مسجد کے امام صاحب اور سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ

آج میرے محلّے کی مسجد کے دیوبندی مکتبۂ فکر کے امام صاحب نے نمازِ فجر کے بعد کے درسِ قرآن کے دوران شیخ سعدی شیرازی کا یہ قطعہ پڑھا اور اُس کا ترجمہ بیان فرمایا:
شمشیرِ نیک از آهنِ بد چون کند کسی
ناکس به تربیت نشود ای حکیم کس
باران که در لطافتِ طبعش خلاف نیست
در باغ لاله روید و در شوره‌زار خس
(ترجمہ: آہنِ بد سے کوئی شخص تیغِ خوب کیسے بنائے؟؛ اے دانشمند! تربیت سے نالائق لائق نہیں ہو جاتا؛ بارش کہ جس کی لطافتِ طبع میں کوئی اختلاف نہیں؛ باغ میں لالہ اور شورہ زار میں خس اگاتی ہے۔)
امام صاحب کی زبان پر سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ جاری ہوتا دیکھ کر میرا دل خوشی سے سرشار ہو گیا، کیونکہ یہ غیر متوقع تھا۔ جب درس ختم ہونے کے بعد لوگ اُن سے مصافحہ و سلام کر رہے تھے تو میں بھی اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ "مولانا صاحب! میں فارسی کا طالبِ علم ہوں، آج جو آپ نے درس کے دوران شیخ سعدی کا قطعہ پڑھا، وہ مجھے بہت اچھا لگا۔ اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور آپ کے علم میں اضافہ کرتا رہے۔” یہ الفاظ سن کر اُن کا چہرہ بھی متبسم ہو گیا تھا۔ 🙂
میری فارسی زبان زندہ باد!

Advertisements

قرغیز دارالحکومت بشکیک میں سعدی شیرازی کو یاد کیا گیا

اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی جانب سے ‘یومِ سعدی’ کی مناسبت سے قرغیزستان کے عالموں، شاعروں، اور سرکاری و عوامی شخصیات کی معیت میں ایک علمی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں سخن سرائے بے نظیرِ تاجک و فارس شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے آثار و روزگار کے گوناگوں پہلوؤں کے بارے میں اظہارِ نظر کیا گیا۔
اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے رئیس اکبر رِسقُلوف نے اس نشست کے افتتاح کے ضمن میں تاجک/فارس ثقافت و ادبیات کو عالمی میدان میں اہم مقام کا حامل بتلایا اور اس تمدن کے بزرگوں کی تالیفات کے قرغیزی زبان میں ترجمے اور نشر کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا۔
استاد رودکی کے نام پر قائم انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کے نائب رئیس اور تاجک نشریے ‘پیامِ الاتاؤ’ کے مدیرِ اعلیٰ قادرشاہ مروت نے حاضرین کے سامنے تاجکستان میں شیخ سعدی کی تالیفات کی تعلیم اور نشر کے مورد میں گفتگو کی۔ اُنہوں نے معاصر تاجکستانی معاشرے میں ان بزرگ شاعر و عارف کی حیثیت کو گراں بہا پکارتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ تاجکستان میں طفلِ مکتب خواں سے لے کر شہر و دیہات کے بزرگ سالوں تک، ہر کوئی سعدی کے اشعار اور اُن کی شخصیت کو جانتا ہے اور دوست رکھتا ہے۔
اس محفل میں قرغیزستان کے تاجک دانشور عبدالحلیم رحیم جانوف نے ‘تالیفاتِ شیخ سعدی میں انسان دوستی’ کے موضوع پر خطاب کیا۔ نیز، قرغیزستان میں سفارتِ ایران کے ثقافتی شعبے کے رہبر علی کبریازادہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران کی مالی کمک سے حال ہی میں ‘گلستانِ سعدی’ اولین بار قرغیزی زبان میں ترجمہ اور نشر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تالیف کا ترجمہ مشہور قرغیز مترجم کُوبانیچ بیک باسِل بیکوف کی کوششوں سے انجام کو پہنچا ہے اور اب قرغیز قارئین سعدی کی اس تالیف کو اپنی مادری زبان میں پڑھنے کا امکان رکھتے ہیں۔
قرغیزستان کے عوامی شاعروں حسن ژاکشِلیکوف اور مریم ابوالقاسم اووا، جمہوریۂ قرغیزستان کی روسی شاعرہ سویتلانا سُسلووا، اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی رکن شائستہ روشن اور چند دیگر افراد نے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کی زندگی، اُن کے مقام، اُن کی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں، اور اُن کی لازوال تالیفات کے قرغیز ادبیات پر اثر کے بارے میں سخن فرمایا اور تمام علاقہ مندانِ شعر و ادب کو یومِ سعدی کی تبریکات پیش کیں۔
بعد ازاں، دانشگاہِ بیشکک میں فارسی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اس محفل میں ان شاعرِ بزرگ کی غزلوں کی اصل فارسی زبان میں قرائت کی۔
صدارتِ اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے مشورے کے تحتِ نظر اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کی ہمکاری میں بہت جلد بشکیک میں معاصر تاجک شاعری پر گفتگو کرنے کے لیے ایک ادبی نشست منعقد کی جائے گی۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۴ اپریل ۲۰۱۵ء


