یا من بدا جمالک فی کل ما بدا – عبدالرحمٰن جامی

یا مَنْ بَدا جَمالُكَ فِي كُلِّ ما بَدا
بادا هزار جانِ مقدّس تو را فدا
می‌نالم از جداییِ تو دم به دم چو نَی
وین طُرفه‌تر که از تو نَیَم یک نَفَس جدا
عشق است و بس که در دو جهان جلوه می‌کند
گاه از لباسِ شاه و گه از کِسوتِ گدا
یک صوت بر دو گونه همی‌آیدت به گوش
گاهی ندا همی‌نِهیش نام و گه صدا
برخیز ساقیا ز کرم جُرعه‌ای بِریز
بر عاشقانِ غم‌زده زان جامِ غم‌زُدا
زان جامِ خاص کز خودی‌ام چون دهد خلاص
در دیدهٔ شُهود نمانَد به جز خدا
جامی رهِ هُدیٰ به خدا غیرِ عشق نیست
گفتیم والسّلامُ علیٰ تابِعِ الهُدیٰ
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
اے وہ کہ تمہارا جمال ہر اُس چیز میں ظاہر ہے جو وجود میں آئی ہے؛ ہزار جانِ گرامی تم پر فدا ہوں!
میں تمہاری جدائی کے باعث مسلسل نَے کی طرح نالہ و زاری کرتا رہتا ہوں؛ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ میں تم سے ایک لحظے کے لیے بھی جدا نہیں ہوں۔ ×
[یہ] عشق ہے اور بس، جو دو جہاں میں جلوہ کرتا ہے؛ کبھی شاہ کے لباس [کے وسیلے] سے اور کبھی گدا کے جامے [کے وسیلے] سے۔۔۔
ایک [ہی] آواز دو طرزوں پر تمہارے گوش میں آتی ہے؛ گاہے تم اُس کا نام ندا رکھتے ہو اور گاہے صدا۔ ×
اُٹھو، اے ساقی، [اور] از راہِ کرم غم زدہ عاشقوں کی جانب اُس غم مٹانے والے جام سے ایک جُرعہ اُنڈیلو۔ ×
اُس جامِ خاص سے کہ جب وہ مجھے اپنی خودی و انانیت سے نجات دے دے تو دیدۂ شُہود میں بجز خدا کچھ نہ رہے۔
اے جامی! خدا کی قسم، عشق کے سوا کوئی راہِ ہدایت نہیں ہے؛ ہم نے کہہ دیا، پس ہدایت و راہِ راست کے پیرَو پر سلام ہو!

× نَے = بانسری × گوش = کان × جُرعہ = گھونٹ
× یہ غزل عبدالرحمٰن جامی کے دیوانِ اول ‘فاتحۃ الشباب’ کی اولین غزل ہے۔


دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است – عبدالرحمٰن جامی (فارسی + اردو ترجمہ)

دلم ز هجرِ خُراسان ازان هراسان است
که بحرِ فقر و مُحیطِ فنا خُراسان است
نخُست گوهر از آن بحر شاهِ بسطامی‌ست
که قُطبِ زنده‌دلان و خداشناسان است
بِکَش لباسِ رعونت که شیخِ خرقانی
سِتاده خِرقه به کف بهرِ بی‌لباسان است
بگو سپاسِ مِهین عارفی که در مهنه‌ست
که عشق در پیِ آزارِ ناسپاسان است
به گوشِ جان بِشِنو نکته‌های پیرِ هرات
که مشکلاتِ طریق از بیانش آسان است
چو کأسِ خویش شکستی بیا که ساقیِ جام
نهاده باده به دستِ شکسته‌کأسان است
گداییِ درشان پیشه کرده‌ای جامی
به جز تو کیست گدایی که پادشاسان است
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
میرا دل خُراسان کے ہجر سے اِس لیے خوف زدہ ہے کیونکہ فقر کا بحر اور فنا کا اوقیانوس خُراسان ہے۔
اُس بحرِ کے گوہرِ اولیں شاہِ بسطامی (بایزید بسطامی) ہیں، جو زندہ دلوں اور خدا شناسوں کے قُطب ہیں۔
لباسِ رعونت و تکبّر کو اتار دو کہ شیخِ خرقانی (ابوالحسن خرقانی) بے لباسوں کے لیے [اپنے] دست میں خرقہ اٹھائے کھڑے ہیں۔
اُن عارفِ بریں کو سپاس کہو جو مہنہ میں ہیں (ابوسعید ابوالخیر)، کہ عشق ناشُکروں کے آزار کے در پَے ہے۔
پیرِ ہرات (خواجہ عبداللہ انصاری) کے نکتوں کو بہ گوشِ جاں سنو، کہ طریقت کی مشکلات اُن کے بیان کے ذریعے آسان ہیں۔
اگر تم نے اپنا کاسہ توڑ دیا تو آؤ کہ ساقیِ جام (شیخ احمد جامی) نے شکستہ کاسہ افراد کے دست میں بادہ رکھا ہے۔
اے جامی! تم نے اُن کے در کی گدائی کو پیشہ بنایا ہے؛ تمہارے بجز ایسا گدا کون ہے جو پادشاہ کی مانند ہے؟

