زبانِ فارسی کے عظیم محسن ‘علامہ علی اکبر دہخدا’ کی ۵۹ویں برسی

ایرانی شمسی ہجری تقویم کے مطابق ہفتمِ اسفند (۲۷ فروری) علی اکبر دہخدا کی وفات کی برسی کی تاریخ ہے۔ علی اکبر دہخدا وہ بزرگ مرد تھے جنہوں نے اپنے فصیح قلم اور قیمتی تصنیفات سے ایرانی ثقافت کی بسیار گراں قدر خدمت کی اور جو ہمیشہ استبداد اور پس ماندگی کے خلاف مبارزہ کرتے رہے۔
======================

علی اکبر دہخدا کا شمار ایران کے علمی و ثقافتی میدان کے ممتاز اور پائدار چہروں میں سے ہوتا ہے۔ اُن کی تالیف کردہ لغت ‘لغت نامۂ دہخدا’ زبان و ادبیاتِ فارسی کے اہم ترین ثقافتی خزانوں میں شامل ہے جو طالب علموں، محققوں، ادبِ فارسی کے علاقہ مندوں اور عالموں کی توجہ اپنی جانب جلب کر چکی ہے۔
علی اکبر دہخدا نے ۱۲۵۷ ہجریِ شمسی (۱۸۷۹ء) میں تہران میں آنکھیں کھولی تھیں۔ وہ ابھی دورانِ طفلی ہی میں تھے کہ اُن کے پدر نے دارِ فانی کو وداع کہہ دیا اور پھر انہوں نے اپنی مادر کے زیرِ سایہ اپنی تحصیلات کو جاری رکھا۔
انہوں نے اپنے پہلے معلم و مربی شیخ غلام حسین بروجردی سے علومِ دینی اور زبانِ عربی کو پڑھا۔ تہران میں مدرسۂ سیاسی کی تشکیل کے بعد، دہخدا نے اس مدرسے میں حسن پیرنیا مشیرالدولہ کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی اور وہیں انہوں نے فرانسیسی زبان سیکھی۔ علامہ دہخدا قوی حافظے کے مالک تھے۔ مدرسے کے استادِ ادبیاتِ فارسی محمد حسین فروغی ذکاءالملک بعض اوقات تدریس کی ذمہ داری اُن کے شانوں پر ڈال دیتے تھے۔
اپنی شخصیت کے ثقافتی پہلوؤں کے علاوہ، دہخدا سیاسی فعالیت سے بھی علاقہ رکھتے تھے اور ایران کے آئینی انقلاب نے اُن کو اس چیز کا موقع فراہم کیا۔ آئینی تحریک کے آغاز کے زمانے میں دہخدا نے جہانگیر خان شیرازی اور میرزا قاسم خان تبریزی کے ہمراہ صورِ اسرافیل نامی اخبار کو نشر کر کے تصنیف و تالیف کا کام شروع کیا۔ اس روزنامے میں دہخدا کی موجودگی کو اُن کی سیاسی فعالیت کے آغاز کے طور پر محسوب کیا جا سکتا ہے۔
روزنامہ صورِ اسرافیل کا شمار ایرانی آئینی تحریک کے ابتدائی دورے کے اہم ترین روزنامے کے طور پر ہوتا ہے۔ اس اخبار میں دہخدا نے ‘دخو’ کے قلمی نام سے ‘چرند و پرند’ نامی طنزی ستون لکھے تھے جو اُن کی شہرت کا سبب بنے۔ وہ اپنے مقالات میں مثالی شجاعت و جسارت کے ساتھ استبداد و استکبار کے خلاف مبارزہ کرتے تھے۔ وہ سیاسی و اجتماعی مفاسد پر طنز کے قالب میں اور سادہ و عوامی زبان میں ضرب لگاتے تھے، جس کا لوگوں کی روح و جاں میں گہرا نفوذ ہوتا تھا اور وہ خوب سراہے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تا اینکہ محمد علی شاہ قاجار سلطنت کی نشست پر فائز ہو کر آئینی تحریک کی مخالفت کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
