درِ وصفِ جنابِ مولانا – قایتاززاده محمد ناظم افندی قبرصی

(در وصفِ جنابِ مولانا)
شهِ اورنگِ هِمم حضرتِ مولانادېر
منبعِ لُطف و کرم حضرتِ مولانادېر
گلمه‌میش ذاتې گیبی مُلکِ کمالات ایچره
صاحبِ نظم و قلم حضرتِ مولانادېر
مثنوی‌سینده نیجه دُرِّ حقیقت مکنون
مالکِ گنجِ حِکم حضرتِ مولانادېر
نُطقِ پاکی دمِ عیسیٰ گیبی تأثیر ائیلر
شهِ کرّوبی‌شِِیَم حضرتِ مولانادېر
سرتاسر خلقِ جهان بندهٔ افکنده‌سی‌دیر
مفخرِ روم و عجم حضرتِ مولانادېر
گؤرمه‌میش مِثلینی عالَم‌ده همان چشمِ بشر
واقفِ سِرِّ قِدم حضرتِ مولانادېر
ناظما سن یینه اِخلاص ایله ایت اِستمداد
دافعِ رنج و الم حضرتِ مولانادېر
(قایتاززاده محمد ناظم افندی قبرصی)

اورنگِ احسان کے شاہ حضرتِ مولانا ہیں۔۔۔ منبعِ لُطف و کرم حضرتِ مولانا ہیں۔
مُلکِ کمالات کے اندر اُن کی ذات جیسا [کوئی] نہیں آیا ہے۔۔۔ صاحبِ نظم و قلم حضرتِ مولانا ہیں۔
اُن کی مثنوی میں کتنے ہی دُرِّ حقیقت پنہاں ہیں۔۔۔ مالکِ گنجِ حکمت حضرتِ مولانا ہیں۔
اُن کا نُطقِ پاک نَفَسِ عیسیٰ کی مانند تأثیر کرتا ہے۔۔۔ شاہِ کرّوبی فطرت حضرتِ مولانا ہیں۔
خلقِ جہاں سرتاسر اُن کی بندۂ حقیر ہے۔۔۔ مَفخرِ رُوم و عجم حضرتِ مولانا ہیں۔
چشمِ بشر نے عالَم میں اُن کی مِثل ہرگز نہیں دیکھی ہے۔۔۔ واقفِ رازِ قِدم حضرتِ مولانا ہیں۔
اے ناظم! تم بارِ دیگر اِخلاص کے ساتھ اِمداد طلب کرو۔۔۔ دافعِ رنج و الم حضرتِ مولانا ہیں۔
× کرُّوبی = مُقرّب فرشتہ

(Der Vasf-ı Cenâb-ı Mevlâna)
Şeh-i evreng-i himem Hazret-i Mevlânadır
Menba’-ı lutf u kerem Hazret-i Mevlânadır
Gelmemiş zâtı gibi mülk-i kemâlât içre
Sâhib-i nazm u kalem Hazret-i Mevlânadır
Mesnevîsinde nice dürr-i hakîkat meknûn
Mâlik-i genc-i hikem Hazret-i Mevlânadır
Nutk-i pâki dem-i ‘Îsâ gibi te’sîr eyler
Şeh-i kerrûbî-şiyem Hazret-i Mevlânadır
Ser-te-ser halk-ı cihân bende-i efkendesidir
Mefhar-i Rûm u ‘Acem Hazret-i Mevlânadır
Görmemiş mislini âlemde hemân çeşm-i beşer
Vâkıf-ı sırr-ı kıdem Hazret-i Mevlânadır
Nâzımâ sen yine ihlâs ile it istimdâd
Dâfi’-i renc ü elem Hazret-i Mevlânadır
(Kıbrıslı Kaytazzâde Mehmet Nâzım Efendi)

