شاہ اسماعیل صفوی کے نام سلطان سلیم عثمانی کا رجَز

مندرجۂ ذیل رجَز کو شاہ اسماعیل صفوی کے نام بھیجے گئے سلطان سلیم خان اول کے ایک تہدید آمیز فارسی مکتوب سے اخذ کیا گیا ہے جس کو مولانا مُرشدِ عجم نے انشاء فرمایا تھا۔ احتمال ہے کہ یہ شاعری خود سلطان سلیم کے دہن سے نکلی ہو کیونکہ وہ بھی صاحبِ دیوان فارسی شاعر تھا۔

من آنم که چون برکَشَم تیغِ تیز
برآرم ز رُویِ زمین رستخیز
کباب از دلِ نرّه شیران کنم
صبوحی به خونِ دلیران کنم
شود صیدِ زاغِ کمانم عُقاب
ز تیغم بِلرزد دلِ آفتاب
اگر در نبردم تو کم دیده‌ای
ز گردونِ گردنده نشْنیده‌ای
ز خورشید تابِ عِنانم بِپُرس
ز بهرام آبِ سِنانم بِپُرس
اگر تاج داری مرا تیغ هست
چو تیغم بُوَد تاجت آرم به دست
امیدم چنان است ز نیرویِ بخت
که بِسْتانم از دشمنان تاج و تخت

ترجمہ:
میں وہ ہوں کہ جب تیغ تیز بیرون نکالتا ہوں تو رُوئے زمین پر قیامت برپا کر دیتا ہوں۔۔۔ میں نر شیروں کے دل سے کباب بناتا ہوں۔۔۔ میں دلیروں کے خون سے شرابِ صبحگاہی پیتا ہوں۔۔۔ عُقاب میرے زاغِ کمان کا صید ہو جاتا ہے۔۔۔ میری تیغ سے آفتاب کا دل لرزتا ہے۔۔۔ اگر تم نے مجھے نبرد میں کم دیکھا ہے۔۔۔ [یا اگر میرے بارے میں] تم نے چرخِ گردوں سے نہیں سُنا ہے۔۔۔ تو خورشید سے میرے لگام کی تاب پوچھو۔۔۔ مِرّیخ سے میرے نیزے کی آب پوچھو۔۔۔ اگر تم تاج رکھتے ہو تو میرے پاس تیغ ہے۔۔۔ چونکہ میرے پاس تیغ ہے، میں تمہارے تاج کو [اپنے] دست میں لے آؤں گا۔۔۔۔ مجھے یہ امید ہے کہ بخت کی قوّت سے میں دشمنوں سے تاج و تخت چھین لوں گا۔

مأخذ:
شاه اسماعیل صفوی: مجموعهٔ اسناد و مکاتباتِ تاریخی همراه با یادداشت‌هایِ تفصیلی

ز خورشید تابِ عِنانم بِپُرس

ایک جا اِس مصرعے کا متن یہ نظر آیا ہے:
ز خورشیدِ تابان عِنانم بِپُرس


ایرانی-آذربائجانی-عُثمانی شیعی سُنّی فرقہ پرستی کی مذمّت – میرزا علی اکبر ‘صابر’

قفقازی آذربائجانی شاعر میرزا علی‌اکبر ‘صابر’ (وفات: ۱۹۱۱ء) کی ایک طنزیہ نظم «فخریّه» کے دو بند، جس میں اُنہوں نے خِطّے کی تاریخی شیعی-سُنّی فرقہ پرستی کی مذّمت کی ہے:

"بیر وقت «شه اسماعیل» و «سُلطانِ سلیم‍»ه
مفتون اۏلاراق ائیله‌دیک اسلامې دونیمه
قۏیدوق ایکی تازه آدې بیر دینِ قدیمه
سالدې بو تشیُّع، بو تسنُّن بیزی بیمه
قالدېقجا بو حالت‌له سزایِ اسَفیز بیز
اؤز دینیمیزین باشېنا انگل-کلفیز بیز

«نادر» بو ایکی خسته‌لیڲی توتدو نظرده
ایسته‌ردی علاج ائیله‌یه بو قۏرخولو درده
بو مقصد ایله عزم ائده‌رک گیردی نبرده
مقتولاً اۏنون نعشی‌نی قۏیدوق قورو یئرده
بر شئیِ عجیبیز، نه بیلیم، بیر تُحَفیز بیز
اؤز دینیمیزین باشېنا انگل-کلفیز بیز”
(میرزا علی‌اکبر ‘صابر’)