علی اکبر دہخدا کو، کہ جو آئینی تحریک کے قالب میں استبداد و استکبار کے خلاف مبارزے میں مصروف تھے، ترکِ وطن کر کے اولاً فرانس اور پھر سوئٹزرلینڈ جانا پڑا۔ انہوں نے دیارِ فرنگ میں بھی روزنامۂ صورِ اسرافیل کو نشر کر کے محمد علی شاہ کی استبدادی روش کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور اس روزنامے کی نشر کا مرکز آئین خواہوں کے جمع ہونے کے مقام میں تبدیل ہو گیا۔
تہران کی فتح اور محمد علی شاہ کی معزولی کے بعد وہ آئین خواہوں کے تقاضے پر ایران لوٹ گئے اور مجلسِ شورائے ملّی میں نمائندے کے طور پر شامل ہوئے۔ کچھ مدت بعد وہ سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کَش ہو گئے اور اپنی عمر کے اختتام تک زبان و ادبیاتِ فارسی کے موضوع پر مطالعہ و تحقیق کرتے رہے۔ وہ اولین انجمنِ نویسندگانِ ایران کی مجلسِ عاملہ میں فعال رکن کے طور پر موجود رہے اور ناخواندگی کے خلاف مہم چلانے والوں کی تنظیم ‘جمیعتِ مبارزہ با بے سوادی’ کی تاسیس میں بھی اُن کا کردار تھا۔
استاد علی اکبر دہخدا نے کئی قیمتی تالیفات یادگار کے طور پر چھوڑی ہیں جن میں سے اہم ترین تالیف ‘لغت نامۂ دہخدا’ ہے۔ اس حجیم لغت نامے کی تنظیم و طبع کا کام ۳۵ سال سے زیادہ عرصے تک چلتا رہا اور وہ اپنی حیات کے روزِ آخر تک اس لغت نامے کی جمع آوری کے کام کو جاری رکھتے رہے۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے رفقائے کار محمد معین اور سید جعفر شہیدی کے توسط سے یہ کام جاری رہا یہاں تک کہ لغت نامۂ دہخدا ۱۶ جلدوں میں شائع ہو گیا۔ یہ لغت نامہ زبانِ فارسی کی ادبی و تاریخی تصنیفات میں موجود تمام الفاظ کی شرح و معنی پر مشتمل ہے۔ یہ لغت نامہ پہلے بینکِ دولت کے طبع خانے میں طبع ہوا کرتا تھا، بعد میں دانشگاہِ تہران اس لغت نامے کی اشاعت کی ذمہ دار بن گئی۔
علی اکبر دہخدا کی چند دیگر گراں بہا تالیفات کے طور پر ترجمۂ عظمت و انحطاطِ رومیان، ترجمۂ روح القوانین، ترجمۂ فرہنگِ فرانسہ بہ زبانِ فارسی، ابوریحان بیرونی، تعلیقات بر دیوانِ ناصر خسرو، تصحیحِ دیوانِ سید حسن غزنوی، تصحیحِ دیوانِ حافظ، تصحیحِ دیوانِ منوچہری، تصحیحِ دیوانِ فرخی، مجموعۂ مقالات، پندہا و کلماتِ قصار اور امثال و حَکَم وغیرہ کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔
علی اکبر دہخدا نے ہفتمِ اسفند ۱۳۳۴ ہجریِ شمسی (مطابق بہ ۲۷ فروری ۱۹۵۶ء) کو ۷۷ سال کی عمر میں اس جہانِ فانی کو الوداع کہا اور ان عالم و فاضل مصنف کے پیکر کو شہرِ رَے کے ابنِ بابویہ قبرستان میں واقع خاندانی آرامگاہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

(اصل فارسی مضمون کا ربط)