گُلستانِ سعدی شیرازی کی ایک حکایت کا تُرکی ترجمہ

بیر گۆن جاوان‌لېق‌دا نادان‌لېق ائدیب آنامېن اۆستۆنه برْک قېشقېردېم. اۏ، قلبی اینجیمیش حال‌دا کۆنج‌ده اۏتوردو، آغلایېب دئدی: «کؤرپه‌لیڲین اونودوب‌سان کی، بئله کۏبودلوق ائدیرسن؟»
آنا اۏغلونو زۏرلو گؤرجک هامان،
بئله سؤیله‌دی: ای پلنگ اۏولایان!
یادا دۆشسه ایدی اوشاق‌لېق چاغېن،
کی قۏینوم‌دا گۆج‌سۆز چکه‌ردین فغان،
بو گۆن ائیله‌مزدین منه ظۆلم‌لر،
کی، سن گۆج‌لۆسن ایندی، من ناتوان.

مُتَرجِمان: محمدآقا سُلطانوف، رحیم سُلطانوف، اسماعیل شمس (از شُورَوی آذربائجان)

ایک روز جوانی میں نادانی کرتے ہوئے مَیں اپنی مادر پر سخت چِلّایا۔ وہ رنجیدہ دل حالت میں گوشے میں بیٹھی اور روتے ہوئے بولی: «کیا تم اپنی طِفلی کو فراموش کر گئے ہو جو اِس طرح بدتمیزی کر رہے ہو؟»
شعر:
مادر نے جیسے ہی اپنے پِسر کو پُرقوّت و زورمند دیکھا تو یہ کہا: اے تیندوے کو شِکار کرنے والے! اگر تمہارا زمانۂ طِفلی [تمہاری] یاد میں آ جاتا، کہ جب تم میری آغوش میں بے قُوّتی کے ساتھ فغاں کیا کرتے تھے، تو اِس روز تم مجھ پر ظُلم نہ کرتے، کہ [جب] تم اِس وقت قوی ہو اور میں ناتواں۔

Bir gün cavanlıqda nadanlıq edib anamın üstünə bərk qışqırdım. O, qəlbi incimiş halda küncdə oturdu, ağlayıb dedi:
– Körpəliyini unudubsan ki, belə kobudluq edirsən?
Ana oğlunu zorlu görcək haman,
Belə söylədi: – Ey pələng ovlayan!
Yada düşsə idi uşaqlıq çağın,
Ki, qoynumda gücsüz çəkərdin fəğan,
Bu gün eyləməzdin mənə zülmlər,
Ki, sən güclüsən indi, mən natəvan.

Advertisements

گُلستانِ سعدی شیرازی کی ایک حکایت کا اُزبکی ترجمہ

کۉردیم کی، بیر بدَوی (صحرایی عرب) اۉغلی‌گه شونده‌ی دېردی: «ای اۉغلیم، قیامت کونی سېن‌دن: «آتنگ کیم؟» دېب اېمس، «قنده‌ی هُنرینگ بار؟» دېب سۉره‌یدی‌لر».

کعبه یاپقیچی‌نی اۉپیشر اېکن،
ایپک قورت طُفَیلی بۉلمه‌دی اولوغ.
بیر نېچه کون بۉلدی عزیز اېگنی‌ده،
شونینگ بیلن بۉلدی اۉزی هم قوتلوغ.

مترجمِ نثر: رُستم کامِلوف
مترجمانِ نظم: غفور غُلام، شاه‌اسلام شاه‌مُحمدّوف

ترجمہ:
میں نے دیکھا کہ ایک بدَوی (صحرائی عرب) اپنے پِسر سے یہ کہہ رہا تھا: «اے میرے پِسر، بہ روزِ قیامت تم سے «تمہارا پدر کون ہے؟» نہیں، بلکہ «تم کس طرح کا ہُنر رکھتے ہو؟» سوال کیا جائے گا۔»

کعبہ کے غِلاف کو جو مردُم بوسہ دیتے ہیں
وہ کِرمِ ریشم کے طُفیل عالی و عظیم نہیں ہوا
[بلکہ] وہ کئی روز تک [ایک] عزیز [چیز] کے شانے پر رہا
اِس طرح سے وہ خود بھی مُبارک ہو گیا

(یعنی غلافِ کعبہ کی عظمت اُس کے ریشمی ہونے کے باعث نہیں ہے، بلکہ کعبے سے نِسبت رکھنے کے باعث ہے۔)

لاطینی رسم الخط میں:
Ko’rdimki, bir badaviy (sahroyi arab) o’g’liga shunday derdi: "Ey o’g’lim, qiyomat kuni sendan: "Otang kim?” deb emas, "Qanday hunaring bor?” deb so’raydilar”.

Ka’ba yopqichini o’pishar ekan,
Ipak qurt tufayli bo’lmadi ulug’.
Bir necha kun bo’ldi aziz egnida,
Shuning bilan bo’ldi o’zi ham qutlug’.