× بَسْطام، خَرَقان اور تُربتِ جام ایران کا حصہ ہیں، مَہنہ ترکمنستان میں ہے، جبکہ ہِرات افغانستان میں واقع ہے۔


روزی که می‌سِرِشت فلک آب و خاکِ من – عبدالرحمٰن جامی (فارسی + اردو ترجمہ)

روزی که می‌سِرِشت فلک آب و خاکِ من
می‌سوخت زآتشِ تو دلِ دردناکِ من
سررشتهٔ وصالِ تو گر آمدی به کف
پیوند یافتی جگرِ چاک چاکِ من
هرچند دل ز یاریِ خود پاک بینمت
دانم سرایتی بِکُند عشقِ پاکِ من
روزی که می‌نوشت قضا نامهٔ اجل
شد نامزد به تیغِ جفایت هلاکِ من
جامی مجوی خوش‌دلی از من که در ازل
آمیختند با غم و درد آب و خاکِ من
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
اُس روز کہ جب فلک میری آب و خاک خمیر کر رہا تھا، میرا دلِ دردناک تمہاری آتشِ [عشق] سے جل رہا تھا۔ (یعنی میں قبل از تولّد سے تمہارا عاشق ہوں۔)
اگر تمہارے وصال کا سررشتہ [میرے] دست میں آ جاتا تو میرا جگرِ چاک چاک پیوند پا لیتا۔ ×
ہرچند میں تمہارا دل اپنی یاری سے پاک دیکھتا ہوں، [لیکن] میں جانتا ہوں کہ میرا پاک عشق سرایت و تأثیر کر جائے گا۔
جس روز کہ قضا نامۂ اجل لکھ رہی تھی، تمہاری تیغِ جفا سے میری ہلاکت معیّن ہو گئی۔
اے جامی! مجھ سے خوش دلی مت تلاش کرو کہ ازل میں میری آب و خاک کو غم و درد کے ساتھ مخلوط کیا گیا تھا۔

× سَرْرِشتہ = دھاگے کا سِرا


چو شاهی‌ات هوس است، از خودی جدا می‌باش – امیر نظام‌الدین علی‌شیر نوایی فانی (مع اردو ترجمہ)

چو شاهی‌ات هوس است، از خودی جدا می‌باش
گدایِ درگهٔ میخانهٔ فنا می‌باش
نگویمت به رقیبان مباش، ای مه، لیک
ز رویِ مِهر و وفا هم گهی به ما می‌باش
هوایِ صاف و مَیِ صاف و ساقیِ صافی
تو هم به اهلِ صفا، بر سرِ صفا می‌باش
دلا، گرت هوسِ تخت و تاجِ سلطنت است
به خاکِ درگهٔ پیرِ مُغان گدا می‌باش
رِضای خالق و مخلوق اگر همی‌خواهی
چه آیدت ز قضا، بر سرِ رضا می‌باش
گرت به گلشنِ کویش نِشیمن است مراد
چو خاکِ راه شو و پی‌روِ صبا می‌باش
به رند، رند شو اندر موافقت، ای دل
به پارسا چو فتد کار، پارسا می‌باش
اگر به دردِ دلِ خود دوا همی‌طلبی
به درد خو کن و آزاد از دوا می‌باش
شهی و رفعت اگر آرزو کنی، فانی
غلامِ حافظ و خاکِ جنابِ جامی باش
(امیر علی‌شیر نوایی فانی)

