نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔

Advertisements

مرزا غالب اپنے دادا کی زبان تُرکی نہیں جانتے تھے

میرزا غالب اپنی کتاب «دِرَفشِ کاویانی» میں فرہنگِ «بُرہانِ قاطع» کے مؤلّف محمد حُسین بن خلَف تبریزی پر تنقید کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

"…در عهد سلطنت شاه عالَم نیای من از سمرقند به هندوستان آمد. آنانکه خان خُجسته‌گُهر را دیده‌اند می‌گفتند که همه گفتار خان تُرکی بود و هندی نمی‌دانست مگر اندکی. اینک منم که حرف تهجی تُرکی نیز نمی‌دانم، تا به سُخن گفتن چه رسد. من که، پدر پدر من از مرزبان‌زادگان کِشوَر ماوراءالنهر و از نازپروَردگان سمرقند شهر باشد، تُرکی ندانم. و مولوی دکنی که مولد پدر یا نیای او به تبریز باشد و او در هند متولّد گردد زبان فارسی چگونه تواند دانست؟”

"۔۔۔شاہ عالَم کی سلطنت کے عہد میں میرے دادا سمرقند سے ہندوستان آئے۔ جو اشخاص خانِ خُجستہ نژاد کو دیکھ چکے ہیں کہتے تھے کہ خان کی کُل گُفتار تُرکی تھی اور وہ ہندی نہیں جانتے تھے اِلّا ذرا سی۔ اور اب میں ہوں کہ حَرفِ تہجّیِ تُرکی بھی نہیں جانتا، چہ جائیکہ تُرکی بول سکوں۔ میں کہ، میرے داد مُلکِ ماوراءالنہر کے سرحدبان زادوں میں سے اور شہرِ سمرقند کے ناز پروَردگاں میں سے تھے، تُرکی نہیں جانتا۔ تو پھر مولوی دکَنی، کہ جس کے پدر یا دادا کا مَولِد تبریز ہے اور خود وہ ہند میں مُتولّد ہوا ہے، زبانِ فارسی کیسے جان سکتا ہے؟”


صدرالدین عینی کے نام ابوالقاسم لاہوتی کا ایک مکتوب

از موسکوا به سمرقند
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷ء

رفیقِ محترم و اُستادِ معظم صدرالدین عینی!
دو روز است، که به مسکو وارد شده‌ام و در کارهایِ فرقه‌وی مشغولِ خدمت هستم. از شما استدعا دارم، که نتیجهٔ کاغذ به رفیق محی‌الدین‌اف را به بنده مرقوم دارید. اگر خواهشِ من و شما را قبول نکرده، از مسکو اقدام خواهم کرد. اگر شما در مسکو کاری و یا فرمایشی دارید، بنویسید، البته، انجام خواهم داد. هر وقت رفیقِ محترم مُنظِم (استادِ من) از سفر باز آمدند، سلامِ شاگردانهٔ مرا تبلیغ فرمایید.
آرزو دارم، که همیشه از سلامتیِ شما باخبر باشم. در مسکو گاه مجلس‌هایِ راجع به ادبیاتِ فارسی می‌شود و جمعیتی هم هست. آشنا که شدم، میل دارم شما را به آن انجمن مُعرّفی کنم. در آن جا از ادبیاتِ همهٔ شرق، مخصوصاً فارسی گُفت‌وگُزارها می‌شود.
خالده‌جان را از قولِ عمکِ لاهوتی سلام برسانید!
با احترام و سلام لاهوتی.
۲۱ اپریلِ ۱۹۲۷، مسکو.

ترجمہ:
رفیقِ محترم و اُستادِ مُعظّم صدرالدین عینی!
دو روز ہو گئے ہیں کہ میں ماسکو میں وارِد ہو کر حِزبی کاموں میں مشغولِ خدمت ہوں۔ آپ سے استدعا ہے کہ رفیق مُحی‌الدّینوف سے مُکاتبت کا نتیجہ اِس بندے کو مرقوم فرما دیجیے۔ اگر اُنہوں نے میری اور آپ کی خواہش کو قبول نہ کیا ہو تو میں ماسکو سے اِقدام کروں گا۔ اگر ماسکو میں آپ کو کوئی کام یا حُکم ہو تو لکھ بھیجیے، مَیں حتماً انجام دوں گا۔ جس وقت بھی رفیقِ مُحترم مُنظِم (میرے اُستاد) سفر سے واپس آ جائیں، اُن کو میرا شاگردانہ سلام پہنچائیے گا۔
میری آرزو ہے کہ میں ہمیشہ آپ کی سلامتی سے باخبر رہوں۔ ماسکو میں گاہے ادبیاتِ فارسی سے متعلق مجلسیں برپا ہوتی ہیں اور ایک انجُمن بھی موجود ہے۔ میں جب بھی آشنا ہوؤں گا، میں خواہش رکھتا ہوں کہ اُس انجُمن کو آپ سے مُتعارف کر دوں۔ اُس جگہ کُل سرزمینِ مشرق کے ادبیات، خصوصاً فارسی ادبیات کے بارے میں مُباحثہ ہوتا ہے۔
خالدہ جان کو عَمو لاہوتی کی جانب سے سلام پہنچائیے گا!
مع احترام و سلام۔ لاہوتی۔
۲۱ اپریل ۱۹۲۷، ماسکو


