فارسی: علامہ اقبال کی روح کی زبان

محمدجان شکوری بخارایی کی کتاب ‘خراسان است اینجا’ (۱۹۹۶ء) پر تقریظ میں معروف تاجک شاعر لایق شیرعلی لکھتے ہیں:
"… یکی از دانش‌مندانِ معاصرش به علامهٔ اقبال می‌گوید: اشعارِ شما برای ما زندگی‌بخش و آزادی‌بخش است، شما رهنمای ما هستید، ما فارسی نمی‌دانیم، شما به اردو شعر بگویید. اقبال به زبانِ انگلیسی چنین پاسخ می‌دهد: ‘این اشعار به من به زبانِ فارسی الهام می‌شود، زبانِ روحیهٔ من فارسی است.'”
ترجمہ: "۔۔۔علامہ اقبال کے ایک ہم عصر دانش مند نے اُن سے کہا: آپ کے اشعار ہمارے لیے زندگی بخش و آزادی بخش ہیں، آپ ہمارے رہنما ہیں، ہم فارسی نہیں جانتے، آپ اردو میں شعر کہیے۔ اقبال نے انگریزی میں یوں جواب دیا: ‘یہ اشعار مجھ پر فارسی زبان میں الہام ہوتے ہیں، میری روح کی زبان فارسی ہے۔'”

علامہ اقبال کی مانند، میری روح کی زبان بھی صرف اور صرف فارسی ہے۔


اقبال – علی اکبر دهخدا

اقبال

در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد:
"صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم – سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم / آن روز که رویِ دهخدا را دیدیم.”
و استاد نیز مرتجلاً قطعهٔ زیر را می‌سراید و عرضه می‌دارد:
زان گونه که پاکستان با نابغهٔ دوران
اقبالِ شهیرِ خویش بر شرق همی‌نازد،
زیبد وطنِ ما نیز، بر خویش همی‌بالد
واندر چمنِ معنی، چون سرو سرافرازد
زان روی که چون اقبال خواهد که سخن گوید
گنجینهٔ قلبِ خود با گفته بپردازد
از بعدِ وطن‌تاشان، کس را بجز ایرانی
شایسته نبیند تا، با وی سخن آغازد
دُرهایِ ثمینِ خود در دُرجِ دری ریزد
از پهنهٔ این میدان جولان‌گهِ خود سازد

ترجمہ:
۲۲ اپریل ۱۹۵۱ء کے روز پاکستانی سفارت خانے میں پاکستان کے مشہور شاعر اور مفکر اقبال لاہوری کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ جشن میں پاکستانی ثقافتی دستے نے دہخدا کے حضور میں یہ رباعی پڑھی:
صد شکر کہ ہم نے یارِ آشنا کو دیکھا؛ سرحلقۂ زمرۂ وفا کو دیکھا؛ ہم تجلیِ الٰہی سے سرمست ہو گئے؛ جس روز کہ ہم نے چہرۂ دہخدا کو دیکھا۔”
استاد دہخدا نے بھی فی البدیہہ مندرجۂ ذیل قطعہ کہا اور پیش کیا:
جس طرح پاکستان نابغۂ دوران یعنی اپنے مشہور و نامدار اقبال کے ساتھ مشرق زمین کے سامنے ناز کرتا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن (ایران) کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ خود پر ناز کرے اور چمنِ معنی میں سرو کی طرح سر بلند کرے۔ کیونکہ جب اقبال نے سخن کہنا اور اپنے قلب کے گنجینے کو لب کشائی کر کے خالی کرنا چاہا، اُس نے اپنے ہم وطنوں کے بعد ایرانیوں کے سوا کسی کو اِس لائق نہ سمجھا کہ وہ اُن کے ساتھ سخن کا آغاز کرے۔ اُس نے اپنے قیمتی دُر فارسی کے صندوقچے میں ڈالے اور اِس میدان کی وسعت سے اپنی جولانگاہ بنائی۔

شهیر: نامی، مشهور
پرداختن: خالی کرن
وطن‌تاش = هم‌وطن [یہ ترکی لفظ ہے۔]
ثمین = گران‌بها
دُرج = جعبهٔ کوچکی که در آن جواهر و زینت‌آلات می‌گذارند. [وہ صندوقچہ جس میں جواہر و آلاتِ زینت رکھتے ہیں۔]

