سلطان عبدالحمید ثانی عُثمانی کی طرف سے فارسی کو «شیریں ترین زبان» کہا جانا

سلطنتِ عُثمانیہ میں سفیرِ ایران «مُحسن خان مُعِین المُلک» ذی الحجّہ ۱۲۹۳ھ (۱۸۷۶-۷۷ء) میں وزارت اُمورِ خارجہ کو لکھتے ہیں:

"عید قربان به ملاقات سلطان رفتم، و از بسته شدن روزنامهٔ اختر اظهار تکدُّر فرموده، گفتند: حیف است در اسلامبول به زبان فارسی که اساس زبان ترکی است و اعذب السِنه است روزنامه‌ای نباشد. و خیلی اظهار تمایُل به انتشار روزنامهٔ فارسی نمودند.”

ترجمہ:
"بہ روزِ عیدِ قُرباں میں سُلطان [عبدالحمید ثانی] سے مُلاقات کو گیا، اور اُنہوں نے روزنامۂ اختر کے بند ہونے پر اظہارِ رنج فرماتے ہوئے کہا: حیف ہے اگر اسلامبول (استانبول) میں زبانِ فارسی میں – کہ جو زبانِ تُرکی کی اساس اور شیریں ترین زبان ہے – کوئی روزنامہ نہ ہو۔ اور اُنہوں نے فارسی روزنامے کے نشر کی جانب فراواں رغبت ظاہر کی۔”

مأخذ: یادبودهایِ سفارتِ استانبول، سید احمد خان ملِک ساسانی، ۱۹۶۶ء

Advertisements

اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را – شهزاده بایزید بن سلطان سلیمان قانونی

خلیفۂ عُثمانی سلطان سُلیمان قانونی کے پِسر شہزادہ بایزید متخلّص بہ ‘شاہی’ کی ایک فارسی غزل:

اگر تاجِ جهان‌داری میسّر می‌شود ما را
به تیغِ قهرَمانی برگُشایم مُلکِ دنیا را
اگر یاری دِهد بختم به آیینِ سلیمانی
چو اِنس و جن به فرمان آورم از قاف عنقا را
سرِ طهماسب را از تن به ضربِ تیغ بردارم
به زیرِ حُکمِ خویش آرم سمرقند و بخارا را
مُحبِّ چار یار و آل و اصحابِ محمّد شو
بِیا ای رافضی بر جانِ خود کن آن تبرّا را
به راهِ شرعِ روشن شو مشو گم‌ره به نادانی
بُرون آر از دماغِ خُشک این بیهوده سودا را
من از بهرِ جهان‌گیری چرا بیهوده اندیشم
که خود از دل رِضا دادم قضایِ حق تعالیٰ را
اُمیدم هست ای شاهی مُعینم گر مُعین باشد
به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را
(شه‌زاده بایزید ‘شاهی’)

اگر ہمیں تاجِ جہاں داری مُیسّر ہو گا تو میں [اپنی] پہلوانی تیغ سے مُلکِ دُنیا فتح کر لوں گا۔
اگر میری قسمت یاوری کرے تو میں سُلیمانی طریقے سے اِنس و جِن کی طرح عنقا کو [بھی] کوہِ قاف سے زیرِ فرمان لے آؤں گا۔
تہماسب صفوی کے سر کو بہ ضربِ تیغ تن سے جدا کر دوں گا اور سمرقند و بخارا کو اپنے زیرِ حُکم لے آؤں گا۔
حضرتِ محمد (ص) کے چار یار اور اُن کی آل و اصحاب کے محب بنو۔۔۔ اے رافضی! آؤ اور وہ تبرّا خود کی جان پر کرو۔
شریعتِ مُبین کی راہ پر آ جاؤ، نادانی کے باعث گُمراہ مت ہوؤ۔۔۔ اپنے دماغِ خُشک سے اِس بے فائدہ و ناحق جُنون کو بیرون کر دو۔
میں جہاں گیری کے لیے کس لیے عبَث فِکر کروں؟ کہ میں خود دل سے قضائے حق تعالیٰ پر رِضامند ہوا ہوں۔
اے ‘شاہی’! مجھے اُمید ہے کہ اگر خدائے مُعین میری یاوری کرے تو میں شمشیرِ جہاں گیری سے مُلکِ دُنیا کو فتح کر لوں گا۔