"میں نے عربی، تُرکی و فارسی میں شاعری کی” – محمد فضولی بغدادی

امیرِ شعرِ تُرکی «محمدِ فُضولی بغدادی» اپنے دیوانِ فارسی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

"گاهی به اشعار عربی پرداختم و فصحای عرب را به فنون تازی فی‌الجمله محظوظ ساختم. و آن بر من آسان نمود، زیرا زبان مباحثهٔ علمی من بود. و گاهی در میدان ترکی سمند طبیعت دواندم و ظریفان ترک را به لطافت گفتار ترکی تمتّعی رسانیدم. آن نیز چندان تشویشم نداد. چون به سلیقهٔ اصلی من موافق افتاد. و گاهی به رشتهٔ عبارت فارسی گهر کشیدم و از آن شاخسار، میوهٔ کام دل چیدم.”

ترجمہ:
"گاہے میں عربی شعر گوئی میں مشغول ہوا، اور خُلاصۂ کلام یہ کہ میں نے فُصَحائے عرب کو مُختلف فنونِ عربی سے محظوظ کیا۔ اور یہ میرے لیے آسان رہا، کیونکہ [عربی] میرے علمی مباحث کی زبان تھی۔ اور گاہے میں نے میدانِ تُرکی میں اسپِ طبیعت دوڑایا اور ظریفانِ تُرک کو گُفتارِ تُرکی کی لطافت سے مُتَمتّع کیا۔ اُس نے بھی مجھ کو زیادہ پریشانی نہ دی۔ چونکہ [تُرکی شاعری] میرے ذوقِ اصلی کے موافق واقع ہوئی۔ اور گاہے میں نے رِشتۂ عبارتِ فارسی میں گُوہر پِروئے اور اُس شاخسار سے میوۂ مُرادِ دل چُنا۔”


حافظ شیرازی کی ستائش میں آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ کے اقوال

(لقب)
شاعر – محمد شمس‌الدین، به من بگو: چرا ملت بزرگ و نامی تو ترا حافظ لقب داده‌است؟
حافظ – پرسشت را پاس می‌دارم و بدان پاسخ می‌گویم: مرا حافظ نامیدند، زیرا قرآن مقدس را از بر داشتم، و چنان پرهیزکارانه آیین پیمبر را پیروی کردم که غم‌های جهان و زشتی‌های روزانهٔ آن در من و آنانکه چون من روح و معنی کلام پیمبر را دریافته‌اند اثر نکرد.
(لقب)
شاعر: محمد شمس الدین، مجھ سے کہو: تمہاری بزرگ و نامور ملّت نے کس لیے تمہیں حافظ لقب دیا ہے؟
حافظ: میں تمہارے سوال کا احترام کرتا ہوں اور اُس کا جواب دے رہا ہوں: مجھے اُنہوں نے حافظ کا نام دیا کیونکہ میرے سینے میں قرآنِ مقدّس محفوظ تھا اور میں نے طریقِ پیمبر کی اِس طرح پرہیزکارانہ پیروی کی کہ دنیا کے غموں اور اُس کی روزانہ کی بدصورتیوں نے مجھ میں، اور اُن افراد میں کہ جو میری طرح کلامِ پیمبر کی روح و معنی کو فہم کر چکے ہیں، اثر نہ کیا۔

