اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”


فارسی اور اردو کی باہمی قرابت کا ایک فائدہ

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت و نزدیکی کا ایک فائدہ یہ ہے اگر فارسی سے نابلَد اردو داں شخص کے پیش میں کوئی فارسی بیت اردو ترجمے کے ساتھ رکھ دی جائے تو وہ فارسی سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے کے باوجود فارسی بیت کی شیریں زبانی اور عالی معنائیت سے بطورِ وافر محظوظ و لذّت اندوز ہو جاتا ہے اور کئی ساعتوں تک اُس شاعری کے سِحر میں مُبتلا رہتا ہے۔ بہ علاوہ، ترجمہ و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد وہ فارسی بیت اُس اردو داں شخص کو اپنی ہی زبان جیسی مانوس لگنے لگتی ہے، اور بہ آسانی یاد بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ذرا تصوُّر کیجیے کہ اگر فارسی شاعری میں دلچسپی رکھنے والا اردو داں فرد زبانِ فارسی کو بھی کماحقُّہُ جان لے تو عظیم فارسی شاعری سے اُس کی لذّت گیری میں کس حد تک اضافہ ہو جائے گا اور شعرِ فارسی سے حِظ یابی کا عالَم اُس کے لیے کیا سے کیا ہو جائے گا؟ یقیناً ویسا شخص بھی پس امام بخش ناسخ کی مانند مُسلسل یہی کہتا رہے گا کہ:
مست ناسخ مجھے رکھتا ہے کلامِ حافظ
میرے ساغر میں بجز بادۂ شیراز نہیں

فارسی زبان و ادبیات زندہ باد!


ایران میں صائب تبریزی کی دوبارہ مقبولیت کا ایک سبب شبلی نعمانی تھے

ایران کے مجلُۂ وحید میں ۱۹۶۷-۸ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں تاجکستانی ادبیات شناس عبدالغنی میرزایف لکھتے ہیں:

"آثار شاعر بزرگ سدهٔ یازدهم ایران میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص به صائب، اگر خطا نکنم، از اوایل سدهٔ بیستم میلادی و اگر روشن‌تر به مسئله نزدیک شویم، از تاریخ نشر ‘شعرالعجم’ تألیف علامه شبلی نعمانی به این طرف اهمیت فوق‌العاده تازه‌ای پیدا کرد. دانش‌مند شهیر هند در این اثر خود، بر خلاف فکر غلط و بی‌اساس مؤلف تذکرهٔ ‘آتش‌کده’ میرزا محمد علی صائب را آخرین شاعر بزرگ ایران اعلام نمود. پس از این همان نوعی که معلوم است، دقت اصحاب تحقیق بیش از پیش به طرف آثار گران‌بهای این شاعر نامی روانه گردید.”

"ایران کے گیارہویں صدی ہجری کے شاعرِ بزرگ میرزا محمد علی بن میرزا عبدالرحیم متخلص بہ صائب کی تألیفات نے، اگر خطا نہ کروں تو، بیسویں صدی عیسوی اور اگر واضح تر و درست تر کہا جائے تو علامہ شبلی نعمانی کی تألیف ‘شعرالعجم’ کی نشر کے بعد سے یہاں ایک تازہ و خارقِ عادت اہمیت پیدا کی تھی۔ ہند کے مشہور دانشمند نے اپنی اِس تصنیف میں، تذکرۂ ‘آتشکده’ کے مؤلف کی غلط و بے اساس رائے کے برخلاف میرزا محمد علی صائب کو ایران کا آخری بزرگ شاعر اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں، جیسا کہ معلوم ہے، اصحابِ تحقیق کی نظر و توجہ قبل سے کہیں زیادہ اِن شاعرِ نامور کی گراں بہا تألیفات کی جانب مُنعَطِف ہو گئی تھی۔”

عبدالغنی میرزایف، یک مدرک تاریخی جدید راجع به صائب، مجلهٔ وحید، شمارهٔ اول – سال پنجم، ۱۹۶۷-۸ء

