حضرتِ یوسف کے تین پیراہن اور رودکی

حضرتِ یوسف (ع) کی داستان میں تین پیراہنوں کا ذکر آیا ہے: وہ پیراہن کہ جسے اُن کے برادران خون آلود کر کے والد کے نزدیک لائے تھے کہ یوسف کو گُرگ نے چیر پھاڑ ڈالا ہے؛ وہ پیراہن کہ جو زلیخا کے ہاتھوں پُشت سے چاک ہوا تھا؛ اور وہ پیراہن کہ جو چشمِ یعقوب (ع) کی نابینائی ختم ہونے کا سبب بنا۔ رُودکی سمرقندی نے ایک قطعے میں حضرت یوسف کے تین پیراہنوں کی جانب خوبصورتی سے اشارہ کیا ہے:

نگارینا، شنیدستم که گاهِ محنت و راحت
سه پیراهن سَلَب بوده‌ست یوسف را به عمر اندر
یکی از کَید شد پُرخون، دوم شد چاک از تهمت
سوم یعقوب را از بوش روشن گشت چشمِ تر
رُخم مانَد بدان اول، دلم مانَد بدان ثانی
نصیبِ من شود در وصل آن پیراهنِ دیگر؟
(رودکی سمرقندی)

اے محبوب! میں نے سنا ہے کہ رنج و راحت کے موقعوں پر تین پیراہن یوسف کی زندگی میں اُن کا لباس رہے تھے۔ ایک تو مکر و فریب سے خون سے پُر ہو گیا تھا، دوسرا تہمت کی وجہ سے چاک ہو گیا تھا، اور تیسرا وہ تھا کہ جس کی بو سے یعقوب کی چشمِ تر روشن ہوئی تھی۔۔۔ میرا پُرخون چہرہ پہلے پیراہن کی مانند ہے، جبکہ میرا دلِ چاک اُس دوسرے پیراہن کی مانند ہے۔۔۔ اب کیا وہ تیسرا پیراہن مجھے وصل کے موقع پر کبھی نصیب ہو گا؟

Advertisements

تاجکستان میں یومِ رودکی منایا گیا

تاجکستان میں ۲۲ ستمبر بارہ سالوں سے یومِ رودکی کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اس سال اس موقع کی مناسبت سے ‘رودکی اور ادبیاتِ تاجک و فارس میں روایت پسندی’ کے نام سے ایک علمی نشست منعقد ہوئی۔
—————
کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں ادبیاتِ فارس و تاجک کے اساس گذار ابوعبداللہ رودکی کی تجلیل میں ‘رودکی اور ادبیاتِ تاجک و فارس میں روایت پسندی’ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی مذاکرہ منعقد ہوا۔
اکادمیِ علومِ تاجکستان، مشاورتِ فرہنگیِ ایران، اور کتاب خانۂ ملی کی کوششوں سے برپا ہونے والی اس محفل میں تاجکستان، ایران، افغانستان، ہندوستان، اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالموں اور شاعروں نے "رودکی اور ملی شناخت”، "رودکی – شاعرِ تاثیر گذار”، "استاد رودکی کے نایافتہ اشعار”، اور "رودکی اور اُس کے ہم عصروں میں مثنوی کا رواج” جیسے موضوعات پر تقریریں کیں۔
اسی طرح آج تاجکستان کے مکاتب و جامعات میں اس حوالے سے رودکی خوانی کی محفلیں منعقد کی گئیں۔
مآخذ کے مطابق، ابوعبداللہ جعفر ابنِ محمد رودکی ۸۵۸ء میں موجودہ ضلعِ پنجکنت میں واقع پنج رُود گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی دولتِ سامانیان کے عروج کے دوران بسر کی تھی، اور بالخصوص نصر ابن احمد سامانی کی امارت کے دوران وہ اس حاکم خانوادے کے بہت موردِ مرحمت و اکرام رہے اور اُنہوں نے بخارا میں دربار سے وابستہ رہ کر اپنے ایام گذارے۔ سامانیوں نے رودکی کو اُس دور کا توانا ترین شاعر مانتے ہوئے ‘ملک الشعراء’ کا لقب دیا تھا۔ لیکن رودکی اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی جائے تولد پنج رُود لوٹ گئے اور ۹۴۱ء میں اسی جگہ انتقال فرما کر دفن ہوئے۔
تاجکستان میں ۲۰۰۲ء سے اب تک ہر سال ۲۲ ستمبر رودکی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یومِ رودکی کے نام سے جانے والا یہ دن معمولاً مذاکرے، علمی صحبتیں، اور اہلِ فرہنگ و ادب سے ملاقاتیں ترتیب دے کر منایا جاتا ہے۔ تاجک ثقافت پرور ان کوششوں کو معاشرے میں رودکی کا مقام اونچا کرنے اور نوجوان نسل میں اس توانا شاعر کی اور اس کے آثار کی شناخت بیشتر کرنے کے لیے اچھا موقع سمجھتے ہیں۔
تاجکستان میں اس شخصیت کی یاد اور خراجِ تحسین کے لیے ایک ضلع، زبان و ادبیات کی تحقیق گاہ، شہرِ کولاب کی جامعہ، کچھ علمی و ثقافتی مؤسسات، اور کچھ مکتبوں اور کوچوں کے نام رودکی کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ پدرِ شعرِ فارسی کے نام سے معروف رودکی کے مجسمے بھی بعض تعلیمی و ثقافتی مؤسسات کے نزدیک نصب ہیں، جن میں سے دارالحکومت دوشنبہ کے مرکز میں واقع باغِ رودکی میں اور زراعتی جامعہ کے نزدیک میدان میں موجود مجسموں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ نیز، دارالحکومت کی مرکزی شارع کا نام بھی رودکی سے منسوب ہے۔ اسی طرح ادب و فرہنگ کے زمرے میں دیے جانے والے تاجکستان کے ریاستی اعزاز کا نام بھی رودکی کے نام پر ہے جو ہر سال تاجک ادیبوں اور ہنرمندوں کی بہترین تخلیقات پر عطا کیا جاتا ہے۔

رودکی کے بعض پراکندہ اشعار ہی زمانے کی دست برد سے محفوظ رہ سکے ہیں۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۲۲ ستمبر ۲۰۱۴ء