ای گُل یاناغلو، لب‌لرینه جان دئسم، یئری – شاه اسماعیل صفوی ‘خطایی’

ای گُل یاناغلو، لب‌لرینه جان دئسم، یئری
زُلفینه کفر و یۆزینه ایمان دئسم، یئری
سۏردوم طبیبه، دردیمه درمان بولونمادې
بو دردِ عشقه لعلینی درمان دئسم، یئری
کیم ائشیگینه یاستانا، دولت بولور مُدام
اۏل آستانه سایهٔ سُبحا‌ن دئسم، یئری
بیر مورِ خسته‌نین که قاپوندا مقامی وار
من اۏل مقامه مُلکِ سلیمان دئسم، یئری
بولدو خطایی ذکرِ جمالېندا نورِ حق
صحنِ رُخینی صفحهٔ قرآن دئسم، یئری
(شاه اسماعیل صفوی ‘خطایی’)

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن

ترجمہ:
اے [محبوب] گُل رُخسار! تمہارے لبوں کو اگر میں جان کہوں تو بجا ہے؛ اگر میں تمہاری زُلف کو کفر اور تمہارے چہرے کو ایمان کہوں تو بجا ہے۔
میں نے طبیب سے پوچھا، [اُس کو] میرے درد کا علاج نہ مل سکا۔۔۔ اگر میں [یار کے] لبِ لعل کو اِس دردِ عشق کا علاج کہوں تو بجا ہے۔
جو شخص تمہارے آستان پر بِچھے اور اُس کو بالیں بنائے، وہ ہمیشہ دولت و اقبال مندی پاتا ہے۔۔۔ اُس آستان کو اگر میں سایۂ خدائے سُبحان کہوں تو بجا ہے۔
تمہارے در پر جو ایک خستہ چیونٹی کی اقامت گاہ ہے، اگر میں اُس اقامت گاہ کو مُلکِ سلیمان کہوں تو بجا ہے۔
‘خطائی’ کو تمہارے جمال کے ذکر میں نورِ حق حاصل ہوا ہے؛ تمہارے صحنِ رُخ کو اگر میں صفحۂ قرآن کہوں تو بجا ہے۔

Ey gül yanağlu, ləblərinə can desəm, yeri.
Zülfinə küfrü yüzinə iman desəm, yeri.
Sоrdum təbibə, dərdimə dərman bulunmadı,
Bu dərdi-eşqə lə’lini dərman desəm, yeri.
Kim eşiginə yastana, dövlət bulur müdam,
Оl asitanə sayeyi-sübhan desəm, yeri.
Bir muri-xəstənin ki, qapunda məqami var,
Mən оl məqamə mülki-Süleyman desəm, yeri.
Buldu Xətayi zikri-cəmalında nuri-həq,
Səhni-rüxini səfheyi-Qur’an desəm, yeri.


شاہ اسماعیل صفوی کا اپنی مادری زبان تُرکی میں نوشتہ ایک مکتوب

Şah İsmail Musa Doğurt türkcə məktubتاریخِ نوشتگی: ۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ/۲۳ مئی ۱۵۱۲ء
زمانہ: دورِ صفویہ
جائے حفاظت: توپ قاپی سرائے عجائب خانہ محفوظیات، شمارہ ۵۴۶۰
خطِّ کتابت: شکستہ نستعلیق

