تُرکِیَوی ادیب «علی نِہاد تارلان» کے ساتھ لاہور میں پیش آیا ایک دلچسپ واقعہ

"«اقبال اکادمی» کی جانب سے عظیم مُتفکّر [علّامہ اقبال] کے نام پر منعقد کردہ یادگاری جلسہ اختتام ہو گیا تھا۔ روزِ فردا پاکستان کے صدر نے شرفِ ملاقات بخشا۔ جنابِ صدر نے پوچھا کہ کیا میں لاہور – جہاں پر اقبال کا مقبرہ ہے – جا چکا ہوں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ "موسم بِسیار گرم ہے، میں جسارت نہیں کر پاتا۔” ظاہراً دو روز قبل وہاں زوردار بارشیں ہو چکیں تھیں، اور لاہور کا موسم مُعتدل ہو گیا تھا۔ اُس شب قصرِ صدارت کی طرف سے اقبال اکادمی کو اِس صورتِ حال کی اطلاع دی گئی، اور مجھ کو لاہور لے جانے کا امر فرمایا گیا۔ میں نے بھی اس موقع کو گنوانا نہ چاہا۔ روزِ فردا میری رفاقت کرنے والے محترم ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کے ساتھ میں لاہور چلا گیا۔ دانشگاہِ پنجاب کے شُعبۂ زبان و ادبیاتِ فارسی کے رئیس پروفیسر محمد باقر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں لاہور کے ایک کبیر و مُحتشَم مُسافرخانے میں ٹھہرا۔ میں اِس قدر پُرجوش، اور «اقبال» سے اِس قدر پُر تھا کہ کیا بتاؤں!
شب کے وقت میں نے اقبال کے بارے میں مثنویِ [رُومی] کے وزن میں «قونیۂ ثانی» عنوان کے ساتھ ایک نظم لِکھی۔ میں شب کو سو نہ سکا۔ صُبح کے وقت عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر مُسافرخانے میں آئے۔ میں نے جوش و ہیجان کے ساتھ اُن کو نظم سُنانا چاہی۔ ہنوز میں نے بیتِ اوّل ہی سُنائی تھی کہ وہ دونوں یک دہن ہو کر «واه واه» کہنے لگے۔
میں نے اِس چیز کو اِس طرح فہم کیا:
"یہ شخص ایک تُرک ہے۔ اِس کو خوش گُمانی ہے کہ اِس نے فارسی شاعری لِکھی ہے۔ افسوس! افسوس!۔۔” لیکن میں نے اپنی شعرخوانی کو روکا نہیں، جاری رکھا۔ چند ابیات پر وہ اِس «واه واه» کی تکرار کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ میری آواز تنگ و خفیف ہو گئی۔ میری رُوحیات مُضطرب ہو گئیں۔ ناراحتی کے باعث میں عرَق میں غرق ہو گیا۔ بالآخر نظم ختم ہو گئی۔ محمد باقر نے عبدالحمید عرفانی سے کہا: "الامان!! ہم اِس کو لاہور کے جریدوں میں شائع کریں گے۔ خارق العادت شاعری ہے!” اور مجھ سے کہا: "اِس نظم کو اپنی دست خطی سے لکھ دیجیے۔ تاکہ ہم دانشگاہ کے مجموعے میں اُس کی تصویری نقل چھاپیں۔” سوچیے میری حالت کو!۔۔۔ بعد میں مَیں سمجھا کہ یہ «واه، واه» بِسیار زیبا، آفرین کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اُس روز ہم نے مزارِ اقبال کی زیارت کی۔ ہمارے پہلو میں وہاں کے چند شُعَراء بھی موجود تھے۔ مزار میں مجھ سے نظم خوانوائی (پڑھوائی) گئی۔ بعد ازاں، پاکستان کے بُزُرگ ترین ادبی مجموعے «ہِلال» نے بھی شائع کی۔
زندگی کی طرح طرح کی تجلّیاں ہیں۔ کون کہتا کہ سالوں بعد مَیں مزارِ مولانا رُومی کے احاطے میں «اقبال» اور «نفْعی» کے نام پر ایک ایک دفتر کی تأسیس کے لیے مِلّی وزارتِ تعلیم سے رجوع کروں گا اور یہ پیش نِہاد (تجویز) قبول ہو جانے کے بعد وہ دفاتر فعالیّت کا آغاز کر دیں گے۔۔۔ اور قونیہ بھی لاہورِ ثانی ہو جائے گا۔۔۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

