لستُ معلّماً – نِزار قبّانی

لستُ معلِّماً..
لأعلمك كيف تُحبّينْ.
فالأسماك، لا تحتاج إلى معلِّمْ
لتتعلَّمَ كيف تسبحْ..
والعصافير، لا تحتاج إلى معلِّمْ
لتتعلّمَ كيف تطير..
إسبحي وحدَكِ..
وطيري وحدَكِ..
إن الحبّ ليس له دفاتر..
وأعظمُ عشّاق التاريخ..
كانوا لا يعرفون القراءة..
(نِزار قبّاني)

فارسی ترجمہ:
معلم نیستم،
تا عشق را به تو بیاموزم!
ماهیان برایِ شِنا کردن
نیازی به آموزش ندارند!
پرندگان نیز،
برایِ پرواز…

به تنهایی شِنا کن!
به تنهایی بال بگشا!
عشق، کتابی ندارد!
عاشقانِ بزرگِ جهان
خواندن نمی‌دانستند!
(نِزار قبّانی)
مترجم: یغما گُلرُویی

اردو ترجمہ:
میں معلّم نہیں ہوں،
کہ تمہیں عشق کرنا سکھاؤں!
مچھلیوں کو تیرنے کے لیے
تعلیم کی کوئی حاجت نہیں ہوتی!
پرندوں کو بھی،
پرواز کے لیے۔۔۔

تنہا ہی تیرو!
تنہا ہی پر پهیلاؤ!
عشق کوئی کتاب نہیں رکھتا!
دنیا کے عظیم عاشق
خواننا نہیں جانتے تھے!

× خوانْنا (بر وزنِ ‘جاننا’) = پڑھنا

Advertisements

"نیست مرد آنکه بگوید پدرم بود فلان”

عربی قطعہ:
كُنْ ابنَ مَن شِئْتَ واكْتَسِبْ ادبا
يُغنيك محمودُه عن النَّسَبِ
فليس يُغْني الحسيبَ نِسْبَتُهُ
بلا لسانٍ له و لا ادبِ
اِنَّ الفتی من يقولُ هاأناذا
ليس الفتی من يقولُ كان اَبِي
(منسوب به حضرتِ علی رض)

منظوم فارسی ترجمہ:
پسرِ هر که تو باشی ادبی حاصل کن
تا غنی سازدت اخلاقِ نکو از پدران
ندهد سود کسی را حسب و نسبت هم
که نه او را ادبی باشد و نه نطق و بیان
آن جوانست که گوید منم اینک حاضر
نیست مرد آنکه بگوید پدرم بود فلان
(مولانا شوقی)

فارسی سے اردو ترجمہ:
تم جس کے بھی پسر ہو کوئی ادب حاصل کرو؛ تاکہ نیک اخلاق تمہیں آباء سے بے نیاز کر دیں۔
جس شخص کے پاس نہ کوئی ادب ہو، اور نہ نطق و بیان ہو، اُسے حسب و نسب بھی فائدہ نہیں دیتے۔
وہ شخص جوان ہے جو کہے ‘لو میں اِس وقت حاضر ہوں’؛ وہ شخص مرد نہیں ہے جو کہے ‘میرا پدر فلاں تھا’۔


وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات – محمد فضولی بغدادی (ترکی + عربی نعت مع ترجمہ)

وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات
سُبحانَ خالِقِی خَلَقَ المَوْتَ والحَیات
(آپ کا وصل مجھے زندگی بخشتا ہے جبکہ آپ کی فرقت موت؛ پاک ہے وہ میرا خالق جس نے موت اور حیات کو خلق کیا۔)

هجرانینه تحمّل ائدن وصلینی بولور
طوبیٰ لِمَن یُساعِدُهُ الصّبرُ والثبات
(آپ کے ہجر کو تحمل کرنے والا بالآخر آپ کے وصل سے بہرہ مند ہوتا ہے؛ وہ شخص کیا ہی خوش قسمت ہے جس کی اس سلسلے میں صبر و استقامت مدد کرتے ہیں۔)

مهرین‌دیر اقتنایِ مقاصد وسیله‌سی
ماشاءَ مَنْ اَرادَ، بِهِ الفَوْزُ والنَّجات!
(آپ کی محبت حصولِ مقاصد کا وسیلہ ہے؛ (انسان) جو کچھ چاہے، اور جس چیز کا ارادہ کرے اُس میں کامیابی و نجات آپ کی محبت کے ذریعے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔)

تؤکموش ریاضِ طبعیمه بارانِ شوقینی
مَنْ اَنزَلَ المِیاهَ وَاَحْیٰی بِهِ النّبات
(جو ذات پانی برسا کر پودوں کو زندہ کرتی ہے، اُسی نے میرے باغِ فطرت میں آپ کے اشتیاق کی بارش برسائی ہے۔)

حق آفرینشه سبب ائتدی وجودینی
اَوجَبْتَ بِالظُّهورِ ظُهُورَ المُکَوَّنات
(حق تعالیٰ نے آپ کے وجود کو آفرینش کا سبب بنایا، اور آپ اپنے ظہور سے کُل ہستی کے ظہور کا باعث بنے۔)