ترجمہ:
اگر تمہیں شاہی کی آرزو ہے تو خودپسندی و انانیت سے دور رہو اور درگاہِ میخانۂ فنا کے گدا بنے رہو۔
اے ماہ! میں تم سے [یہ] نہیں کہتا کہ رقیبوں کے ساتھ نہ رہو، لیکن از روئے مِہر و وفا کبھی ہمارے ساتھ بھی رہا کرو۔
صاف ہوا، صاف شراب اور ایک صاف دل ساقی [موجود ہیں]؛ تم بھی اہلِ صفا کے ساتھ باصفا رہو۔
اے دل! اگر تمہیں تخت و تاجِ سلطنت کی آرزو ہے تو پیرِ مُغاں کی درگاہ کی خاک پر گدا بنے رہو۔
اگر تمہیں خالق و مخلوق کی رِضا کی خواہش ہے تو قضا کی طرف سے جو کچھ بھی تمہاری جانب آئے، اُس پر راضی رہو۔
اگر تمہیں اُس کے کوچے کے گلشن میں نِشیمن کی خواہش ہے تو خاکِ راہ کی مانند ہو جاؤ اور صبا کی پیروی کرتے رہو۔
اے دل! رند کے ساتھ موافقت میں رند بن جاؤ، اور جب پارسا کے ساتھ سر و کار پڑے تو پارسا بنے رہو۔
اگر تمہیں اپنے دردِ دل کی دوا کی طلب ہے تو درد کی عادت کر لو اور دوا سے آزاد رہو۔
اے فانی! اگر تمہیں شاہی و بلندی کی آرزو ہے تو حافظ کے غلام اور آستانۂ جامی کی خاک بن جاؤ۔

× یہ غزل حافظ شیرازی کی غزل ‘به دورِ لاله قدح گیر و بی‌ریا می‌باش‘ کے تتبّع میں لکھی گئی ہے۔
× رکن‌الدین همایون‌فرخ کی تصحیح میں ‘چه آیدت ز قضا…’ کی بجائے ‘چو آیدت ز قضا…’ درج ہے، یعنی ‘قضا کی طرف سے جب تمہاری جانب [کچھ] آئے’۔
× رکن‌الدین همایون‌فرخ کی تصحیح میں ‘…خاکِ جنابِ جامی باش’ کی بجائے ‘…خاشاکِ راهِ جامی باش’ ہے، یعنی ‘جامی کی راہ کا خاشاک بن جاؤ’۔


محمد امین صدیقی: ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ خطے میں باہمی روابط کو گہرا کرنے کا باعث بنے گا

