"میر سید علی ہمدانی زبانِ فارسی کے مبلغ تھے”

"میر سید علی ہمدانی کی بے نظیر شخصیت اور پُرثروت تالیفات زمانوں سے اہلِ علم و دانش کی توجہ کو جلب کرتی آ رہی ہیں۔” یہ بات آج شہرِ دوشنبہ میں عالموں اور دانشمندوں کی موجودگی میں منعقد ہونے والے موتمر ‘میر سید علی ہمدانی کا عالمی تمدن میں مقام’ کے دوران کہی گئی۔
مذکورہ موتمر بزرگ مفکر میر سید علی ہمدانی کے سات سو سالہ جشن کے افتخار میں وزارتِ ثقافتِ تاجکستان کی تحقیق گاہِ علمیِ و تدقیقاتیِ ثقافت و اطلاعات کی کوششوں سے منعقد ہوا۔ موتمر کے آغاز میں تحقیق گاہ کے مدیر شریف کامل زادہ نے کہا کہ اس موتمر کا ہدف مشرق زمین کے مفکر میر سید علی ہمدانی کی غنی میراث سے آشنائی ہے۔
اکادمیِ علومِ جمہوریۂ تاجکستان کے نائب معتمدِ اعلیٰ میرزا مُلّا احمد اوف نے کہا: "حکومتِ جمہوریۂ تاجکستان کی قرارداد سے رواں سال میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی تجلیل مشرق زمین کے اس مفکرِ بزرگ کے احوال و اثار کو عمیق تر پہچاننے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نیز، عظیم شاعر و عارف کے افکار و خیالات کی تحقیق و آموزش کے نتیجے میں ہم میر سید علی ہمدانی کی تالیفات کی انسان دوستانہ اور اخلاقی جہات پر بیشتر توجہ کر کے اُن کے بہترین خیالات کو مردم تک پہنچا رہے ہیں، کیونکہ یہ عمل نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے بہت اہم ہے۔”
موتمر میں مشہور تاجک دانشمندوں میرزا مُلّا احمد، عسکر علی رجب اوف، جمال الدین سعیدزادہ اور دیگروں نے ‘میر سید علی ہمدانی کے انسان دوستانہ خیالات’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اُن کے زمانے کی ثقافت’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اقبالِ لاہوری’ جیسے موضوعات پر اور اِن بزرگ مفکر کے زمانے اور تالیفات کے دیگر پہلوؤں پر گفتگو کی۔ کہا گیا کہ میر سید علی ہمدانی کی تعلیمات قیمتی افکار کی حامل ہیں اور یہ جمہوریت، پاکیزگیِ اخلاق، تشکیلِ شخصیتِ انسان، اور دیگر خوب فضائل کی راہ میں بڑا کردار ادا کریں گی۔
میر سید علی ہمدانی ایک معروف ملّی، ثقافتی اور عرفانی شخصیت ہیں۔ وہ ایران کے شہر ہمدان میں متولد ہوئے، کشمیر میں شہرت مند ہوئے، اور حالیہ تاجکستان میں واقع خطۂ ختلان میں مدفون ہیں۔ یعنی اُنہوں نے تین قلمروؤں کو باہم متصل کیا ہے۔ یہ بزرگ مفکر خطۂ کشمیر میں مبلغِ اسلام ہونے کے ہمراہ، وہاں فارسی زبان اور تاجکوں کے تمدن کے ترغیب گروں میں سے ایک تھے۔
موتمر کے اختتام پر میر سید علی ہمدانی سے مربوط تصنیفات و ادبیات کی فہرست کی رونمائی کی گئی، اور اِن بزرگ مفکر کی تالیفات نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔

خبر کا ماخذ: تاجک اخبار ‘خاور’
خبر کی تاریخ: ۴ اگست ۲۰۱۵ء
خبرنگار: مرضیہ سعیدزادہ
مترجم: حسان ضیاء خان

× موتمر = کانفرنس


کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں استاد صدرالدین عینی کی یاد میں کتابی نمائش کا انعقاد