× ترجمے میں قِطعہ گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔


ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ کیونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


"بر نیاید ز کُشتگان آواز” – عُثمانی شاعر نفعی ارضرومی کا ایک قطعہ

عُثمانی شاعر نفعی ارضرومی (م. ۱۶۳۵ء) اپنے مجموعۂ ہَجویات ‘سِهامِ قضا’ کے ایک تُرکی قطعے میں کہتے ہیں:
(قطعه)
کُشتهٔ ذوالفقارِ هَجوۆم‌دۆر
بیر آلای یاوه‌گو و هرزه‌طراز
قادر اۏلمازسالار جوابا نۏلا
بر نیاید ز کُشتگان آواز
(نفعی ارضرومی)
یاوہ گویوں اور ہرزہ سرایوں کا ایک جمِّ غفیر میری ذوالفقارِ ہَجو کا کُشتہ ہے۔۔۔۔ اگر وہ جواب [دینے] پر قادر نہ ہوں تو کیا عجب؟۔۔۔ [کہ] کُشتگاں سے آواز بلند نہیں ہوتی (یعنی کُشتگاں آواز نہیں نِکال سکتے)۔

Küşte-i zülfikâr-ı hicvümdür
Bir alay yâve-gû vü herze-tırâz
Kâdir olmazsalar cevâba n’ola
Ber neyâyed zi küştegân âvâz

× فارسی مصرع گُلستانِ سعدی شیرازی کی مندرجۂ ذیل بیت سے مأخوذ ہے:
عاشقان کُشتگانِ معشوقند
بر نیاید ز کُشتگان آواز


تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل – امام بخش ناسخ

(تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل)
شاعرِ مُعجِزبیان مرزا قتیل
رفت ازین عالَم سویِ باغِ بهشت
کِلکِ ناسخ سالِ تاریخِ وفات
سعدیِ شیرازیِ ثانی نوشت
(امام بخش ناسخ)
× سعدیِ شیرازیِ ثانی = ۱۲۳۳ھ

ترجمہ:
شاعرِ مُعجِز بیاں میرزا قتیل اِس عالَم سے باغِ بہشت کی جانب روانہ ہو گئے؛ ناسخ کے قلم نے [اُن کا] سالِ تاریخِ وفات ‘سعدیِ شیرازیِ ثانی’ لکھا۔


ای ساربان آهسته رو کآرامِ جانم می‌رود – سعدی شیرازی (فارسی + اردو ترجمہ)

ای ساربان آهسته رو کآرامِ جانم می‌رود
وآن دل که با خود داشتم با دل‌سِتانم می‌رود
من مانده‌ام مهجور از او، بی‌چاره و رنجور از او
گویی که نیشی دور از او در استخوانم می‌رود
گفتم: به نیرنگ و فسون پنهان کنم ریشِ درون
پنهان نمی‌مانَد که خون بر آستانم می‌رود
محمل بِدار ای ساروان، تُندی مکن با کاروان
کز عشقِ آن سروِ روان، گویی روانم می‌رود
او می‌رود دامن‌کَشان، من زهرِ تنهایی چشان
دیگر مپُرس از من نشان، کز دل نشانم می‌رود
برگشت یارِ سرکشم، بگذاشت عیشِ ناخوشم
چون مِجمَری پُرآتشم، کز سر دُخانم می‌رود
با آن همه بیدادِ او وین عهدِ بی‌بنیادِ او
در سینه دارم یادِ او، یا بر زبانم می‌رود
باز آی و بر چشمم نشین، ای ‌دل‌سِتانِ نازنین
کآشوب و فریاد از زمین بر آسمانم می‌رود
شب تا سحر می‌‌نغْنوم، واندرزِ کس می‌نشْنوم
وین ره نه قاصد می‌روم، کز کف عِنانم می‌رود
گفتم بگریم تا اِبِل چون خر فرو مانَد به گِل
وین نیز نتْوانم که دل با کاروانم می‌رود
صبر از وصالِ یارِ من، برگشتن از دل‌دارِ من
گرچه نباشد کارِ من، هم کار از آنم می‌رود
در رفتنِ جان از بدن گویند هر نوعی سخن
من خود به چشمِ خویشتن دیدم که جانم می‌رود
سعدی فغان از دستِ ما لایق نبود ای بی‌وفا
طاقت نمی‌آرم جفا، کار از فغانم می‌رود
(سعدی شیرازی)