افغانستان کے عمومی قونصل محمد امین صدیقی نے مشہد میں ہونے والے ‘بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس طرح کے مؤتمرو‌ں کو منطقے کے ممالک کے مابین ثقافتی روابط میں گہرائی لانے کا سبب سمجھتے ہیں۔
علاوہ بریں، محمد امین صدیقی نے علی شیر نوائی کی تاریخی شخصیت کا شمار اس تمدنی قلمرو کے مفاخرِ علم و ادب میں کیا اور کہا کہ وہ اس پورے خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے تیموری دور کو اس ثقافتی قلمرو کے ساکنوں کے لیے مختلف پہلوؤں سے بہت گراں بہا پکارا۔
اُن کے مطابق، تیموری دور میں اس خطۂ ارض کے لوگوں کی ثقافتی میراث نے – کہ جو دینی لحاظ سے اسلام پر مبنی اور لسانی و ہنری لحاظ سے فارسی پر مبنی تھی – اپنی بقا و پائداری کی قوت کو ظاہر کیا تھا۔
صدیقی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس ثقافتی بیداری کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس منطقے کے ایک دیرینہ و سابقہ دار اور علم و ادب کی مالامال تاریخ کے حامل شہر ہرات میں رو نما ہوئی تھی جو اُس زمانے میں خراسانِ بزرگ کا ایک شہر تھا اور اب افغانستان کی قلمرو کا حصہ ہے۔”
اُنہوں نے اضافہ کیا: "تیموریوں کی ثقافتی نشاۃِ ثانیہ کو ہرات کے نام سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق کی بات بھی نہیں ہے، کیونکہ فن، ادب اور علم ہمیشہ اُسی جگہ کمال کو پہنچتے ہیں جہاں ایک طرف تو دانا اور ثقافت پرور سیاسی حکام بر سرِ کار ہوں اور دوسری طرف وہاں معاشرتی لحاظ سے لوگوں کے رُشد کے لیے سازگار پس منظر اور حالات وجود میں آ چکے ہوں، اور اُس عصر کے ہرات میں یہ دونوں عوامل موجود تھے۔”
مشہد میں افغانستان کے عمومی قونصل نے امیر علی شیر نوائی کو خاندانِ تیموری کا مہذب اور دانشمند وزیر پکارا اور کہا کہ وہ اپنی کثیر بُعدی شخصیت کے وسیلے سے ادبی نگارشات کی تخلیق کے میدان میں، نیز اہلِ دانش و ادب کی حمایت اور اُن کی تخلیقات کی اشاعت میں بہت فعال رہے تھے۔
صدیقی نے نوائی کے مولانا عبدالرحمٰن جامی اور اُس دور کے دیگر تمام استادانِ علم و ہنر کے ساتھ روابط کو اُس زمانے کی رفیع الشان تہذیبی اقبال مندی کی مثال سمجھا۔
اِن افغان عہدے دار نے مزید ثقافتی روابط قائم کرنے کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ” اس ثقافتی وطن کے ہم باشندوں کے درمیان ارتباط کی سطح ہرگز اُن مشترکات کے درجے پر نہیں ہے جو ہمارے درمیان موجود ہیں۔”
اُنہوں نے اظہار کیا: "ہماری ثقافتی سرگرمیوں نے اختصاصی اور جغرافیائی سرحدوں پر مبنی شکل اختیار کر لی ہے اور اب اکثر موقعوں پر ہمارے مفاخرِ علم و ادب پر صرف سرحدوں کے اندر ہی توجہ ہوتی ہے۔”
صدیقی نے ایران میں منعقد ہونے والے ‘امیر علی شیر نوائی مؤتمر’ کو ایک خوش آئند اور مبارک واقعہ جانا اور اسے منطقے کے ممالک کے درمیان روابط کی تعمیق کا بنیاد ساز کہا۔
افغانستان کے عمومی قونصل نے اس طرح کے برناموں (پروگراموں) کے تسلسل کی خواہش کی اور اس بات کی امید ظاہر کی کہ اہلِ ادب و ہنر و دانش کی معیت میں ایسے ہی برنامے جلد ہی افغانستان میں بھی منعقد ہوں گے۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز آج صبح سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی میں ہوا ہے اور اس میں ایرانی عہدے داروں اور ادیبوں کے ہمراہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان سے آئے ہوئے مہمانانِ گرامی بھی شرکت کر رہے ہیں۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

