حافظ شیرازی کی ستائش میں آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ کے اقوال

(لقب)
شاعر – محمد شمس‌الدین، به من بگو: چرا ملت بزرگ و نامی تو ترا حافظ لقب داده‌است؟
حافظ – پرسشت را پاس می‌دارم و بدان پاسخ می‌گویم: مرا حافظ نامیدند، زیرا قرآن مقدس را از بر داشتم، و چنان پرهیزکارانه آیین پیمبر را پیروی کردم که غم‌های جهان و زشتی‌های روزانهٔ آن در من و آنانکه چون من روح و معنی کلام پیمبر را دریافته‌اند اثر نکرد.
(لقب)
شاعر: محمد شمس الدین، مجھ سے کہو: تمہاری بزرگ و نامور ملّت نے کس لیے تمہیں حافظ لقب دیا ہے؟
حافظ: میں تمہارے سوال کا احترام کرتا ہوں اور اُس کا جواب دے رہا ہوں: مجھے اُنہوں نے حافظ کا نام دیا کیونکہ میرے سینے میں قرآنِ مقدّس محفوظ تھا اور میں نے طریقِ پیمبر کی اِس طرح پرہیزکارانہ پیروی کی کہ دنیا کے غموں اور اُس کی روزانہ کی بدصورتیوں نے مجھ میں، اور اُن افراد میں کہ جو میری طرح کلامِ پیمبر کی روح و معنی کو فہم کر چکے ہیں، اثر نہ کیا۔

معروف آلمانی شاعر ‘گوتِه’ اپنے دفترِ خاطرات میں حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"دارم دیوانه می‌شوم. اگر برای تسکین هیجان خود دست به غزل‌سرایی نزنم، نفوذ عجیب این شخصیت خارق‌العاده را که ناگهان پا در زندگانی من نهاده تحمل نمی‌توانم کرد.”
"میں دیوانہ ہوتا جا رہا ہوں۔ اگر میں اپنے ہیجان کی تسکین کے لیے غزل سرائی کا اِقدام نہ کروں، تو ناگہانی طور پر میری زندگی میں قدم رکھنے والی اِس خارقِ عادت شخصیت [یعنی حافظ شیرازی] کے تعجب انگیز نفوذ کو میں تحمّل نہیں کر پاؤں گا۔”

"اگر هم دنیا به سر آید، آرزو دارم که تنها، ای حافظ آسمانی، با تو و در کنار تو باشم و چون برادر توأم در شادی و غمت شرکت کنم. همراه تو باده نوشم و چون تو عشق ورزم، زیرا این افتخار زندگی من و مایهٔ حیات من است.”
"اے حافظِ ملکوتی! خواہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے، میری آرزو ہے کہ میں صرف تمہارے ساتھ اور تمہارے پہلو میں رہوں اور تمہارے برادرِ توأم کی طرح تمہاری شادی و غم میں شرکت کروں۔ تمہارے ہمراہ بادہ نوش کروں اور تمہاری طرح عشق کروں، کیونکہ یہ میری زندگی کا افتخار اور میری حیات کی اساس ہے۔
× توأم = دوقلو، جڑواں

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ناگهان با عطر آسمانی شرق و نسیم روح‌پرور ابدیت که از دشت‌ها و بیابان‌های ایران می‌وزید آشنا شدم و مرد خارق‌العاده‌ای را شناختم که شخصیت عجیبش مرا سراپا مجذوب خویش کرد.”
"میں ناگہاں مشرق کے آسمانی عطر اور ابدیت کی نسیمِ روح پروَر سے، جو ایران کے دشتوں اور بیابانوں سے آ رہی تھی، آشنا ہوا اور ایک فوق العادت شخص [حافظ شیرازی] سے واقف ہوا کہ جس کی حیرت انگیز شخصیت نے مجھ کو سراپا اپنا مجذوب کر لیا۔”