× تُرکی زبان میں «واه!» افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «نفْعی» = دیارِ آلِ عُثمان کے ایک مشہور شاعر کا تخلُّص

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

صدرِ پاکستان کی جانب سے علی نہاد تارلان کو دیا گیا «ستارۂ امتیاز» اُن کے سُپُرد کرتے وقت پاکستان کے سفیرِ اعلیٰ جناب س. م. حسن نے یہ فرمایا تھا:

"پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تارلان تُرکیہ کے مُمتاز ترین کلاسیکی عالموں میں سے ایک ہیں۔ وہ چالیس سالوں سے تُرکی و فارسی زبانیں سِکھا رہے اور رُبع صدی سے دانشگاہِ استانبول میں کلاسیکی تُرکی ادبیات کی کُرسیِ اُستادی پر مشغول ہیں۔ وہ فقط ایران اور پاکستان میں نہیں، بلکہ مغربی مُستشرقین کے درمیان بھی فارسی ادبیات میں صاحبِ صلاحیت کے طور پر معروف ہیں۔ اِس کے علاوہ، پروفیسر تارلان «اقبال» کے موضوع پر تُرکیہ میں اہم ترین مُتخصِّص ہونے کے ساتھ ساتھ، یہاں پاکستان کے مِلّی شاعر کو مُتعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والے شخص ہیں۔ اقبال کی تصنیفوں «پیامِ مشرق» اور «اسرار و رُموز» کا ترجمہ کرنے کے ذریعے سے اُنہوں نے پاکستان کے اِس عظیم شاعر کا پیغام ہم وطنوں کو سُنایا اور تشریح کیا ہے۔ پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان معنوی و ثقافتی رابطوں کو قوی تر کرنے کے لیے اُن کی خِدمات کے پیشِ نظر وہ ۱۹۵۷ء میں اقبال اکادمی کی جانب سے کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسۂ اقبال کی صدارت کرنے کے لیے پاکستان مدعو ہوئے تھے۔
"پروفیسر علی نہاد تارلان کی، پاکستان کے مِلّی شاعر کو برادر تُرک مِلّت سے مُتعارف کرانے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کی قدردانی میں پاکستان کے صدرِ مملکت نے کو اُن کو «ستارۂ امتیاز» سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی قابلیتوں میں تمایُز دِکھانے والے عالِموں کو دیے جانے والا یہ نشان پروفیسر علی نہاد تارلان کو دینے سے مَیں بِسیار شادمانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ نشان، باہمی تاریخی و روایتی دوستی کے رابطے رکھنے والے مُلکوں تُرکیہ اور پاکستان کو یک دیگر کے مزید نزدیک قریب لانے کی راہ میں کوششیں کرنے والے تُرک دانشوَروں کو ہمارا احترام پیش کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

جس طرح ایران پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان جغرافیائی پُل ہے، اُسی طرح زبانِ فارسی کو بھی پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان حلقۂ واصِل کہا جا سکتا ہے۔ تُرکِیہ کے ادبیات شِناسوں کی ایک کثیر تعداد فارسی زبان جانتی ہے، کیونکہ فارسی کے علم کے بغیر کلاسیکی و عُثمانی تُرکی ادبیات کا مُطالعہ قریباً ناممکن ہے۔ فارسی پاکستان اور تُرکیہ ہر دو مُلکوں کی کلاسیکی ادبی زبان ہے۔

Advertisements

مولانا رومی کی سِتائش میں کہی گئیں صائب تبریزی کی ابیات

چون نیابد نورِ فیض از روحِ پاکِ مولوی؟
شمسِ تبریز است صائب در میانِ عاشقان
(صائب تبریزی)
وہ مولوی [رُومی] کی روحِ پاک سے نُورِ فیض کیسے نہ پائے؟۔۔۔ ‘صائب’ عاشقوں کے درمیان شمسِ تبریز (تبریز کا خورشید) ہے۔

اقتدا تا به مولوی کرده‌ست
شعرِ صائب تمام عرفان است
(صائب تبریزی)
جب سے ‘صائب’ نے مولوی [رُومی] کی اقتدا کی ہے، اُس کی شاعری تمام کی تمام عِرفان ہے۔

مُریدِ مولویِ رُوم تا نشد صائب
نکرد در کمرِ عرش دست گُفتارش
(صائب تبریزی)
جب تک ‘صائب’ مولویِ رُوم کا مُرید نہ ہوا، اُس کے گُفتار نے عرش کی کمر میں دست نہ کیا۔ (یعنی تب تک اُس کی شاعری عرش تک نہ پہنچی۔)