به شمشیرِ جهان‌گیری گُشایم مُلکِ دنیا را

شہزادہ بایزید کے فارسی دیوانچے کے ترتیب دہندہ ‘مصطفیٰ چیچک‌لر’ کے مطابق ایک نسخے میں مندرجۂ بالا مصرعے میں «…گُشایم مُلکِ دنیا را» کی بجائے «…گُشایم رُویِ غبرا را» ہے، یعنی: ۔۔۔میں رُوئے زمین کو فتح کر لوں گا۔


"مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے” – عُثمانی شاعر رضا توفیق

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف نے ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں ایک جا عُثمانی شاعر رضا توفیق (وفات: ۱۹۴۹ء) کا یہ قول نقل کیا ہے:

"شرق و غربېن بیر قاچ مُهِم لسانېنې بیلیریم. فرانسېز، اینگیلیز، ایسپانیۏل، عرب، عجم، تۆرک لسان‌لارېنېن انافسِ آثارېنې اصل‌لارېندان، دیگر لسان‌لارېن‌کی‌نی ترجمه‌لریندن اۏقودوم. بنی ان زیاده مستفید و مسحور ائدن عجم اشعارې‌دېر. بونداکی حالتی دیگر لسان‌لارېن هیچ بیرینده بولمادېم. انسانیتِ قدیمه حکمتی یونانا، شعری ایرانا وئرمیش ایدی. عصرلار اشعارِ عجمی هیچ بیر زمان اسکیته‌مه‌یه‌جک‌دیر. اگر بن هجه وزنینده موفّقیت گؤسته‌ره‌بیلیرسم، بونو عجمین فیض و آهنگینه مدیونوم.”

ترجمہ:
"میں شرق و غرب کی کئی ایک اہم زبانوں کو جانتا ہوں۔ فرانسیسی، انگلیسی، ہسپانوی، عربی، فارسی، تُرکی زبانوں کے نفیس ترین آثار کا اصل زبانوں میں، جبکہ دیگر زبانوں کی تألیفات کا اُن کے ترجموں کے توسُّط سے مطالعہ کر چکا ہوں۔ مجھے سب سے زیادہ مستفید و مسحور فارسی شاعری نے کیا ہے۔ اُس میں جو کیفیت ہے وہ میں نے کسی بھی دیگر زبان میں نہ پائی۔ انسانیتِ قدیمہ نے حکمت یونان کو، جب کہ شاعری ایران کو دی تھی۔ زمانوں کی گردش فارسی شاعری کو کسی بھی وقت قدیم و فرسودہ نہیں کر سکے گی۔ اگر میں ہِجائی وزن [کی شاعری] میں کامیابی دکھا پایا ہوں تو اِس کے لیے میں عجم (فارسی) کے فیض و آہنگ کا مدیون ہوں۔”

× عُثمانی سلطنت میں ایران کو ‘عجم’ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

لاطینی رسم الخط میں:
Şark ve garbın bir kaç mühim lisanını bilirim. Fransız, İngiliz, İspanyol, Arap, Acem, Türk lisanlarının enâfis-i âsârını asıllarından, diğer lisanlarınkini tercümelerinden okudum. Beni en ziyade müstefîd ve meshûr eden Acem eş’ârıdır. Bundaki hâleti diğer lisanların hiç birinde bulmadım. İnsâniyet-i kadîme hikmeti Yunan’a, şiiri İran’a vermiş idi. Asırlar eş’âr-ı Acem’i hiç bir zaman eskitemeyecektir. Eğer ben hece vezninde muvaffakiyet gösterebilirsem, bunu Acem’in feyz ve âhengine medyûnum.


ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ کیونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.