۲۳ اپریل کو کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں معاصر تاجک ادبیات کے بانی صدرالدین عینی کی خاطرات کی تکریم میں کتاب خانے کے شعبۂ ترویج و انعقادِ تقریباتِ ثقافتی کی کوششوں سے استاد عینی کی کتابوں کی نمائش تشکیل کی گئی۔
نمائش بینوں نے پچھلے سالوں کی نشر شدہ کتابوں کے ہمراہ استادِ مرحوم کی تازہ نشر کتب ‘مرگِ سودخور’، ‘مکتبِ کہنہ’، ‘گلِ سرخ’، اور ‘نمونۂ ادبیاتِ تاجک’ کا نظارہ کیا اور اُن کی ورق گردانی کی۔
اس نمائش میں دانشوروں کی جانب سے مختلف سالوں میں استاد عینی کے بارے میں لکھی جانے والی اور ملک و بیرونِ ملک کے طبع خانوں میں نشر ہونے والی کتابیں بھی رکھی گئی تھیں، جن میں خاص طور پر پروفیسر خدای نظر عصازادہ کی کتابوں ‘زندگی نامہ و آثارِ صدرالدین عینی’ اور ‘صدرالدین عینی ہمارے درمیان ہیں اور رہیں گے’ اور نرگس اسلان اووا کی کتاب ‘صدرالدین عینی کے ادبی و جمالیاتی نظریات’ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
استاد صدرالدین عینی زمانۂ معاصر میں کشورِ تاجکستان کی بزرگ ترین ثقافتی شخصیات میں سے ہیں کہ جن کی ادبیات و ثقافت کی ترقی اور احیائے ملّی کے لیے انجام دی گئی لائقِ احترام خدمتوں کی قدردانی کے لیے اُنہیں ‘قہرمانِ تاجکستان’ کے افتخاری لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۸ اپریل ۲۰۱۵ء

× قہرمان = ہیرو


قرغیز دارالحکومت بشکیک میں سعدی شیرازی کو یاد کیا گیا

اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی جانب سے ‘یومِ سعدی’ کی مناسبت سے قرغیزستان کے عالموں، شاعروں، اور سرکاری و عوامی شخصیات کی معیت میں ایک علمی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں سخن سرائے بے نظیرِ تاجک و فارس شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے آثار و روزگار کے گوناگوں پہلوؤں کے بارے میں اظہارِ نظر کیا گیا۔
اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے رئیس اکبر رِسقُلوف نے اس نشست کے افتتاح کے ضمن میں تاجک/فارس ثقافت و ادبیات کو عالمی میدان میں اہم مقام کا حامل بتلایا اور اس تمدن کے بزرگوں کی تالیفات کے قرغیزی زبان میں ترجمے اور نشر کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا۔
استاد رودکی کے نام پر قائم انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کے نائب رئیس اور تاجک نشریے ‘پیامِ الاتاؤ’ کے مدیرِ اعلیٰ قادرشاہ مروت نے حاضرین کے سامنے تاجکستان میں شیخ سعدی کی تالیفات کی تعلیم اور نشر کے مورد میں گفتگو کی۔ اُنہوں نے معاصر تاجکستانی معاشرے میں ان بزرگ شاعر و عارف کی حیثیت کو گراں بہا پکارتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ تاجکستان میں طفلِ مکتب خواں سے لے کر شہر و دیہات کے بزرگ سالوں تک، ہر کوئی سعدی کے اشعار اور اُن کی شخصیت کو جانتا ہے اور دوست رکھتا ہے۔
اس محفل میں قرغیزستان کے تاجک دانشور عبدالحلیم رحیم جانوف نے ‘تالیفاتِ شیخ سعدی میں انسان دوستی’ کے موضوع پر خطاب کیا۔ نیز، قرغیزستان میں سفارتِ ایران کے ثقافتی شعبے کے رہبر علی کبریازادہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران کی مالی کمک سے حال ہی میں ‘گلستانِ سعدی’ اولین بار قرغیزی زبان میں ترجمہ اور نشر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تالیف کا ترجمہ مشہور قرغیز مترجم کُوبانیچ بیک باسِل بیکوف کی کوششوں سے انجام کو پہنچا ہے اور اب قرغیز قارئین سعدی کی اس تالیف کو اپنی مادری زبان میں پڑھنے کا امکان رکھتے ہیں۔
قرغیزستان کے عوامی شاعروں حسن ژاکشِلیکوف اور مریم ابوالقاسم اووا، جمہوریۂ قرغیزستان کی روسی شاعرہ سویتلانا سُسلووا، اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی رکن شائستہ روشن اور چند دیگر افراد نے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کی زندگی، اُن کے مقام، اُن کی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں، اور اُن کی لازوال تالیفات کے قرغیز ادبیات پر اثر کے بارے میں سخن فرمایا اور تمام علاقہ مندانِ شعر و ادب کو یومِ سعدی کی تبریکات پیش کیں۔
بعد ازاں، دانشگاہِ بیشکک میں فارسی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اس محفل میں ان شاعرِ بزرگ کی غزلوں کی اصل فارسی زبان میں قرائت کی۔
صدارتِ اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے مشورے کے تحتِ نظر اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کی ہمکاری میں بہت جلد بشکیک میں معاصر تاجک شاعری پر گفتگو کرنے کے لیے ایک ادبی نشست منعقد کی جائے گی۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۴ اپریل ۲۰۱۵ء