معروف آلمانی شاعر ‘گوتِه’ اپنے دفترِ خاطرات میں حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"دارم دیوانه می‌شوم. اگر برای تسکین هیجان خود دست به غزل‌سرایی نزنم، نفوذ عجیب این شخصیت خارق‌العاده را که ناگهان پا در زندگانی من نهاده تحمل نمی‌توانم کرد.”
"میں دیوانہ ہوتا جا رہا ہوں۔ اگر میں اپنے ہیجان کی تسکین کے لیے غزل سرائی کا اِقدام نہ کروں، تو ناگہانی طور پر میری زندگی میں قدم رکھنے والی اِس خارقِ عادت شخصیت [یعنی حافظ شیرازی] کے تعجب انگیز نفوذ کو میں تحمّل نہیں کر پاؤں گا۔”

"اگر هم دنیا به سر آید، آرزو دارم که تنها، ای حافظ آسمانی، با تو و در کنار تو باشم و چون برادر توأم در شادی و غمت شرکت کنم. همراه تو باده نوشم و چون تو عشق ورزم، زیرا این افتخار زندگی من و مایهٔ حیات من است.”
"اے حافظِ ملکوتی! خواہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے، میری آرزو ہے کہ میں صرف تمہارے ساتھ اور تمہارے پہلو میں رہوں اور تمہارے برادرِ توأم کی طرح تمہاری شادی و غم میں شرکت کروں۔ تمہارے ہمراہ بادہ نوش کروں اور تمہاری طرح عشق کروں، کیونکہ یہ میری زندگی کا افتخار اور میری حیات کی اساس ہے۔
× توأم = دوقلو، جڑواں

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا حافظ شیرازی کے بارے میں لکھتے ہیں:
"ناگهان با عطر آسمانی شرق و نسیم روح‌پرور ابدیت که از دشت‌ها و بیابان‌های ایران می‌وزید آشنا شدم و مرد خارق‌العاده‌ای را شناختم که شخصیت عجیبش مرا سراپا مجذوب خویش کرد.”
"میں ناگہاں مشرق کے آسمانی عطر اور ابدیت کی نسیمِ روح پروَر سے، جو ایران کے دشتوں اور بیابانوں سے آ رہی تھی، آشنا ہوا اور ایک فوق العادت شخص [حافظ شیرازی] سے واقف ہوا کہ جس کی حیرت انگیز شخصیت نے مجھ کو سراپا اپنا مجذوب کر لیا۔”

معروف آلمانی شاعر ‘گوئٹے’ ایک جا اپنے شعری مجموعے ‘دیوان’ کے بارے میں لکھتے ہیں:
"به ساختن جام جمی مشغولم که با آن علیٰ رغم زاهدان ریایی دنیای ابدیت را عیان خواهم دید و ره بدان بهشت جاودان که خاص شاعران غزل‌سراست خواهم بُرد تا در آنجا در کنار حافظ شیراز مسکن گزینم.”
"میں ایک [ایسا] جامِ جم بنانے میں مشغول ہوں کہ جس کے ذریعے میں، زاہدانِ ریائی کی خواہش کے برخلاف، دنیائے ابدیت کو عیاں دیکھوں گا، اور اُس بہشتِ جاوداں کی جانب راہ پیدا کروں گا جو شاعرانِ غزل سرا سے مخصوص ہے، تاکہ وہاں حافظِ شیرازی کے پہلو میں مسکن اختیار کر سکوں۔”

"ای حافظ! درین سفرِ دور و دراز، در کوره‌راهِ پُرنیشب و فراز، همه جا نغمه‌هایِ آسمانی تو رفیقِ راه و تسلّی‌بخشِ دلِ ماست؛ مگر نه راه‌نمایِ ما هر شام‌گاهان با صدایی دل‌کش بیتی چند از غزل‌هایِ شورانگیزِ تو می‌خواند تا اخترانِ آسمان را بیدار کند و ره‌زنانِ کوه و دشت را بترساند؟”
"اے حافظ! اِس دور و دراز سفر میں، [اور اِس] پُرنشیب و فراز و پُرپیچ و خم راہ میں ہر جا تمہارے آسمانی نغمے ہمارے رفیقِ راہ ہیں اور ہمارے دل کو تسلّی بخشتے ہیں؛ آیا کیا ہمارا راہنما ہر شام کے وقت دلکش صدا کے ساتھ تمہاری ہیجان انگیز غزلوں سے چند ابیات کی قرائت نہیں کرتا تاکہ آسمان کے ستاروں کو بیدار کرے اور کوہ و دشت کے رہزنوں کو خوف زدہ کرے؟”