ترجمہ:
اے ساربان! آہستہ چلو کہ میرا آرامِ جاں جا رہا ہے؛ اور جو دل میں اپنے پاس رکھتا تھا، وہ میرے دلبر کے ہمراہ جا رہا ہے۔
میں اُس سے دور ہو گیا ہوں، بے چارہ اور غم زدہ ہو گیا ہوں۔ گویا اُس سے دور ہونے پر ایک نیش میرے اُستُخواں میں جا رہا ہے۔
میں نے کہا تھا کہ حیلہ و جادو سے [اپنے] زخمِ دروں کو چھپاؤں گا۔ [لیکن یہ زخم] پنہاں نہیں رہے گا کہ میرے اشکِ خونیں آستاں پر جاری ہیں۔
اے ساربان! محمل کو روک دو اور کاروان کے ساتھ جلدی مت کرو، کہ اُس سروِ رواں کے عشق کے سبب گویا [بدن سے] میری جان [نکلی] جا رہی ہے۔ (معشوق کو استعارتاً ‘سروِ رواں’ کہا گیا ہے۔)
وہ [ناز کے ساتھ] دامن کھینچتے ہوئے جا رہا ہے، [اور] میں زہرِ تنہائی چکھ رہا ہوں۔۔۔ اِس کے بعد اب میرا نشان مت پوچھنا، کہ میرے دل کا نشان [مٹتا] جا رہا ہے۔
میرا یارِ سرکش لوٹ گیا، [اور] میرے لیے زندگیِ ناخوش چھوڑ گیا۔۔۔ میں ایک پُرآتش آتشداں کی مانند ہوں کہ میرے سر سے دُود بلند ہو رہا ہے (یعنی میں بے قرار ہوں)۔
اُس کے اُن تمام ظلم و ستم اور اُس کے اِس عہدِ بے بنیاد کے باوجود میرے سینہ میں اُس کی یاد رہتی ہے، یا پھر میری زبان پر [اُس کا نام] جاری رہتا ہے۔
اے دلبرِ نازنیں! واپس آ جاؤ اور میری چشم پر بیٹھ جاؤ۔۔۔ کہ [تمہاری جدائی میں] میری بانگ و فریاد زمین سے آسمان تک بلند ہو رہی ہے۔
میں شب سے سَحَر تک نہیں سوتا اور کسی کی نصیحت نہیں سنتا؛ اور یہ راہ مَیں قصداً نہیں چل رہا، بلکہ میرے کف سے لگام جا رہی ہے۔ (یعنی میں اپنے دست سے اختیار گنوا چکا ہوں اور بے اختیار راہ طے کر رہا ہوں۔)
میں نے کہا کہ [اِس قدر] روؤں کہ شُتُر خر کی طرح گِل میں پھنس جائے؛ لیکن میں یہ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ کاروان کے ساتھ میرا دل (یا محبوب) جا رہا ہے۔
اپنے یار کے وصال کے لیے صبر کرنا اور اپنے دلدار سے لوٹ جانا اگرچہ میرا کام (یا میرا طرزِ عمل) نہیں ہے، لیکن میرے کام اِسی طریقے سے تکمیل پائیں گے۔ (یعنی میری مشکلوں کی راہِ حل یہی ہے۔)
بدن سے جان کے نکلنے کے بارے میں طرح طرح کے سُخن کہے جاتے ہیں، [لیکن] میں نے خود اپنی چشم سے اپنی جان کو جاتے دیکھا ہے۔ (مصرعِ دوم میں ‘جان’ استعارتاً معشوق کے لیے استعمال ہوا ہے۔)
اے سعدیِ بے وفا! ہماری طرف سے فغاں مناسب نہ تھی۔۔۔ [لیکن میں کیا کروں] کہ میں طاقتِ جفا نہیں رکھتا، اور نالہ و فغاں [ہی] سے میرے کام درست ہوتے ہیں۔

× نیش = ڈنک؛ اُستخواں = ہڈی؛ دُود = دھواں؛ شُتُر = اونٹ؛ گِل = کیچڑ
× بیتِ دوم کا ترجمہ دوستِ گرامی محمد ریحان قریشی نے کیا ہے۔


مسجد کے امام صاحب اور سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ

آج میرے محلّے کی مسجد کے دیوبندی مکتبۂ فکر کے امام صاحب نے نمازِ فجر کے بعد کے درسِ قرآن کے دوران شیخ سعدی شیرازی کا یہ قطعہ پڑھا اور اُس کا ترجمہ بیان فرمایا:
شمشیرِ نیک از آهنِ بد چون کند کسی
ناکس به تربیت نشود ای حکیم کس
باران که در لطافتِ طبعش خلاف نیست
در باغ لاله روید و در شوره‌زار خس
(ترجمہ: آہنِ بد سے کوئی شخص تیغِ خوب کیسے بنائے؟؛ اے دانشمند! تربیت سے نالائق لائق نہیں ہو جاتا؛ بارش کہ جس کی لطافتِ طبع میں کوئی اختلاف نہیں؛ باغ میں لالہ اور شورہ زار میں خس اگاتی ہے۔)
امام صاحب کی زبان پر سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ جاری ہوتا دیکھ کر میرا دل خوشی سے سرشار ہو گیا، کیونکہ یہ غیر متوقع تھا۔ جب درس ختم ہونے کے بعد لوگ اُن سے مصافحہ و سلام کر رہے تھے تو میں بھی اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ "مولانا صاحب! میں فارسی کا طالبِ علم ہوں، آج جو آپ نے درس کے دوران شیخ سعدی کا قطعہ پڑھا، وہ مجھے بہت اچھا لگا۔ اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور آپ کے علم میں اضافہ کرتا رہے۔” یہ الفاظ سن کر اُن کا چہرہ بھی متبسم ہو گیا تھا۔ 🙂
میری فارسی زبان زندہ باد!