تاجکستان میں مولانا رومی کی یاد میں ‘مولوی خوانی’ کی محفل

اہلِ ادب و ثقافت نے محفلِ ‘مولوی خوانی’ منعقد کر کے تاجکستان میں یومِ جلال الدین بلخی کو منایا۔
===============
۳۰ ستمبر کو دوشنبہ میں منائے گئے یومِ مولانا جلال الدین بلخی کے موقع پر بعض تاجک ادیبوں نے تجویز دی ہے کہ مولوی کی تعلیمات سے ملک کے جوانوں کو درست و وسیع شکل میں آگاہ کیا جائے۔ شاعر اور تاجکستانی قومی ترانے کے مؤلف گل نظر کلدی نے کہا کہ مولانا اور اُن کے آثار سے سبق آموزی، کہ جن میں اُنہوں نے ہر چیز سے افزوں تر انسان کی توصیف بیان کی ہے، آج کے تاجک جوانوں کے لیے بہت نفع رکھتی ہے۔
انہوں نے اضافہ کیا کہ مولانا جلال الدین بلخی نے بارہا اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ تمام انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اُن کی تالیفات تمام ادیان کے پیروؤں کے دلوں میں جگہ رکھتی ہیں۔ ان تاجک شاعر نے مزید کہا، "مولانا کی وفات کے دن مسلمان، نصرانی، بت پرست اور یہودی سب جمع ہو کر اُن کے تابوت کے پیچھے چل رہے تھے۔”
مرزا تورسون زادہ سے منسوب ‘خانۂ ادیباں’ میں ‘مولوی خوانی’ کے نام سے منعقد ہونے والی اس محفل میں مکاتبِ میانہ کے دانشجوؤں اور طلبہ نے اور گلوکاروں نے بھی شرکت کی اور اُنہوں نے مولانا بلخی کی چند غزلوں کو پڑھا۔
نائب وزیرِ ثقافتِ تاجکستان بنفشہ آدینہ ایوا نے کہا کہ یومِ مولانا کا منایا جانا، تاجک نابغانِ علم و ادب کی تجلیل کے لیے بنائے گئے ریاستی منصوبوں میں سے ہے۔ لیکن کچھ صاحب نظر کہتے ہیں کہ ابھی تک تاجکستان میں مولانا بلخی اور اُن کے آثار کی اُتنی قدردانی نہیں ہوئی ہے جتنی ہونی چاہیے۔ بقول اُن کے، تاجکستان میں یومِ مولانا ایک عام دن کی طرح گذر جاتا ہے اور اُن کے اندازے کے مطابق شاید اسی یا نوے فیصد باشندے بھی اس دن کے بارے میں خبر نہیں رکھتے۔
۲۰۰۷ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے مولانا جلال الدین بلخی کے آٹھ سو سالہ جشن کے اعلان کیے جانے کے بعد سے تاجکستان ہر سال ۳۰ ستمبر کو اُن کی یاد مناتا ہے۔ اکثر مولوی شناسان کہتے ہیں تاجکستان جلال الدین رومی کا سرچشمہ یا جائے ولادت سمجھا جاتا ہے اس لیے لازم ہے کہ اُن کی تجلیل کے لیے مختص دن میں اِن عالمی شخصیت کی قدردانی کی جائے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۳۰ ستمبر ۲۰۱۴ء


