صدرالدین عینی کے نام ابوالقاسم لاہوتی کا ایک مکتوب

از موسکوا به سمرقند
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷ء

رفیقِ محترم و اُستادِ معظم صدرالدین عینی!
دو روز است، که به مسکو وارد شده‌ام و در کارهایِ فرقه‌وی مشغولِ خدمت هستم. از شما استدعا دارم، که نتیجهٔ کاغذ به رفیق محی‌الدین‌اف را به بنده مرقوم دارید. اگر خواهشِ من و شما را قبول نکرده، از مسکو اقدام خواهم کرد. اگر شما در مسکو کاری و یا فرمایشی دارید، بنویسید، البته، انجام خواهم داد. هر وقت رفیقِ محترم مُنظِم (استادِ من) از سفر باز آمدند، سلامِ شاگردانهٔ مرا تبلیغ فرمایید.
آرزو دارم، که همیشه از سلامتیِ شما باخبر باشم. در مسکو گاه مجلس‌هایِ راجع به ادبیاتِ فارسی می‌شود و جمعیتی هم هست. آشنا که شدم، میل دارم شما را به آن انجمن مُعرّفی کنم. در آن جا از ادبیاتِ همهٔ شرق، مخصوصاً فارسی گُفت‌وگُزارها می‌شود.
خالده‌جان را از قولِ عمکِ لاهوتی سلام برسانید!
با احترام و سلام لاهوتی.
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷، مسکو.

ترجمہ:
رفیقِ محترم و اُستادِ مُعظّم صدرالدین عینی!
دو روز ہو گئے ہیں کہ میں ماسکو میں وارِد ہو کر حِزبی کاموں میں مشغولِ خدمت ہوں۔ آپ سے استدعا ہے کہ رفیق مُحی‌الدّینوف سے مُکاتبت کا نتیجہ اِس بندے کو مرقوم فرما دیجیے۔ اگر اُنہوں نے میری اور آپ کی خواہش کو قبول نہ کیا ہو تو میں ماسکو سے اِقدام کروں گا۔ اگر ماسکو میں آپ کو کوئی کام یا حُکم ہو تو لکھ بھیجیے، مَیں حتماً انجام دوں گا۔ جس وقت بھی رفیقِ مُحترم مُنظِم (میرے اُستاد) سفر سے واپس آ جائیں، اُن کو میرا شاگردانہ سلام پہنچائیے گا۔
میری آرزو ہے کہ میں ہمیشہ آپ کی سلامتی سے باخبر رہوں۔ ماسکو میں گاہے ادبیاتِ فارسی سے متعلق مجلسیں برپا ہوتی ہیں اور ایک انجُمن بھی موجود ہے۔ میں جب بھی آشنا ہوؤں گا، میں خواہش رکھتا ہوں کہ اُس انجُمن کو آپ سے مُتعارف کر دوں۔ اُس جگہ کُل سرزمینِ مشرق کے ادبیات، خصوصاً فارسی ادبیات کے بارے میں مُباحثہ ہوتا ہے۔
خالدہ جان کو عَمو لاہوتی کی جانب سے سلام پہنچائیے گا!
مع احترام و سلام۔ لاہوتی۔
۲۱ اپریل ۱۹۲۷، ماسکو

Advertisements

تا به کَی؟ – صدرالدین عینی

(تا به کَی؟)
تا به کَی آشُفتهٔ زُلفِ پریشان است دل؟
تا به کَی خون‌گشتهٔ لعلِ سُخن‌دان است دل؟
تا به کَی قُربانِ بی‌رحمیِ جانان است دل؟
تا به کَی ویرانِ استبدادِ هجران است دل؟
تا به کَی از غُصّه گریان همچو نَیسان است چشم؟
تا به کَی از داغ سوزان همچو نَیران است دل؟
تا به کَی از بی‌کسی هم‌راهِ فریاد است لب؟
تا به کَی از بی‌رفیقی یارِ افغان است دل؟
تا به کَی در خاک و خونِ هجر غلطان است تن؟
تا به کَی در سوز و داغِ عشق بِریان است دل؟
تا به کَی از خارِ راهِ یار افگار است پای؟
تا به کَی از جور و ظُلمِ دوست نالان است دل؟
تا به کَی خم بر سرِ زانویِ مأیوسی‌ست سر؟
تا به کَی خون از هُجومِ داغِ حِرمان است دل؟
وقتِ آن آمد، که در سعی و عمل هِمّت کنیم.
در سرِ آسودگیِ خویش خود خدمت کنیم.
(صدرالدین عینی)
۱۹۲۴ء

