فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


اِطفائیہ

میری تجویز ہے کہ زبانِ اردو میں انگریزی اصطلاح ‘فائر ڈیپارٹمنٹ’ کی بجائے ‘اطفائیہ/itfaaiyya’ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ لفظ عربی کے مادّے ‘ط ف ء’ سے مشتق ہے جس کے بابِ اَفعَلَ کے مصدر ‘اِطفاء’ کا مفہوم ‘بجھانا، گُل کرنا’ ہے۔ لہٰذا ‘اطفائیہ’ کا مطلب ‘آگ بجھانے والا ادارہ’ ہو گا۔

یہ لفظ ‘اطفاء’ اردو لغت کا جز ہے:
http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.0:1:2946.platts
http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=اطفا

اطلاعاً عرض ہے کہ یہ مادّہ قرآنی عربی میں بھی استعمال ہوا ہے:
يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔۔۔ (سورۂ توبہ، آیت ۳۲)

اسی طرح ہم ‘فائر فائٹر’ کی جگہ پر ‘اطفائی’ اور ‘فائر بریگیڈ’ کی جگہ پر ‘اطفائی دستہ’ استعمال کر سکتے ہیں۔

اردو میں ہم پہلے ہی بہت سے اداروں اور محکموں کے اسی نمونے پر مبنی نام استعمال کرتے آئے ہیں مثلاً بحریہ، فضائیہ، عدلیہ وغیرہ۔

یہ اصطلاح سب سے پہلے عثمانی سلطنت میں ترکی زبان کے لیے وضع کی گئی تھی، پھر وہاں سے یہ اصطلاح بلادِ عرب، ایران اور افغانستان تک پہنچ کر وہاں کی زبانوں میں رائج ہو گئی۔ فی زمانہ یہ اصطلاح ترکی، عرب ممالک اور افغانستان میں مستعمل ہے۔ ایران میں بھی یہی اصطلاح اولاً استعمال ہوتی تھی اور ابھی بھی مطبوعات میں نظر آتی ہے لیکن پہلوی دور میں اس کی بجائے سرکاری طور پر ‘ادارۂ/سازمانِ آتش نشانی’ (یعنی آگ بٹھانے والا ادارہ) کی اصطلاح رائج کر دی گئی تھی۔

پس نوشت: اردو شاعر میر درد نے لفظِ ‘اطفاء’ کو ایک شعر میں یوں استعمال کیا ہے:
اطفائے نارِ عشق نہ ہو آبِ اشک سے
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے


اعتراف

عموماً‌ لوگ سب سے زیادہ اپنی مادری زبان سے محبت کرتے ہیں، لیکن میں اپنی مادری زبان کی بجائے زبانِ فارسی سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میری تمام روحانی، ادبی، شناختی، ثقافتی اور تمدنی تمنّائیں اور ضروریات ہر زبان سے بیشتر فارسی ہی کے توسط سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی لیے میں اِس شہد سے شیریں زبان کو عزیز از جان رکھتا ہوں اور اس کی ترویج کے لیے شب و روز کوشاں ہوں۔ اگر صاف صاف کہوں تو اردو میری مادری زبان صرف ایک حادثۂ ولادت کے باعث ہے، ورنہ میں تو اپنی حقیقی قلبی زبان فارسی کو تصور کرتا ہوں اور میرے اختیار میں ہوتا تو میں کسی فارسی گو خانوادے میں پیدا ہونا اپنے لیے منتخب کرتا اور اِسے باعثِ صد افتخار و نازش جانتا۔
"طرزِ گفتارِ دری شیرین‌تر است”
(علامہ اقبال)

پس نوشت: مجھے کلاسیکی اردو اور کلاسیکی ترکی فقط اس لیے عزیز ہیں کہ یہ دو زبانیں براہِ راست فارسی زبان و ادب کی پروردہ زبانیں ہیں اور اپنے عالمِ طفولیت سے زمانۂ شباب تک یہ دو زبانیں اپنی رضاعی مادر فارسی کے زیرِ سایہ نشو و نما پاتی اور اپنی رہنمائی کے لیے ہمیشہ فارسی کی جانب نگاہ کرتی رہی ہیں۔ جبکہ عربی زبان مجھے اس لیے عزیز ہے کہ فارسی زبان و ادب کے ساتھ اس کا ہزار سالہ قریبی تعلق ہے اور عربی کی واقفیت سے فارسی دانی کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ مسلّم حقیقت ہے کہ فارسی پر عربی سے بیشتر کوئی اور زبان اثر انداز نہیں ہوئی ہے، بلکہ فارسیِ دری کی بنیاد ہی عربی کے زیرِ اثر رکھی گئی تھی۔


لغت کو ‘قاموس’ کہنے کی وجہ

سوال: قاموس کون سا لفظ ہے اور اُس کا مطلب کیا ہے اور لغت کی کتاب کو قاموس کس لیے کہا جاتا ہے؟

جواب: قاموس عربی لفظ ہے مادۂ قمس سے جس کا مطلب ہوتا ہے پانی میں جانا اور غوطہ کھانا۔ اور قاموس کے معنی ہیں سمندر کا وسط، پُرآب سمندر یا سمندر میں وہ جگہ جہاں توقف کیا جا سکتا ہو۔ لغت کی کتاب کو جو قاموس کہا جاتا ہے وہ اس سبب سے ہے کہ ایران کے معروف عالم فیروزآبادی نے، کہ جن کا خاندان فیروزآباد سے تھا اور وہ خود کازرون میں متولد ہوئے تھے اور حافظ کے ہم عصر تھے، عربی لغت کی ایک بہت اہم کتاب لکھی جو اس موضوع کی معروف ترین کتاب بن گئی۔ اُنہوں نے اس کتاب کا نام قاموس اللغۃ یعنی بحرِ لغت رکھا تھا اور یہ کتاب اتنی رواج پا گئی کہ ہر لغت کی کتاب کو بھی قاموس کہا گیا ہے۔

(سعید نفیسی کی کتاب ‘در مکتبِ استاد’ سے اقتباس اور ترجمہ)