رجب طیب اردوغان کی زبان سے جنابِ حافظ شیرازی کی ایک بیت کی قرائت

صدرِ مملکتِ تُرکیہ «رجب طیّب اردوغان» نے صدرِ مملکتِ ایران «حسن روحانی» کی معیت میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۸ء کو انقرہ میں منعقد ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جنابِ «حافظ شیرازی» کی ایک بیت کی فارسی میں قرائت کی:

"ہم نے اپنی گفتگو و سُخن رانی (تقریر) کا آغاز «نظامی» سے کیا تھا، اور اب میں چاہتا ہوں کہ ہم اِس کا اختتام «حافظِ شیرازی» کے ساتھ کریں۔ ہمارے جُغرافیائی خِطّے کے ایک عظیم شاعر «حافظِ شیرازی» کہتے ہیں کہ:

درختِ دوستی بِنْشان، که کامِ دل به بار آرد
نهالِ دشمنی برکَن، که رنجِ بی‌شمار آرد
(حافظ شیرازی)
دوستی کا درخت بوؤ کہ یہ آرزوئے دل کا میوہ لاتا ہے (یعنی اِس کے باعث آرزو و مُرادِ دل برآوردہ ہوتی ہے)۔۔۔ دُشمنی کا نِہال (پودا) اُکھاڑ دو کہ یہ بے شُمار رنج لاتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے۔

یاددہانی: اِس مُراسلے کو اِرسال کرنے کا سبب زبان و شعرِ پارسی اور حافظِ شیرازی سے محبّت ہے، اردوغان یا اُس کی سیاست کی حمایت و مُخالفت نہیں ہے۔

===============

پس نوشت: رجب طیّب اردوغان نے اپنی اِس تقریر کا آغاز جنابِ «نظامی گنجوی» کی اِس حمدیہ بیت سے کیا تھا:
ای نامِ تو بهترین سرآغاز
بی نامِ تو نامه کَی کنم باز
اے کہ تمہارا نام بہترین دیباچہ و آغاز ہے، میں تمہارے نام کے بغیر کتاب و نامہ کب کھولتا ہوں/ کھولوں گا؟

ویڈیو دیکھیے۔

Advertisements