"نیست مرد آنکه بگوید پدرم بود فلان”

عربی قطعہ:
كُنْ ابنَ مَن شِئْتَ واكْتَسِبْ ادبا
يُغنيك محمودُه عن النَّسَبِ
فليس يُغْني الحسيبَ نِسْبَتُهُ
بلا لسانٍ له و لا ادبِ
اِنَّ الفتی من يقولُ هاأناذا
ليس الفتی من يقولُ كان اَبِي
(منسوب به حضرتِ علی رض)

منظوم فارسی ترجمہ:
پسرِ هر که تو باشی ادبی حاصل کن
تا غنی سازدت اخلاقِ نکو از پدران
ندهد سود کسی را حسب و نسبت هم
که نه او را ادبی باشد و نه نطق و بیان
آن جوانست که گوید منم اینک حاضر
نیست مرد آنکه بگوید پدرم بود فلان
(مولانا شوقی)

فارسی سے اردو ترجمہ:
تم جس کے بھی پسر ہو کوئی ادب حاصل کرو؛ تاکہ نیک اخلاق تمہیں آباء سے بے نیاز کر دیں۔
جس شخص کے پاس نہ کوئی ادب ہو، اور نہ نطق و بیان ہو، اُسے حسب و نسب بھی فائدہ نہیں دیتے۔
وہ شخص جوان ہے جو کہے ‘لو میں اِس وقت حاضر ہوں’؛ وہ شخص مرد نہیں ہے جو کہے ‘میرا پدر فلاں تھا’۔


وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات – محمد فضولی بغدادی (ترکی + عربی نعت مع ترجمہ)

وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات
سُبحانَ خالِقِی خَلَقَ المَوْتَ والحَیات
(آپ کا وصل مجھے زندگی بخشتا ہے جبکہ آپ کی فرقت موت؛ پاک ہے وہ میرا خالق جس نے موت اور حیات کو خلق کیا۔)

هجرانینه تحمّل ائدن وصلینی بولور
طوبیٰ لِمَن یُساعِدُهُ الصّبرُ والثبات
(آپ کے ہجر کو تحمل کرنے والا بالآخر آپ کے وصل سے بہرہ مند ہوتا ہے؛ وہ شخص کیا ہی خوش قسمت ہے جس کی اس سلسلے میں صبر و استقامت مدد کرتے ہیں۔)

مهرین‌دیر اقتنایِ مقاصد وسیله‌سی
ماشاءَ مَنْ اَرادَ، بِهِ الفَوْزُ والنَّجات!
(آپ کی محبت حصولِ مقاصد کا وسیلہ ہے؛ (انسان) جو کچھ چاہے، اور جس چیز کا ارادہ کرے اُس میں کامیابی و نجات آپ کی محبت کے ذریعے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔)

تؤکموش ریاضِ طبعیمه بارانِ شوقینی
مَنْ اَنزَلَ المِیاهَ وَاَحْیٰی بِهِ النّبات
(جو ذات پانی برسا کر پودوں کو زندہ کرتی ہے، اُسی نے میرے باغِ فطرت میں آپ کے اشتیاق کی بارش برسائی ہے۔)

حق آفرینشه سبب ائتدی وجودینی
اَوجَبْتَ بِالظُّهورِ ظُهُورَ المُکَوَّنات
(حق تعالیٰ نے آپ کے وجود کو آفرینش کا سبب بنایا، اور آپ اپنے ظہور سے کُل ہستی کے ظہور کا باعث بنے۔)

ایزد سریرِ حُسنه سَنی قیلدی پادشاه
اعلیٰ کَمالَ ذاتِكَ فی اَحْسَنِ الصِّفات
(خدا نے تختِ حسن پر آپ کو بادشاہ کیا اور آپ کی ذات کے کمال کو صفاتِ اعلیٰ سے رفعت بخشی۔)

قیلدین ادایِ نعت، فضولی تمام قیل
کَمِّلهُ بالسّلامِ وتَمِّمْهُ بالصّلاة
(اے فضولی! تم نے نعت کی ادائیگی کی، اب اسے تمام کرو؛ اس نعت کو اب سلام کے ساتھ مکمل کر لو اور اس کا صلوات کے ساتھ اختتام کرو۔)

(محمد فضولی بغدادی)

× اس نعت کے ہر شعر کا پہلا مصرع ترکی میں ہے، جبکہ دوسرا مصرع عربی میں۔ ایسے دولسانی کلام کے لیے فارسی میں ملمّع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ترکی مصرعوں کا ترجمہ میں نے خود براہِ راست کیا ہے، جبکہ عربی مصرعوں کا اردو ترجمہ ترکی ترجمے سے کیا گیا ہے۔

۲۰۰۵ء میں جمہوریۂ آذربائجان کے دارالحکومت باکو سے شائع ہونے والے دیوانِ ترکیِ فضولی میں یہ نعتیہ غزل لاطینی خط میں یوں درج ہے:
Vəslin mənə həyat verir, firqətin məmat
Sübhanə xaliqi xələqəl movtə vəl-həyat
Hicranına təhəmmül edən vəslini bulur
Tuba limən yusaidühüs-səbrü vəs-səbat
Mehrindir iqtinai-məqasid vəsiləsi
Ma şaə mən əradə, bihil-fovzu vən-nəcat
Tökmüş riyazi-təb’imə barani-şövqini
Mən ənzələl-miyahə və əhya bihin-nəbat
Həq afərinişə səbəb etdi vücudini
Əvcəbtə biz-zühuri zühurəl-mükəvvənat
İyzəd səriri-hüsnə səni qıldı padişah
Ə’la kəmalə zatikə fi əhsənis-sifat
Qıldın ədayi-nə’t, Füzuli, təmam qıl
Kəmmilhu bis-səlami və təmmimhu bis-səlat