طعن ائیله‌مک نه لازم فرهادِ نامُرادا – رحمتی تبریزی

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن

طعن ائیله‌مک نه لازم فرهادِ نامُرادا
هیچ کیمسه بو جهاندا یئتیشمه‌میش مُرادا
زاهد اگر بنۆمله اۏتورماسا روادور
بیر یئرده باشا وارماز سجّاده ایله باده
الله رضاسې‌ ایچۆن زلفین طاغېتما ای یئل
دور اؤزگه‌لر سوزییلن عمرۆڭی وئرمه بادا
کیرپۆکلرۆڭ خدنگی صانما که ضایع اۏلدې
نازک‌نهال اۏلوپدور هر بیری بیر یارادا
مجنون و شورِ لیلی فرهاد و عشقِ شیرین
بی‌چاره رحمتی تک هر کیمسه بیر بلادا
(رحمتی تبریزی)

Ṭa’n eylemek ne lāzım Ferhād-ı nā-murāda
Hīç kimse bu cihānda yetişmemiş murāda
Zāhid eger benümle oturmasa revādur
Bir yėrde başa varmaz seccāde ile bāde
Allah rıżāsı-y-içün zülfin ṭaġıtma ėy yėl
Dur özgeler söziylen ‘ömrüngi vėrme bāda
Kirpüklerüng ĥadengi ṣanma ki żāyi’ oldı
Nāzük-nihāl olupdur her biri bir yarada
Mecnūn u şūr-ı Leylī Ferhād u ‘ışķ-ı Şīrīn
Bī-çāre Raḥmetī tek her kimse bir belāda
(Raḥmetī-i Tebrizī)

ترجمہ:
فرہادِ نامُراد کو طعن کرنے کی کیا ضرورت ہے [کہ] اِس جہاں میں کوئی بھی شخص اپنی مراد تک نہیں پہنچا ہے۔
زاہد اگر میرے ساتھ نہ بیٹھے تو روا ہے؛ [کیونکہ] سجّادہ اور بادہ ایک ہی جا نہیں پائے جاتے۔
اے باد! خدارا اُس کی زُلفوں کو مت بِکھراؤ۔۔۔۔ رُک جاؤ، دیگروں کے قول و حَرف پر اپنی عمر کو برباد مت کرو۔
یہ مت گمان کرو کہ تمہاری مِژگاں کے تیر ضائع ہو گئے ہیں؛ [بلکہ] اُن میں سے ہر ایک [تیر] کسی زخم میں نہالِ نازک بن گیا ہے۔
مجنون اور شوقِ لیلیٰ، فرہاد اور عشقِ شیریں۔۔۔۔ بے چارے رحمتی کی طرح ہر شخص کسی بلا میں [مبتلا] ہے۔

× رحمتی تبریزی کا انتقال ۱۶۱۶ء میں آگرہ میں ہوا تھا۔

الله رضاسې‌ ایچۆن زلفین طاغېتما ای یئل
دور اؤزگه‌لر سوزییلن عمرۆڭی وئرمه بادا

Allah rıżāsı-y-içün zülfin ṭaġıtma ėy yėl
Dur özgeler söziylen ‘ömrüngi vėrme bāda

اے باد! خدارا اُس کی زُلفوں کو مت بِکھراؤ۔۔۔۔ رُک جاؤ، دیگروں کے قول و حَرف پر اپنی عمر کو برباد مت کرو۔

میں نے مندرجۂ بالا تُرکی غزل کا متن عُزیر آسلان (تُرکیہ) کے مقالے ‘رحمتی تبریزی اور اُن کے تُرکی اشعار‘ سے اخذ کیا ہے۔ اُس کے لحاظ سے اِس غزل کی بیتِ سوم کا مضمون، اور دونوں مصرعوں کے درمیان ربط واضح نہیں ہے۔ لیکن ایک دیگر مأخذ میں اِس بیت کے مصرعِ اول میں ‘الله’ کی بجائے ‘ائل‌لر’ نظر آیا ہے، جس کی موجودگی میں کُل بیت کا مفہوم یہ ہو جائے گا:
اے باد! مردُم کی خوشنودی کے لیے اُس کی زُلفوں کو مت بِکھراؤ۔۔۔۔ رُک جاؤ، دیگروں کے قول و حَرف پر اپنی عمر کو برباد مت کرو۔
اِس صورت میں بیت کا مضمون قابلِ فہم ہو گیا ہے۔