ترجمہ:
کب تک دل زُلفِ پریشاں کا آشُفتہ ہے؟
کب تک دل لعل جیسے لبِ سُخن داں کے باعث خوں گشتہ ہے؟
کب تک دل جاناں کی بے رحمی کا قُربان ہے؟
کب تک دل ہجراں کے استبداد کے سبب ویران ہے؟
کب تک چشم غم کی وجہ سے ابرِ نَیساں کی طرح گِریاں ہے؟
کب تک دل داغ کی وجہ سے آتشوں کی طرح سوزاں ہے؟
کب تک لب بے کسی کے باعث فریاد کا ہمراہ ہے؟
کب تک دل بے رفیقی کے باعث نالہ و فغاں کا یار ہے؟
کب تک تن ہجر کی خاک و خوں میں غلطاں ہے؟
کب تک دل عشق کے سوز و داغ میں بِریاں ہے؟
کب تک پاؤں راہِ یار کے خار سے مجروح ہے؟
کب تک دل دوست کے ظُلم و سِتم سے نالاں ہے؟
کب تک سر مایوسی کے زانو پر خَم ہے؟
کب تک دل داغِ نااُمیدی کے حملے سے خون ہے؟
[اب] اِس [چیز] کا وقت آ گیا ہے کہ ہم کوشش و عمل کے لیے اِرادہ و جِدّ و جہد کریں
[اور] اپنی آسودگی کے لیے ہم خود فعالیت و کوشش کریں۔


صدرالدین عینی کی ایک فارسی نظم کا منظوم تُرکی ترجمہ

(نه واختاجان؟)
نه واختاجان اۏ ساچ‌لارا دؤنۆب حئیران اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان، دئ، اۏ یاقوت دۏداق‌لارا
باخېب آل قان اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان وفاسېزا بئله حئیران اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان بو هیجران‌دان اوچوب ویران اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان گؤز یاش‌لارېن یاغېش اۏلوب یاغاجاق‌دېر؟
نه واختاجان بو تنهالېق سنی اۏدا یاخاجاق‌دېر؟
نه واختاجان بو آیرېلېق وارلېغېنې سېخاجاق‌دېر؟
نه واختاجان بیگانه‌یه باخېب پئشمان اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان آیاغېنې قاناداجاق بو تیکان‌لار؟
نه واختاجان بیتمه‌یه‌جک بو حسرت‌لر، بو هیجران‌لار؟
نه واختاجان اۏدلایاجاق، سؤیله، سنی آه – فغان‌لار؟
نه واختاجان یانېب، یانېب بئله گیریان اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
نه واختاجان خیففت ائدیب گؤز یاشېنې سیله‌جک‌سن؟
نه واختاجان محرومیییت زنجیرینده اؤله‌جک‌سن؟
نه واخت گیریب دؤیۆش‌لره آزاد اۏلوب گۆله‌جک‌سن؟
مۆباریزه واختې چاتېب، نه واخت عۆصیان اۏلاجاق‌سان،
کؤنلۆم منیم؟
(صدرالدین عینی)
(مترجم: جابر نوروز)

