ظہیرالدین محمد بابر کے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار

ظہیرالدین محمد بابُر اپنی کتاب ‘بابُرنامہ’ کی ابتدا میں اپنے والد عُمر شیخ میرزا کے اَخلاق و اطوار کے بارے میں لکھتے ہیں:

"حنفی مذهب‌لیق، پاکیزه اعتقادلیق کیشی اېدی، بېش وقت نمازنی ترک قیلمس اېدی، عُمری قضالری‌نی تمام قیلیب اېدی، اکثر تلاوت قیلور اېدی. حضرت خواجه عُبیدالله‌غه اِرادتی بار اېردی، صُحبت‌لری‌غه بسیار مُشرّف بۉلوب اېدی. حضرت خواجه هم فرزند دېب اېردیلر.
روان سوادی بار اېدی. خمسَتَین و مثنوی کتاب‌لرنی و تأریخ‌لرنی اۉقوب اېدی. اکثر شاه‌نامه اۉقور اېدی. طبعِ نظم بار اېدی، ولی شعرغه پروا قیلمس اېدی.”

"وہ حنفی مذہب و پاکیزہ اعتقاد شخص تھے، پنج وقتہ نمازوں کو ترک نہ کرتے تھے، اپنی قضائے عُمری کو تمام کر چکے تھے، اکثر تلاوتِ [قُرآن] کرتے تھے۔ وہ حضرت خواجہ عُبیداللہ [احرار] سے اِرادت رکھتے تھے، اور اُن کی صُحبتوں سے بِسیار مُشرّف ہو چکے تھے۔ حضرتِ خواجہ بھی [اُن کو] فرزند پُکارتے تھے۔
وہ روانی کے ساتھ خوان (پڑھ) سکتے تھے۔ خَمسَتَین، مثنوی اور تاریخ کی کتابوں کا مُطالعہ کر چکے تھے۔ اکثر شاہنامہ خوانا (پڑھا) کرتے تھے۔ وہ طبعِ شاعری رکھتے تھے، لیکن شعر [کہنے] کی پروا نہیں کرتے تھے۔”

× ‘خمسَتَین’ سے نظامی گنجوی اور امیر خُسرو کے پانچ پانچ مثنویوں کے مجموعے، اور ‘مثنوی’ سے مولانا رُومی کی مثنویِ معنوی مُراد ہے۔
× خوانْنا (بر وزنِ ‘جاننا’) = پڑھنا

Hanafiy mazhabliq, pokiza e’tiqodliq kishi edi, besh vaqt namozni tark qilmas edi, umriy qazolarini tamom qilib edi, aksar tilovat qilur edi. Hazrat Xoja Ubaydullog’a irodati bor erdi, suhbatlarig’a bisyor musharraf bo’lub edi. Hazrat Xoja ham farzand deb erdilar.
Ravon savodi bor edi. Xamsatayn va masnaviy kitoblarni va ta’rixlarni o’qub edi. Aksar Shohnoma o’qur edi. Tab’i nazmi bor edi, vale she’rg’a parvo qilmas edi.

Advertisements

جواں سالہ پِسر کی وفات پر مرثیہ – فردوسی طوسی

مرا سال بِگْذشت بر شست و پنج
نه نیکو بُوَد گر بِیازم به گنج
مگر بهره برگیرم از پندِ خویش
براندیشم از مرگِ فرزندِ خویش
مرا بود نوبت بِرفت آن جوان
ز دردش منم چون تنی بی‌روان
شِتابم همی تا مگر یابمش
چو یابم به پیغاره بِشْتابمش
که نوبت مرا بود بی کامِ من
چرا رفتی و بُردی آرامِ من
ز بدها تو بودی مرا دست‌گیر
چرا چاره جُستی ز همراهِ پیر
مگر هم‌رهانِ جوان یافتی
که از پیشِ من تیز بِشْتافتی
جوان را چو شد سال بر سی و هفت
نه بر آرزو یافت گیتی، بِرفت
همی بود همواره با من دُرُشت
برآشُفت و یک‌باره بِنْمود پُشت
بِرفت و غم و رنجش ایدر بِمانْد
دل و دیدهٔ من به خون درنِشانْد
کُنون او سویِ روشنایی رسید
پدر را همی جای خواهد گُزید
بر آمد چُنین روزگاری دراز
کزان هم‌رهان کس نگشتند باز
همانا مرا چشم دارد همی
ز دیر آمدن خشم دارد همی
وُرا سال سی بُد، مرا شست و هفت
نپُرسید ازین پیر و تنها بِرفت
وی اندر شِتاب و من اندر دِرنگ
ز کردارها تا چه آید به چنگ
روانِ تو دارنده روشن کُناد
خِرد پیشِ جانِ تو جوشن کُناد
همی خواهم از دادگر کردگار
ز روزی‌دِهِ آشکار و نِهان
که یکسر بِبخشد گناهِ وُرا
درخشان کند تیره‌گاهِ وُرا
(فردوسی طوسی)