ز شعرِ مولویِ رُوم چون بِپردازید
مُوَحِّدان غزلِ صائب انتخاب کنید
(صائب تبریزی)
اے مُوَحِّدو! جب آپ مولویِ رُوم کی شاعری سے فارغ ہو جائیں تو ‘صائب’ کی غزل مُنتخَب کیجیے گا۔

ازان ترانهٔ ما هوش می‌بَرَد صائب
که پَیروِ سُخنِ مولوی و عطّاریم
(صائب تبریزی)
اے صائب! ہمارا ترانہ اِس لیے ہوش لے جاتا ہے کیونکہ ہم مولوی [رُومی] اور عطّار [نیشابوری] کے سُخن کے پَیرو ہیں۔

هر چه می‌خواهیم صائب هست در دیوانِ او
با کلامِ مولوی زاشعارِ عالَم فارِغیم
(صائب تبریزی)
اے صائب! ہم جو بھی چیز چاہتے ہیں وہ [مولانا رُومی] کے دیوان میں ہے۔۔۔ مولوی [رُومی] کے کلام کے ہوتے ہوئے ہم اشعارِ عالَم سے فارغ و بے نیاز ہیں۔

هیچ است فکرِ صائب در پیشِ فکرِ مُلّا
با آفتابِ تابان نورِ سُها چه باشد؟
(صائب تبریزی)
مُلّا [رُومی] کی فکر کے پیش میں صائب کی فکر ہیچ ہے۔۔۔۔ آفتابِ تاباں کے مُقابل ستارۂ سُہا کے نُور کی کیا حیثیت؟

سال‌ها اهلِ سُخن باید که خونِ دل خورند
تا چو صائب آشنایِ طرزِ مولانا شوند
(صائب تبریزی)
‘صائب’ کی طرح طرزِ مولانا [رُومی] سے آشنا ہونے کے لیے اہلِ سُخن کو سالوں تک خونِ دل پینا لازم ہے۔ (یعنی سالوں تک مُسلسل خونِ دل پی کر ہی طرزِ مولانا رُومی سے آشنا ہوا جا سکتا ہے۔)

صائب از افکارِ مولانایِ رُوم
طُرفه شوری در جهان افکنده‌ای
(صائب تبریزی)
اے صائب! تم نے مولانائے رُوم کے افکار سے جہان میں ایک عجیب و نادر شور [و آشوب] برپا کر دیا ہے۔

هر فیض که می‌رسد به صائب
از رُوح پُر از فُتوحِ مُلّاست
(صائب تبریزی)
‘صائب’ کو جو بھی فَیض پہنچتا ہے وہ مُلّا [رُومی] کی روحِ پُرفُتوح سے ہے۔

× تصوُّف کی اصطلاح میں ‘فُتوح’ اُس گُشائشِ حالِ باطنی کو کہتے ہیں جو سُلوک کے مراحل میں سالِک کو نصیب ہوتی ہے۔

زمزمهٔ فکرِ من وجد و سماع آورَد
تا غزلِ مولوی‌ست سرخَطِ افکارِ من
(صائب تبریزی)
جب سے مولوی [رُومی] کی غزل میرے افکار کا سرمَشق ہے (یعنی جب سے میرے افکار مولویِ رُومی کی غزل کی تقلید و پَیروی کرتے ہیں)، میری فکر کا زیرِ لب نغمہ وجْد و سَماع برپا کر دیتا ہے۔

هنگامهٔ اربابِ سُخن چون نشود گرم؟
صائب سُخن از مولویِ رُوم دراَفکنْد
(صائب تبریزی)
اربابِ سُخن کا ہنگامہ کیوں نہ گرم ہو؟۔۔۔ [کہ] ‘صائب’ نے مولویِ رُوم کا ذِکر شروع کیا [ہے]۔

صائب فسرده‌ایم بِیا در میان فِکن
از قولِ مولوی غزلِ عاشقانه‌ای
(صائب تبریزی)
اے «صائب»، ہم افسُردہ ہو گئے ہیں۔۔۔ آؤ، مولوی [رُومی] کی کہی کوئی عاشقانہ غزل درمیان میں ڈال دو۔

از گفتهٔ مولانا مدهوش شدم صائب
این ساغرِ روحانی صهبایِ دگر دارد
(صائب تبریزی)
اے صائب! میں گُفتۂ مولانا [رُومی] سے مدہوش ہو گیا؛ یہ ساغرِ روحانی ایک دیگر ہی شراب رکھتا ہے۔

