شهابِ طلایی – سیمین بهبهانی

(شهابِ طلایی)
همچون نسیم بر تن و جانم وزید و رفت
ما را چو گل دمی به سوی خود کشید و رفت
بر دفترِ خیالِ پریشانِ من شبی
با کلکِ عشق، خطِ تمنا کشید و رفت
در آسمانِ خاطرم آن اخترِ امید
دردا که چون شهابِ طلایی دوید و رفت
برگو، خدای را، به دیارِ که می‌دمد
آ‌ن صبحِ کاذبی که به شامم دمید و رفت
یادِ شکیب‌سوزِ تو، ای آشنا، شبی
در موجِ عطرِ بسترِ من آرمید و رفت
در آفتابِ لطفِ تو تا دیگری نشست
چون سایه عاشقِ تو به کنجی خزید و رفت
ترسم چو بازآیی و پرسم ز عشقِ خویش
گویی چو شورِ مستی‌ام از سر پرید و رفت
سیمین! اگرچه رفت و تو تنها شدی ولیک
این بس که در دلت شرری آفرید و رفت
(سیمین بهبهانی)

ترجمہ:
وہ بادِ نسیم کی مانند میرے تن و جاں پر وزیدا اور چلا گیا؛ اُس نے ہمیں گُل کی طرح ایک لمحہ اپنی جانب کھینچا اور چلا گیا۔
میرے خیالِ پریشان کے دفتر پر ایک شب اُس نے کلکِ عشق سے خطِ تمنا کھینچا اور چلا گیا۔
دردا کہ وہ اخترِ امید میرے ذہن کے آسمان پر طلائی شہاب کی مانند دوڑا اور چلا گیا۔
خدا را بتاؤ کہ وہ صبح کاذب کس کے دیار میں طلوع ہوتی ہے جو میری شام میں طلوع ہوئی اور چلی گئی۔
اے آشنا، تمہاری صبرسوز یاد نے ایک شب میرے بستر کے عطر کی موج میں آرام کیا اور چلی گئی۔
تمہارے لطف کی دھوپ میں جیسے ہی کوئی دیگر بیٹھا، عاشق سائے کی طرح ایک گوشے کی طرف رینگا اور چلا گیا۔
میں ڈرتی ہوں کہ جب تم دوبارہ آؤ گے اور میں اپنے عشق کے بارے میں پوچھوں گی تو تم کہو گے کہ وہ شورِ مستی کی مانند میرے سر سے اڑا اور چلا گیا۔
اے سیمیں! اگرچہ وہ چلا گیا اور تم تنہا ہو گئی لیکن یہی کافی ہے کہ اُس نے تمہارے دل میں ایک شرر پیدا کیا اور چلا گیا۔

× وَزِیدنا = ہوا کا حرکت کرنا


دیوانگی – سیمین بهبهانی

(دیوانگی)
یا رب مرا یاری بده، تا خوب آزارش کنم
هجرش دهم، زجرش دهم، خوارش کنم، زارش کنم
از بوسه‌های آتشین، وز خنده‌های دل‌نشین
صد شعله در جانش زنم، صد فتنه در کارش کنم
در پیشِ چشمش ساغری، گیرم ز دستِ دل‌بری
از رشک آزارش دهم، وز غصه بیمارش کنم
بندی به پایش افکنم، گویم خداوندش منم
چون بنده در سودای زر، کالای بازارش کنم
گوید مَیفزا قهرِ خود، گویم بکاهم مِهرِ خود
گوید که کم‌تر کن جفا، گویم که بسیارش کنم
هر شام‌گه در خانه‌ای، چابک‌تر از پروانه‌ای
رقصم برِ بیگانه‌ای، وز خویش بیزارش کنم
چون بینم آن شیدای من، فارغ شد از سودای من
منزل کنم در کوی او، باشد که دیدارش کنم
گیسوی خود افشان کنم، جادوی خود گریان کنم
با گونه‌گون سوگند‌ها، بارِ دگر یارش کنم
چون یار شد بارِ دگر، کوشم به آزارِ دگر
تا این دلِ دیوانه را، راضی ز آزارش کنم
(سیمین بهبهانی)

ترجمہ:
یا رب، مجھے کوئی یار دے، تاکہ اُسے خوب آزار دوں؛ اُسے ہجر دوں، اُسے اذیت دوں، اُسے خوار کروں، اُسے زار کروں۔
(اپنے) آتشیں بوسوں سے اور دل نشیں خندوں سے اُس کی جان میں سینکڑوں شعلے لگاؤں اور اُس کے کام میں سینکڑوں فتنے ڈالوں۔
اُس کی چشم کے سامنے کسی دل بر کے دست سے ایک ساغر لوں؛ اُسے رشک سے آزار دوں اور اُسے غم سے بیمار کروں۔
اُس کے پا میں کوئی بند ڈالوں اور کہوں کہ میں اُس کی مالک ہوں؛ اور زر کی ہوس میں اُسے غلام کی طرح بازار کا مال کروں۔
وہ کہے کہ اپنا قہر افزوں مت کرو؛ میں کہوں کہ میں اپنی محبت کم کروں گی؛ وہ کہے کہ جفا کم تر کرو، میں کہوں کہ اُسے زیادہ کروں گی۔
ہر شام کے وقت کسی خانے میں، کسی پروانے سے چابک تر، کسی بیگانے کے پہلو میں رقص کروں اور اُسے خود سے بیزار کروں۔
جب دیکھوں وہ میرا شیدا میرے عشق سے دست کَش ہو گیا ہے تو اُس کے کوچے میں منزل کروں تاکہ شاید اُس کا دیدار کر لوں۔
اپنے گیسو افشاں کروں، اپنی نرگسِ جادو گریاں کروں؛ گوناگوں قَسموں کے ساتھ اُسے دوبارہ یار کر لوں۔
جب وہ بارِ دگر یار ہو جائے تو ایک اور آزار کی کوشش کروں؛ تاکہ اِس دیوانے دل کو اُس کے آزار سے راضی کر لوں۔