تاجکستان میں یومِ رودکی منایا گیا

تاجکستان میں ۲۲ ستمبر بارہ سالوں سے یومِ رودکی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس سال اس موقع کی مناسبت سے ‘رودکی اور ادبیاتِ تاجک و فارس میں روایت پسندی’ کے نام سے ایک علمی نشست منعقد ہوئی۔
—————
کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں ادبیاتِ فارس و تاجک کے اساس گذار ابوعبداللہ رودکی کی تجلیل میں ‘رودکی اور ادبیاتِ تاجک و فارس میں روایت پسندی’ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی مذاکرہ منعقد ہوا۔
اکادمیِ علومِ تاجکستان، مشاورتِ فرہنگیِ ایران، اور کتاب خانۂ ملی کی کوششوں سے برپا ہونے والی اس محفل میں تاجکستان، ایران، افغانستان، ہندوستان، اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالموں اور شاعروں نے "رودکی اور ملی شناخت”، "رودکی – شاعرِ تاثیر گذار”، "استاد رودکی کے نایافتہ اشعار”، اور "رودکی اور اُس کے ہم عصروں میں مثنوی کا رواج” جیسے موضوعات پر تقریریں کیں۔
اسی طرح آج تاجکستان کے مکاتب و جامعات میں اس حوالے سے رودکی خوانی کی محفلیں منعقد کی گئیں۔
مآخذ کے مطابق، ابوعبداللہ جعفر ابنِ محمد رودکی ۸۵۸ء میں موجودہ ضلعِ پنجکنت میں واقع پنج رُود گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی دولتِ سامانیان کے عروج کے دوران بسر کی تھی، اور بالخصوص نصر ابن احمد سامانی کی امارت کے دوران وہ اس حاکم خانوادے کے بہت موردِ مرحمت و اکرام رہے اور اُنہوں نے بخارا میں دربار سے وابستہ رہ کر اپنے ایام گذارے۔ سامانیوں نے رودکی کو اُس دور کا توانا ترین شاعر مانتے ہوئے ‘ملک الشعراء’ کا لقب دیا تھا۔ لیکن رودکی اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی جائے تولد پنج رُود لوٹ گئے اور ۹۴۱ء میں اسی جگہ انتقال فرما کر دفن ہوئے۔
تاجکستان میں ۲۰۰۲ء سے اب تک ہر سال ۲۲ ستمبر رودکی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یومِ رودکی کے نام سے جانے والا یہ دن معمولاً مذاکرے، علمی صحبتیں، اور اہلِ فرہنگ و ادب سے ملاقاتیں ترتیب دے کر منایا جاتا ہے۔ تاجک ثقافت پرور ان کوششوں کو معاشرے میں رودکی کا مقام اونچا کرنے اور نوجوان نسل میں اس توانا شاعر کی اور اس کے آثار کی شناخت بیشتر کرنے کے لیے اچھا موقع سمجھتے ہیں۔
تاجکستان میں اس شخصیت کی یاد اور خراجِ تحسین کے لیے ایک ضلع، زبان و ادبیات کی تحقیق گاہ، شہرِ کولاب کی جامعہ، کچھ علمی و ثقافتی مؤسسات، اور کچھ مکتبوں اور کوچوں کے نام رودکی کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ پدرِ شعرِ فارسی کے نام سے معروف رودکی کے مجسمے بھی بعض تعلیمی و ثقافتی مؤسسات کے نزدیک نصب ہیں، جن میں سے دارالحکومت دوشنبہ کے مرکز میں واقع باغِ رودکی میں اور زراعتی جامعہ کے نزدیک میدان میں موجود مجسموں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ نیز، دارالحکومت کی مرکزی شارع کا نام بھی رودکی سے منسوب ہے۔ اسی طرح ادب و فرہنگ کے زمرے میں دیے جانے والے تاجکستان کے ریاستی اعزاز کا نام بھی رودکی کے نام پر ہے جو ہر سال تاجک ادیبوں اور ہنرمندوں کی بہترین تخلیقات پر عطا کیا جاتا ہے۔

رودکی کے بعض پراکندہ اشعار ہی زمانے کی دست برد سے محفوظ رہ سکے ہیں۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۲۲ ستمبر ۲۰۱۴ء


صدیقہ بلخی: امیر علی شیر نوائی اور اُن کے نام پر منعقد ہونے والے مؤتمر کا مشترک ہدف محبت کے بیج بونا تھا