صائب تبریزی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہتے ہیں:
چنان گفت این غزل را در جوابِ مولوی صائب
که روحِ شمسِ تبریزی ز شادی در سجود آمد
(صائب تبریزی)
صائب نے اِس غزل کو مولویِ [رُومی] کے جواب میں اِس [احسن] طرز سے کہا کہ شادمانی سے شمس تبریزی کی روح سُجود میں آ گئی۔

ز خاکِ پاکِ تبریز است صائب مولدِ پاکم
از آن با عشق‌بازِ شمسِ تبریزی سخن دارم
(صائب تبریزی)
اے صائب! میرا مولدِ پاک تبریز کی خاکِ پاک سے ہے؛ اِسی لیے میری شمسِ تبریزی کے عاشق (مولانا رُومی) کے ساتھ گفتگو رہتی ہے۔
× مَولِد = جائے ولادت

صائب تبریزی کی ایک غزل کا مقطع:
صائب چو سُخن سر کند از مولویِ رُوم
شیران بِنَیارند در آن دشت چریدن
(صائب تبریزی)
‘صائب’ جب مولویِ رُوم کا ذِکر شروع کرتا ہے تو شیر [بھی] اُس دشت میں چرنے کی جُرأت و طاقت نہیں کر پاتے۔

× مصرعِ دوم مولانا رُومی کا ہے۔

صائب تبریزی کی ایک غزل کا مقطع:
این غزل صائب مرا از فیضِ مولانایِ رُوم
از زبانِ خامهٔ شکَّرفشان بی‌خواست خاست
(صائب تبریزی)
اے صائب! مولانائے رُوم کے فیض سے یہ غزل میرے قلمِ شَکَر فِشاں کی زبان سے [کسی] خواہش و اِرادے کے بغیر نِکلی ہے۔ (یعنی یہ غزل خود بخود ہی میرے قلم کی زبان پر جاری ہو گئی ہے۔)


ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ کیونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”


درِ وصفِ جنابِ مولانا – قایتاززاده محمد ناظم افندی قبرصی

(در وصفِ جنابِ مولانا)
شهِ اورنگِ هِمم حضرتِ مولانادېر
منبعِ لُطف و کرم حضرتِ مولانادېر
گلمه‌میش ذاتې گیبی مُلکِ کمالات ایچره
صاحبِ نظم و قلم حضرتِ مولانادېر
مثنوی‌سینده نیجه دُرِّ حقیقت مکنون
مالکِ گنجِ حِکم حضرتِ مولانادېر
نُطقِ پاکی دمِ عیسیٰ گیبی تأثیر ائیلر
شهِ کرّوبی‌شِِیَم حضرتِ مولانادېر
سرتاسر خلقِ جهان بندهٔ افکنده‌سی‌دیر
مفخرِ روم و عجم حضرتِ مولانادېر
گؤرمه‌میش مِثلینی عالَم‌ده همان چشمِ بشر
واقفِ سِرِّ قِدم حضرتِ مولانادېر
ناظما سن یینه اِخلاص ایله ایت اِستمداد
دافعِ رنج و الم حضرتِ مولانادېر
(قایتاززاده محمد ناظم افندی قبرصی)

اورنگِ احسان کے شاہ حضرتِ مولانا ہیں۔۔۔ منبعِ لُطف و کرم حضرتِ مولانا ہیں۔
مُلکِ کمالات کے اندر اُن کی ذات جیسا [کوئی] نہیں آیا ہے۔۔۔ صاحبِ نظم و قلم حضرتِ مولانا ہیں۔
اُن کی مثنوی میں کتنے ہی دُرِّ حقیقت پنہاں ہیں۔۔۔ مالکِ گنجِ حکمت حضرتِ مولانا ہیں۔
اُن کا نُطقِ پاک نَفَسِ عیسیٰ کی مانند تأثیر کرتا ہے۔۔۔ شاہِ کرّوبی فطرت حضرتِ مولانا ہیں۔
خلقِ جہاں سرتاسر اُن کی بندۂ حقیر ہے۔۔۔ مَفخرِ رُوم و عجم حضرتِ مولانا ہیں۔
چشمِ بشر نے عالَم میں اُن کی مِثل ہرگز نہیں دیکھی ہے۔۔۔ واقفِ رازِ قِدم حضرتِ مولانا ہیں۔
اے ناظم! تم بارِ دیگر اِخلاص کے ساتھ اِمداد طلب کرو۔۔۔ دافعِ رنج و الم حضرتِ مولانا ہیں۔
× کرُّوبی = مُقرّب فرشتہ