شاہ اسماعیل صفوی نے ۱۵۱۲ء میں اپنے ایک امیر احمد آقا قارامانلی کو ایک تُرکی مکتوب کے ساتھ تُورغُوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے موسیٰ بیگ کی جانب بھیج کر اناطولیہ میں قزلباشی تبلیغ کے لیے ایک کوشش کی تھی۔ یہ مکتوب تُرکی میں میں لکھا گیا تھا اور سلطان سلیم عثمانی کے تخت نشیں ہونے کے محض ایک ماہ بعد اِرسال کیا گیا تھا۔ اِس وثیقے (دستاویز) سے دیارِ آلِ عثمان، خصوصاً اناطولیہ میں قزلباشی مریدوں کے ایک وسیع شَبَکے (نیٹ ورک) کی موجودگی کا اِثبات ہوتا ہے۔ سَنَد میں شاہِ‌ قزلباش نے امارتِ آلِ قارامان سے تعلق رکھنے والے بزرگ ترین تُرکمن قبیلے بنی تورغوت کے رئیس کے سفیرِ قزلباش احمد آقا قارامانلی کے ساتھ ارتباط برقرار کرنے، اُس کے فرمانوں کی بجا آوری کرنے، نیز خطّے میں کی جانے والی اپنی سرگرمیوں کی تفصیلی اطلاع دینے کا تقاضا کیا ہے۔
اِس سَنَد کے بارے میں اولین معلومات شہاب الدین تکینداغ نے دی تھیں: "۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ (ستمبر ۱۵۱۲ء) کی تاریخ رکھنے والے اور امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغورت اوغلو کی طرف افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامانلی کے بھیجے جانے کی اطلاع دینے والے شاہ اسماعیل صفوی کے اِس فرمان میں ‘الحکم للہ ابوالمظفر اسماعیل بہادر سؤزوموز’ کی عبارت پر مشتمل طُغرے کے زیر میں دوازدہ اماموں کے ناموں والی مُہر موجود ہے۔”
فاروق سُومر کی دی گئی معلومات کے مطابق "بنی تورغوت نے قبیلۂ قارامان کی سرزمین کے عثمانیوں کے دست میں چلے جانے کے بعد بھی سیاسی قوّت کے طور پر اپنی موجودگی کو مزید کچھ عرصے جاری رکھا تھا۔” "دولتِ صفویہ کی تأسیس اور نشو و نما سے تعلق رکھنے والے ایک مأخذ میں، کہ جس کے مؤلف کا نام معلوم نہیں ہے، ۹۰۶ھ (۱۵۰۰ء-۱۵۰۱ء) میں ارزنجان میں صفوی شیخ اسماعیل کے حضور میں آنے والوں کے درمیان قارامانی مریدوں کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ اسماعیل نے شاہ ہونے کے بعد ۹۱۸ھ (۱۵۱۲) میں آلِ تورغوت کے موسیٰ بیگ کو بھیجے گئے اپنے ایک تُرکی مکتوب میں احمد آقا قارامانی کی خواہش کے مطابق اِقدام کرنے اور اُس کے ساتھ ہم خیالی و اتحاد کرنے کے علاوہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے فرمان تحریر کیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی موت کے پانچ سال بعد (۹۳۵ھ/۱۵۲۸-۲۹ء) شاہ طہماسب کے امیروں کے درمیان حسن سلطان تورغوت اوغلو کا نام مِلتا ہے۔ حسن سلطان نے طہماسب کے سفرِ خُراسان کے دوران اُس کی مصاحبت اختیار کی تھی۔ حسن سلطان کے علاوہ اُسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاسم علی بیگ بھی مذکورہ حُکمران کی خدمت میں موجود تھے۔ شہزادہ بایزید عثمانی کے ایک امیر پیر حُسین بیگ شاہزادے کے ہمراہ ایران گئے تھے اور وہیں رُک گئے تھے۔ صفوی خدمت میں اِن امیروں کے سوا کسی دیگر تورغوت بیگ کا نام نہیں مِلتا۔”
طوفان گوندوز نے [اپنی کتاب میں] شاہ اسماعیل کے موسیٰ تورغوت اوغلو کی طرف ۱۵۱۲ء میں بھیجے گئے اِس نامے کے ذریعے قارامان علاقے میں اپنے مُریدوں کی رہنمائی کرنے کی شاہ کی خواہش کو واضح کیا ہے۔ اِس مکتوب کے دو سال بعد دونوں تُرک سلطنتیں [صفوی و عثمانی] چالدران کے میدان میں بالمقابل آ گئیں۔

اصلی تحریر:
ابوالمظفر [اسماعیل بهادر] سوزومیز
امیر اعظم اکرم موسی دورغوت اغلی عنایت و شفقتمزه امیدوار اولندن صونکره شیله بیلسون کیم افتخار الاعاظم و الاعیان احمد اقا قرامانلو اول طرفه کوندردوک و اول یرنک اختیارلکنی کندونه شفقت ایتسونک کرک کیم مشارالیه سوزوندن و مصلحتندن چخمسون و متابعت و یاردم او انکا قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ایتمک مرادی و استکی اولسه حاصل دور. کوندن کونه هر ایش واقع بولسه احمد اقا اتفاقی ایله درکاه معلامزه بیلدورسونلر کیم هر نوع بویرغمز اولسه عمل ایتسون کونکلیمزه خوش دوتوب مرحمتمزه امیدوار السون. تحریراً ربیع الاول سنه ۹۱۸.