مؤتمر = کانفرنس


جامی خراسان اور ماوراءالنہر کے درمیان حلقۂ وصل تھے

تاجکستان میں واقع جمہوریۂ اسلامیِ افغانستان کے سفارت خانے میں عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد ہوئی جس میں ادیبوں، نقادوں، روزنامہ نگاروں اور ملکی دارالحکومت دوشنبہ میں مقیم افغانستان، تاجکستان اور ایران کے دانشوروں نے شرکت کی۔ آغاز میں قاری مرزائی نے کلامِ مجید سے چند آیات کی تلاوت کر کے فضائے محفل کو منور کیا۔
پھر افغانستان و تاجکستان کے قومی ترانوں کے احترام میں حاضرین کھڑے ہوئے اور ترانوں کو سنا۔ بعد میں تاجکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے حاضرین کو خیر مقدم کہتے ہوئے اس اجتماع کو ‘محفلِ عشق و فرہنگ’ کا نام دیا اور شرکت کرنے والوں کی خدمت میں افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی کے سلام اور احترامات پیش کیے۔ اُنہوں نے کہا: "وہ (یعنی صدر) یہ باور رکھتے ہیں کہ ہم ایک مشترکہ ثقافتی و تمدنی قلمرو میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم ایک مشترک تاریخی سرنوشت رکھتے ہیں، اُسی طرح ہمیں مداوم ثقافتی سفارت کاری کی مدد سے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے نزدیک آنے اور ایک متحد منطقہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔”
پھر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے شرکاء کے سامنے افغانستان کے وزیرِ امورِ خارجہ جناب ضرار احمد عثمانی کا نوشتہ پیام پڑھا۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ "مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کی تجلیل کا مطلب دینی، ثقافتی اور تمدنی شناخت کی اور ہمزبانی و ہمدلی کی تجلیل ہے۔ میرے اعتقاد میں افغانستان اور تاجکستان کے درمیان روابط کی مشروعیت ایک واحد شناخت پر مبنی ہے، جس کی مشترک دین، زبان اور ثقافت کے شاخصوں سے تعریف کی جاتی ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک ایسا بزرگ آئینہ ہیں جس میں دو ملتوں کی ہم دلی اور ہم آوازی نظر آتی ہے۔
سلطان حسین میرزا بایقرا کی مقتدرانہ رہبری اور میر علی شیر نوائی کی رفاقت میں حضرتِ جامی پندرہویں صدی عیسوی میں اپنے ‘نفحات الانس’ اور ‘ہفت اورنگ’ کی مدد سے تیموری تمدن کی اساس رکھ پائے تھے۔ تاریخ اس واقعیت کی بیان گر ہے۔ لہٰذا مولانا جامی اور ہفت اورنگ کی یہ پاسداری، عشق و ایماں اور ثقافت کی پاسداری ہے۔ یہ اُن لوگوں کی ہم دلی و ہم آوازی کی پاسداری ہے جو خرد ورزی، صلح جوئی، ہم زیستی، فراست اور اپنی نورانی ثقافتوں کے ہمراہ ایک ساتھ صمیمانہ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اور جن کی ثقافت پرور تحمل پذیری و رواداری کی ‘بوئے جوئے مولیاں’ مشترک تاریخ کی کیاری میں جاری رہی ہے۔”
ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے مولانا جامی کی شخصیت کے بارے میں مزید کہا: "وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے عشق کے باعث شہرۂ آفاق ہیں۔ شمس الدین محمد حافظ اگر ‘لسان الغیب’ سے متصف ہیں، بیدل ‘ابوالمعانی ‘سے متصف ہیں، تو جامی بھی ‘خاتم الشعراء’ سے ملقب ہیں۔جامی کیوں بزرگ ہے؟ میں بتاتا ہوں جامی کیوں بزرگ ہے۔ ہم اپنی تاریخی، ثقافتی و تمدنی قلمرو میں جامی جیسی کسی شخصیت کا مشکل ہی سے سراغ پا سکتے ہیں۔
جامی اجتماعی مصلح ہے، جامی دین کے میدان کا محقق ہے، جامی اسلام شناسی کے میدان میں ممتاز ہے، جامی عرفانِ نظری و عملی کے میدان میں بے گمان ایک بلند قامت شخصیت ہے، جامی ابنِ عربی کا شاگرد ہے اور اس کے ساتھ ہی ابنِ عربی کی تالیفات کی شرح میں بلاتردید اُس کو کوئی ہمتا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشان دہ ہیں کہ جامی بزرگ ہے۔
بالخصوص چنگیز، منگول اور تیموری فتنوں کے بعد، کہ جب تیمور کی آل کشور کشائی اور آتش کشی میں مشغول تھی تو یہی جامی تھے جنہوں نے تیموری خاندان سے سلطان حسین میرزا بایقرا جیسے علم و ثقافت پرور اور بلند قامت چہرے کو اوپر ابھارا تھا۔ جامی ہرات اور سمرقند کے مابین حلقۂ وصل تھے۔ چنگیزی فتنوں کے بعد عرفان محض خانقاہی بن گیا تھا۔ جامی نے ابنِ عربی کے عرفان کا اُس کی تمام ابعاد کے ساتھ احیا کیا۔”
صدرالدین عینی کے نام پر قائم دانشگاہِ دولتیِ آموزگاری کے رئیسِ عالی عبدالجبار رحمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ جامی کا پندرہویں صدی عیسوی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے احوال اور تالیفات کے متعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بہت ساری تحقیقات انجام پا چکی ہیں۔ جامی کے غنی اور مضامین سے پُر اشعار انسان اور اور مقامِ انسان کے بارے میں تازہ و سلیم فکروں پر مشتمل ہیں۔