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا اپنے شعری مجموعے ‘دیوان’ کے بارے میں لکھتے ہیں:
"به ساختن جام جمی مشغولم که با آن علیٰ رغم زاهدان ریایی دنیای ابدیت را عیان خواهم دید و ره بدان بهشت جاودان که خاص شاعران غزل‌سراست خواهم بُرد تا در آنجا در کنار حافظ شیراز مسکن گزینم.”
"میں ایک [ایسا] جامِ جم بنانے میں مشغول ہوں کہ جس کے ذریعے میں، زاہدانِ ریائی کی خواہش کے برخلاف، دنیائے ابدیت کو عیاں دیکھوں گا، اور اُس بہشتِ جاوداں کی جانب راہ پیدا کروں گا جو شاعرانِ غزل سرا سے مخصوص ہے، تاکہ وہاں حافظِ شیرازی کے پہلو میں مسکن اختیار کر سکوں۔”

"ای حافظ! درین سفرِ دور و دراز، در کوره‌راهِ پُرنیشب و فراز، همه جا نغمه‌هایِ آسمانی تو رفیقِ راه و تسلّی‌بخشِ دلِ ماست؛ مگر نه راه‌نمایِ ما هر شام‌گاهان با صدایی دل‌کش بیتی چند از غزل‌هایِ شورانگیزِ تو می‌خواند تا اخترانِ آسمان را بیدار کند و ره‌زنانِ کوه و دشت را بترساند؟”
"اے حافظ! اِس دور و دراز سفر میں، [اور اِس] پُرنشیب و فراز و پُرپیچ و خم راہ میں ہر جا تمہارے آسمانی نغمے ہمارے رفیقِ راہ ہیں اور ہمارے دل کو تسلّی بخشتے ہیں؛ آیا کیا ہمارا راہنما ہر شام کے وقت دلکش صدا کے ساتھ تمہاری ہیجان انگیز غزلوں سے چند ابیات کی قرائت نہیں کرتا تاکہ آسمان کے ستاروں کو بیدار کرے اور کوہ و دشت کے رہزنوں کو خوف زدہ کرے؟”

"ای حافظ مقدس! آرزو دارم که همه جا، در سفر و حضر، در گرمابه و میخانه با تو باشم، و در آن هنگام که دلدار نقاب از رخ برمی‌کشد و با عطر گیسوان پرشکنش مشام جان را معطر می‌کند تنها به تو اندیشم تا در وصف جمال دل‌فریبش از سخنت الهام گیرم و ازین وصف حوریان بهشت را به رشک افکنم!”
"اے حافظِ مقدّس! میری آرزو ہے کہ ہر جگہ، سفر و حضَر میں، [یا] حمّام و میخانہ میں، مَیں تمہارے ساتھ رہوں، اور جس وقت کہ دلدار چہرے سے نقاب اُتارے گا اور اپنے پُرشِکن گیسوؤں کے عطر سے مشامِ جاں کو معطّر کرے گا، میں فقط تمہارے بارے میں سوچوں تاکہ اُس کے جمالِ دل فریب کی توصیف میں تمہارے سُخن سے اِلہام لوں اور اِس توصیف سے حوریانِ بہشت کو رشک میں ڈال دوں!”

"ای حافظ، همچنانکه جرقّه‌ای برای آتش زدن و سوختن شهر امپراتوران کافی‌ست، از گفتهٔ شورانگیز تو چنان آتشی بر دلم نشسته که سراپای این شاعر آلمانی را در تب و تاب افکنده‌است.”
"اے حافظ! جس طرح کہ شہنشاہوں کے شہر کو آتش لگانے اور جلانے کے لیے ایک شرارہ کافی ہے، [اُسی طرح] تمہارے ہیجان انگیز سُخنوں سے میرے دل میں اِس طرح ایک آتش بیٹھ گئی ہے کہ اُس نے اِس آلمانی شاعر کے کُل سراپا کو تب و تاب و سوز و گُداز میں ڈال دیا ہے۔”

"ای حافظ، سخن تو همچون ابدیت بزرگ است، زیرا آن را آغاز و انجامی نیست. کلام تو چون گبند آسمان تنها به خود وابسته است و میان نیمهٔ غزل تو با مطلع و مقطعش فرقی نمی‌توان گذاشت، چه همهٔ آن در حد جمال و کمال است.”
"اے حافظ! تمہارا سُخن عظیم ابدیت کی مانند ہے، کیونکہ اُس کا کوئی آغاز و انجام نہیں ہے۔ تمہارا کلام گُبندِ آسمان کی طرح فقط اپنے آپ کا تابع ہے، اور تمہاری غزل کے نصف اور اُس کے مطلع و مقطع کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ [غزل] تمام کی تمام ہی جمال و کمال کی انتہا میں ہے۔”