"ای حافظ مقدس! آرزو دارم که همه جا، در سفر و حضر، در گرمابه و میخانه با تو باشم، و در آن هنگام که دلدار نقاب از رخ برمی‌کشد و با عطر گیسوان پرشکنش مشام جان را معطر می‌کند تنها به تو اندیشم تا در وصف جمال دل‌فریبش از سخنت الهام گیرم و ازین وصف حوریان بهشت را به رشک افکنم!”
"اے حافظِ مقدّس! میری آرزو ہے کہ ہر جگہ، سفر و حضَر میں، [یا] حمّام و میخانہ میں، مَیں تمہارے ساتھ رہوں، اور جس وقت کہ دلدار چہرے سے نقاب اُتارے گا اور اپنے پُرشِکن گیسوؤں کے عطر سے مشامِ جاں کو معطّر کرے گا، میں فقط تمہارے بارے میں سوچوں تاکہ اُس کے جمالِ دل فریب کی توصیف میں تمہارے سُخن سے اِلہام لوں اور اِس توصیف سے حوریانِ بہشت کو رشک میں ڈال دوں!”

"ای حافظ، همچنانکه جرقّه‌ای برای آتش زدن و سوختن شهر امپراتوران کافی‌ست، از گفتهٔ شورانگیز تو چنان آتشی بر دلم نشسته که سراپای این شاعر آلمانی را در تب و تاب افکنده‌است.”
"اے حافظ! جس طرح کہ شہنشاہوں کے شہر کو آتش لگانے اور جلانے کے لیے ایک شرارہ کافی ہے، [اُسی طرح] تمہارے ہیجان انگیز سُخنوں سے میرے دل میں اِس طرح ایک آتش بیٹھ گئی ہے کہ اُس نے اِس آلمانی شاعر کے کُل سراپا کو تب و تاب و سوز و گُداز میں ڈال دیا ہے۔”

"ای حافظ، سخن تو همچون ابدیت بزرگ است، زیرا آن را آغاز و انجامی نیست. کلام تو چون گبند آسمان تنها به خود وابسته است و میان نیمهٔ غزل تو با مطلع و مقطعش فرقی نمی‌توان گذاشت، چه همهٔ آن در حد جمال و کمال است.”
"اے حافظ! تمہارا سُخن عظیم ابدیت کی مانند ہے، کیونکہ اُس کا کوئی آغاز و انجام نہیں ہے۔ تمہارا کلام گُبندِ آسمان کی طرح فقط اپنے آپ کا تابع ہے، اور تمہاری غزل کے نصف اور اُس کے مطلع و مقطع کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ [غزل] تمام کی تمام ہی جمال و کمال کی انتہا میں ہے۔”

"حافظا، دلم می‌خواهد از شیوهٔ غزل‌سرایی تو تقلید کنم. چون تو قافیه پردازم و غزل خویش را به ریزه‌کاری‌های گفتهٔ تو بیارایم. نخست به معنی اندیشم و آن‌گاه بدان لباس الفاظ زیبا پوشم. هیچ کلامی را دو بار در قافیه نیاورم مگر آنکه با ظاهری یکسان معنایی جدا داشته باشد. دلم می‌خواهد همهٔ این دستورها را به کار بندم تا شعری چون تو، ای شاعر شاعران جهان، سروده باشم!”
"اے حافظ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں تمہاری طرزِ غزل سرائی کی تقلید کروں۔ تمہاری طرح قافیہ پردازی کروں اور اپنی غزل کو تمہارے سُخن کی ریزہ کاریوں و باریکیوں سے آراستہ کروں۔ اوّلاً معنی کے لیے تفکُّر کروں اور پھر اُس کو الفاظِ زیبا کا لباس پہناؤں۔ کسی بھی لفظ کو دو بار قافیے میں نہ لاؤں، اِلّا یہ کہ وہ ظاہری لحاظ سے یکساں ہونے کے باوجود ایک جدا معنی رکھتا ہو۔ میرا دل چاہتا ہے کہ اِن تمام قواعد کو بروئے کار لاؤں تاکہ، اے شاعرِ شاعرانِ جہاں، میں تمہاری جیسی کوئی شاعری کر سکوں!”