(Der Vasf-ı Cenâb-ı Mevlâna)
Şeh-i evreng-i himem Hazret-i Mevlânadır
Menba’-ı lutf u kerem Hazret-i Mevlânadır
Gelmemiş zâtı gibi mülk-i kemâlât içre
Sâhib-i nazm u kalem Hazret-i Mevlânadır
Mesnevîsinde nice dürr-i hakîkat meknûn
Mâlik-i genc-i hikem Hazret-i Mevlânadır
Nutk-i pâki dem-i ‘Îsâ gibi te’sîr eyler
Şeh-i kerrûbî-şiyem Hazret-i Mevlânadır
Ser-te-ser halk-ı cihân bende-i efkendesidir
Mefhar-i Rûm u ‘Acem Hazret-i Mevlânadır
Görmemiş mislini âlemde hemân çeşm-i beşer
Vâkıf-ı sırr-ı kıdem Hazret-i Mevlânadır
Nâzımâ sen yine ihlâs ile it istimdâd
Dâfi’-i renc ü elem Hazret-i Mevlânadır
(Kıbrıslı Kaytazzâde Mehmet Nâzım Efendi)


کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


تاجکستان میں مولانا رومی کی یاد میں ‘مولوی خوانی’ کی محفل

اہلِ ادب و ثقافت نے محفلِ ‘مولوی خوانی’ منعقد کر کے تاجکستان میں یومِ جلال الدین بلخی کو منایا۔
===============
۳۰ ستمبر کو دوشنبہ میں منائے گئے یومِ مولانا جلال الدین بلخی کے موقع پر بعض تاجک ادیبوں نے تجویز دی ہے کہ مولوی کی تعلیمات سے ملک کے جوانوں کو درست و وسیع شکل میں آگاہ کیا جائے۔ شاعر اور تاجکستانی قومی ترانے کے مؤلف گل نظر کلدی نے کہا کہ مولانا اور اُن کے آثار سے سبق آموزی، کہ جن میں اُنہوں نے ہر چیز سے افزوں تر انسان کی توصیف بیان کی ہے، آج کے تاجک جوانوں کے لیے بہت نفع رکھتی ہے۔
انہوں نے اضافہ کیا کہ مولانا جلال الدین بلخی نے بارہا اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ تمام انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی تالیفات تمام ادیان کے پیروؤں کے دلوں میں جگہ رکھتی ہیں۔ ان تاجک شاعر نے مزید کہا، "مولانا کی وفات کے دن مسلمان، نصرانی، بت پرست اور یہودی سب جمع ہو کر اُن کے تابوت کے پیچھے چل رہے تھے۔”
مرزا تورسون زادہ سے منسوب ‘خانۂ ادیباں’ میں ‘مولوی خوانی’ کے نام سے منعقد ہونے والی اس محفل میں مکاتبِ میانہ کے دانشجوؤں اور طلبہ نے اور گلوکاروں نے بھی شرکت کی اور اُنہوں نے مولانا بلخی کی چند غزلوں کو پڑھا۔
نائب وزیرِ ثقافتِ تاجکستان بنفشہ آدینہ ایوا نے کہا کہ یومِ مولانا کا منایا جانا، تاجک نابغانِ علم و ادب کی تجلیل کے لیے بنائے گئے ریاستی منصوبوں میں سے ہے۔ لیکن کچھ صاحب نظر کہتے ہیں کہ ابھی تک تاجکستان میں مولانا بلخی اور اُن کے آثار کی اُتنی قدردانی نہیں ہوئی ہے جتنی ہونی چاہیے۔ بقول اُن کے، تاجکستان میں یومِ مولانا ایک عام دن کی طرح گذر جاتا ہے اور اُن کے اندازے کے مطابق شاید اسی یا نوے فیصد باشندے بھی اس دن کے بارے میں خبر نہیں رکھتے۔
۲۰۰۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مولانا جلال الدین بلخی کے آٹھ سو سالہ جشن کے اعلان کیے جانے کے بعد سے تاجکستان ہر سال ۳۰ ستمبر کو اُن کی یاد مناتا ہے۔ اکثر مولوی شناسان کہتے ہیں تاجکستان جلال الدین رومی کا سرچشمہ یا جائے ولادت سمجھا جاتا ہے اس لیے لازم ہے کہ اُن کی تجلیل کے لیے مختص دن میں اِن عالمی شخصیت کی قدردانی کی جائے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۳۰ ستمبر ۲۰۱۴ء