ویسے، صائب کی مقبولیت صرف ایران میں کم ہوئی تھی، اور وہ بھی صفوی دور کے بعد کی ‘بازگشتِ ادبی’ کی ادبی تحریک کے زمانے میں۔ ورنہ تُرکستان، دیارِ آلِ عثمان اور برِ صغیر میں صائب ہمیشہ ہی بے حد مقبول و معروف رہے تھے۔ اگرچہ، اِس زمانے میں صائب کی ایران میں جو مقبولیت ہے، اُسے دیکھتے ہوئے مشکل ہی سے یقین آتا ہے کہ ایک زمانے میں صائب تبریزی اور اُن کے سبکِ شعری کو یوں نظروں سے گرا دیا گیا تھا۔ صائب کے مقام میں اِس تنزّل کے لیے عموماً تذکرۂ ‘آتشکدہ’ کے مؤلف لطف علی بیگ آذر بیگدلی کو ذمّہ دار مانا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی اِس پُرنفوذ تألیف میں صائب تبریزی کی شاعری پر نکتہ چینی کی تھی۔ تیجتاً، قاجاری دور میں صائب حاشیے پر چلے گئے تھے اور کسی قاجاری شاعر نے اُن کے اسلوب کی پیروی کرنا یا اُن کے دیوان پر زیادہ توجہ دینا پسند نہ کیا۔ حالانکہ یہی صائب تبریزی صفوی دربار کے ملک الشعراء تھے۔
اور اب حال یہ ہے کہ ایران و آذربائجان کے اکثر ادبیات دوست افراد صائب کو اپنا ایک بہترین شاعر مانتے ہیں۔

آذر بیگدلی ہی تحریکِ بازگشتِ ادبی کی بنیاد رکھنے والوں میں سے تھے۔


فردوسی اور شیکسپیئر کے درمیان ایک شاعرانہ مضمون کا اشتراک

شاہنامہ میں فردوسی لکھتے ہیں کہ فریدون نے اپنے نوادے (پوتے) منوچہر کی ایسے ناز کے ساتھ پرورش کی تھی کہ وہ یہ بھی نہیں روا رکھتا تھا کہ منوچہر پر سے باد و ہوا گذرے اور اُس کے نازک بدن کو آزار پہنچائے:
"چنان پروریدش که باد و هوا
بر او برگذشتن ندیدی روا"
[فریدون] نے [منوچہر] کی ایسے پرورش کی وہ اُس پر سے باد و ہوا کے گذرنے کو بھی روا نہیں رکھتا تھا۔

ولیم شیکسپیئر نے بھی ‘ہیملٹ’ میں ایک جا ایسا ہی مضمون بیان کیا ہے۔ ہیملٹ اپنے وفات کردہ پدر کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"So loving to my mother
That he might not beteem the winds of heaven
Visit her face too roughly.”
"او آنقدر با مادرم مهربان بود
که حتی حاضر نبود اجازه دهد که نسیم‌های آسمانی
به تندی صورتش را بنوازند.
(مترجم: بهزاد جزایری)
"اُسے میری مادر کے ساتھ اِس قدر محبت تھی
کہ وہ حتیٰ یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ آسمانی ہوائیں
تُندی کے ساتھ اُس کے چہرے پر سے گذریں۔”


گفتی بگو که در چه خیالی و حال چیست؟ – هلالی جغتایی

گفتی بگو که در چه خیالی و حال چیست؟
ما را خیالِ توست تو را در خیال چیست؟
جانم به لب رسید چه پُرسی ز حالِ من؟
چون قوتِ جواب ندارم سوال چیست؟
بی‌ذوق را ز لذتِ تیغت چه آگهی؟
از حلقِ تشنه پُرس که آبِ زُلال چیست؟
گفتم همیشه فکرِ وصالِ تو می‌کنم
در خنده شد که این همه فکرِ مُحال چیست؟
دردا که عمر در شبِ هجران گذشت و من
آگه نَیَم هنوز که روزِ وصال چیست؟
چون حل نمی‌شود به سخن مشکلاتِ عشق
در حیرتم که فایدهٔ قیل و قال چیست؟
ای دم به دم به خونِ هلالی کشیده تیغ
مسکین چه کرد؟ موجبِ چندین ملال چیست؟
(هلالی جغتایی)