افغانستان کی رکنِ ایوانِ بالا صدیقہ بلخی نے اخبار کے خبرنگار سے اپنی گفتگو کے دوران مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں میدانِ ادب و ثقافت کے مفکروں کے ایک جگہ جمع ہونے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور انہوں نے اس موقع کو مؤتمر میں شریک افغانستانی مفکروں کے لیے بہت قیمتی اور مفید شمار کیا۔
امیر علی شیر نوائی مؤتمر کی مہمانِ خصوصی نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے مہمانوں کے مابین احساسِ محبت کی ایجاد کو امیر علی شیر نوائی کی اصل خواہش اور تمدنی میدان کے علماء کی باہمی نشست کا منطقی نتیجہ سمجھا۔
اس طرح کے جلسوں کی اہمیت کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر اُنہوں نے جواب دیا: "زمانۂ حاضر میں خطے کے ہمسایہ اور مسلمان و ہم زبان ممالک ایک دوسرے کے تفکروں اور خیالات کے حامی ہیں۔ اگر خطے کے لوگوں کو امیر علی شیر نوائی جیسی کسی شخصیت سے اُس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح کے تعارف کے وہ مستحق ہیں تو وہ شخصیت باہمی نزدیکی کا محور بن سکتی ہے۔”
انہوں نے اضافہ کیا: "امیر علی شیر نوائی ایک ازبک، افغانستانی یا ایرانی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس خطے کی دیگر تاریخی شخصیات مثلاً خواجہ عبداللہ انصاری، سنائی غزنوی، اور مولانا بلخی رومی کی طرح ایک ماورائے سرحد فرد ہیں جو کسی خاص ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔”
صدیقہ بلخی نے امیر علی شیر نوائی کی ذات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اُنہوں نے کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق کو اپنی تالیفات کی فضائے فکر سے خارج کر دیا تھا اور آج اُن کی یاد میں اس مؤتمر کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ اس منطقے اور منطقے کے باہر بھی تمدنی نزدیکی کے لیے اُن کی تدبیریں کامیاب رہی ہیں۔”
افغانستان کی اس سیاسی-ثقافتی شخصیت نے کہا: "امیر علی شیر نوائی جیسے لوگ مشترکہ عوامی شخصیتیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کی اختصاصی ملکیت نہیں ہیں۔ ان جیسے لوگوں کے افکار و خیالات اس تمدنی علاقے کے مختلف ملکوں کے جوانوں کو متوجہ کرنے اور اُن میں باہمی نزدیکی کا جذبہ پیدا کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔”
اُنہوں نے کہا: "آپ دیکھیے کہ مختلف ملکوں سے جو مہمان یہاں حاضر ہوئے ہیں اور جن کے درمیان یہاں محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے، وہ اسی نگاہ اور اثر کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹیں گے اور یہ چیز نیک بختیوں کا باعث بنے گی۔”
صدیقہ بلخی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ہمیں ایرانی، افغانستانی، ازبکی، تاجکی جیسے کلمات کے استعمال کے بجائے وحدتِ زبانی کی طرح ڈالنے کی سعی اور منطقے کی مختلف اقوام اور گوناگوں زبانوں کو باہم نزدیک کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۱۰ فروری ۲۰۱۵ء


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں شبِ شعر کا انعقاد

مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں ہفتے کی رات کو تیموری دور کے خراسانی شاعر اور ممتاز دانشمند امیر علی شیر نوائی کی یاد میں ‘ہم صدا با آفتاب’ نامی شبِ شعر خوانی کا انعقاد ہوا۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کے ایام میں منعقد ہونے والی اس شبِ شعر خوانی میں تاجکستان، پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے شاعروں نے شرکت کی۔
اس یادگاری نشست میں پاکستان کے اردو گو شاعر پروفیسر افتخار حسین عارف نے حضرتِ رسول (ص) کے وصف میں کہے گئے اپنے شعر پڑھے۔
اس کے بعد، کشورِ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ڈاکٹر سید تقی عباسی، ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری اور ڈاکٹر عزیز مہدی نے بھی اپنے اشعار کی قرائت کی۔
اس شبِ شعر میں شعر گوئی کرنے والے دوسرے شاعروں میں کشورِ تاجکستان کے منصور خواجہ اف اور رستم آی محمد اف، اور ایران میں افغانستان کے ثقافتی سفیر محمد افسر رہ بین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایران کے کچھ مشہور شاعروں جیسے علی رضا قزوہ، محمد جواد شاہ مرادی تہرانی، امیر برزگر، محمد رضا سرسالاری، محسن فدائی، مہدی آخرتی اور ایمان بخشائشی نے اس یادگاری شبِ شعر میں شرکت کی اور حاضرین کے سامنے اپنے اشعار پڑھے۔
پہلے بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا انعقاد مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کی کوششوں اور دیگر چوبیس مؤسسوں کے تعاون سے ہوا ہے اور یہ سات سے نو فروری تک دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں جاری رہے گا۔
۸۴۴ ہجری میں شہرِ ہرات میں متولد ہونے والے امیر علی شیر نوائی شاعر، دانشمند اور سلطان حسین بایقرا گورکانی کے وزیر تھے۔
فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں اُن کے بہت سارے اشعار موجود ہیں، اسی وجہ سے اُن کو ‘ذواللسانین’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اُن کا انتقال ۹۰۶ ہجری کو ہرات میں ہوا تھا اور وہ سلطان شاہ رخ تیموری کی بیوی گوہرشاد بیگم کی آرامگاہ کے جوار میں واقع اور اپنے ہی ہاتھوں ساختہ ‘اخلاصیہ’ میں دفنائے گئے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس


جامی خراسان اور ماوراءالنہر کے درمیان حلقۂ وصل تھے

تاجکستان میں واقع جمہوریۂ اسلامیِ افغانستان کے سفارت خانے میں عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد ہوئی جس میں ادیبوں، نقادوں، روزنامہ نگاروں اور ملکی دارالحکومت دوشنبہ میں مقیم افغانستان، تاجکستان اور ایران کے دانشوروں نے شرکت کی۔ آغاز میں قاری مرزائی نے کلامِ مجید سے چند آیات کی تلاوت کر کے فضائے محفل کو منور کیا۔
پھر افغانستان و تاجکستان کے قومی ترانوں کے احترام میں حاضرین کھڑے ہوئے اور ترانوں کو سنا۔ بعد میں تاجکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے حاضرین کو خیر مقدم کہتے ہوئے اس اجتماع کو ‘محفلِ عشق و فرہنگ’ کا نام دیا اور شرکت کرنے والوں کی خدمت میں افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی کے سلام اور احترامات پیش کیے۔ اُنہوں نے کہا: "وہ (یعنی صدر) یہ باور رکھتے ہیں کہ ہم ایک مشترکہ ثقافتی و تمدنی قلمرو میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم ایک مشترک تاریخی سرنوشت رکھتے ہیں، اُسی طرح ہمیں مداوم ثقافتی سفارت کاری کی مدد سے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے نزدیک آنے اور ایک متحد منطقہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔”
پھر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے شرکاء کے سامنے افغانستان کے وزیرِ امورِ خارجہ جناب ضرار احمد عثمانی کا نوشتہ پیام پڑھا۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ "مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کی تجلیل کا مطلب دینی، ثقافتی اور تمدنی شناخت کی اور ہمزبانی و ہمدلی کی تجلیل ہے۔ میرے اعتقاد میں افغانستان اور تاجکستان کے درمیان روابط کی مشروعیت ایک واحد شناخت پر مبنی ہے، جس کی مشترک دین، زبان اور ثقافت کے شاخصوں سے تعریف کی جاتی ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک ایسا بزرگ آئینہ ہیں جس میں دو ملتوں کی ہم دلی اور ہم آوازی نظر آتی ہے۔
سلطان حسین میرزا بایقرا کی مقتدرانہ رہبری اور میر علی شیر نوائی کی رفاقت میں حضرتِ جامی پندرہویں صدی عیسوی میں اپنے ‘نفحات الانس’ اور ‘ہفت اورنگ’ کی مدد سے تیموری تمدن کی اساس رکھ پائے تھے۔ تاریخ اس واقعیت کی بیان گر ہے۔ لہٰذا مولانا جامی اور ہفت اورنگ کی یہ پاسداری، عشق و ایماں اور ثقافت کی پاسداری ہے۔ یہ اُن لوگوں کی ہم دلی و ہم آوازی کی پاسداری ہے جو خرد ورزی، صلح جوئی، ہم زیستی، فراست اور اپنی نورانی ثقافتوں کے ہمراہ ایک ساتھ صمیمانہ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اور جن کی ثقافت پرور تحمل پذیری و رواداری کی ‘بوئے جوئے مولیاں’ مشترک تاریخ کی کیاری میں جاری رہی ہے۔”
ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے مولانا جامی کی شخصیت کے بارے میں مزید کہا: "وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے عشق کے باعث شہرۂ آفاق ہیں۔ شمس الدین محمد حافظ اگر ‘لسان الغیب’ سے متصف ہیں، بیدل ‘ابوالمعانی ‘سے متصف ہیں، تو جامی بھی ‘خاتم الشعراء’ سے ملقب ہیں۔جامی کیوں بزرگ ہے؟ میں بتاتا ہوں جامی کیوں بزرگ ہے۔ ہم اپنی تاریخی، ثقافتی و تمدنی قلمرو میں جامی جیسی کسی شخصیت کا مشکل ہی سے سراغ پا سکتے ہیں۔