عارف قزوینی کی تُرکی مخالف شاعری

گذشتہ صدی کے اوائل میں مشرقِ وسطی میں ملّت پرستانہ نظریات کے ظہور میں آنے کے نتیجے میں ایران میں تُرکی زبان فِشار کا نشانہ بننا شروع ہو گئی تھی، اور پہلوی دور میں تو تُرکی کی تعلیم و تدریس پر، تُرکی کتابوں کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اِس کا ایک مُحرِّک یہ بھی تھا کہ عُثمانی دور کے اواخر میں وہاں کے قوم پرست دانشمندان اتحادِ تُرکان کے نظریات کی تبلیغ کرنے لگے تھے، اور اُن کی خاص توجُّہ آذربائجان کی جانب تھی، کیونکہ بہرحال آذربائجانیان اُن کے ہم زبان اور تُرک تھے۔ اُن کی آرزو یہ تھی کہ قفقازی و ایرانی آذربائجان بالترتیب رُوسی اور ایرانی سلطنتوں سے خلاصی پا کر عظیم تر عُثمانی-تُرک سلطنت کا حصّہ بن جائیں، اور یہ خواہش بالعموم قفقازی آذربائجان کے تُرک قوم پرست بانیان و دانشمندان کی بھی تھی۔ ایران میں تُرک قوم پرستی اُس وقت تک متولّد نہیں ہوئی تھی، اِس لیے وہاں اِن تبلیغات کو اُس وقت زیادہ پذیرائی نہ مِلی۔ لیکن ردِّ عمل کے طور پر ایرانی/فارسی قوم پرستوں میں تُرکوں اور تُرکی زبان کے خلاف شدید بیزاری کے احساسات پیدا ہو گئے تھے، اور اُن کی اُس وقت سے یہ کوشش رہی ہے کہ ایرانی آذربائجان سے زبانِ تُرکی کو ‘رفع دفع’ کر دیا جائے۔ وہ تُرکی کو اُسی طرح اپنی ریاست کی سلامتی کے لیے مسئلہ سمجھتے ہیں، جس طرح ریاستِ تُرکیہ میں کُردی کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ اور جس طرح تُرکیہ کے مُقتدِر حلقوں میں یہ خوف ہے کہ کہیں کُردی کی تدریس کے نتیجے میں تُرکیہ کے کُردوں میں کُرد قومی احساسات کی مزید تقویت نہ ہو جائے، اُسی طرح ایرانی/فارسی قوم پرستان بھی ایرانی آذربائجانیوں کے لسانی و ثقافتی حقوق کو زیرِ پا رکھنے پر مُصِر ہیں ‘تاکہ خدانخواستہ ایران مُنقسِم نہ ہو جائے’ (حالانکہ مجموعی طور پر ایرانی آذربائجانیان میں ایران سے جدا ہو جانے کے کوئی لائقِ ذکر احساسات نہیں ہیں)۔ جائے خوشنودی ہے کہ ایران میں تُرکی مخالفوں کی کوشش تا حال ناکام رہی ہے اور ایرانی آذربائجان سے تُرکی ختم نہیں ہوئی ہے، بلکہ انٹرنیٹی دور کی آمد کے بعد سے، اور اُس کے نتیجے میں جمہوریۂ آذربائجان و تُرکیہ کے مردُم کے ساتھ نزدیک تر ارتباطات کے نتیجے میں تُرکانِ ایران میں بھی تُرکی خواندگی اور تُرکی کے معیار میں بہتری آنے لگی ہے۔
