تُرکی و فارسی زبانوں کی باہم درآمیختگی

اُستاد دُکتُر قدیر گُلکاریان اپنے مقالے «تاریخِ تکامُلِ ادبیاتِ تُرکیِ آذربایجان و تُرکیه در همگَنی با ادبیاتِ فارسی در قرنِ شانزدهُم و اوایلِ قرنِ هفدهُمِ میلادی» میں ایک جا تُرکی و فارسی زبانو‌ں کے درمیان باہمی قُربت کے بارے میں بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"چه بخواهیم، چه نخواهیم، این دو زبان چنان به هم در آمیخته و با هم به صورت موازی مسیر تکاملی خود را می‌پیمایند که انکار آن و حرکت علیه این همگَنی، نوعی دشمنی با واقعیت و در عین حال فریب دادن خود با پندارهای متعصبانه است.”

"خواہ ہم چاہیں، خواہ نہ چاہیں، یہ دو زبانیں (تُرکی و فارسی) اِس طرح باہم درآمیختہ ہو گئی ہیں اور اِس طرح باہم مُتوازی طور پر اپنی راہِ ارتقا طے کر رہی ہیں کہ اِس کا انکار اور اِس ہم نوعیت کے خلاف حرَکت، ایک طرح سے حقیقت کے ساتھ دُشمنی، اور ساتھ ہی خود کو مُتعصّبانہ گُمانوں کے ساتھ فریب دینا ہے۔”

Advertisements

سلطان عبدالحمید ثانی عُثمانی کی طرف سے فارسی کو «شیریں ترین زبان» کہا جانا

سلطنتِ عُثمانیہ میں سفیرِ ایران «مُحسن خان مُعِین المُلک» ذی الحجّہ ۱۲۹۳ھ (۱۸۷۶-۷۷ء) میں وزارت اُمورِ خارجہ کو لکھتے ہیں:

"عید قربان به ملاقات سلطان رفتم، و از بسته شدن روزنامهٔ اختر اظهار تکدُّر فرموده، گفتند: حیف است در اسلامبول به زبان فارسی که اساس زبان ترکی است و اعذب السِنه است روزنامه‌ای نباشد. و خیلی اظهار تمایُل به انتشار روزنامهٔ فارسی نمودند.”

ترجمہ:
"بہ روزِ عیدِ قُرباں میں سُلطان [عبدالحمید ثانی] سے مُلاقات کو گیا، اور اُنہوں نے روزنامۂ اختر کے بند ہونے پر اظہارِ رنج فرماتے ہوئے کہا: حیف ہے اگر اسلامبول (استانبول) میں زبانِ فارسی میں – کہ جو زبانِ تُرکی کی اساس اور شیریں ترین زبان ہے – کوئی روزنامہ نہ ہو۔ اور اُنہوں نے فارسی روزنامے کے نشر کی جانب فراواں رغبت ظاہر کی۔”

مأخذ: یادبودهایِ سفارتِ استانبول، سید احمد خان ملِک ساسانی، ۱۹۶۶ء


عُثمانی سیّاح سیدی علی رئیس کی زبان سے شہرِ کابُل اور مردُمِ کابُل کی سِتائش

عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں ایک جا لکھتے ہیں:

کابُل شهری زیباست. اطرافش را کوه‌های پوشیده از برف گرفته‌است. رودخانهٔ پُرآبی در شهر جاری است. چهارباغ‌ها دارد. در هر طرف باغ‌ها بزم‌های عیش و عشرت گسترده بود و در هر گوشه دل‌بران رعنا و لولیان زیبا با ساز و آواز مجالس ذوق و صفا برپا می‌داشتند. مردم کابُل همیشه با نشاط و عشرت و شادی به‌سر می‌برند.
اۏلور مې هرگز آدم حوره مایل
وار ایکن لُولیانِ شهرِ کابل
(هرگز آدم به حوریان مایل نمی‌شود
اگر لولیان شهر کابل باشند)