ماخذ:
گزینهٔ اشعار و مقالاتِ علامه دهخدا
انتخاب و شرح: دکتر حسن احمد گیوی
چاپِ اول: ۱۳۷۲هش/۱۹۹۳ء


به محمد اقبال – نادر نادرپور

(به محمد اقبال)
ای بلند‌اقبالِ فردوسی‌سرشت
عالم از طبعِ تو خرم چون بهشت
ای پس از شه‌نامه‌پردازِ کهن
کس نکِشته همچو تو تخمِ سخن
ای که بردی رنج‌ها در سال سی
تا سخن نو آوری در پارسی
ای که با نظمِ دری کاخی بلند
ساختی، از باد و باران بی‌گزند
ای که پیوستی به هم، چون مولوی
خوی درویشی و لفظِ خسروی
ای که با سحرِ سخن کردی پدید
بر ‘مسافر’، ‘گلشن راز جدید’
ای به ‘اسرارِ خودی’ پرداخته
ای ‘رموزِ بی‌خودی’ را ساخته
ای خدایی کرده در لفظِ دری
در ‘پیامِ مشرقت’ پیغمبری
ای که گفتی با جوانانِ عجم
کای خمارآلودگانِ جامِ جم
راستی، جانِ من و جانِ شما
لاله‌ام من در گلستانِ شما
آری، ای اقبالِ معنی‌آفرین
سر برآر از خوابِ سنگین و ببین
کاندر این‌جا، در دلِ اقلیم تو
مجلسی کردند در تکریمِ تو
هر که آورد از تو ذکری در میان
انگلیسی‌دان شد و اردوزبان
لفظِ زیبای تو را یک سو نهاد
حرمتِ شعرِ دری بر باد داد
گر تو تجلیلی چنین می‌خواستی
از چه قدرِ پارسی را کاستی
یا به ‘اردو’ می‌نوشتی نامه‌ها
یا به لفظِ ‘انگلیسی’ چامه‌ها
لیک می‌دانم که ای مردِ شگفت
این گنه را بر تو نتوانم گرفت
گر دگر بار از بهشت آیی فرود
کَی به جز شعرِ دری خواهی سرود
کاشکی نام‌آورانِ انجمن
در کتابت خوانده بودند این سخن:
"گرچه هندی در عذوبت شکر است
طرز گفتار دری شیرین‌تر است”
(نادر نادرپور)
۱ نومبر ۱۹۷۷ء

ترجمہ:
اے بلند اقبالِ فردوسی فطرت، عالم تمہاری طبع سے بہشت کی طرح شاد ہے۔ اے کہ کہنہ شاہنامہ پرداز (= فردوسی) کے بعد کسی نے تمہاری طرح سخن کا بیج نہ بویا۔ اے کہ تم نے فارسی میں سخنِ نو لانے کے لیے تیس سال رنج اٹھائے۔ اے کہ تم نے نظمِ دری سے ایک بلند محل بنایا جو باد و باراں سے بے گزند ہے۔ اے کہ تم نے رومی کی طرح خُوئے درویشی اور لفظِ خسروی کو باہم پیوست کیا۔ اے کہ تم نے سحرِ سخن سے ‘مسافر’ پر ‘گلشنِ رازِ جدید’ ظاہر کیا۔ اے ‘اسرارِ خودی’ میں مشغول رہنے والے؛ اے ‘رموزِ بے خودی’ کی بِنا کرنے والے۔ اے لفظِ دری میں خدائی کرنے والے؛ اے کہ تمہارے ‘پیامِ مشرق’ میں پیغمبری ہے۔ اے کہ تم نے جوانانِ عجم سے کہا کہ اے خمار آلودگانِ جامِ جم، حقیقتاً، تمہاری اور میری جان کی قسم، میں تمہارے گلستان کے اندر لالہ ہوں۔ ہاں، اے اقبالِ معنی آفریں، خوابِ سنگین سے سر اٹھاؤ اور دیکھو کہ یہاں تمہاری اقلیم کے دل میں تمہاری تکریم میں ایک مجلس برپا کی گئی۔۔۔ جو کوئی بھی تمہارا ذکر درمیان میں لایا، یا تو وہ انگریزی داں ہو گیا یا اردو گو۔۔۔ تمہارے سخنِ زیبا کو اُس نے ایک طرف رکھ دیا اور شعرِ دری کی حرمت کو برباد کر دیا۔ اگر تمہیں ایسی کسی تجلیل کی خواہش تھی تو کس لیے تم نے فارسی کی قدر کم کی؟ یا تو تم اردو میں نامے لکھتے، یا پھر انگریزی زبان میں شاعری کرتے۔ لیکن اے مردِ حیرت انگیز، میں جانتا ہوں کہ اِس گناہ کے لیے میں تمہیں قصوروار نہیں ٹھہرا سکتا۔ (کیونکہ) اگر تم دیگر بار بھی بہشت سے نیچے آؤ گے تو کَب فارسی اشعار کے سوا کچھ کہو گے؟ کاش کہ انجمن کے نام آوراں تمہاری کتاب میں یہ سخن پڑھ چکے ہوتے کہ "اگرچہ ہندی شیرینی میں شکر ہے، لیکن طرزِ گفتارِ دری شیریں تر ہے”۔