ایک زمانے میں ہم نے شاہ اسماعیل صفوی اور سُلطان سلیم عُثمانی پر مفتون ہو کر اِسلام کو دونیم کر دیا۔۔۔ ہم نے ایک [واحد] دینِ قدیم کے دو نئے نام رکھ دیے۔۔۔ اِس تشیُّع اور تسنُّن نے ہم کو خوف و خطر میں ڈال دیا۔۔۔ ہم جب تک اِس حالت میں ہیں، ہم تأسُّف کے لائق و سزاوار ہیں!۔۔۔ ہم اپنے دین کے لیے پُربلا اسبابِ زحمت اور مانِع ہیں!
نادر شاہ افشار اِن دو بیماریوں کی جانب مُتوجِّہ ہوا۔۔۔ وہ اِس خوفناک درد کا علاج کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اِس مقصد کے ساتھ عزم کرتے ہوئے وہ جنگ میں داخل ہوا۔۔۔ ہم نے اُس کو مقتول کر کے اُس کی نعش کو خُشک زمین پر رکھ دیا۔۔۔ ہم اِک عجیب شَے ہیں، کیا جانُوں!، ہم اِک طُرفہ و عجیب و غریب [چیز] ہیں!۔۔۔ ہم اپنے دین کے لیے پُربلا اسبابِ زحمت اور مانِع ہیں!

× بندِ اول کے مصرعِ اوّل میں شاہ اسماعیل صفوی اور سُلطان سلیم عُثمانی کے مابین فرقہ پرستانہ خُصومت کی جانب اشارہ ہے۔
× بندِ دوم میں اُن اقدامات کی جانب اشارہ ہے جو نادر شاہ افشار نے شیعی-سُنّی تفرِقہ بازی کو ختم کرنے کے لیے کیے تھے۔

Bir vəqt Şəh Ismayilü Sultani-Səlimə
Məftun olaraq eylədik islamı dünimə,
Qoyduq iki tazə adı bir dini-qədimə,
Saldı bu təşəyyö, bu təsənnün bizi bimə….
Qaldıqca bu halətlə səzayi-əsəfiz biz!
Öz dinimizin başına əngəl-kələfiz biz!

Nadir bu iki xəstəliyi tutdu nəzərdə,
İstərdi əlac eyləyə bu qorxulu dərdə,
Bu məqsəd ilə əzm edərək girdi nəbərdə,
Məqtulən onun nə’şini qoyduq quru yerdə….
Bir şeyi-əcibiz, nə bilim, bir tühəfiz biz!
Öz dinimizin başına əngəl-kələfiz biz!


شیعہ صفوی قلمرَو میں ‘تبرّا’ سُننے پر سُنّی عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کے احساسات

سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ دوم میں صفوی قلمرَو میں واقع آذربائجانی قریے ‘کہریز’ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"بین خانه‌لی تبریز خانې مُنشی‌سی کندی ایمیش. آلتې جامِعی و اۆچ حمّامې و ایکی مهمان‌سرایې واردېر. و باغې و باغچه‌سی حددن افزون معمور کنددیر. خدایِ قهّار خراب ایده. زیرا جُمله خلقې شیعی و تبرّایی اۏلماغېلا دیارِ عجم‌ده ابتدا (سبِّ) حضرتِ عُمره حاشا ثُمَّ حاشا سب ائتدیکلرین بوندا ایشیدۆپ عقلېم گیتدی. امّا نه چاره هنوز داخی ضعف‌دن بی‌تاب و بی‌مجال ایدیم. یۏخسا بیر حال ایله اۏل سبّابِ لعینی قتل ائتمک امرِ سهل ایدی. زیرا دیارِ عجم‌ده ائلچی‌لر رُوم طرفېندان گلدیکلرینده سربست‌لردیر. چاریارِ گُزین عشقېنا دؤرد قېزېل‌باشِ سبّاب قتل ائتسه مُعاف‌دېر. آنا اصلا جواب اۏلمازدېر. هر نه حال ایسه صبر ائدۆپ…”