جامی کے سمرقند کی جانب سفر اور وہاں اُن کی تحصیل نے اُن کی زندگی پر بڑا اثر ڈالا تھا۔ جامی کے استاد سعدالدین کاشغری نے جامی کی معرفت سے آشنا ہونے کے بعد یہ لکھا تھا کہ جامی سے دانش مندی میں بالاتر کوئی انسان بھی آمو دریا کو پار کر کے اس طرف نہیں آیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے سمرقند میں بہت سے علمائے علم و فنون سے آشنائی حاصل کی تھی اور اُن سے زمانے کے علوم سیکھے تھے۔ اسی سمرقند ہی میں وہ نقشبندی طریقت سے نزدیکی سے متعارف ہوئے تھے اور بعد میں عرفان کی جانب اُن کی توجہ بیشتر ہو گئی تھی۔
بعداً انہوں نے بزرگانِ عرفان کے بارے میں ‘نفحات الانس’ نامی کتاب لکھی تھی۔ جامی کی ایک اور خدمت علمی بحث و مناظرہ کی تشکیل اور انجام دہی تھی جس کے بعد میں سودمند نتائج نکلے۔ عبدالرحمٰن جامی کو سعدی شیرازی کے ہمراہ معلمِ اخلاق کہا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار رحمان نے اس بات پر بھی فخر ظاہر کیا کہ سوویت دور میں اُنہیں یہ موقع میسر آیا تھا کہ ہرات میں اقامت کر سکیں اور جہانِ ادب و عرفان کے اس بزرگ مرد کے مقبرے کی زیارت سے شرف یاب ہو سکیں۔
بعد میں تاجکستان میں مقیم معروف ایرانی خبرنگار اور سخنور بانو یگانہ احمدی نے جامی کی ‘ہفت اورنگ’ سے دو کوتاہ اقتباسات خوبصورت طریقے سے حاظرین کے سامنے پیش کیے۔
تاجک دانشمند پروفیسر عبدالنبی ستارزادہ نے کہا کہ "شعراء معمولاً تین گروہوں میں گروہ بندی کیے جاتے ہیں: شاعرانِ شاعر، شاعرانِ عالم اور شاعرانِ عارف۔ اس گروہ بندی کی نظر سے مولانا جامی شاعرانِ عالم و عارف کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب بھی ہم مولانا جامی کی تالیفات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں اُن تالیفات کا تمام جہات سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بعض محققوں نے جامی کی میراث کو تنہا اُن کے شاعر ہونے کے حوالے سے یا پھر اُن کے عارف ہونے یا عالم ہونے کے حوالے سے سراہا ہے۔
جن لوگوں نے صرف اُن کے شعروں کے حوالے سے ان کا استاد رودکی، حافظ، سعدی، مولوی، نظامی، اور دوسرے بزرگ شاعروں سے تقابل کیا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ضعیف شاعر ہیں۔ اور جن لوگوں نے صرف اُن کی بطور ایک عارف ارزیابی کی ہے، انہوں نے کہا ہے اُن کے عارفانہ اشعار کو مولوی، سنائی یا عطار کے عارفانہ اشعار کے برابر میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک یہ ارزیابی چنداں منصفانہ نہیں ہے۔ مولانا جامی کی تصنیفات پر ہر جہت سے نظر ڈالنی چاہیے۔”
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جامی کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کے موقع پر کی گئی تقریر میں جامی شناسی پر بخوبی ایک نظر ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کا تحلیل و تجزیہ کیا کہ جامی شناسی تا‌ حال کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نیز انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جامی شناسی کے رشد و ارتقاء میں تاجک جامی شناسوں خاص طور پر استادِ مرحوم اعلیٰ خان افصح زاد کا حصہ قابلِ قدر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے جامی کو ایران، افغانستان، تاجکستان اور دیگر مقامات میں ابھی تک درست طور پر نہیں پہچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمیِ علومِ تاجکستان نے جامی کے چھ سو سالہ جشن کے موقع پر ‘آثارِ جامی’ کے نام سے چودہ جلدی کتاب نشر کے لیے آمادہ کی ہے۔ ان کتابوں میں حضرتِ جامی کے کتب و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامی کے جملہ آثار کی ماہیت اُن کی انسان دوستی نے معیّن کی ہے:
ای که می‌پرسی بهترین کس کیست؟
گویم از قولِ بهترین کسان
بهترین کس کسی بوَد، که ز خلق
بیش باشد به خلق نفع‌رسان
دانشگاہِ ہرات کے استاد محمد داؤد منیر نے اپنی تقریر میں جامی کے اشعار پر محققوں کی جانب سے کی گئی داوری کے بارے میں گفتگو کی۔ موقع کی مناسبت سے انہوں نے غزلیاتِ جامی کے متعلق اپنی ہی نادر تحقیقات میں سے بھی کچھ حصے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔
افغانستان کے ایک جامی شناس محی الدین نظامی نے اپنی تقریر کے آغاز میں افغان شاعر استاد خلیل اللہ خلیلی کے مولانا جامی کی توصیف میں کہے گئے وہ اشعار پڑھے جو اُنہوں نے مولانا جامی کے پانچ سو پچاس سالہ جشن کے موقع پر لکھے تھے۔
پیغمبرانِ معنی روشن‌گرانِ فکرند
در هر کجا تپد دل باشد جهانِ جامی
ابرار سبحه سازند، احرار تحفه آرند
خاکِ مزارِ جامی، نقدِ روانِ جامی
برخاست بادِ شوقی از جانبِ سمرقند
کز بوی مشک‌بیزش شد زنده جانِ جامی
از غزنه تا بخارا وز وخش تا هرات است
هم جلوه‌گاهِ جامی، هم آشیانِ جامی
تجلیلِ این بزرگان تعظیمِ علم و فضل است
فرخنده باد این جشن بر پیروانِ جامی​
محفل کے اختتام پر حاضرین سفارت خانۂ افغانستان کے ایوانِ ‘ہفت اورنگ’ میں افغانستان کے چیرہ دست ہنرمند جناب شجاع محمد فقیری کی نمائش کے لیے پیش کردہ نقاشیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