(کب تک؟)
کب تک اُن زُلفوں کی جانب پلٹ کر والِہ و شیفتہ ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کہو، کب تک اُن مثلِ یاقوت لبوں پر نگاہ کر کے سُرخ خون ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کب تک بے وفاؤں پر اِس طرح مفتون ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کب تک اِس ہجراں کے سبب نابود و ویران ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کب تک تمہارے اشک بارش بن کر برسیں گے؟
کب تک یہ تنہائی تم کو آتش میں جلائے گی؟
کب تک یہ فراق تمہارے وجود کو آزُردہ و رنجیدہ کرے گا؟
کب تک تم بیگانے پر نگاہ کر کے پشیمان ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کب تک تمہارے پَیر کو یہ خار مجروح کریں گے؟
کب تک یہ حسرتیں، یہ ہجر ختم نہ ہوں گے؟
بتاؤ کب تک تم کو آہ و فغاں جلائیں گی؟
کب تک جل جل کر تم اِس طرح گریاں ہوؤ گے؟
اے میرے دل!
کب تک مایوس و مغموم ہو کر اپنے اشکوں کو پونچھو گے؟
کب تک محرومیت کی زنجیر میں مرو گے؟
[آخر] کب نبَردوں میں داخل ہو کر آزاد ہو کر ہنسو گے؟
مُبارزے کا وقت آ پہنچا، کب بغاوت کرو گے؟
اے میرے دل!

(Nə vaxtacan?)
Nə vaxtacan o saçlara dönüb heyran olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan, de, o yaqut dodaqlara
baxıb al qan olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan vəfasıza belə heyran olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan bu hicrandan uçub viran olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan göz yaşların yağış olub yağacaqdır?
Nə vaxtacan bu tənhalıq səni oda yağacaqdır?
Nə vaxtacan bu ayrılıq varlığını sıxacaqdır?
Nə vaxtacan biganəyə baxıb peşman olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan ayağını qanadacaq bu tikanlar?
Nə vaxtacan bitməyəcək bu həsrətlər, bu hicranlar?
Nə vaxtacan odlayacaq, söylə, səni ah – fəğanlar?
Nə vaxtacan yanıb, yanıb belə giryan olacaqsan,
könlüm mənim?
Nə vaxtacan xiffət edib göz yaşını siləcəksən?
Nə vaxtacan məhrumiyyət zəncirində öləcəksən?
Nə vaxt girib döyüşlərə azad olub güləcəksən?
Mübarizə vaxtı çatıb, nə vaxt üsyan olacaqsan,
könlüm mənim?

× مندرجۂ بالا تُرکی نظم ہِجائی وزن میں ہے۔

صدرالدین عینی کی فارسی نظم ‘تا به کَی’ خوانیے۔


بخارا میں شیعہ سنی نزاع کے بعد صدرالدین عینی کے منظوم تأثرات

۱۳۲۸ ہجری میں شہرِ بخارا کے شیعوں اور اہلِ سنت کے درمیان فرقہ ورانہ نزاع اور مناقشہ برپا ہو گیا تھا جس کے خاموش اور مہار ( = کنٹرول) ہو جانے کے بعد بابائے ادبیاتِ تاجک استاد صدرالدین عینی نے اِس فاجعے پر ایک تأثراتی نظم لکھی تھی جس کے چند اشعار اُنہوں نے اپنی کتاب ‘تاریخِ انقلابِ فکری در بخارا’ (۱۹۱۸ء) میں شامل کیے ہیں۔ اِسی کتاب کو ماخذ بناتے ہوئے اُنہی اشعار کے مفاہیم کو اپنی فہم کے بقدر اردو میں منتقل کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔

انقلابِ دهر و دورِ چرخِ و کارِ روزگار
درسِ عبرت می‌دهد با هر که باشد هوشیار
گر به نعمت، گر به محنت، گر به عزت، گر به ظلم
امتحان‌گاه است ما را صحنهٔ لیل و نهار
گر به کف شد دولتِ گیتی، نمی‌باید غرور
گر به سر شد محنتِ عالم، بباید اصطبار
شکر می‌باید، که از حدِ شمار افزون بوَد
نعمتِ حق را، که افزون است از حدِ شمار
ناسپاسی سر زند، استغفر الله العظیم
انتقامِ ایزدی را بُرد باید انتظار
وآن گه از آن شعله در یک دم نه تر ماند، نه خشک
وآن گه از آن باد در عالم نه گل ماند، نه خار
چون وزید امروز بادِ بی‌نیازیِ خدا
در بخارا بُرد از پیر و جوان صبر و قرار
فتنه‌ای افتاد، زایل گشت از تن‌ها شکیب
وقعه‌ای سر زد، که بیرون کرد از جان‌ها دِمار
فتنهٔ شیعی و سنی، که از این رو تا به حال
عالمِ اسلام چندین بار گشته تار و مار
خانمان‌ها زین الم این دفعه هم تاراج یافت
گل‌عذاران زین ستم این بار هم غلطیده خوار
رفت جانِ یک جهان بی‌چاره بر چنگِ اجل
ماند جسمِ یک گروه افتاده بر خنجر دوچار
کام‌ها شد از سمومِ محنت و غم تلخ و شور
دیده‌ها شد از هجومِ خونِ حسرت تنگ و تار
یأس حاصل شد چنان از زندگانی خلق را
هر که بر خود دید حالِ نزع و وقتِ احتضار
یا کریم از محضِ لطفِ عام و فضلِ شاملت
عفو کن نقصان و تقصیراتِ ما را درگذار
یا غفور، از ما نیاید پیشه، الّا معصیت
یا غنی، از ما نباشد تحفه، الّا افتقار
تا به کَی باشیم در کنجِ جهالت مستقیم؟
تا به کَی باشیم در فکرِ ذلالت استوار؟
تا به چندین ریختن خونِ برادر جای آب؟
تا کجا‌ها کوفتن بر فرقِ مادر جای مار؟
خودکُشی بهرِ چه؟ از بیگانگان آریم شرم
دوست‌آزاری چرا؟ از دشمنان داریم عار
خونِ مؤمن ریختن بر مؤمنین کَی شد روا؟
مالِ مسلم تاختن بر مسلمین کَی شد شعار؟
مسلم از مسلم سلامت باشد، این قولِ رسول
گفته‌است: "المؤمنونَ اِخوةٌ” – پروردگار
(صدرالدین عینی)