جدید املاء میں تحریر:
ابوالمظفّر اسماعیل باهادور سؤزوموز
امیرِ اعظمِ اکرم موسی دوُرغوت اوْغلو عنایت و شفقتیمیزه امیدوار اوْلاندان صوْنرا شؤیله بیلسون کیم إفتخار الاعاظم و الاعیان احمد آقا قارامانلو اوْل طرفه گؤندردوک و اوْل یئرین اختیارلیغینی کندینه (بیله‌سینه) شفقت ائتسون. گره‌ک کیم مُشارإلیه سؤزوندن و مصلحتیندن چخماسون و متابعت و یاردیم اوْ آنگا (اونا) قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ائتمک مرادی و ایسته‌گی اوْلسا حاصل‌دور. گوندن گونه هر ایش واقع بوُلسا احمد آقا اتفاقی ایله درگاهٔ معلّامیزا بیلدورسونلر کیم هر نوع بویروغوموز اوْلسا عمل ائتسون؛ کونلوموزه (کؤنلوموزو) خوْش دوتوب مرحمتیمیزه اومیدوار اوْلسون. تحریراً ربیع الاوّل سنه ۹۱۸.

لاطینی رسم الخط میں تحریر:
«[1] [Əl-hükmü Billâh] Əbu’l-Müzəffər [İsmâ’il Bahadur] SÖZÜMİZ (Tuğra):
[2] Əmir-i ə’zəm-i əkrəm Mûsâ Durğut oğlı ‘inâyət və şəfqətimizə
[3] ümîdvâr olandan son͡gra şöylə bilsün kim iftixârü’l-ə’âzim
[4] və’l-ə’yân Əhməd Âqa Qaramanlu ol tərəfə göndərdük və ol yerin͡g ixtiyârligini kəndünə şəfqət etsün͡g.
[5] Gərək kim müşârüniləyh sözündən və məsləhətindən çıxmasun və mütâbə’ət və yardım o an͡ga (ona) qılsun kim inşâallâh
[6] tə’âlâ hər nə kim etmək murâdı və istəgi olsa hâsildür. Gündən-günə hər iş vâqe’ bulsa
[7] Əhməd Âqa ittifâqı ilə dərgâh-ı mu’əllâmıza bildürsünlər kim, hər nəv’ buyruğumuz olsa ‘əməl etsün; kön͡glümüzü xoş dutup, mərhəmətimizə ümîdvâr olsun. Təhrîrən [fî] 7 Rəbî’u’l-əvvəl sənə 918»

اردو ترجمہ:
ابوالمظفر [اسماعیل بہادر] ہمارا فرمان (طُغرا)
[الحکم باللہ]
امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغوت اوغلو ہماری عنایت و شفت کا امیدوار ہونے کے بعد یہ جان لے کہ ہم نے افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامنلی کو اُس طرف بھیجا ہے اور وہ جو فیصلہ منتخَب کرے اُس کی بجا آوری ہونی چاہیے۔ لازم ہے کہ ہر چیز میں مُشارٌ اِلَیہ کے حُکم و صوابدید کی متابعت اور مدد کی جائے تاکہ ان شاء اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی اُس کی مراد و آرزو ہو، وہ حاصل ہو جائے۔ روزانہ کے جو بھی واقعات ہوں، احمد آقا کی ہمکاری و اتفاق کے ساتھ اُن سے ہماری درگاہِ مُعلّیٰ کو مطّلع کیا جائے، تاکہ ہمارا جو بھی فرمان ہو اُس پر عمل ہو جائے؛ اور پس ہمارا دل شاد ہو جائے اور وہ ہماری مہربانی کے امیدوار ہو جائیں۔ تحریراً [فی] ربیع الاول سنہ ۹۱۸.

تُرکی مضمون کا مأخذ
اردو مترجم: حسّان خان