شرلوک ہومز کی زبان سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش

شرلوک ہومز کے کردار کے خالق «آرتھر کونن ڈائل» کی ایک داستان «شناخت کا قضیہ» (A Case of Identity) کے اختتام پر شرلوک ہومز اپنے دوست و مُعاوِن ڈاکٹر واٹسن سے جنابِ «حافظِ شیرازی» کی سِتائش کرتے ہوئے، اور اُن کا لاطینی شاعر «ہوراس» سے تقابُل کرتے ہوئے کہتا ہے:

"You may remember the old Persian saying, ‘There is danger for him who taketh the tiger cub, and danger also for whoso snatches a delusion from a woman.’ There is as much sense in Hafiz as in Horace, and as much knowledge of the world.”

"شاید تمہیں وہ فارسی ضرب المثَل یاد ہو گی کہ ‘جو بھی شخص چِیتے کے بچّے کو ہتھیاتا ہے، یا جو بھی شخص کسی عورت سے وہم چھینتا ہے، اُس کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے’۔ حافظ میں اُسی قدر حِکمت و اِدراک و معرفتِ جہان موجود ہے جس قدر ہوراس میں۔”

اگرچہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ شرلوک نے جس ضرب المثَل کو حافظ کی شاعری کے طور پر پیش کیا ہے، وہ حافظ کی کسی بیت میں نہیں ہے، اور ایسی کوئی ضرب المثَل بھی میں نے کبھی فارسی میں نہیں دیکھی۔ ظاہراً، نویسندۂ داستان نے اِس سُنی ہوئی مَثَل کو غلطی سے حافظ کا قول سمجھ لیا تھا۔

Advertisements