ترجمہ:
تم نے کہا کہ: کہو کس خیال میں ہو اور حال کیا ہے؟؛ ہمیں تو تمہارا خیال ہے، تمہارے خیال میں کیا ہے؟
میری جان لب تک پہنچ گئی، میرا حال کیا پوچھتے ہو؟؛ جب میں قوتِ جواب ہی نہیں رکھتا تو سوال کیا ہے؟
بے ذوق کو تمہاری تیغ کی لذت سے کیا آگہی؟۔۔۔ تشنہ حلق سے پوچھو کہ آبِ زُلال کیا ہے؟
میں نے کہا کہ: میں ہمیشہ تمہارے وصال کی فکر کرتا ہوں؛ وہ ہنسے لگا کہ: یہ سب فکرِ مُحال کیا ہے؟
افسوس کہ (میری) عمر شبِ ہجراں میں گذر گئی اور میں ہنوز آگاہ نہیں ہوں کہ روزِ وصال کیا ہے؟
جب سخن سے عشق کی مشکلات حل نہیں ہوتیں تو میں حیرت میں ہوں کہ قیل و قال کا فائدہ کیا ہے؟
اے ہر دم ‘ہلالی’ کے خون کی غرَض سے تیغ کھینچنے والے! (اُس) مسکین نے کیا کیا ہے؟ اِس قدر بیزاری کا موجب کیا ہے؟

× آبِ زُلال = آبِ صاف و شیرین و خوشگوار


تاریخِ وفاتِ خواجه حافظ شیرازی – محمد حسن مسعودی خراسانی

فارس را پایه بلند است و سزد از دو وجود
به جهان فخر و مُباهات نماید شیراز
سعدی و حافظِ وی را نبوَد هیچ نظیر
نه به ایران نه به توران نه به هند و نه حجاز
در غزل این دو بزرگ آمده استادِ همه
که به شیرین‌سخنی هر دو ندارند انباز
غزلِ سعدی آرد دل و جان را به نشاط
نظمِ حافظ بدهد جان سویِ جانان پرواز
غزلِ حافظِ شیرین‌سخن الهام بوَد
دیگران را نبوَد راه به این طرز و طراز
سعدی آموخته از پیرِ خرد رازِ سخن
حافظ از عشق که با حُسن بوَد محرمِ راز
بود او حافظِ قرآن و عجب نیست که او
بهره بگرفته از آن گنجِ سراسر اعجاز
او مَلَک بوده و فردوسِ برین جایش بود
چند روزی سفری کرد به این مُلکِ مجاز
گوهرِ خویش در این مُلک خریدار ندید
بُرد گوهر سوی آن مُلک که بگرفت آغاز
روحِ پاکش که سفر کرد سوی عالمِ قدس
خاکیان را همه افکند به سوز و به گداز
هاتفِ غیب پَیِ رحلتِ او گفت بگو
"وی مَلَک بود به فردوسِ برین آمد باز”
۷۹۲ هجری

(محمد حسن مسعودی خراسانی)

ترجمہ:
فارس کا پایہ بلند ہے؛ اور زیب دیتا ہے کہ دو شخصیتوں کے باعث شیراز دنیا میں فخر و مُباہات کرے۔
اُس کے سعدی و حافظ کی کوئی نظیر نہیں ہے؛ نہ ایران میں، نہ توران میں، نہ ہند میں، نہ حجاز میں۔
غزل میں یہ دو برزگ سب کے استاد ہیں؛ کیونکہ شیریں سخنی میں دونوں کا کوئی شریک نہیں ہے۔
سعدی کی غزل دل و جان کو شادمان و مسرور کرتی ہے؛ جبکہ حافظ کی نظم جان کو جاناں کی طرف پرواز دیتی ہے۔
حافظِ شیریں سخن کی غزل الہام ہے؛ دیگروں کو اِس طرز و روش تک رسائی نہیں ہے۔
سعدی نے پیرِ خرد سے رازِ سخن سیکھا تھا؛ جبکہ حافظ نے عشق سے، کہ جو حُسن کے ساتھ محرمِ راز ہے۔
وہ حافظِ قرآن تھے، اور عجب نہیں ہے کہ اُنہوں نے اُس سرتاسر اعجاز خزانے سے بہرہ حاصل کیا تھا۔
وہ فرشتہ تھے اور فردوسِ بریں اُن کی جا تھی؛ اُنہوں نے اِس مُلکِ مجاز میں چند روز ذرا سفر کیا تھا۔
اِس مُلک میں انہوں نے اپنے گوہر کا خریدار نہ دیکھا؛ وہ اپنے گوہر کو اُس مُلک کی جانب لے گئے جہاں سے اُنہوں نے آغاز کیا تھا۔
اُن کی روحِ پاک نے جب عالَمِ قدس کی جانب سفر کیا تو اُس نے تمام خاکیوں کو سوز و گداز میں مبتلا کر دیا۔
ہاتفِ غیب نے اُن کی رحلت کے بعد کہا کہ کہو: "وہ فرشتہ تھے اور وہ فروسِ بریں میں واپس آ گئے۔”


عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است – لایق شیرعلی

عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است،
جانِ شاعر در نیاز و روحِ شاعر بی‌نیاز است.
می‌خورد غم‌های عالَم بیش از غم‌های جانش،
کارِ شاعر کار نی، خود‌کاهی و سوز و گداز است.
حق بجوید سال‌ها، ناحق بسوزد عمرها،
گرچه بیزار است از افسانه، باز افسانه‌ساز است.
در دلِ او مردگان و زندگان پهلویِ هم،
آمد و رفتِ نَفَس‌هایش گُسیل و پیشواز است.
قامتش خم گشته باشد گر ز بارِ زندگی،
پیشِ فردا از همه امروزیان او سرفراز است.
گرچه بنشیند میانِ چاردیوارِ خیال
از همه او تیزپرواز، از همه او پیش‌تاز است.
۲۶/۶/۱۹۷۷
(لایق شیرعلی)

ترجمہ:
شاعر کی عمر اگرچہ کوتاہ ہوتی ہے، لیکن اُس کے شعر کی عمر دراز ہے؛ شاعر کی جان نیازمند، جبکہ اُس کی روح بے نیاز ہوتی ہے۔
وہ اپنی جان کے غم سے زیادہ دنیا کے غم کھاتا ہے؛ شاعر کا کام، کام نہیں، بلکہ خودکاہی و سوز و گداز ہے۔
وہ سالوں حق تلاش کرتا ہے اور عمروں ناحق جلتا ہے؛ اگرچہ وہ افسانے سے بیزار ہے، لیکن پھر بھی وہ افسانہ ساز ہوتا ہے۔
اُس کے دل میں مردے اور زندے پہلو بہ پہلو رہتے ہیں؛ اُس کی سانسوں کی آمد و رفت [در حقیقت] الوداع و استقبال ہیں۔
اگرچہ اُس کی قامت زندگی کے بار سے خم ہو چکی ہو، لیکن فردا کے سامنے وہ تمام آج کے لوگوں سے زیادہ سرفراز ہے۔
اگرچہ وہ خیال کی چاردیواری میں بیٹھتا ہے، لیکن وہ سب سے زیادہ تیزپرواز اور سب سے زیادہ تیزقدم ہوتا ہے۔

× خودکاہی = اپنے آپ کو گھٹانا


ای طبیعت – لایق شیر علی

ای طبیعت!
روزِ دفنم
باز یک آن زنده‌ام کن.
تا بدانم، دوستانم
در چه حالند،
تا بگویم، در عزای
من ننالند.

یک نظر تا بینم از اعدای من
کیست در خود شادمان
از مردنِ اعضای من.
بنگرم، از دشمنانم
کیست حاضر در سرِ
تابوت و می‌گرید ز شادی –
زهرخندی بهرِ او تقدیم سازم،
وز سرِ تابوتِ خود
دورش برانم…

بارِ دیگر بنگرم
بر چشمِ یارم،
پس روم آسوده
بر کنجِ مزارم…

(لایق شیرعلی)

اے طبیعت!
میرے دفن کے روز
مجھے دوبارہ ایک لمحہ زندہ کرنا۔
تاکہ میں جان لوں کہ میرے دوست
کس حال میں ہیں،
تاکہ میں کہہ دوں کہ میرے غم میں
وہ نالہ نہ کریں۔

تاکہ ایک نظر دیکھ لوں کہ میرے اعدا میں سے
کون اندر ہی اندر شادمان ہے
میرے اعضاء کی موت پر۔
تاکہ دیکھ لوں کہ میرے دشمنوں میں سے
کون سرِ تابوت حاضر ہے
اور خوشی سے رو رہا ہے –
اُسے ایک زہرخند پیش کروں،
اور اپنے تابوت کے سرہانے سے
اُسے دور بھگا دوں۔۔۔

دوبارہ نگاہ ڈالوں،
اپنے یار کی چشم پر،
پھر آسودہ چلے جاؤں،
اپنے مزار کے گوشے پر۔۔۔

× طبیعت = نیچر


زبانِ من فارسی‌ست

دِیروز میں نے تاجکستانی فیس بُکی گروہ ‘زبانِ پارسی‘ پر یہ چند فارسی سطریں لکھی تھیں:

درست است که اردو زبانِ مادریِ من است، ولی کسی از من نپرسیده بود که من کدام زبانی را می‌خواهم داشته باشم. این فقط از تصادفِ تولّد بود که زبانم شد اردو. اگر در اختیارِ من بود، حتماً ترجیح می‌دادم که هنگامِ تولّدم زبانِ فارسی را برای خود انتخاب کنم، چون زبانِ روحیهٔ من غیر از زبانِ فارسی نیست، و وابستگی و پیوستگی که به زبانِ فارسی احساس می‌کنم، به هیچ زبانِ دیگر هرگز احساس نمی‌کنم.
حالا من زبانِ فارسی را به اختیارِ کاملِ خود به طورِ زبانِ خود منتخَب کرده‌ام، و اکنون خود را ‘فارسی‌زبان’ می‌پندارم، نه ‘اردوزبان’. و آرزو دارم که به‌زودی فارسی را تا آن حدّی فرا بگیرم که هرچه که بخواهم در نوشته‌های خود به رشتهٔ تحریر بکشم، قادر باشم که برای نوشتنِ آن از زبانِ فارسیِ فاخر استفاده کنم.

فارسی را پاس می‌داریم زیرا گفته‌اند
قدرِ زر زرگر شناسد، قدرِ گوهر گوهری

ترجمہ:
درست ہے کہ اردو میری مادری زبان ہے، لیکن کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا تھا کہ میں کون سی زبان رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ فقط حادثۂ ولادت کے سبب تھا کہ میری زبان اردو ہو گئی۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں حتماً ترجیح دیتا کہ اپنے تولّد کے وقت زبانِ فارسی کو خود کے لیے انتخاب کروں، کیونکہ میری روح کی زبان صرف فارسی ہے، اور جو وابستگی و پیوستگی میں زبانِ فارسی سے محسوس کرتا ہوں، وہ کسی بھی دیگر زبان سے ہرگز محسوس نہیں کرتا۔
حالا میں نے زبانِ فارسی کو اپنے کامل اختیار کے ساتھ زبانِ خود کے طور پر منتخَب کر لیا ہے، اور اب میں خود کو ‘فارسی زبان’ تصور کرتا ہوں، نہ کہ ‘اردو زبان’۔ اور میری آرزو ہے کہ بہ زُودی فارسی کو اِس حد تک سیکھ لوں کہ اپنے نوشتہ جات کے اندر جو کچھ بھی رشتۂ تحریر میں کشیدہ کرنا چاہوں، اُس کو لکھنے کے لیے زبانِ فارسیِ فاخر کا استعمال کر سکوں۔

ہم زبانِ فارسی کی پاس داری و احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ بات زباں زد ہے کہ زر کی قدر زرگر اور گوہر کی قدر گوہری ہی پہچانتا ہے۔

× دِیروز = گذشتہ روز
× فارسی‌زبان = وہ شخص جس کی زبان فارسی ہو
× اردوزبان = وہ شخص جس کی زبان اردو ہو


مسجد کے امام صاحب اور سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ

آج میرے محلّے کی مسجد کے دیوبندی مکتبۂ فکر کے امام صاحب نے نمازِ فجر کے بعد کے درسِ قرآن کے دوران شیخ سعدی شیرازی کا یہ قطعہ پڑھا اور اُس کا ترجمہ بیان فرمایا:
شمشیرِ نیک از آهنِ بد چون کند کسی
ناکس به تربیت نشود ای حکیم کس
باران که در لطافتِ طبعش خلاف نیست
در باغ لاله روید و در شوره‌زار خس
(ترجمہ: آہنِ بد سے کوئی شخص تیغِ خوب کیسے بنائے؟؛ اے دانشمند! تربیت سے نالائق لائق نہیں ہو جاتا؛ بارش کہ جس کی لطافتِ طبع میں کوئی اختلاف نہیں؛ باغ میں لالہ اور شورہ زار میں خس اگاتی ہے۔)
امام صاحب کی زبان پر سعدی شیرازی کا فارسی قطعہ جاری ہوتا دیکھ کر میرا دل خوشی سے سرشار ہو گیا، کیونکہ یہ غیر متوقع تھا۔ جب درس ختم ہونے کے بعد لوگ اُن سے مصافحہ و سلام کر رہے تھے تو میں بھی اُن کے پاس گیا اور اُن سے کہا کہ "مولانا صاحب! میں فارسی کا طالبِ علم ہوں، آج جو آپ نے درس کے دوران شیخ سعدی کا قطعہ پڑھا، وہ مجھے بہت اچھا لگا۔ اللہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور آپ کے علم میں اضافہ کرتا رہے۔” یہ الفاظ سن کر اُن کا چہرہ بھی متبسم ہو گیا تھا۔ 🙂
میری فارسی زبان زندہ باد!