جامی اجتماعی مصلح ہے، جامی دین کے میدان کا محقق ہے، جامی اسلام شناسی کے میدان میں ممتاز ہے، جامی عرفانِ نظری و عملی کے میدان میں بے گمان ایک بلند قامت شخصیت ہے، جامی ابنِ عربی کا شاگرد ہے اور اس کے ساتھ ہی ابنِ عربی کی تالیفات کی شرح میں بلاتردید اُس کو کوئی ہمتا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشان دہ ہیں کہ جامی بزرگ ہے۔
بالخصوص چنگیز، منگول اور تیموری فتنوں کے بعد، کہ جب تیمور کی آل کشور کشائی اور آتش کشی میں مشغول تھی تو یہی جامی تھے جنہوں نے تیموری خاندان سے سلطان حسین میرزا بایقرا جیسے علم و ثقافت پرور اور بلند قامت چہرے کو اوپر ابھارا تھا۔ جامی ہرات اور سمرقند کے مابین حلقۂ وصل تھے۔ چنگیزی فتنوں کے بعد عرفان محض خانقاہی بن گیا تھا۔ جامی نے ابنِ عربی کے عرفان کا اُس کی تمام ابعاد کے ساتھ احیا کیا۔”
صدرالدین عینی کے نام پر قائم دانشگاہِ دولتیِ آموزگاری کے رئیسِ عالی عبدالجبار رحمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ جامی کا پندرہویں صدی عیسوی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے احوال اور تالیفات کے متعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بہت ساری تحقیقات انجام پا چکی ہیں۔ جامی کے غنی اور مضامین سے پُر اشعار انسان اور اور مقامِ انسان کے بارے میں تازہ و سلیم فکروں پر مشتمل ہیں۔
جامی کے سمرقند کی جانب سفر اور وہاں اُن کی تحصیل نے اُن کی زندگی پر بڑا اثر ڈالا تھا۔ جامی کے استاد سعدالدین کاشغری نے جامی کی معرفت سے آشنا ہونے کے بعد یہ لکھا تھا کہ جامی سے دانش مندی میں بالاتر کوئی انسان بھی آمو دریا کو پار کر کے اس طرف نہیں آیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے سمرقند میں بہت سے علمائے علم و فنون سے آشنائی حاصل کی تھی اور اُن سے زمانے کے علوم سیکھے تھے۔ اسی سمرقند ہی میں وہ نقشبندی طریقت سے نزدیکی سے متعارف ہوئے تھے اور بعد میں عرفان کی جانب اُن کی توجہ بیشتر ہو گئی تھی۔
بعداً انہوں نے بزرگانِ عرفان کے بارے میں ‘نفحات الانس’ نامی کتاب لکھی تھی۔ جامی کی ایک اور خدمت علمی بحث و مناظرہ کی تشکیل اور انجام دہی تھی جس کے بعد میں سودمند نتائج نکلے۔ عبدالرحمٰن جامی کو سعدی شیرازی کے ہمراہ معلمِ اخلاق کہا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار رحمان نے اس بات پر بھی فخر ظاہر کیا کہ سوویت دور میں اُنہیں یہ موقع میسر آیا تھا کہ ہرات میں اقامت کر سکیں اور جہانِ ادب و عرفان کے اس بزرگ مرد کے مقبرے کی زیارت سے شرف یاب ہو سکیں۔
بعد میں تاجکستان میں مقیم معروف ایرانی خبرنگار اور سخنور بانو یگانہ احمدی نے جامی کی ‘ہفت اورنگ’ سے دو کوتاہ اقتباسات خوبصورت طریقے سے حاظرین کے سامنے پیش کیے۔
تاجک دانشمند پروفیسر عبدالنبی ستارزادہ نے کہا کہ "شعراء معمولاً تین گروہوں میں گروہ بندی کیے جاتے ہیں: شاعرانِ شاعر، شاعرانِ عالم اور شاعرانِ عارف۔ اس گروہ بندی کی نظر سے مولانا جامی شاعرانِ عالم و عارف کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب بھی ہم مولانا جامی کی تالیفات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں اُن تالیفات کا تمام جہات سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بعض محققوں نے جامی کی میراث کو تنہا اُن کے شاعر ہونے کے حوالے سے یا پھر اُن کے عارف ہونے یا عالم ہونے کے حوالے سے سراہا ہے۔