ترجمہ:
انقلابِ دہر و دورِ چرخ و کارِ روزگار ہر اُس شخص کو درسِ عبرت دیتے ہیں جو ہوشیار ہے۔
اگر نعمت کے ساتھ ہو، اگر رنج کے ساتھ ہو، اگر عزت کے ساتھ ہو، یا اگر ظلم کے ساتھ ہو، یہ لیل و نہار کا میدان ہمارے لیے امتحان گاہ ہے۔
اگر کف میں دولتِ گیتی آ جائے تو غرور نہیں کرنا چاہیے؛ اور اگر رنجِ عالَم کا آغاز ہو جائے، تو صبر کرنا چاہیے۔
حدِ شمار سے افزوں نعمتِ حق کا شکر (بھی) حدِ شمار سے زیادہ ہونا چاہیے۔
اگر ناشکری شروع ہو جائے، استغفر اللہ العظیم، تو پس انتقامِ ایزدی کا منتظر رہنا چاہیے۔
اور پھر اُس وقت اُس شعلے سے ایک ہی لمحے میں نہ تر باقی رہتا ہے، نہ خشک؛ اور اُس وقت اُس باد سے عالم میں نہ گل باقی رہتا ہے نہ خار۔
آج جب خدا کی بے نیازی کی باد حرکت میں آئی تو بخارا میں وہ پیر و جواں سے صبر و قرار لے گئی۔
ایک فتنہ گرا، جس سے جسموں سے صبر زائل ہو گیا؛ ایک واقعہ سرزد ہوا، جس نے جانوں کو ہلاک کر دیا۔
شیعہ و سنی کا فتنہ کہ جس کے باعث تا حال عالمِ اسلام کئی بار تار و مار ہوا ہے۔
اِس الم سے اِس دفعہ بھی خانماں تاراج ہو گئے؛ اِس ستم سے اِس بار بھی گل عذاراں خوار حالت میں غلطیدہ ہو گئے۔
ایک عالَم کی جاں بے چارگی کے ساتھ موت کے چنگل میں چلی گئی؛ ایک گروہ کا جسم خنجر سے دوچار ہو کر بے اختیار غلطاں ہو گیا۔
سمومِ رنج و غم سے تالو تلخ و شور ہو گئے؛ ہجومِ خونِ حسرت سے دیدے تنگ و تار ہو گئے۔
مردم کو زندگانی سے ایسی مایوسی ہو گئی کہ ہر کسی کو خود پر حالتِ نزع اور وقتِ احتضار نظر آنے لگا۔
یا کریم! محض اپنے لطفِ عام و فضلِ شامل سے ہماری کوتاہی کو عفو کر اور ہماری تقصیروں سے درگذر فرما۔
یا غفور! ہمارا پیشہ بجز معصیت کچھ نہیں ہے؛ یا غنی! ہمارا تحفہ بجز تہی دستی کچھ نہیں ہے۔
ہم کب تک گوشۂ جہالت میں قائم رہیں گے؟ ہم کب تک فکرِ ذلالت میں استوار رہیں گے؟
تا چند آب کی بجائے خونِ برادر بہتا رہے گا؟ تاکجا سانپ کی بجائے فرقِ مادر پر ضرب لگائی جاتی رہے گی؟
خودکُشی کس لیے؟ ہمیں بیگانوں سے شرم آتی ہے؛ دوست آزاری کیوں؟ ہمیں دشمنوں سے عار محسوس ہوتی ہے۔
مؤمنوں پر مؤمن کا خون بہانا کب روا ہو گیا؟ مسلم کے مال کو غارت کرنا مسلموں کا کب سے شعار ہو گیا؟
"مسلم، مسلم سے سلامت ہے”، یہ قول رسول ہے؛ جبکہ پروردگار نے "المؤمنونَ اِخوةٌ” کہا ہے۔


روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں استاد صدرالدین عینی کی یاد میں کتابی نمائش کا انعقاد

۲۳ اپریل کو کتاب خانۂ ملیِ تاجکستان میں معاصر تاجک ادبیات کے بانی صدرالدین عینی کی خاطرات کی تکریم میں کتاب خانے کے شعبۂ ترویج و انعقادِ تقریباتِ ثقافتی کی کوششوں سے استاد عینی کی کتابوں کی نمائش تشکیل کی گئی۔
نمائش بینوں نے پچھلے سالوں کی نشر شدہ کتابوں کے ہمراہ استادِ مرحوم کی تازہ نشر کتب ‘مرگِ سودخور’، ‘مکتبِ کہنہ’، ‘گلِ سرخ’، اور ‘نمونۂ ادبیاتِ تاجک’ کا نظارہ کیا اور اُن کی ورق گردانی کی۔
اس نمائش میں دانشوروں کی جانب سے مختلف سالوں میں استاد عینی کے بارے میں لکھی جانے والی اور ملک و بیرونِ ملک کے طبع خانوں میں نشر ہونے والی کتابیں بھی رکھی گئی تھیں، جن میں خاص طور پر پروفیسر خدای نظر عصازادہ کی کتابوں ‘زندگی نامہ و آثارِ صدرالدین عینی’ اور ‘صدرالدین عینی ہمارے درمیان ہیں اور رہیں گے’ اور نرگس اسلان اووا کی کتاب ‘صدرالدین عینی کے ادبی و جمالیاتی نظریات’ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
استاد صدرالدین عینی زمانۂ معاصر میں کشورِ تاجکستان کی بزرگ ترین ثقافتی شخصیات میں سے ہیں کہ جن کی ادبیات و ثقافت کی ترقی اور احیائے ملّی کے لیے انجام دی گئی لائقِ احترام خدمتوں کی قدردانی کے لیے اُنہیں ‘قہرمانِ تاجکستان’ کے افتخاری لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۸ اپریل ۲۰۱۵ء

× قہرمان = ہیرو