سعی کن در عزتِ سی پارهٔ ماهِ صیام – صائب تبریزی

سعی کن در عزتِ سی پارهٔ ماهِ صیام
کز فلک از بهرِ تعظیمش فرود آمد کلام
ماہِ صیام کے سی پاروں (یعنی تیس حصوں) کی عزت کرنے کی کوشش کرو کہ جن کی تعظیم کی خاطر فلک سے کلام نازل ہوا ہے۔

آدمی ممتاز شد از سایرِ حیوان به صوم
نامهٔ انسان به این مهرِ خدایی شد تمام
آدمی دیگر تمام جانداروں سے روزے کے وسیلے سے ممتاز ہوا اور نامۂ انسان اس خدائی مُہر کے ذریعے تمام ہوا۔

چون درِ دوزخ دهان گر چند روزی بسته شد
باز شد چندین در از جنت به روی خاص و عام
اگر (اس ماہ میں) چند روز کے لیے دوزخ کے دروازوں کی طرح دہن بند ہوا تو (عوض میں) جنت کے کئی دروازے خاص و عام کے چہروں پر کھل گئے۔

خالِ روی مه جبینان گر ز مشک و عنبرست
از شبِ قدرست خالِ چهرهٔ ماهِ صیام
اگر مہ جبینوں کے چہرے کا خال مشک و عنبر سے ہے تو ماہِ صیام کے چہرے کا خال شبِ قدر سے ہے۔

نیست در سالی دو عید افزون و از فرخندگی
عید باشد مردمان را سی شبِ این ماه تمام
ایک سال میں دو سے زیادہ عیدیں نہیں ہوتیں، تاہم (اس ماہ کی) سعادت و برکت سے اس ماہ کی تمام تیس راتیں لوگوں کے لیے عید ہیں۔

لذتِ افطار در دنبال باشد روزه را
صبح اگر بندد دری ایزد گشاید وقتِ شام
روزے کے عقب میں افطار کی لذت رہتی ہے؛ اگر ایزد صبح کوئی در بند کرتا ہے تو شام کے وقت کھول دیتا ہے۔

روزه سازد پاک صائب سینه‌ها را از هوس
ز آتشِ امساک می‌سوزد تمناهای خام
اے صائب! روزہ سینوں کو ہوس سے پاک کرتا ہے اور امساک کی آتش سے خام تمنائیں جل جاتی ہیں۔

(صائب تبریزی)

Advertisements