ترجمہ:
میری عمر پینسٹھ سال سے زیادہ ہو گئی ہے۔۔۔ اب مناسب نہیں ہے کہ میں خزانے (یعنی دنیاوی چیزوں) کی جانب دست بڑھاؤں۔۔۔ مجھے اپنی نصیحت سے بہرہ اُٹھانا چاہیے اور اپنے فرزند کی موت کے بارے میں تفکُّر کرنا چاہیے۔۔۔ باری میری تھی، لیکن چلا وہ جوان گیا۔۔۔ اُس کے درد سے میں تنِ بے جاں کی طرح [ہو گیا] ہوں۔۔۔۔ میں جلدی کر رہا ہوں تاکہ شاید اُس کو پا سکوں، اور جب پا جاؤں تو فوراً اُس کو سرزنش کروں۔۔۔ کہ باری تو میری تھی، میری خواہش کے بغیر تم کیسے چلے گئے اور میرا آرام لے گئے؟۔۔۔ بدیوں اور اِبتلاؤں میں تم میرے دست گیر و مُعاون تھے، تم نے اِس پِیر (بوڑھے) کی ہمراہی سے کیوں دوری اختیار کی؟۔۔۔ کہیں تمہیں جوان رُفَقاء تو نہیں مل گئے تھے؟ کہ یوں تیزی سے میرے حضور سے چلے گئے؟۔۔۔ جب جوان پینتیس سال کا ہوا تو اُس نے جہان کو اپنی آرزو کے موافق نہ پایا، اور [تَرک کر کے] چلا گیا۔۔۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ تُند خُو و دُرُشت تھا۔۔۔ یکایک اُس نے غضب ناک ہو کر مجھ کو پُشت دکھا دی۔۔۔ وہ چلا گیا اور یہاں غم و رنج رہ گیا۔۔۔ اور اُس نے میرے دل و دیدہ کو خُون میں آغُشتہ کر دیا۔۔۔ اب وہ نُور تک پہنچ گیا ہے۔۔۔ [جہاں] وہ اپنے پدر کے لیے مسکن مُنتخَب کرے گا۔۔۔ اتنا طویل زمانہ گُذر گیا، لیکن اُن ہمراہوں میں سے کوئی واپَس نہ آیا۔۔ یقیناً وہ وہاں میرا مُنتظِر ہے۔۔۔ اور میرے دیر سے آنے پر خشمگین ہے۔۔۔ وہ تیس (سینتیس) سال کا تھا، جبکہ میں پینسٹھ سال کا ہوں۔۔۔ اُس نے اِس پِیر کو نہیں پوچھا، اور تنہا چلا گیا۔۔۔ وہ تیزی میں [ہے]، اور میں دیری میں [ہوں]۔۔۔ [اب دیکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے] افعال کا کیا نتیجہ مِلتا ہے۔۔۔ خدا تعالیٰ تمہاری روح کو روشن کرے!۔۔۔ اور عقل کو تمہاری جان کے لیے سِپر بنائے! میں خدائے عادل، اور آشکارا و نِہاں روزی دینے والی ذات سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ اُس کے تمام گُناہوں کو مُعاف کر دے!۔۔۔ اور اُس کے تاریک مقام (قبر) کو درخشاں کرے!

× فردوسی طوسی نے یہ مرثیہ اپنے جواں سالہ پِسر کی وفات پر کہا تھا، اور یہ مرثیہ شاہنامہ میں داستانِ خسرو پرویز کے ضِمن میں مشمول ہے۔ میں نے اِس مرثیے کا وہ متن مُنتَخب کیا ہے جو جلال خالقی مُطلق کی جانب سے تصحیح شدہ شاہنامہ میں ثبت ہے۔


فردوسی اور شیکسپیئر کے درمیان ایک شاعرانہ مضمون کا اشتراک

شاہنامہ میں فردوسی لکھتے ہیں کہ فریدون نے اپنے نوادے (پوتے) منوچہر کی ایسے ناز کے ساتھ پرورش کی تھی کہ وہ یہ بھی نہیں روا رکھتا تھا کہ منوچہر پر سے باد و ہوا گذرے اور اُس کے نازک بدن کو آزار پہنچائے:
"چنان پروریدش که باد و هوا
بر او برگذشتن ندیدی روا"
[فریدون] نے [منوچہر] کی ایسے پرورش کی وہ اُس پر سے باد و ہوا کے گذرنے کو بھی روا نہیں رکھتا تھا۔

ولیم شیکسپیئر نے بھی ‘ہیملٹ’ میں ایک جا ایسا ہی مضمون بیان کیا ہے۔ ہیملٹ اپنے وفات کردہ پدر کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"So loving to my mother
That he might not beteem the winds of heaven
Visit her face too roughly.”
"او آنقدر با مادرم مهربان بود
که حتی حاضر نبود اجازه دهد که نسیم‌های آسمانی
به تندی صورتش را بنوازند.
(مترجم: بهزاد جزایری)
"اُسے میری مادر کے ساتھ اِس قدر محبت تھی
کہ وہ حتیٰ یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ آسمانی ہوائیں
تُندی کے ساتھ اُس کے چہرے پر سے گذریں۔”