"حافظا، دلم می‌خواهد از شیوهٔ غزل‌سرایی تو تقلید کنم. چون تو قافیه پردازم و غزل خویش را به ریزه‌کاری‌های گفتهٔ تو بیارایم. نخست به معنی اندیشم و آن‌گاه بدان لباس الفاظ زیبا پوشم. هیچ کلامی را دو بار در قافیه نیاورم مگر آنکه با ظاهری یکسان معنایی جدا داشته باشد. دلم می‌خواهد همهٔ این دستورها را به کار بندم تا شعری چون تو، ای شاعر شاعران جهان، سروده باشم!”
"اے حافظ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری طرزِ غزل سرائی کی تقلید کروں۔ تمہاری طرح قافیہ پردازی کروں اور اپنی غزل کو تمہارے سُخن کی ریزہ کاریوں و باریکیوں سے آراستہ کروں۔ اوّلاً معنی کے لیے تفکُّر کروں اور پھر اُس کو الفاظِ زیبا کا لباس پہناؤں۔ کسی بھی لفظ کو دو بار قافیے میں نہ لاؤں، اِلّا یہ کہ وہ ظاہری لحاظ سے یکساں ہونے کے باوجود ایک جدا معنی رکھتا ہو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اِن تمام قواعد کو بروئے کار لاؤں تاکہ، اے شاعرِ شاعرانِ جہاں، میں تمہاری جیسی کوئی شاعری کر سکوں!”

کتاب: دیوانِ غربی-شرقی
نویسنده: یوهان ولفگانگ فون گوته/Johann Wolfgang von Goethe
سالِ اشاعتِ اول: ۱۸۱۹ء
مترجم: شجاع‌الدین شفا
سالِ اشاعتِ اولِ ترجمه: ۱۹۴۹ء

Advertisements

ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ کیونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


سلطان محمد فاتح کی مجلس میں حافظِ شیرازی کا ذکرِ خیر اور احمد پاشا کی بدیہہ گوئی

عُثمانی مؤلّف محمد توفیق اپنے تذکرے ‘قافلهٔ شُعَراء’ (‌۱۲۹۰ھ/۱۸۷۳ء) میں احمد پاشا کے ذیل میں لکھتے ہیں:

"یینه احمد پاشانېن بدیهیّاتېندان‌دېر که بیر گۆن فاتح سلطان محمد خانېن مجلسینده خواجه حافظې مدح و ﺍﻃﺮﺍﺀ ائدرلر و دیوانېندان تفأُّل ائیلرلر. اتفاقاً بو بیت چېقار:
آنان که خاک را به نظر کیمیا کنند
آیا بُوَد که گوشهٔ چشمی به ما کنند
احمد پاشا بِالْبِداهه:
آنان که خاک را به نظر کیمیا کنند
خاکِ جواهرِ قدمت توتیا کنند
بیتی‌نی اۏقور. حضرتِ پادشاه غایت پسند ائدر.”

ترجمہ:
احمد پاشا کی بدیہیّات میں سے ایک دیگر یہ ہے کہ ایک روز فاتح سلطان محمد خان کی مجلس میں خواجہ حافظ کی بے حساب مدح و ستائش کی جا رہی تھی اور اُن کے دیوان سے فال گیری ہو رہی تھی۔ اتفاقاً یہ بیت نِکلی:
آنان که خاک را به نظر کیمیا کنند
آیا بُوَد که گوشهٔ چشمی به ما کنند
جو افراد خاک کو [اپنی ایک] نظر سے کیمیا کر دیتے ہیں۔۔۔ کیا ایسا ہو گا کہ وہ ایک گوشۂ چشم ہماری جانب [بھی] کر دیں؟
احمد پاشا نے فی البدیہہ یہ بیت خوانی (پڑھی):
آنان که خاک را به نظر کیمیا کنند
خاکِ جواهرِ قدمت توتیا کنند
جو افراد خاک کو [اپنی ایک] نظر سے کیمیا کر دیتے ہیں۔۔۔ وہ تمہارے قدموں کی خاکِ جواہر کو [اپنی نظر] کا سُرمہ کرتے ہیں۔
حضرتِ پادشاہ کو [یہ بیت] نہایت پسند آئی۔

لاطینی رسم الخط میں:
Yine Ahmed Paşanın bedîhiyyâtındandır ki bir gün Fâtih Sultân Mehmed Hân’ın meclisinde Hâce Hâfız’ı medh ve ıtrâ ederler ve dîvânından tefe’ül eylerler. İttifâken bu beyt çıkar:
Ânân ki hâk-râ be-nazar kîmyâ konend
Âyâ buved ki gûşe-i çeşmî be-mâ konend
Ahmed Paşa bi’l-bedâhe:
Ânân ki hâk-râ be-nazar kîmyâ konend
Hâk-i cevâhir-i kademet tûtyâ konend
beytini okur. Hazret-i pâdişâh gâyet pesend eder.