امیر علی شیر نوائی پر ادبیاتِ فارسی کا اثر

"وسطی ایشیائی ترکی گویوں کے ادبیات کی عظیم شخصیات میں ایک چہرۂ دیگر امیر علی شیر نوائی کا ہے، کہ جو دیوانِ ترکی کے علاوہ ایک دیوان فارسی زبان میں بھی رکھتے ہیں جس میں اُن کا تخلص ‘فانی’ ہے۔ یہ معروف شاعر، قرنِ نہمِ ہجری کے بزرگ ترین اور عالم ترین فارسی گو شاعر نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے ہم عصر تھے اور ملا جامی کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ نیز، انہوں ہی نے جامی کی شرحِ حال میں ‘خمسۃ المتحیرین’ کے نام سے ایک کتاب چغتائی ترکی میں تحریر کی تھی۔
اگر ہم نوائی کی تالیفات پر از روئے انصاف نظر ڈالیں، تو ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنے عصر کی اُن تمام ادبی اصناف میں سخن آفرینی کی ہے جو ادبیاتِ فارسی میں رائج رہی ہیں اور اس سلسلے میں وہ وافر کمالات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ مثنوی ‘حیرت الابرار’ میں کہتے ہیں:
اُول صفا اهلی پاک فرجامی
پاک فرجام و پاکفر جامی
اُول یقین ساری دستگیر منگا
قبله و اوستاد و پیر منگا
نوائی کے جو اشعار ہم نے پیش کیے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ وہ عبدالرحمٰن جامی کے احترام کے کس حد تک قائل تھے۔ وہ ان اشعار میں جامی کو اپنا استاد، پیر اور قبلہ پکار کر اُن کی عظمت میں رطب اللسان ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس کے مقابل میں مولانا جامی نیز اُن سے کامل محبت رکھتے تھے اور در حقیقت ان دو بزرگوں کے مابین رابطہ، شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کے باہمی ارتباط کی طرح تھا۔ اگر کوئی تفاوت تھا تو وہ یہ تھا کہ شمس اور مولانا رومی دونوں ایرانی تھے جبکہ نوائی اور جامی میں سے اول الذکر ترک اور ثانی الذکر تاجک تھے۔
علی شیر نوائی کی تالیفات پر جامی کی تصنیفات، اور بالعموم فارسی ادبیات کے اثر کے موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں بطورِ مثال نوائی کے ایک شعر کو لانے اور اُس شعر کے ایک فارسی گو شاعر کے شعر سے موازنہ کرنے ہی پر اکتفا کر رہا ہوں:
عارضین یاپغاچ کؤزیمدین ساچیلور هر لحظه یاش
اؤیله کیم پیدا بؤلور یولدوز، نهان بؤلغاچ قویاش
یہ مندرجہ بالا شعر کمال خجندی کے ایک بیت کے مضمون کی کاملاً تکرار ہے:
تا رخ نپوشد کی شود از دیده اشکِ ما روان
پنهان نگشته آفتاب اختر نمی‌آید برون
(اردو ترجمہ:جب تک وہ اپنا رخ پوشیدہ نہ کر لے اُس وقت تک آنکھ سے ہمارے آنسو کیسے رواں ہو سکتے ہیں؟ جب تک آفتاب پنہاں نہ ہو جائے، اُس وقت تک ستارہ باہر نہیں آتا۔)
اس طرح اس بات کی بھی یاد آوری کرنی چاہیے کہ ‘خمسۂ نوائی’ میں بھی شاعر نے موضوع اور اسلوب دونوں کے لحاظ سے حکیم نظامی گنجوی اور امیر خسرو دہلوی کے ‘خمسوں’ کی پیروی کی ہے۔
نوائی کی تالیفات میں شیخِ اجل سعدی شیرازی کی کتابوں ‘گلستان’ اور ‘بوستان’ کے مضامین کا بھی فراواں استعمال ہوا ہے اور اُن کے جملہ آثار میں لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کی غزلوں کا اثر بخوبی مشہود ہے۔”

(صَفَر عبداللہ کی کتاب ‘نورِ سخن’ میں شامل مضمون ‘نقشِ ادبیاتِ فارسی در شکل گیریِ ادبیاتِ اقوامِ ترکی زبانِ آسیائے مرکزی’ سے اقتباس اور ترجمہ)