(منبع: تاجک اخبار ‘روزگار’)
خبر کی تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۴ء


ماسکو میں عبدالرحمٰن جامی کی منتخب تحریروں کا روسی ترجمہ شائع

بلند علمی و انتشاراتی مقام رکھنے والے روس کے سب سے بانفوذ ناشر ‘ناکوئا’ نے ممتاز شاعر و متفکر مولانا عبدالرحمٰن جامی کی چھ سو سالگی کی مناسبت سے اُن کی منتخب تحریریں <<کلادیز مُدرَوستی>> یعنی <<گنجینۂ حکمت>> کے نام سے اعلیٰ کیفیت کے ساتھ شائع کی ہیں۔
اکادمیِ علومِ جمہوریۂ تاجکستان کے مطبوعاتی معمتد لطیف لطیفوو کی اطلاع کے مطابق کتاب ۵۲۲ صفحوں پر مشتمل ہے اور اس میں مولانا جامی کے قصیدوں، غزلوں، قطعوں، رباعیوں، مربعوں، مثنویوں اور اُن کی ‘بہارستان’ کے نمونے شامل ہیں۔ مرکزِ نشرِ اکادمیِ روس کے رئیسِ کُل، اکادمیِ علومِ روس کے رکن، اور کتاب کے ناشر وی ای واسِیلی اَیوْ نے اپنے پیش لفظ میں تاجکستان میں منائے گئے اس شاعرِ بزرگ کے جشنِ باشِکوہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُن کی تالیفات کی بلند معنوی، اخلاقی و معرفتی ارزشوں پر زور دیا ہے۔
کتابِ مذکور میں جمہوریۂ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے پُرمغز مقالے ‘مشعلِ فرہنگِ تاجک’ کو بھی جگہ دی گئی ہے جس میں عبدالرحمٰن جامی کی تالیفات کی اہم ترین فضیلتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور جامی شناسی کے آئندہ فرائض کی تشخیص کی گئی ہے۔
اکادمیِ علومِ جمہوریۂ تاجکستان کے رکن مرزا مُلّا احمد کے کتاب میں شامل مقالے ‘جامی – انسان دوستی کی روایات کے جاری رکھنے والے’ میں بزرگ شاعر و دانشمند کے انسان دوست افکار اور لوگوں کی معنوی تربیت میں اُن کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
کتاب کے توضیحاتی حصے میں شاعر کی تالیفات کے بعض دشوار فہم کلمات، اصطلاحات اور تلمیحات کی تشریح دی گی ہے۔
یقیناً، اس کتاب کی نشر روسی خواں طبقے کو تالیفاتِ شاعر سے مزید شناسا کرنے میں مدد دے گی، نیز تاجک ادبیات و ثقافت کی اعلیٰ اقدار کی تشہیر و ترویج کے لیے بھی یہ ایک عمدہ اِقدام ہے۔

خبر کا منبع: تاجک اخبار ‘خاور’
خبر کی تاریخ: ۲۳ جنوری ۲۰۱۵ء

*مطبوعاتی معتمد = پریس سیکرٹری