میں فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیوں کرتا ہوں؟

جب اردو محفل پر ایک محترم دوست نے یہ رائے دی کہ مجھے ‘پس ازاں’ کی بجائے اردو میں رائج تر ترکیب ‘بعد ازاں’ کا استعمال کرنا چاہیے تو میں نے جواب میں یہ لکھا تھا:

برادرِ بزرگ و گرامیِ من!
خیالات کی ایک رَو آج مسلسل میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی جسے اب میں آپ کی خدمت میں بصد نیاز عرض کر رہا ہوں۔ جب انگریزی، ہندی، مراٹھی، اور معلوم نہیں کن کن زبانوں کے الفاظ کی زبانِ اردوئے معلٌیٰ پر یلغار جاری ہے اور اس زبانِ عالی وقار کا جمال روز بہ روز کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے تو در ایں حال میرے فارسی الفاظ و ترکیبات کے اردو میں مجاہدانہ استعمال کو مستحسن بات ماننی چاہیے کہ میرا اس سے قصد صرف اپنی زبان کو دوبارہ اورنگِ علو پر متمکن کرنا ہے۔ ہمارے مستند اور کوثر و تسنیم سے شستہ زبان میں تحریر و تصنیف کرنے والے اردو نویس ادبی اسلاف نے تاریخ کے کسی دور میں بھی فارسی (اور عربی) الفاظ پر در بند نہیں رکھا اور نہ اُنہیں اردو سے جدا ہی مانا اور جس فارسی لفظ کو مناسب سمجھا اور جس وقت بھی مناسب سمجھا اُسے اپنی تحریر کی زیب و زینت بنایا۔ مثلاً غالب اور اقبال نے (خدا ان دونوں اور ان جیسے تمام فارسی دوست مرحومین پر رحمت نازل کرے) متعدد ایسے فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیا ہے جو اُن سے قبل کسی نے استعمال نہیں کیے تھے۔ بعد میں وہی نفیس الفاظ ہماری معیاری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور آج ہم اپنی جس زبان پر ناز کرتے ہیں وہ انہیں جیسے ذی شعور و ذی شان ادباء کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور انہیں کی ساختہ ادبی زبان کو آج مثالی تصور کیا جاتا ہے۔
میرے لیے اردو صرف ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ یہ میری شناخت کا ایک جزء اور میرے اسلاف کی مجروح میراث بھی ہے، جسے میں التیام دے کر اپنی آیندہ نسلوں کے سپرد کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی زبان کی زشتی سے قے، اس کی زبوں حالی پر افسوس، اور اس کی کم مایگی پر آہِ حسرت کرنے کی بجائے زبانِ اردوئے معلٌیٰ کی ملکیت اور اس سے وابستگی پر فخر کر سکیں۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اردو میری انفرادی و ملی شناخت کا بھی جزء ہے لہٰذا ایسی شخصی زبان کی ساخت بھی ہمیشہ میرے پیش نظر رہتی ہے جس میں میری انفرادی و ملی شناخت بخوبی منعکس ہو سکے۔ چونکہ فارسی ہمارے ادبی اسلاف، از جملہ خسرو، بیدل، فیضی، واقف، آرزو، غالب، ذوق، ناسخ، اقبال، شاہ ولی اللہ، انیس، دبیر، ولی، حالی، مولانا محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی وغیرہم کی ادبی و تمدنی و قلبی زبان رہی ہے، اور چونکہ میں خود اس زبانِ شیریں اور اس کے کہنہ ادب کو عزیز از جان رکھتا ہوں، اس لیے میں نے ایک لحظہ بھی فارسی الفاظ و تراکیب کی نسبت بیگانگی کا احساس نہیں کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب سے لکھنا شروع کیا ہے میں نے فارسی الفاظ سے ہرگز امتناع نہیں کیا اور میں اسی اصول پر عمل پیرا رہا ہوں کہ فارسی زبان کے ہر لفظ کا استعمال اردو میں جائز بلکہ بعض اوقات نیکوتر ہے۔ اردو کے عہدِ طلائی کے ادباء و شعراء کا یہی شیوہ تھا اور میں اُن کے وارث اور شاگرد کے طور پر اسی روش پر کاربند رہتا آیا ہوں۔
میں اگر آج ‘پس ازاں‘ جیسی کوئی ترکیب استعمال کرتا ہوں تو اس امید کے ہمراہ کرتا ہوں کہ ایامِ آتیہ میں یہ معیاری ادبی زبان کا حصہ بن کر اردو کی پُرمایگی و زیبائی کا سبب بنے گی۔
با کمالِ محبت و خلوص و احترام!
والسلام مع الاکرام!


اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے تاجکستانی سفیر کی ملاقات

پاکستان میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف مشرق کے عظیم شاعر و مفکر محمد اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے ملاقات کے لیے گئے۔ وزارتِ امورِ خارجۂ تاجکستان کے دفترِ مطبوعات کی اطلاع کے مطابق، شیر علی جانانوف نے چھ اکتوبر کو شہرِ لاہور کے دورے کے دوران محمد اقبال کے رشتے داروں، بالخصوص اُن کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال  سے ملاقات کی۔
تاجک سفیر نے جاوید اقبال کے ساتھ اس ہم نشینی میں اُنہیں اُن کے والد کی چند تازہ نشر شدہ کتابیں، از جملہ ‘کلیاتِ فارسیِ اقبال’، ‘جاوید نامہ’ اور اُن کی بزرگ فلسفی-فقہی تصنیفات میں سے ایک ‘احیائے فکرِ دینی در اسلام’، کہ جو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی ہدایت پر دوشنبہ میں شائع ہوئی تھیں، تحفے کے طور پر پیش کیں۔
محمد اقبالِ لاہوری کا شمار انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز کے ادبیات کے درجۂ اول کے شاعروں کے زمرے میں ہوتا ہے، کہ جنہوں نے اپنی فطری استعداد اور اپنے سخن کے اعجاز سے شعرِ عجم کو نَفَس تازہ بخشا ہے۔ اُنہوں نے زبانِ فارسی کو سرزمینِ ہند و پاکستان میں از سرِ نو زندہ کیا اور مسلمانوں اور بالعموم دنیا کے ستم دیدہ لوگوں کو آزادی کا پیام پہنچایا۔ اقبال نے اس عظیم کارنامے کے وسیلے سے اپنا نام جریدۂ عالَم میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
اسلام آباد میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف گذشتہ ہفتے کے اواخر میں ایک رسمی سفر کے تحت پاکستان کے شہر لاہور گئے تھے۔ اُنہوں نے اس سفر کے دوران جامعۂ پنجاب کا بھی دورہ کیا اور اُس کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر کامران سے ملاقات انجام دی۔ اس ملاقات میں جانبَین نے دونوں ملکوں کے مکاتبِ عالی کے مابین تعاون کی ترقی کے مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ فکر کیا۔ یہ جامعۂ مذکور اس ملک کی بڑی درسگاہوں میں سے ایک ہے جس کی تاسیس سال ۱۸۸۲ء میں ہوئی تھی۔

(منبع: تاجک اخبار ‘آزادگان’)
تاریخ: ۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

======================
یہ خبر ویسے تو اب پرانی ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ کل ہی نظر آئی تھی، سو اسے اردو میں ترجمہ کر کے پیش کر دیا تاکہ پاکستان اور فارسی گو ملک تاجکستان کے مابین لسانی و ثقافتی روابط کو نمایاں کیا جا سکے۔