امیر خسرو، حافظ، اور جامی کی ستائش میں کہا گیا امیر علی شیر نوائی کا قطعہ

اوچ کیشی‌نینگ سۉزی نشئه و معنی‌سی‌دین اۉز سۉزی‌ده چاشنی اثبات قیلماق و بو معنی‌دین مباهات قیلماق

غزل‌ده اوچ کیشی طوری‌دور اول نوع
کیم آن‌دین یخشی یۉق نظم احتمالی
بیری مُعجز بیان‌لیغ ساحرِ هند
که عشق اهلینی اۉرتر سۉز و حالی
بیری عیسیٰ نفَس‌لیک رندِ شېراز
فنا دَیری‌ده مست و لااُبالی
بیری قُدسی اثرلیک عارفِ جام
که جامِ جم‌دورور سینغان سفالی
نوایی نظمی‌غه باقسانگ، اېمس‌تور
بو اوچ‌نینگ حالی‌دین هر بَیتی خالی
همانا کۉزگودور کیم عکس سالمیش
انگه اوچ شۉخ مه‌وش‌نینگ جمالی
(امیر علی‌شیر نوایی)

تین اشخاص کے سُخن کے نشہ و معنی سے اپنے سُخن میں چاشنی [ہونے] کا اثبات کرنا اور اِس موضوع پر فخر کرنا

غزل میں تین اشخاص کی طرز اُس طرح کی ہے کہ اُن سے بہتر نظم و شاعری کا احتمال نہیں ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک مُعجز بیاں ساحرِ ہند [امیر خسرو] ہے کہ جس کا سوز و حال اہلِ عشق کو سوزاں کرتا ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک عیسیٰ نفَس رندِ شیراز [حافظ] ہے، جو دَیرِ فنا میں مست و لااُبالی ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک قُدسی نشاں عارفِ جام [جامی] ہے، کہ جس کا شکستہ جامِ سفال [بھی] جامِ جم ہے۔۔۔ اگر تم نوائی کی نظم کی جانب نگاہ کرو [تو تمہیں معلوم ہو گا کہ] اُس کی کوئی بھی بیت اِن تینوں کے حال و کیفیّت سے خالی نہیں ہے۔۔۔ یقیناً وہ [ایک] آئینے [کی مانند] ہے کہ جس پر [اُن] تین ماہ وَشانِ شوخ کے جمال نے عکس ڈالا ہے۔

UCH KISHINING SO’ZI NASH’A VA MA’NISIDIN O’Z SO’ZIDA CHOSHNI ISBOT QILMOQ VA BU MA’NIDIN MUBOHOT QILMOQ

G’azalda uch kishi tavridur ul nav’
Kim, andin yaxshi yo’q nazm ehtimoli.
Biri mu’jiz bayonlig’ sohiri hind
Ki, ishq ahlini o’rtar so’zu holi.
Biri Iso nafaslik rindi Sheroz,
Fano dayrida mastu louboli.
Biri qudsi asarlik orifi Jom
Ki, jomi Jamdurur sing’an safoli.
Navoiy nazmig’a boqsang, emastur,
Bu uchning holidin har bayti xoli.
Hamono ko’zgudurkim, aks solmish,
Anga uch sho’x mahvashning jamoli.