(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"کابُل ایک زیبا شہر ہے۔ اُس کے اطراف کو برف سے پوشیدہ کوہوں نے گھیرا ہوا ہے۔ شہر میں ایک پُرآب دریا جاری ہے۔ کابُل میں کئی چہارباغ ہیں۔ باغوں میں ہر طرف عیش و عشرت کی بزمیں بِچھی ہوئی تھیں اور ہر گوشے میں دلبرانِ رعنا اور خُوبانِ زیبا نے ساز و آواز کے ساتھ مجالسِ ذوق و خُرّمی برپا کی ہوئیں تھی۔ مردُمِ کابُل ہمیشہ نشاط و عشرت و شادمانی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
(تُرکی بیت کا ترجمہ:) اگر خُوبانِ شہرِ کابُل موجود ہوں تو کیا انسان ہرگز حور کی جانب مائل ہو گا؟”

(اردو مترجم: حسّان خان)

× زبانِ تُرکی میں ‘کابل’ کا تلفُّظ ‘کابِل’ ہے۔


نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔


مرزا غالب اپنے دادا کی زبان تُرکی نہیں جانتے تھے

میرزا غالب اپنی کتاب «دِرَفشِ کاویانی» میں فرہنگِ «بُرہانِ قاطع» کے مؤلّف محمد حُسین بن خلَف تبریزی پر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

"…در عهد سلطنت شاه عالَم نیای من از سمرقند به هندوستان آمد. آنانکه خان خُجسته‌گُهر را دیده‌اند می‌گفتند که همه گفتار خان تُرکی بود و هندی نمی‌دانست مگر اندکی. اینک منم که حرف تهجی تُرکی نیز نمی‌دانم، تا به سُخن گفتن چه رسد. من که، پدر پدر من از مرزبان‌زادگان کِشوَر ماوراءالنهر و از نازپروَردگان سمرقند شهر باشد، تُرکی ندانم. و مولوی دکنی که مولد پدر یا نیای او به تبریز باشد و او در هند متولّد گردد زبان فارسی چگونه تواند دانست؟”

"۔۔۔شاہ عالَم کی سلطنت کے عہد میں میرے دادا سمرقند سے ہندوستان آئے۔ جو اشخاص خانِ خُجستہ نژاد کو دیکھ چکے ہیں کہتے تھے کہ خان کی کُل گُفتار تُرکی تھی اور وہ ہندی نہیں جانتے تھے اِلّا ذرا سی۔ اور اب میں ہوں کہ حَرفِ تہجّیِ تُرکی بھی نہیں جانتا، چہ جائیکہ تُرکی بول سکوں۔ میں کہ، میرے داد مُلکِ ماوراءالنہر کے سرحدبان زادوں میں سے اور شہرِ سمرقند کے ناز پروَردگاں میں سے تھے، تُرکی نہیں جانتا۔ تو پھر مولوی دکَنی، کہ جس کے پدر یا دادا کا مَولِد تبریز ہے اور خود وہ ہند میں مُتولّد ہوا ہے، زبانِ فارسی کیسے جان سکتا ہے؟”


صدرالدین عینی کے نام ابوالقاسم لاہوتی کا ایک مکتوب

از موسکوا به سمرقند
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷ء

رفیقِ محترم و اُستادِ معظم صدرالدین عینی!
دو روز است، که به مسکو وارد شده‌ام و در کارهایِ فرقه‌وی مشغولِ خدمت هستم. از شما استدعا دارم، که نتیجهٔ کاغذ به رفیق محی‌الدین‌اف را به بنده مرقوم دارید. اگر خواهشِ من و شما را قبول نکرده، از مسکو اقدام خواهم کرد. اگر شما در مسکو کاری و یا فرمایشی دارید، بنویسید، البته، انجام خواهم داد. هر وقت رفیقِ محترم مُنظِم (استادِ من) از سفر باز آمدند، سلامِ شاگردانهٔ مرا تبلیغ فرمایید.
آرزو دارم، که همیشه از سلامتیِ شما باخبر باشم. در مسکو گاه مجلس‌هایِ راجع به ادبیاتِ فارسی می‌شود و جمعیتی هم هست. آشنا که شدم، میل دارم شما را به آن انجمن مُعرّفی کنم. در آن جا از ادبیاتِ همهٔ شرق، مخصوصاً فارسی گُفت‌وگُزارها می‌شود.
خالده‌جان را از قولِ عمکِ لاهوتی سلام برسانید!
با احترام و سلام لاهوتی.
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷، مسکو.