کتاب: دیوانِ غربی-شرقی
نویسنده: یوهان ولفگانگ فون گوته/Johann Wolfgang von Goethe
سالِ اشاعتِ اول: ۱۸۱۹ء
مترجم: شجاع‌الدین شفا
سالِ اشاعتِ اولِ ترجمه: ۱۹۴۹ء


محمود بن حسین بن محمد کاشغری کے بقول تُرکی سیکھنے کا ایک دینی سبب

قرنِ یازدہُمِ عیسوی کے ادیب محمود بن حُسین بن محمد کاشغری نے ۴۶۶ ہجری میں عربی زبان میں ‘دیوان لغات الترک’ کے نام سے ایک پُرحجم کتاب لکھی تھی، جو بنیادی طور پر اُس زمانے کی تُرکی (جس کو اب قاراخانی تُرکی کے نام سے جانا جاتا ہے) کی فرہنگ تھی اور اِس کتاب کو لکھنے سے اُن کا مقصود بغداد کے عبّاسی خُلَفاء اور عربی خواں مسلم علمی حلقوں کو تُرکی زبان و لہجوں و محاورات و اشعار و ثقافت و رسومات سے آگاہ کرنا تھا۔ یہ کتاب پس از اسلام دور میں کسی تُرک کی جانب سے لکھی جانے والی اوّلین کتاب ہے۔ علاوہ بریں، پس اسلامی دور میں تُرکی زبان کے گُفتاری و نیم ادبی نمونے سب سے قبل اِسی کتاب میں ثبت ہوئے ہیں، لہٰذا ماہرینِ تُرک شناسی و زبان شناسی کے لیے یہ کتاب ایک معدنِ زر سے کم نہیں ہے، اور دیر زمانے سے یہ کتاب اُن کی تحقیقوں کا محور ہے۔ یہ کتاب اُس دور سے تعلق رکھتی ہے کہ جب حالیہ اُزبکستان، تُرکمنستان، آذربائجان اور تُرکیہ میں ہنوز تُرک قبائل کے جوق در جوق کُوچ اور کِشوَر کُشائی کا آغاز نہ ہوا تھا۔

بہر حال، محمود کاشغری اپنی کتاب کے پیش گُفتار میں حمد و ثنا و صلوات اور تُرکوں کی سِتائش کے بعد لکھتے ہیں:

"ولقد سمعت عن ثقة من أئمة بخارا وإمام آخر من اهل نیسابور کلاهما رویا باسناد لهما عن رسول الله صلی الله عليه وسلم أنه لما ذکر أشراط الساعة وفتن آخر الزمان وخروج الترك الغُزّيّة فقال «تعلموا لسان الترك فأنَّ لهم ملكا طوالا» فالرواية برفع الطاء. فلئن صحَّ هذا الحديث والعهدة عليهما فيكون تعلمه واجباً ولئن لم يصح فالعقل يقتضيه.”

"سوگند یاد می‌کنم که من از یکی از امامان ثقه‌ی بخارا و نیز از یکی از امامان اهل نیشابور شنیدم، و هر دو با سلسله‌ی سند روایت کنند که پیامبر ما چون نشانه‌های رستاخیز و فتنه‌های آخرالزمان و نیز خروج ترکان اوغوز را بیان داشت، چنین فرمود: «زبان ترکی را بیاموزید، زیرا که آنان را فرمانروایی دراز آهنگ در پیش است».
اگر این حدیث صحیح باشد – بر عهده‌ی آن راویان – پس آموختن زبان ترکی کاری بس واجب است و اگر هم درست نباشد، خرد اقتضاء می‌کند که [مردم] فراگیرند.”
(فارسی ترجمہ: حُسین محمدزاده صدیق)

"یقیناً میں نے بُخارا کے ایک ثقہ امام سے، اور اہلِ نیشابور کے ایک امام سے سنا ہے، اور دونوں سلسلۂ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیه وسلم جب قیامت کی نشانیوں، آخرِ زماں کے فتنوں اور اوغوز تُرکوں کے خروج کو بیان کر رہے تھے تو اُنہوں نے یہ فرمایا: "تُرکوں کی زبان سیکھو، کیونکہ اُن کی فرماں روائی طویل ہو گی۔”
اگر یہ حدیث صحیح ہو – اور اِس کا ذمّہ اُن راویوں پر ہے – تو پس زبانِ تُرکی کو سیکھنا ایک کارِ واجب ہے، اور اگر درست نہ ہو تب بھی عقل تقاضا کرتی ہے کہ مردُم اِس کو سیکھیں۔”