ترجمہ:
"یہ ہزار گھروں کا ایک قریہ ہے، جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ حاکمِ تبریز کے مُنشی کی مِلکیت میں ہے۔ اِس میں چھ مسجدیں، تین حمّام اور دو مہمان سرائے ہیں۔ اور یہ حد سے زیادہ باغوں اور باغیچوں والا ایک معمور قریہ ہے۔ خدائے قہّار اِس کو ویران کرے! کیونکہ اُس کے تمام مردُم شیعی اور تبرّائی ہیں۔ اور دیارِ عجم میں مَیں نے اُن کو حضرتِ عمر (رض) پر – حاشا ثُمَّ حاشا – سبّ و شِتم کرتے یہاں اوّلین بار سُنا تھا، اور [غضب سے] میں دیوانہ ہو گیا تھا۔ لیکن کیا کِیا جائے کہ میں اپنی ناتوانی و بے بسی کے باعث ہنوز بے طاقت و بے مجال تھا۔ ورنہ اُس سبّابِ لعین کو کسی طرح قتل کرنا کارِ سہل تھا۔ کیونکہ دیارِ عجم میں جب رُوم (عُثمانی سلطنت) کی طرف سے سفیران آتے ہیں تو چار یارِ گُزیں کی خاطر چار قِزلباشِ سبّاب کو قتل کرنے کی آزادی و اختیار رکھتے ہیں، اُن سے ہرگز بازپُرس نہیں ہوتی۔ بہر حال، میں نے صبر کیا۔۔۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Bin hâneli Tebrîz hânı münşîsi kendi imiş. Altı câmi’i ve üç hammâmı ve iki mihmân sarâyı vardır. Ve bâğı ve bâğçesi hadden efzûn ma’mûr kenddir. Hudâ-yı Kahhâr harâb ide. Zîrâ cümle halkı Şi’î ve Teberrâ’î olmağıla diyâr-ı Acemde ibtidâ (sebb-i) Hazret-i Ömer’e hâşâ sümme hâşâ seb etdiklerin bunda işidüp aklım gitdi. Ammâ ne çâre henüz dahi za’afdan bî-tâb u bî-mecâl idim. Yohsa bir hâl ile ol sebbâb-ı la’îni katl etmek emr-i sehl idi. Zîrâ diyâr-ı Acem’de elçiler Rûm tarafından geldiklerinde serbestlerdir. Çâr-yâr-ı güzîn aşkına dörd kızılbaş-ı sebbâb katl etse mu’âfdır. Anâ aslâ cevâb olmazdır. Her ne hâl ise sabr edüp..

× قِزِلباش = صفویوں کے مُرید اور غالی و متعصب شیعہ تُرک جنگجوؤں کو اُن کی سُرخ کُلاہ کے باعث قِزِلباش (قِزِل = سُرخ، باش = سر) کہا جاتا تھا۔ صفوی دور کے ماوراءالنہری و عُثمانی ادبیات میں عموماً یہ لفظ مُطلقاً ‘شیعہ’ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔


شاہ اسماعیل صفوی کا اپنی مادری زبان تُرکی میں نوشتہ ایک مکتوب

Şah İsmail Musa Doğurt türkcə məktubتاریخِ نوشتگی: ۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ/۲۳ مئی ۱۵۱۲ء
زمانہ: دورِ صفویہ
جائے حفاظت: توپ قاپی سرائے عجائب خانہ محفوظیات، شمارہ ۵۴۶۰
خطِّ کتابت: شکستہ نستعلیق