فارسی اور اردو کی باہمی قرابت کا ایک فائدہ

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت و نزدیکی کا ایک فائدہ یہ ہے اگر فارسی سے نابلَد اردو داں شخص کے پیش میں کوئی فارسی بیت اردو ترجمے کے ساتھ رکھ دی جائے تو وہ فارسی سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے کے باوجود فارسی بیت کی شیریں زبانی اور عالی معنائیت سے بطورِ وافر محظوظ و لذّت اندوز ہو جاتا ہے اور کئی ساعتوں تک اُس شاعری کے سِحر میں مُبتلا رہتا ہے۔ بہ علاوہ، ترجمہ و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد وہ فارسی بیت اُس اردو داں شخص کو اپنی ہی زبان جیسی مانوس لگنے لگتی ہے، اور بہ آسانی یاد بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ذرا تصوُّر کیجیے کہ اگر فارسی شاعری میں دلچسپی رکھنے والا اردو داں فرد زبانِ فارسی کو بھی کماحقُّہُ جان لے تو عظیم فارسی شاعری سے اُس کی لذّت گیری میں کس حد تک اضافہ ہو جائے گا اور شعرِ فارسی سے حِظ یابی کا عالَم اُس کے لیے کیا سے کیا ہو جائے گا؟ یقیناً ویسا شخص بھی پس امام بخش ناسخ کی مانند مُسلسل یہی کہتا رہے گا کہ:
مست ناسخ مجھے رکھتا ہے کلامِ حافظ
میرے ساغر میں بجز بادۂ شیراز نہیں

فارسی زبان و ادبیات زندہ باد!


چو شاهی‌ات هوس است، از خودی جدا می‌باش – امیر نظام‌الدین علی‌شیر نوایی فانی (مع اردو ترجمہ)

چو شاهی‌ات هوس است، از خودی جدا می‌باش
گدایِ درگهٔ میخانهٔ فنا می‌باش
نگویمت به رقیبان مباش، ای مه، لیک
ز رویِ مِهر و وفا هم گهی به ما می‌باش
هوایِ صاف و مَیِ صاف و ساقیِ صافی
تو هم به اهلِ صفا، بر سرِ صفا می‌باش
دلا، گرت هوسِ تخت و تاجِ سلطنت است
به خاکِ درگهٔ پیرِ مُغان گدا می‌باش
رِضای خالق و مخلوق اگر همی‌خواهی
چه آیدت ز قضا، بر سرِ رضا می‌باش
گرت به گلشنِ کویش نِشیمن است مراد
چو خاکِ راه شو و پی‌روِ صبا می‌باش
به رند، رند شو اندر موافقت، ای دل
به پارسا چو فتد کار، پارسا می‌باش
اگر به دردِ دلِ خود دوا همی‌طلبی
به درد خو کن و آزاد از دوا می‌باش
شهی و رفعت اگر آرزو کنی، فانی
غلامِ حافظ و خاکِ جنابِ جامی باش
(امیر علی‌شیر نوایی فانی)

ترجمہ:
اگر تمہیں شاہی کی آرزو ہے تو خودپسندی و انانیت سے دور رہو اور درگاہِ میخانۂ فنا کے گدا بنے رہو۔
اے ماہ! میں تم سے [یہ] نہیں کہتا کہ رقیبوں کے ساتھ نہ رہو، لیکن از روئے مِہر و وفا کبھی ہمارے ساتھ بھی رہا کرو۔
صاف ہوا، صاف شراب اور ایک صاف دل ساقی [موجود ہیں]؛ تم بھی اہلِ صفا کے ساتھ باصفا رہو۔
اے دل! اگر تمہیں تخت و تاجِ سلطنت کی آرزو ہے تو پیرِ مُغاں کی درگاہ کی خاک پر گدا بنے رہو۔
اگر تمہیں خالق و مخلوق کی رِضا کی خواہش ہے تو قضا کی طرف سے جو کچھ بھی تمہاری جانب آئے، اُس پر راضی رہو۔
اگر تمہیں اُس کے کوچے کے گلشن میں نِشیمن کی خواہش ہے تو خاکِ راہ کی مانند ہو جاؤ اور صبا کی پیروی کرتے رہو۔
اے دل! رند کے ساتھ موافقت میں رند بن جاؤ، اور جب پارسا کے ساتھ سر و کار پڑے تو پارسا بنے رہو۔
اگر تمہیں اپنے دردِ دل کی دوا کی طلب ہے تو درد کی عادت کر لو اور دوا سے آزاد رہو۔
اے فانی! اگر تمہیں شاہی و بلندی کی آرزو ہے تو حافظ کے غلام اور آستانۂ جامی کی خاک بن جاؤ۔