(یاد دہانی: اِس مُراسلے کو ارسال کرنے کا مقصد اِس حدیث کی صحت و سقم پر یا اِس اقتباس کی دینی اَبعاد پر بحث کرنا نہیں ہے، بلکہ اِس کو صرف اِس لیے ارسال کیا گیا ہے کیونکہ کتاب کے مطالعے کے دوران مجھ کو یہ سطور جالبِ توجُّہ محسوس ہوئیں، اور میرے دل میں آیا کہ اِن کو دیگروں کی نظروں میں بھی لانا چاہیے۔ اِسی بہانے محمود کاشغری اور اُن کی بِسیار اہم کتاب کا مختصر تعارف بھی ہو جائے گا۔)


ایران میں تحریری تُرکی کے انحطاط کا ایک سبب

جلال قُلی‌زاده مِزِرْجی اپنی کتاب ‘آشنایی با زبانِ تُرکیِ خُراسانی’ میں لکھتے ہیں:

"آشکار است که آموزش زبان گفتاری در خانه و زبان نوشتاری در مدرسه می‌باشد و همان طور که متذکر شدیم، گفتار و نوشتار دو مقولهٔ متفاوت ولی در عین حال وابسته به هم هستند. ادبیات مکتوب و نوشتاری هیچ زبانی را به صورت صحیح نمی‌توان بدون آموزش رسمی (مدرسه‌ای) آموخت و با توجه به این مسئله، اکثر ترک‌های ایران در خواندن کتاب‌های ترکی یا نگارش آن به دلیل این که فاقد آموزش رسمی مدرسه‌ای هستند، دچار مشکل می‌باشند که این مسئله برای سایر زبان‌های اقلیت ایران نظیر کردی و… نیز وجود دارد. حکایت این مقوله درست به منزلهٔ فارس‌زبان بی‌سوادی است که به راحتی می‌تواند فارسی را صحبت کند ولی قادر به نگارش و مطالعهٔ کتب فارسی نیست و نهایتاً می‌توان اذعان داشت که اکثر ترکان ایرانی در نگارش و مطالعهٔ آسان متون ترکی تقریباً دچار مشکل هستند. از این رو هر زبانی را در حوزهٔ نوشتاری، یا باید در مدرسه آموخت و یا این که با تلاش شخصی نسبت به آموختن آن اقدام کرد و اغلب افرادی که در ایران می‌توانند به راحتی کتاب‌های ترکی را مطالعه کنند و قادر به نگارش صحیح آن هستند از راه دوم یعنی تلاش شخصی وارد شده‌اند و به این زبان از حوزهٔ نوشتاری (کتابت) مسلط شده‌اند.”

ترجمہ:
"ظاہر ہے کہ گُفتاری زبان کی تعلیم گھر میں جبکہ نوِشتاری زبان کی تعلیم مکتب میں ہوتی ہے، اور جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، گُفتار و نوِشتار دو مختلف لیکن ساتھ ہی ساتھ ایک دوسرے سے وابستہ زُمرے ہیں۔ کسی بھی زبان کے مکتوب و تحریری ادبیات کو رسمی (مکتبی) تعلیم کے بغیر صحیح طرح سے نہیں سیکھا جا سکتا، اور اِس وجہ سے ایران کے اکثر تُرک، چونکہ وہ [تُرکی زبان میں] رسمی مکتبی تعلیم سے فاقِد ہیں، تُرکی کتابیں پڑھنے یا لکھنے میں مشکل سے دوچار ہیں۔ اور یہ مسئلہ ایران کی دیگر اقلیتی زبانوں مثلاً کُردی وغیرہ کے لیے بھی موجود ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی ناخواندہ فارسی زبان شخص بہ آسانی فارسی میں گفتگو تو کر سکتا ہے لیکن فارسی کتب لکھنے اور اُن کے مطالعے پر قادر نہیں ہوتا۔ آخر میں، یہ اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ اکثر ایرانی تُرک، تُرکی مُتون کی آسان نِگارش و مُطالعہ میں تقریباً دوچارِ مشکل ہیں۔ لہٰذا ہر زبان کو تحریری سطح پر یا تو مکتب میں سیکھنا لازم ہے یا یہ کہ شخصی کوشش کے ساتھ اُس کو سیکھنے کا اقدام کیا جائے۔ اور ایران میں جو افراد آسانی کے ساتھ تُرکی کتابوں کا مُطالعہ کر سکتے ہیں اور اُس کو درست طریقے سے لکھنے کی قُدرت رکھتے ہیں، اُن میں سے بیشتر راہِ دوم کے ذریعے یعنی شخصی کوشش کے ذریعے ماہر ہوئے ہیں اور تحریری (کِتابتی) لحاظ سے اِس زبان پر تسلُّط حاصل کر سکے ہیں۔”