو گیا ہوں۔ لیکن میری کہنہ زبانِ اردوئے معلّیٰ سے محبت بدستور جاری ہے، اور میں فارسی کی مدد سے اپنی مادری زبان کو دوبارہ اورنگِ علو پر متمکن اور بلند مقام پر نائل دیکھنا چاہتا ہوں، لہٰذا بقدرِ توانائی، اور خواہ منفعت ہو یا نہ ہو، فارسی زبان کی ترویج کی معیت میں اپنی اردو زبان کی تطہیر کرنے کی بھی انفرادی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
فارسی زندہ باد! فارسی کی ثقافتی دختر اردوئے معلّیٰ زندہ باد!


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


تاجکستان میں میر سید علی ہمدانی کی یاد منائی گئی

تاجکستان کے ضلعِ جلال الدین رومی کے ثقافتی و تفریحی باغ میں مشرق کے بزرگ عارف، ادیب، شاعر اور مفکر میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی مناسبت سے ایک ثقافتی محفل کا انعقاد ہوا۔ ضلع کی نائب رئیس مَیرمبی غفورزادہ نے سید علی ہمدانی – کہ جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شہرِ کولاب میں گذارا تھا – کی زندگی اور اُن کی گراں قدر تالیفات کے بارے میں اہلِ محفل کو معلومات دیں۔ بعد ازاں، اہلِ ثقافت اور طالب علموں نے اُن کے منتخب اشعار کی قرائت کی اور فنکاروں نے اُن کے اشعار پر مبنی اپنے ترانوں سے حاضرینِ محفل کی خاطر کو شاد کیا۔ ہم یاد دہانی کرتے چلیں، کہ رواں سال تاجکستان کی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی قرارداد سے میر سید علی ہمدانی کا سات سو سالہ جشن پورے جہاں میں منایا جائے گا۔

خبر کا منبع: تاجکستان کا سرکاری نشریہ ‘جمہوریت’
خبر کی تاریخ: ۱۹ فروری ۲۰۱۵ء

* تاجکستان کے صوبۂ ختلان کے ‘جلال الدین رومی’ نامی اس ضلعے کا پرانا نام کالخازآباد تھا، لیکن ۲۰۰۷ء میں عظیم شاعر مولانا جلال الدین رومی کے آٹھ سو سالہ جشن کے موقع پر اس ضلعے کا نام مولانا رومی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