شاہ اسماعیل صفوی نے ۱۵۱۲ء میں اپنے ایک امیر احمد آقا قارامانلی کو ایک تُرکی مکتوب کے ساتھ تُورغُوت قبیلے سے تعلق رکھنے والے موسیٰ بیگ کی جانب بھیج کر اناطولیہ میں قزلباشی تبلیغ کے لیے ایک کوشش کی تھی۔ یہ مکتوب تُرکی میں میں لکھا گیا تھا اور سلطان سلیم عثمانی کے تخت نشیں ہونے کے محض ایک ماہ بعد اِرسال کیا گیا تھا۔ اِس وثیقے (دستاویز) سے دیارِ آلِ عثمان، خصوصاً اناطولیہ میں قزلباشی مریدوں کے ایک وسیع شَبَکے (نیٹ ورک) کی موجودگی کا اِثبات ہوتا ہے۔ سَنَد میں شاہِ‌ قزلباش نے امارتِ آلِ قارامان سے تعلق رکھنے والے بزرگ ترین تُرکمن قبیلے بنی تورغوت کے رئیس کے سفیرِ قزلباش احمد آقا قارامانلی کے ساتھ ارتباط برقرار کرنے، اُس کے فرمانوں کی بجا آوری کرنے، نیز خطّے میں کی جانے والی اپنی سرگرمیوں کی تفصیلی اطلاع دینے کا تقاضا کیا ہے۔
اِس سَنَد کے بارے میں اولین معلومات شہاب الدین تکینداغ نے دی تھیں: "۷ ربیع الاول ۹۱۸ھ (ستمبر ۱۵۱۲ء) کی تاریخ رکھنے والے اور امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغورت اوغلو کی طرف افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامانلی کے بھیجے جانے کی اطلاع دینے والے شاہ اسماعیل صفوی کے اِس فرمان میں ‘الحکم للہ ابوالمظفر اسماعیل بہادر سؤزوموز’ کی عبارت پر مشتمل طُغرے کے زیر میں دوازدہ اماموں کے ناموں والی مُہر موجود ہے۔”
فاروق سُومر کی دی گئی معلومات کے مطابق "بنی تورغوت نے قبیلۂ قارامان کی سرزمین کے عثمانیوں کے دست میں چلے جانے کے بعد بھی سیاسی قوّت کے طور پر اپنی موجودگی کو مزید کچھ عرصے جاری رکھا تھا۔” "دولتِ صفویہ کی تأسیس اور نشو و نما سے تعلق رکھنے والے ایک مأخذ میں، کہ جس کے مؤلف کا نام معلوم نہیں ہے، ۹۰۶ھ (۱۵۰۰ء-۱۵۰۱ء) میں ارزنجان میں صفوی شیخ اسماعیل کے حضور میں آنے والوں کے درمیان قارامانی مریدوں کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔ اسماعیل نے شاہ ہونے کے بعد ۹۱۸ھ (۱۵۱۲) میں آلِ تورغوت کے موسیٰ بیگ کو بھیجے گئے اپنے ایک تُرکی مکتوب میں احمد آقا قارامانی کی خواہش کے مطابق اِقدام کرنے اور اُس کے ساتھ ہم خیالی و اتحاد کرنے کے علاوہ وقوع پذیر ہونے والے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے فرمان تحریر کیا تھا۔ شاہ اسماعیل کی موت کے پانچ سال بعد (۹۳۵ھ/۱۵۲۸-۲۹ء) شاہ طہماسب کے امیروں کے درمیان حسن سلطان تورغوت اوغلو کا نام مِلتا ہے۔ حسن سلطان نے طہماسب کے سفرِ خُراسان کے دوران اُس کی مصاحبت اختیار کی تھی۔ حسن سلطان کے علاوہ اُسی خاندان سے تعلق رکھنے والے قاسم علی بیگ بھی مذکورہ حُکمران کی خدمت میں موجود تھے۔ شہزادہ بایزید عثمانی کے ایک امیر پیر حُسین بیگ شاہزادے کے ہمراہ ایران گئے تھے اور وہیں رُک گئے تھے۔ صفوی خدمت میں اِن امیروں کے سوا کسی دیگر تورغوت بیگ کا نام نہیں مِلتا۔”
طوفان گوندوز نے [اپنی کتاب میں] شاہ اسماعیل کے موسیٰ تورغوت اوغلو کی طرف ۱۵۱۲ء میں بھیجے گئے اِس نامے کے ذریعے قارامان علاقے میں اپنے مُریدوں کی رہنمائی کرنے کی شاہ کی خواہش کو واضح کیا ہے۔ اِس مکتوب کے دو سال بعد دونوں تُرک سلطنتیں [صفوی و عثمانی] چالدران کے میدان میں بالمقابل آ گئیں۔

اصلی تحریر:
ابوالمظفر [اسماعیل بهادر] سوزومیز
امیر اعظم اکرم موسی دورغوت اغلی عنایت و شفقتمزه امیدوار اولندن صونکره شیله بیلسون کیم افتخار الاعاظم و الاعیان احمد اقا قرامانلو اول طرفه کوندردوک و اول یرنک اختیارلکنی کندونه شفقت ایتسونک کرک کیم مشارالیه سوزوندن و مصلحتندن چخمسون و متابعت و یاردم او انکا قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ایتمک مرادی و استکی اولسه حاصل دور. کوندن کونه هر ایش واقع بولسه احمد اقا اتفاقی ایله درکاه معلامزه بیلدورسونلر کیم هر نوع بویرغمز اولسه عمل ایتسون کونکلیمزه خوش دوتوب مرحمتمزه امیدوار السون. تحریراً ربیع الاول سنه ۹۱۸.