گذشتہ صدی کے ایرانی وطن پرست و قوم پرست شاعر عارف قزوینی نے ۱۹۱۵ء سے ۱۹۱۹ء تک کا زمانہ عُثمانی سلطنت میں گُذارا تھا، وہاں وہ داعیانِ اتحادِ تُرکان کے آذربائجان کی بارے میں خیالات کے ردِّ عمل میں شدیداً تُرک و تُرکی مخالف ہو گئے تھے، اور اُنہوں نے اپنی کئی نظموں میں زبانِ تُرکی کی مذمّت میں ابیات کہی ہیں۔ مثلاً وہ ۱۸ مارچ ۱۹۲۵ء کو آذربائجان میں کہی گئی ایک غزل میں زبانِ تُرکی کے خلاف کہتے ہیں:
چه سان نسوزم و آتش به خُشک و تر نزنم
که در قلمروِ زردُشت حَرفِ چنگیز است
زبانِ سعدی و حافظ چه عیب داشت که‌اش
بدل به تُرک زبان کردی این زبان هیز است
رَها کُنَش که زبانِ مُغول و تاتار است
ز خاکِ خویش بِتازان که فتنه‌انگیز است
دُچارِ کشمکش و شرِّ فتنه‌ای زین آن
اِلَی‌الابد به تو تا این زبان گلاویز است
به دیو‌خُوی سُلیمان نظیف گوی که خوب
درست غور کن انقوره نیست تبریز است
ز اُستُخوانِ نیاکانِ پاکِ ما این خاک
عجین شده‌ست و مُقدّس‌تر از همه چیز است
(عارف قزوینی)
میں کیسے نہ جلوں اور کیوں نہ خُشک و تر کو آتش لگا دوں؟ کہ زرتُشت کی قلمرو میں چنگیز کی زبان رائج ہے۔۔۔ سعدی و حافظ کی زبان میں کیا عیب تھا کہ تم نے اُس کو دے کر تُرکی زبان لے لی؟۔۔۔ یہ زبان مُخنّث ہے!۔۔۔ اِس کو تَرک کر دو کہ یہ منگول و تاتار کی زبان ہے۔۔۔ اِس کو اپنی خاک سے دور بھگا دو کہ یہ فتنہ انگیز ہے۔
(فارسی ایرانی قوم پرستوں کا دعویٰ ہے کہ تُرکی آذربائجان کی ‘اصلی’ و ‘حقیقی’ زبان نہیں ہے، بلکہ یہ زبان وہاں منگولوں اور تُرکوں کے حملوں کے نتیجے میں رائج ہوئی ہے۔ لہٰذا، اُن کی ‘لسانی تطہیر’ ہونی چاہیے اور اُن کو تُرکی زبان تَرک کرنے پر مجبور کرنا چاہیے۔۔۔ مصرعِ دوم میں اُس روایت کی جانب اشارہ ہے جس کے مطابق زرتُشت کا جائے تولُّد دیارِ آذربائجان تھا، اگرچہ بیشتر مُعاصر مُحقّقین اِس روایت کو درست نہیں مانتے، اور اُن کا کہنا ہے کہ زرتُشت احتمالاً حالیہ افغانستان میں یا مشرقی ایران میں کہیں متولّد ہوا تھا۔)
جب تک یہ [تُرکی] زبان تم سے چِمٹی ہوئی ہے، تم تا ابد اِس کے باعث نِزاع و جِدال، اور شرِّ فتنہ سے دوچار رہو گے۔۔۔۔ دیو فطرت سُلیمان نظیف سے کہو کہ خوب درستی کے ساتھ غور کرو، یہ انقرہ نہیں، بلکہ تبریز ہے۔۔۔ یہ خاک ہمارے اجدادِ پاک کے اُستُخوانوں (ہڈیوں) سے عجین ہو چکی ہے اور [یہ] ہمارے لیے ہر چیز سے زیادہ مُقدّس ہے۔
× سُلیمان نظیف = ایک عُثمانی شاعر و مُتفکِّر کا نام
× عجین ہونا = گُندھنا