× یہ غزل حافظ شیرازی کی غزل ‘به دورِ لاله قدح گیر و بی‌ریا می‌باش‘ کے تتبّع میں لکھی گئی ہے۔
× رکن‌الدین همایون‌فرخ کی تصحیح میں ‘چه آیدت ز قضا…’ کی بجائے ‘چو آیدت ز قضا…’ درج ہے، یعنی ‘قضا کی طرف سے جب تمہاری جانب [کچھ] آئے’۔
× رکن‌الدین همایون‌فرخ کی تصحیح میں ‘…خاکِ جنابِ جامی باش’ کی بجائے ‘…خاشاکِ راهِ جامی باش’ ہے، یعنی ‘جامی کی راہ کا خاشاک بن جاؤ’۔


تاریخِ وفاتِ خواجه حافظ شیرازی – محمد حسن مسعودی خراسانی

فارس را پایه بلند است و سزد از دو وجود
به جهان فخر و مُباهات نماید شیراز
سعدی و حافظِ وی را نبوَد هیچ نظیر
نه به ایران نه به توران نه به هند و نه حجاز
در غزل این دو بزرگ آمده استادِ همه
که به شیرین‌سخنی هر دو ندارند انباز
غزلِ سعدی آرد دل و جان را به نشاط
نظمِ حافظ بدهد جان سویِ جانان پرواز
غزلِ حافظِ شیرین‌سخن الهام بوَد
دیگران را نبوَد راه به این طرز و طراز
سعدی آموخته از پیرِ خرد رازِ سخن
حافظ از عشق که با حُسن بوَد محرمِ راز
بود او حافظِ قرآن و عجب نیست که او
بهره بگرفته از آن گنجِ سراسر اعجاز
او مَلَک بوده و فردوسِ برین جایش بود
چند روزی سفری کرد به این مُلکِ مجاز
گوهرِ خویش در این مُلک خریدار ندید
بُرد گوهر سوی آن مُلک که بگرفت آغاز
روحِ پاکش که سفر کرد سوی عالمِ قدس
خاکیان را همه افکند به سوز و به گداز
هاتفِ غیب پَیِ رحلتِ او گفت بگو
"وی مَلَک بود به فردوسِ برین آمد باز”
۷۹۲ هجری

(محمد حسن مسعودی خراسانی)

ترجمہ:
فارس کا پایہ بلند ہے؛ اور زیب دیتا ہے کہ دو شخصیتوں کے باعث شیراز دنیا میں فخر و مُباہات کرے۔
اُس کے سعدی و حافظ کی کوئی نظیر نہیں ہے؛ نہ ایران میں، نہ توران میں، نہ ہند میں، نہ حجاز میں۔
غزل میں یہ دو برزگ سب کے استاد ہیں؛ کیونکہ شیریں سخنی میں دونوں کا کوئی شریک نہیں ہے۔
سعدی کی غزل دل و جان کو شادمان و مسرور کرتی ہے؛ جبکہ حافظ کی نظم جان کو جاناں کی طرف پرواز دیتی ہے۔
حافظِ شیریں سخن کی غزل الہام ہے؛ دیگروں کو اِس طرز و روش تک رسائی نہیں ہے۔
سعدی نے پیرِ خرد سے رازِ سخن سیکھا تھا؛ جبکہ حافظ نے عشق سے، کہ جو حُسن کے ساتھ محرمِ راز ہے۔
وہ حافظِ قرآن تھے، اور عجب نہیں ہے کہ اُنہوں نے اُس سرتاسر اعجاز خزانے سے بہرہ حاصل کیا تھا۔
وہ فرشتہ تھے اور فردوسِ بریں اُن کی جا تھی؛ اُنہوں نے اِس مُلکِ مجاز میں چند روز ذرا سفر کیا تھا۔
اِس مُلک میں انہوں نے اپنے گوہر کا خریدار نہ دیکھا؛ وہ اپنے گوہر کو اُس مُلک کی جانب لے گئے جہاں سے اُنہوں نے آغاز کیا تھا۔
اُن کی روحِ پاک نے جب عالَمِ قدس کی جانب سفر کیا تو اُس نے تمام خاکیوں کو سوز و گداز میں مبتلا کر دیا۔
ہاتفِ غیب نے اُن کی رحلت کے بعد کہا کہ کہو: "وہ فرشتہ تھے اور وہ فروسِ بریں میں واپس آ گئے۔”