Advertisements

کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


تاجکستان میں مولانا رومی کی یاد میں ‘مولوی خوانی’ کی محفل

اہلِ ادب و ثقافت نے محفلِ ‘مولوی خوانی’ منعقد کر کے تاجکستان میں یومِ جلال الدین بلخی کو منایا۔
===============
۳۰ ستمبر کو دوشنبہ میں منائے گئے یومِ مولانا جلال الدین بلخی کے موقع پر بعض تاجک ادیبوں نے تجویز دی ہے کہ مولوی کی تعلیمات سے ملک کے جوانوں کو درست و وسیع شکل میں آگاہ کیا جائے۔ شاعر اور تاجکستانی قومی ترانے کے مؤلف گل نظر کلدی نے کہا کہ مولانا اور اُن کے آثار سے سبق آموزی، کہ جن میں اُنہوں نے ہر چیز سے افزوں تر انسان کی توصیف بیان کی ہے، آج کے تاجک جوانوں کے لیے بہت نفع رکھتی ہے۔
انہوں نے اضافہ کیا کہ مولانا جلال الدین بلخی نے بارہا اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ تمام انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی تالیفات تمام ادیان کے پیروؤں کے دلوں میں جگہ رکھتی ہیں۔ ان تاجک شاعر نے مزید کہا، "مولانا کی وفات کے دن مسلمان، نصرانی، بت پرست اور یہودی سب جمع ہو کر اُن کے تابوت کے پیچھے چل رہے تھے۔”
مرزا تورسون زادہ سے منسوب ‘خانۂ ادیباں’ میں ‘مولوی خوانی’ کے نام سے منعقد ہونے والی اس محفل میں مکاتبِ میانہ کے دانشجوؤں اور طلبہ نے اور گلوکاروں نے بھی شرکت کی اور اُنہوں نے مولانا بلخی کی چند غزلوں کو پڑھا۔
نائب وزیرِ ثقافتِ تاجکستان بنفشہ آدینہ ایوا نے کہا کہ یومِ مولانا کا منایا جانا، تاجک نابغانِ علم و ادب کی تجلیل کے لیے بنائے گئے ریاستی منصوبوں میں سے ہے۔ لیکن کچھ صاحب نظر کہتے ہیں کہ ابھی تک تاجکستان میں مولانا بلخی اور اُن کے آثار کی اُتنی قدردانی نہیں ہوئی ہے جتنی ہونی چاہیے۔ بقول اُن کے، تاجکستان میں یومِ مولانا ایک عام دن کی طرح گذر جاتا ہے اور اُن کے اندازے کے مطابق شاید اسی یا نوے فیصد باشندے بھی اس دن کے بارے میں خبر نہیں رکھتے۔
۲۰۰۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مولانا جلال الدین بلخی کے آٹھ سو سالہ جشن کے اعلان کیے جانے کے بعد سے تاجکستان ہر سال ۳۰ ستمبر کو اُن کی یاد مناتا ہے۔ اکثر مولوی شناسان کہتے ہیں تاجکستان جلال الدین رومی کا سرچشمہ یا جائے ولادت سمجھا جاتا ہے اس لیے لازم ہے کہ اُن کی تجلیل کے لیے مختص دن میں اِن عالمی شخصیت کی قدردانی کی جائے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۳۰ ستمبر ۲۰۱۴ء


تاجکستان میں میر سید علی ہمدانی کی یاد منائی گئی

تاجکستان کے ضلعِ جلال الدین رومی کے ثقافتی و تفریحی باغ میں مشرق کے بزرگ عارف، ادیب، شاعر اور مفکر میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی مناسبت سے ایک ثقافتی محفل کا انعقاد ہوا۔ ضلع کی نائب رئیس مَیرمبی غفورزادہ نے سید علی ہمدانی – کہ جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شہرِ کولاب میں گذارا تھا – کی زندگی اور اُن کی گراں قدر تالیفات کے بارے میں اہلِ محفل کو معلومات دیں۔ بعد ازاں، اہلِ ثقافت اور طالب علموں نے اُن کے منتخب اشعار کی قرائت کی اور فنکاروں نے اُن کے اشعار پر مبنی اپنے ترانوں سے حاضرینِ محفل کی خاطر کو شاد کیا۔ ہم یاد دہانی کرتے چلیں، کہ رواں سال تاجکستان کی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی قرارداد سے میر سید علی ہمدانی کا سات سو سالہ جشن پورے جہاں میں منایا جائے گا۔

خبر کا منبع: تاجکستان کا سرکاری نشریہ ‘جمہوریت’
خبر کی تاریخ: ۱۹ فروری ۲۰۱۵ء

* تاجکستان کے صوبۂ ختلان کے ‘جلال الدین رومی’ نامی اس ضلعے کا پرانا نام کالخازآباد تھا، لیکن ۲۰۰۷ء میں عظیم شاعر مولانا جلال الدین رومی کے آٹھ سو سالہ جشن کے موقع پر اس ضلعے کا نام مولانا رومی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