جدید املاء میں تحریر:
ابوالمظفّر اسماعیل باهادور سؤزوموز
امیرِ اعظمِ اکرم موسی دوُرغوت اوْغلو عنایت و شفقتیمیزه امیدوار اوْلاندان صوْنرا شؤیله بیلسون کیم إفتخار الاعاظم و الاعیان احمد آقا قارامانلو اوْل طرفه گؤندردوک و اوْل یئرین اختیارلیغینی کندینه (بیله‌سینه) شفقت ائتسون. گره‌ک کیم مُشارإلیه سؤزوندن و مصلحتیندن چخماسون و متابعت و یاردیم اوْ آنگا (اونا) قیلسون کیم انشاالله تعالی هرنه کیم ائتمک مرادی و ایسته‌گی اوْلسا حاصل‌دور. گوندن گونه هر ایش واقع بوُلسا احمد آقا اتفاقی ایله درگاهٔ معلّامیزا بیلدورسونلر کیم هر نوع بویروغوموز اوْلسا عمل ائتسون؛ کونلوموزه (کؤنلوموزو) خوْش دوتوب مرحمتیمیزه اومیدوار اوْلسون. تحریراً ربیع الاوّل سنه ۹۱۸.

لاطینی رسم الخط میں تحریر:
«[1] [Əl-hükmü Billâh] Əbu’l-Müzəffər [İsmâ’il Bahadur] SÖZÜMİZ (Tuğra):
[2] Əmir-i ə’zəm-i əkrəm Mûsâ Durğut oğlı ‘inâyət və şəfqətimizə
[3] ümîdvâr olandan son͡gra şöylə bilsün kim iftixârü’l-ə’âzim
[4] və’l-ə’yân Əhməd Âqa Qaramanlu ol tərəfə göndərdük və ol yerin͡g ixtiyârligini kəndünə şəfqət etsün͡g.
[5] Gərək kim müşârüniləyh sözündən və məsləhətindən çıxmasun və mütâbə’ət və yardım o an͡ga (ona) qılsun kim inşâallâh
[6] tə’âlâ hər nə kim etmək murâdı və istəgi olsa hâsildür. Gündən-günə hər iş vâqe’ bulsa
[7] Əhməd Âqa ittifâqı ilə dərgâh-ı mu’əllâmıza bildürsünlər kim, hər nəv’ buyruğumuz olsa ‘əməl etsün; kön͡glümüzü xoş dutup, mərhəmətimizə ümîdvâr olsun. Təhrîrən [fî] 7 Rəbî’u’l-əvvəl sənə 918»

اردو ترجمہ:
ابوالمظفر [اسماعیل بہادر] ہمارا فرمان (طُغرا)
[الحکم باللہ]
امیرِ اعظمِ اکرم موسیٰ دورغوت اوغلو ہماری عنایت و شفت کا امیدوار ہونے کے بعد یہ جان لے کہ ہم نے افتخار الاعاظم والاعیان احمد آقا قارامنلی کو اُس طرف بھیجا ہے اور وہ جو فیصلہ منتخَب کرے اُس کی بجا آوری ہونی چاہیے۔ لازم ہے کہ ہر چیز میں مُشارٌ اِلَیہ کے حُکم و صوابدید کی متابعت اور مدد کی جائے تاکہ ان شاء اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی اُس کی مراد و آرزو ہو، وہ حاصل ہو جائے۔ روزانہ کے جو بھی واقعات ہوں، احمد آقا کی ہمکاری و اتفاق کے ساتھ اُن سے ہماری درگاہِ مُعلّیٰ کو مطّلع کیا جائے، تاکہ ہمارا جو بھی فرمان ہو اُس پر عمل ہو جائے؛ اور پس ہمارا دل شاد ہو جائے اور وہ ہماری مہربانی کے امیدوار ہو جائیں۔ تحریراً [فی] ربیع الاول سنہ ۹۱۸.

تُرکی مضمون کا مأخذ
اردو مترجم: حسّان خان