جن لوگوں نے صرف اُن کے شعروں کے حوالے سے ان کا استاد رودکی، حافظ، سعدی، مولوی، نظامی، اور دوسرے بزرگ شاعروں سے تقابل کیا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ضعیف شاعر ہیں۔ اور جن لوگوں نے صرف اُن کی بطور ایک عارف ارزیابی کی ہے، انہوں نے کہا ہے اُن کے عارفانہ اشعار کو مولوی، سنائی یا عطار کے عارفانہ اشعار کے برابر میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک یہ ارزیابی چنداں منصفانہ نہیں ہے۔ مولانا جامی کی تصنیفات پر ہر جہت سے نظر ڈالنی چاہیے۔”
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جامی کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کے موقع پر کی گئی تقریر میں جامی شناسی پر بخوبی ایک نظر ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کا تحلیل و تجزیہ کیا کہ جامی شناسی تا‌ حال کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نیز انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جامی شناسی کے رشد و ارتقاء میں تاجک جامی شناسوں خاص طور پر استادِ مرحوم اعلیٰ خان افصح زاد کا حصہ قابلِ قدر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے جامی کو ایران، افغانستان، تاجکستان اور دیگر مقامات میں ابھی تک درست طور پر نہیں پہچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمیِ علومِ تاجکستان نے جامی کے چھ سو سالہ جشن کے موقع پر ‘آثارِ جامی’ کے نام سے چودہ جلدی کتاب نشر کے لیے آمادہ کی ہے۔ ان کتابوں میں حضرتِ جامی کے کتب و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامی کے جملہ آثار کی ماہیت اُن کی انسان دوستی نے معیّن کی ہے:
ای که می‌پرسی بهترین کس کیست؟
گویم از قولِ بهترین کسان
بهترین کس کسی بوَد، که ز خلق
بیش باشد به خلق نفع‌رسان
دانشگاہِ ہرات کے استاد محمد داؤد منیر نے اپنی تقریر میں جامی کے اشعار پر محققوں کی جانب سے کی گئی داوری کے بارے میں گفتگو کی۔ موقع کی مناسبت سے انہوں نے غزلیاتِ جامی کے متعلق اپنی ہی نادر تحقیقات میں سے بھی کچھ حصے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔
افغانستان کے ایک جامی شناس محی الدین نظامی نے اپنی تقریر کے آغاز میں افغان شاعر استاد خلیل اللہ خلیلی کے مولانا جامی کی توصیف میں کہے گئے وہ اشعار پڑھے جو اُنہوں نے مولانا جامی کے پانچ سو پچاس سالہ جشن کے موقع پر لکھے تھے۔
پیغمبرانِ معنی روشن‌گرانِ فکرند
در هر کجا تپد دل باشد جهانِ جامی
ابرار سبحه سازند، احرار تحفه آرند
خاکِ مزارِ جامی، نقدِ روانِ جامی
برخاست بادِ شوقی از جانبِ سمرقند
کز بوی مشک‌بیزش شد زنده جانِ جامی
از غزنه تا بخارا وز وخش تا هرات است
هم جلوه‌گاهِ جامی، هم آشیانِ جامی
تجلیلِ این بزرگان تعظیمِ علم و فضل است
فرخنده باد این جشن بر پیروانِ جامی​
محفل کے اختتام پر حاضرین سفارت خانۂ افغانستان کے ایوانِ ‘ہفت اورنگ’ میں افغانستان کے چیرہ دست ہنرمند جناب شجاع محمد فقیری کی نمائش کے لیے پیش کردہ نقاشیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

(منبع: تاجک اخبار ‘روزگار’)
خبر کی تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۴ء