افسوس که ایامِ شریفِ رمضان رفت – صائب تبریزی

افسوس که ایامِ شریفِ رمضان رفت
سی عید به یک مرتبه از دستِ جهان رفت
افسوس کہ ایامِ شریفِ رمضان گذر گئے؛ تیس عیدیں ایک ہی دفعہ دنیا کے ہاتھوں سے چلی گئیں۔

افسوس که سی پارهٔ این ماهِ مبارک
از دست به یک بار چو اوراقِ خزان رفت
افسوس کہ اس ماہِ مبارک کے سی پارے خزاں کے پتّوں کی طرح ہاتھوں سے ناگہاں چلے گئے۔

ماهِ رمضان حافظِ این گلّه بُد از گرگ
فریاد که زود از سرِ ایِن گلّه شبان رفت
ماہِ رمضان اس گلّے کا بھیڑیوں سے محافظ تھا؛ فریاد کہ بہت جلد اس گلّے کے سر سے چوپان رخصت ہو گیا!

شد زیر و زبر چون صفِ مژگان، صفِ طاعت
شیرازهٔ جمعیتِ بیداردلان رفت
صفِ مژگاں کی طرح صفِ طاعت زیر و زبر ہو گئی؛ بیدار دلوں کی جمعیت کا شیرازہ چلا گیا۔

بی‌قدریِ ما چون نشود فاش به عالم؟
ماهی که شبِ قدر در او بود نهان، رفت
(اب) ہماری بے قدری دنیا پر فاش کیسے نہ ہو؟ وہ ماہ کہ جس میں شبِ قدر نہاں تھی، چلا گیا۔

برخاست تمیز از بشر و سایرِ حیوان
آن روز که این ماهِ مبارک ز میان رفت
جس روز کہ یہ ماہِ مبارک درمیان سے گیا، (اُس روز) بشر اور دیگر حیوانوں کے مابین تمیز بھی اٹھ گئی۔

تا آتشِ جوعِ رمضان چهره برافروخت
از نامهٔ اعمال، سیاهی چو دخان رفت
جیسے ہی رمضان کی گرسنگی کی آتش نے چہرہ مشتعل کیا، نامۂ اعمال سے سیاہی دھوئیں کی طرح چلی گئی۔

با قامتِ چون تیر درین معرکه آمد
از بارِ گنه با قدِ مانندِ کمان رفت
(ماہِ رمضان) تیر جیسی قامت کے ساتھ اس معرکے میں آیا اور (ہمارے) گناہوں کے بار کے سبب کمان کی مانند قد کے ساتھ رخصت ہوا۔

برداشت ز دوشِ همه کس بارِ گنه را
چون باد، سبک آمد و چون کوه، گران رفت
(ماہِ رمضان) نے ہر شخص کے دوش سے بارِ گناہ رفع کر لیا؛ وہ ہوا کی طرح سبک آیا اور کوہ کی طرح گراں گیا۔

چون اشکِ غیوران به سراپردهٔ مژگان
دیر آمد و زود از نظر آن جانِ جهان رفت
پلکوں کے پردے پر غیرت مند لوگوں کے اشکوں کی طرح وہ جانِ جہاں دیر سے آیا اور جلد ہی نظروں سے نہاں ہو گیا۔

از رفتنِ یوسف نرود بر دلِ یعقوب
آنها که به صائب ز وداعِ رمضان رفت
جو کچھ صائب پر وداعِ رمضان سے گذرا ہے وہ یوسف کے جانے سے یعقوب کے دل پر بھی نہیں گذرتا۔

(صائب تبریزی)​

× مشتعل = شعلہ ور، برافروختہ

Advertisements

سعی کن در عزتِ سی پارهٔ ماهِ صیام – صائب تبریزی

سعی کن در عزتِ سی پارهٔ ماهِ صیام
کز فلک از بهرِ تعظیمش فرود آمد کلام
ماہِ صیام کے سی پاروں (یعنی تیس حصوں) کی عزت کرنے کی کوشش کرو کہ جن کی تعظیم کی خاطر فلک سے کلام نازل ہوا ہے۔

آدمی ممتاز شد از سایرِ حیوان به صوم
نامهٔ انسان به این مهرِ خدایی شد تمام
آدمی دیگر تمام جانداروں سے روزے کے وسیلے سے ممتاز ہوا اور نامۂ انسان اس خدائی مُہر کے ذریعے تمام ہوا۔

چون درِ دوزخ دهان گر چند روزی بسته شد
باز شد چندین در از جنت به روی خاص و عام
اگر (اس ماہ میں) چند روز کے لیے دوزخ کے دروازوں کی طرح دہن بند ہوا تو (عوض میں) جنت کے کئی دروازے خاص و عام کے چہروں پر کھل گئے۔

خالِ روی مه جبینان گر ز مشک و عنبرست
از شبِ قدرست خالِ چهرهٔ ماهِ صیام
اگر مہ جبینوں کے چہرے کا خال مشک و عنبر سے ہے تو ماہِ صیام کے چہرے کا خال شبِ قدر سے ہے۔

نیست در سالی دو عید افزون و از فرخندگی
عید باشد مردمان را سی شبِ این ماه تمام
ایک سال میں دو سے زیادہ عیدیں نہیں ہوتیں، تاہم (اس ماہ کی) سعادت و برکت سے اس ماہ کی تمام تیس راتیں لوگوں کے لیے عید ہیں۔

لذتِ افطار در دنبال باشد روزه را
صبح اگر بندد دری ایزد گشاید وقتِ شام
روزے کے عقب میں افطار کی لذت رہتی ہے؛ اگر ایزد صبح کوئی در بند کرتا ہے تو شام کے وقت کھول دیتا ہے۔

روزه سازد پاک صائب سینه‌ها را از هوس
ز آتشِ امساک می‌سوزد تمناهای خام
اے صائب! روزہ سینوں کو ہوس سے پاک کرتا ہے اور امساک کی آتش سے خام تمنائیں جل جاتی ہیں۔

(صائب تبریزی)