ترجمہ:
رفیقِ محترم و اُستادِ مُعظّم صدرالدین عینی!
دو روز ہو گئے ہیں کہ میں ماسکو میں وارِد ہو کر حِزبی کاموں میں مشغولِ خدمت ہوں۔ آپ سے استدعا ہے کہ رفیق مُحی‌الدّینوف سے مُکاتبت کا نتیجہ اِس بندے کو مرقوم فرما دیجیے۔ اگر اُنہوں نے میری اور آپ کی خواہش کو قبول نہ کیا ہو تو میں ماسکو سے اِقدام کروں گا۔ اگر ماسکو میں آپ کو کوئی کام یا حُکم ہو تو لکھ بھیجیے، مَیں حتماً انجام دوں گا۔ جس وقت بھی رفیقِ مُحترم مُنظِم (میرے اُستاد) سفر سے واپس آ جائیں، اُن کو میرا شاگردانہ سلام پہنچائیے گا۔
میری آرزو ہے کہ میں ہمیشہ آپ کی سلامتی سے باخبر رہوں۔ ماسکو میں گاہے ادبیاتِ فارسی سے متعلق مجلسیں برپا ہوتی ہیں اور ایک انجُمن بھی موجود ہے۔ میں جب بھی آشنا ہوؤں گا، میں خواہش رکھتا ہوں کہ اُس انجُمن کو آپ سے مُتعارف کر دوں۔ اُس جگہ کُل سرزمینِ مشرق کے ادبیات، خصوصاً فارسی ادبیات کے بارے میں مُباحثہ ہوتا ہے۔
خالدہ جان کو عَمو لاہوتی کی جانب سے سلام پہنچائیے گا!
مع احترام و سلام۔ لاہوتی۔
۲۱ اپریل ۱۹۲۷، ماسکو


"میں نے عربی، تُرکی و فارسی میں شاعری کی” – محمد فضولی بغدادی

امیرِ شعرِ تُرکی «محمدِ فُضولی بغدادی» اپنے دیوانِ فارسی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

"گاهی به اشعار عربی پرداختم و فصحای عرب را به فنون تازی فی‌الجمله محظوظ ساختم. و آن بر من آسان نمود، زیرا زبان مباحثهٔ علمی من بود. و گاهی در میدان ترکی سمند طبیعت دواندم و ظریفان ترک را به لطافت گفتار ترکی تمتّعی رسانیدم. آن نیز چندان تشویشم نداد. چون به سلیقهٔ اصلی من موافق افتاد. و گاهی به رشتهٔ عبارت فارسی گهر کشیدم و از آن شاخسار، میوهٔ کام دل چیدم.”

ترجمہ:
"گاہے میں عربی شعر گوئی میں مشغول ہوا، اور خُلاصۂ کلام یہ کہ میں نے فُصَحائے عرب کو مُختلف فنونِ عربی سے محظوظ کیا۔ اور یہ میرے لیے آسان رہا، کیونکہ [عربی] میرے علمی مباحث کی زبان تھی۔ اور گاہے میں نے میدانِ تُرکی میں اسپِ طبیعت دوڑایا اور ظریفانِ تُرک کو گُفتارِ تُرکی کی لطافت سے مُتَمتّع کیا۔ اُس نے بھی مجھ کو زیادہ پریشانی نہ دی۔ چونکہ [تُرکی شاعری] میرے ذوقِ اصلی کے موافق واقع ہوئی۔ اور گاہے میں نے رِشتۂ عبارتِ فارسی میں گُوہر پِروئے اور اُس شاخسار سے میوۂ مُرادِ دل چُنا۔”