ایزد سریرِ حُسنه سَنی قیلدی پادشاه
اعلیٰ کَمالَ ذاتِكَ فی اَحْسَنِ الصِّفات
(خدا نے تختِ حسن پر آپ کو بادشاہ کیا اور آپ کی ذات کے کمال کو صفاتِ اعلیٰ سے رفعت بخشی۔)

قیلدین ادایِ نعت، فضولی تمام قیل
کَمِّلهُ بالسّلامِ وتَمِّمْهُ بالصّلاة
(اے فضولی! تم نے نعت کی ادائیگی کی، اب اسے تمام کرو؛ اس نعت کو اب سلام کے ساتھ مکمل کر لو اور اس کا صلوات کے ساتھ اختتام کرو۔)

(محمد فضولی بغدادی)

× اس نعت کے ہر شعر کا پہلا مصرع ترکی میں ہے، جبکہ دوسرا مصرع عربی میں۔ ایسے دولسانی کلام کے لیے فارسی میں ملمّع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ترکی مصرعوں کا ترجمہ میں نے خود براہِ راست کیا ہے، جبکہ عربی مصرعوں کا اردو ترجمہ ترکی ترجمے سے کیا گیا ہے۔

۲۰۰۵ء میں جمہوریۂ آذربائجان کے دارالحکومت باکو سے شائع ہونے والے دیوانِ ترکیِ فضولی میں یہ نعتیہ غزل لاطینی خط میں یوں درج ہے:
Vəslin mənə həyat verir, firqətin məmat
Sübhanə xaliqi xələqəl movtə vəl-həyat
Hicranına təhəmmül edən vəslini bulur
Tuba limən yusaidühüs-səbrü vəs-səbat
Mehrindir iqtinai-məqasid vəsiləsi
Ma şaə mən əradə, bihil-fovzu vən-nəcat
Tökmüş riyazi-təb’imə barani-şövqini
Mən ənzələl-miyahə və əhya bihin-nəbat
Həq afərinişə səbəb etdi vücudini
Əvcəbtə biz-zühuri zühurəl-mükəvvənat
İyzəd səriri-hüsnə səni qıldı padişah
Ə’la kəmalə zatikə fi əhsənis-sifat
Qıldın ədayi-nə’t, Füzuli, təmam qıl
Kəmmilhu bis-səlami və təmmimhu bis-səlat


شناختی کارڈ – محمود درویش

فلسطینی شاعر محمود درویش کی مشہور نظم بطاقة هوية (شناختی کارڈ) کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے:

شناختی کارڈ

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور نواں بچہ موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں
میرے آٹھ بچے ہیں
میں اُن کے لیے
نان اور ملبوسات اور کاپیاں
پتھروں سے باہر نکالتا ہوں۔۔۔
میں تمہاری چوکھٹ سے خیرات نہیں مانگتا
نہ خود کو تمہارے آستانوں پر حقیر ہی بناتا ہوں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں
میں ایک ایسی سرزمین میں صابر ہوں
جہاں ہر کوئی وفورِ غضب میں زندگی بسر کرتا ہے
پیدائشِ زمانہ سے قبل
ادوار کے شروع ہونے سے قبل
سرو اور زیتون سے قبل
اور گھاس کے اگنے سے قبل
میری جڑیں اس زمین میں پنجہ گاڑ چکی تھیں

میرے باپ کا تعلق ہل چلانے والے خاندان سے ہے
کسی نجیب خاندان سے نہیں
میرا دادا کسان تھا
بے حسب و بے نسب!
قبل اس کے کہ وہ مجھے کتاب پڑھنا سکھائے
اُس نے مجھے سورج کا طلوع ہونا سکھایا
میرا گھر پہرے دار کی کوٹھری کے مانند ہے
شاخوں اور سرکنڈوں سے بنا ہوا
پس کیا تم میری حیثیت سے راضی ہو؟
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں

درج کرو!
میں عرب ہوں
بالوں کا رنگ: کوئلے کی طرح سیاہ
آنکھوں کا رنگ: بھورا
اور میری شناختی علامات:
میرے سر پر عربی رومال اور اُس پر سیاہ حلقہ ہے
جو کہ محکم پتھر کی مانند ہے
اور لمس کرنے والے کے ہاتھ کو چھیل ڈالتا ہے
میری پسندیدہ ترین غذائیں
روغنِ زیتون اور پھلیاں ہیں
میرا پتا:
میں ایک دور و دراز اور فراموش شدہ گاؤں سے ہوں
جس کی سڑکیں بے نام ہیں
اور جس کے تمام رجال مزرعات اور پتھر کی کانوں میں کام کرتے ہیں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے ہیں
اور وہ زمین بھی
جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کاشت کاری کیا کرتا تھا
تم نے میرے لیے اور میرے تمام پوتوں کے لیے
کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہے
سوائے ان پتھروں کے۔۔۔
تو کیا تمہاری حکومت
– جیسا کہ کہا گیا ہے –
ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

لہٰذا
درج کرو
صفحۂ اول پر سب سے اوپر:
میں لوگوں سے نفرت نہیں کرتا
نہ کسی پر تجاوز ہی کرتا ہوں
لیکن۔۔۔
جب مجھے بھوک لگے گی
تو غاصب کا گوشت کچا چبا جاؤں گا
خبردار رہو۔۔۔
خبردار رہو۔۔۔
میری بھوک سے
اور میرے غصے سے!

(محمود درویش)
۱۹۶۴ء