اتنی طویل تحریر اِس لیے لکھی ہے کیونکہ تاریخی پس منظر بیان کیے بغیر مندرجۂ بالا ابیات کا مفہوم کُلّاً سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ نیز، اِس لیے بھی کہ میں فارسی کی مانند تُرکی سے بھی محبّت کرتا ہوں، اور میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حاشا و کلّا ایرانی آذربائجان سے تُرکی محو ہو جائے، بلکہ میں وہاں تُرکی کو ہر دم توانا دیکھنا چاہتا ہوں۔


پس نوشت: گذشتہ صدی میں عُثمانی و ایرانی قوم پرستوں میں یہ زہرآلود، تباہی برانگیز اور غیر جمہوری تفکُّر فرانس اور دیگر یورپی ممالک سے آ کر رائج ہو گیا تھا کہ کسی ریاست میں صرف ایک زبان ہونا، اور باقی دیگر زبانوں پر پابندی ہونا لازم ہے۔ اِسی لیے تُرکیہ میں کُردی اور ایران میں تُرکی (اور دیگر زبانیں) تحتِ فِشار رہی ہیں، اور اُن کو محو کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جبراً لسانی یکساں سازی کی ریاستی کوششوں کے لحاظ سے تُرکیہ کی تاریخ ایران کے مقابلے میں مزید داغ دار ہے، کیونکہ ایران میں ۱۹۷۹ء کے بعد سے تُرکی کو اِجباراً محو کرنے کی کوششیں ریاستی سطح پر ختم ہو گئی ہیں اور ایران میں اِجباری لسانی یکساں سازی کی کوششیں تُرکیہ کی طرح شدید نہیں تھیں۔


اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”


"البانوی شہر ارگِری کے تمام افراد فارسی خواں ہیں” – عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کا مشاہدہ

میری نظر میں عُثمانی سلطنت کی ایک لائقِ تحسین ترین چیز یہ ہے کہ وہ زبان و ادبیاتِ فارسی کی، بلقان تک کے علاقوں میں سرایت و اشاعت کا باعث بنی تھی۔ سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ ہشتم میں عُثمانی البانیہ کے شہر ارگِری کے مردُم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اکثریّا خلقې اربابِ معارف و شُعَرایِ مؤلّفین‌لردیر. باخُصوص بُکایی و فغانی و نالِشی و سُکوتی و فضایی نام شُعَرالار حالا بو شهرده موجودلاردېر کیم هر بیری بیرر فن‌ده یدِ طُولالارېن عیان ائتمیش‌لردیر، امّا نالِشی پنج‌بیت‌ده و قصیده‌پردازلېق‌ده لانظیردیر.
و اکثریّا خلقې مُحِبِّ خاندان اۏلوپ ‘یا علی’ دئر اۏتورور، ‘یا علی’ دئر قالقار. جُمله فارسی‌خوان اۏلوپ مُحبِّ خاندان اۏلدوق‌لارېندان بیر فرقه‌سې نِهانی‌جه مُعاویه‌یه سبّ ائدۆپ یزیده آشکاره لعنت ائدرلرمیش امّا استماع ائتمه‌دیم.”

ترجمہ:
"شہر کے اکثر مردُم اربابِ معارف اور شُعَرائے مُؤلفّین کے زُمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص بُکائی، فغانی، نالِشی، سُکوتی، اور فضائی تخلُّص والے شُعَراء اِس وقت اِس شہر میں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک ایک فن میں یدِ طُولیٰ عیاں کر چکا ہے، لیکن نالِشی پنج بیت (پنج بیتی غزل) اور قصیدہ پردازی میں بے نظیر ہے۔
اور اُس کے اکثر مردُم مُحبِّ خاندانِ [علی] ہیں، اور وہ ‘یا علی’ کہتے ہوئے اُٹھتے اور ‘یا علی’ کہتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ تمام افراد فارسی خواں ہیں، اور مُحبِّ خاندانِ [علی] ہونے کے باعث ظاہراً اُن میں سے ایک گروہ بطورِ نِہانی مُعاویہ پر سبّ کرتا ہے، اور یزید پر آشکارا لعنت کرتا ہے، لیکن میں نے [خود] نہیں سُنا۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Ekseriyyâ halkı erbâb-ı ma‘ârif ve şu‘arâ-yı mü’ellifînlerdir. Bâhusûs Bükâyî ve Figanî ve Nâlişî ve Sükûtî ve Feza‘î nâm şu‘arâlar hâlâ bu şehirde mevcûdlardır kim her [bir]i birer fende yed-i tûlâların ayân etmişlerdir, ammâ Nâlişî penç-beytde ve kasîdeperdâzlıkda lâ-nazîrdir.
Ve ekseriyyâ halkı muhibb-i Hânedân olup “yâ Alî” der oturur, “yâ Alî” der kalkar. Cümle Fârisî-hân olup muhibb-i Hânedân olduklarından bir fırkası nihânîce Mu‘âviye’ye sebb edüp Yezîd’e âşikâre la‘net ederlermiş ammâ istimâ‘ etmedim.