عُثمانی سیّاح سیدی علی رئیس کی زبان سے شہرِ کابُل اور مردُمِ کابُل کی سِتائش

عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں ایک جا لکھتے ہیں:

کابُل شهری زیباست. اطرافش را کوه‌های پوشیده از برف گرفته‌است. رودخانهٔ پُرآبی در شهر جاری است. چهارباغ‌ها دارد. در هر طرف باغ‌ها بزم‌های عیش و عشرت گسترده بود و در هر گوشه دل‌بران رعنا و لولیان زیبا با ساز و آواز مجالس ذوق و صفا برپا می‌داشتند. مردم کابُل همیشه با نشاط و عشرت و شادی به‌سر می‌برند.
اۏلور مې هرگز آدم حوره مایل
وار ایکن لُولیانِ شهرِ کابل
(هرگز آدم به حوریان مایل نمی‌شود
اگر لولیان شهر کابل باشند)

(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"کابُل ایک زیبا شہر ہے۔ اُس کے اطراف کو برف سے پوشیدہ کوہوں نے گھیرا ہوا ہے۔ شہر میں ایک پُرآب دریا جاری ہے۔ کابُل میں کئی چہارباغ ہیں۔ باغوں میں ہر طرف عیش و عشرت کی بزمیں بِچھی ہوئی تھیں اور ہر گوشے میں دلبرانِ رعنا اور خُوبانِ زیبا نے ساز و آواز کے ساتھ مجالسِ ذوق و خُرّمی برپا کی ہوئیں تھی۔ مردُمِ کابُل ہمیشہ نشاط و عشرت و شادمانی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
(تُرکی بیت کا ترجمہ:) اگر خُوبانِ شہرِ کابُل موجود ہوں تو کیا انسان ہرگز حور کی جانب مائل ہو گا؟”

(اردو مترجم: حسّان خان)

× زبانِ تُرکی میں ‘کابل’ کا تلفُّظ ‘کابِل’ ہے۔


نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