ہماری مملکت میں زبانِ فارسی کا شیوع – عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف

عُثمانی ادیب سُلیمان نظیف ۱۹۱۸ء میں لکھے اپنے مقالے ‘ایران ادبیاتې‌نېن ادبیاتېمېزا تأثیری’ (ادبیاتِ ایران کی ہمارے ادبیات پر تأثیر) میں لکھتے ہیں:

"ایران لسان و اشعارې‌نېن مملکتیمیزده شیوعونا ایکینجی سبب ده مدرسه‌لر، تکه‌لر و بالخاصّه مولوی خانقاه‌لارې‌دېر. جلال‌الدینِ رومی حضرت‌لری‌نین مثنوی‌سی بو خصوص‌ده بیرینجی‌لیڲی احراز ائدر، مع مافیه مثنویِ شریف تکایا و خواص آراسېندا قالېپ فریدالدین عطارین پندنامه‌سییله سعدی‌نین گلستان و بۏستانې و حافظېن دیوانې داها زیاده شایع اۏلدو. چۆنکۆ بونلارېن لسانې داها دۆزگۆن و ظریف‌دیر. مثنویِ مولانایې، تکه‌لر، پندنامه ایله گلستان و بۏستانې و اشعارِ حافظې ان زیاده مدرسه‌لر و مکتب‌لر نشر و تعمیم ائتدی. بو کتاب‌لارېن هپسینه متعدد و مفصل شرح‌لر یازېلمېشدېر و بو خصوص‌ده اۏ قدر تبذیرِ اقدام ائدیلمیشدیر که مثلا شارح قونوی همّتییله ابیاتِ حافظ‌دان استنباط ائدیلن معانیِ متصوّفانه‌نین بیر چۏغو و بلکه هپسی شاعرِ شیرازی‌نین خیالیندن بیله گئچمه‌میشدیر دئنیلسه و بیر ده یمین ائدیلسه کیمسه کاذب و حانث اۏلماز. لسانِ فارسی دینیمیزده، حسّیمیزده، فکر و خیالیمیزده بو صورت‌له عصر‌لارجا یاشادې و یاشاتدې. باشقا بیر مقتدا، آرزو ائتسه‌یدیک بیله بولامازدېق. مقدّراتِ تاریخیه‌میز بیزه بونو تکلیف و امر ائتمیشدی.”

ترجمہ:
"ایرانی زبان اور اشعار کے ہمارے مملکت میں شیوع کا دوسرا سبب مدرَسے، خانقاہیں، اور خصوصاً مولوی خانقاہیں ہیں۔ حضرتِ جلال الدینِ رُومی کی مثنوی اِس باب میں مقامِ اوّل پر فائز ہے، مع ہذٰا، مثنویِ شریف خانقاہوں اور خواص کے درمیان رہی، جبکہ فریدالدین عطّار کا پندنامہ، سعدی کی گلستان و بوستان، اور حافظ کا دیوان مزید زیادہ رائج ہوا۔ چونکہ اِن کی زبان زیادہ صاف و ظریف ہے۔ مثنویِ مولانا کو خانقاہوں نے، جبکہ پندنامہ و گلستان و بوستان و اشعارِ حافظ کو سب سے زیادہ مدرَسوں و مکتبوں نے پھیلایا اور عام کیا۔ اِن تمام کتابوں پر متعدِّد و مفصَّل شرحیں لکھی گئی ہیں، اور اِس باب میں اِس قدر اِسرافِ اقدام کیا گیا ہے کہ مثلاً اگر کہا جائے اور قسم کھائی جائے کہ شارح قونوی کی کوششوں سے جو ابیاتِ حافظ کے معانیِ مُتصوّفانہ استنباط ہوئے ہیں، اُن میں سے کئی بلکہ تمام معانی [خود] شاعرِ شیرازی کے خیال سے بھی نہیں گُذرے ہیں تو کوئی شخص کاذب و قسم شِکن نہیں کہلایا جائے گا۔ زبانِ فارسی نے ہمارے دین میں، ہماری حِسّ میں، اور ہمارے فکر و خیال میں اِس طرح سے عصروں تک زندگی کی، اور زندگی کو جاری رکھا۔ اگر ہم کسی اور پیشوا و مُقتدا کی آرزو کرتے تو بھی نہ پا پاتے۔ ہمارے مُقدّراتِ تاریخیہ نے ہم کو یہی پیش اور امر کیا تھا۔”

× صاحبانِ تحقیق کا کہنا ہے کہ ‘پندنامہ’ فریدالدین عطّار کی تألیف نہیں ہے، بلکہ کسی اور ‘عطّار’ تخلُّص والے شاعر کی ہے۔

لاطینی رسم الخط میں:
İran lisan ve eş’ârının memleketimizde şüyuûna ikinci sebep de medreseler, tekkeler ve bilhassa Mevlevî hankâhlarıdır. Celâleddin-i Rûmî hazretlerinin Mesnevî’si bu hususta birinciliği ihraz eder, mâmâfih Mesnevî-i Şerîf tekâyâ ve havâs arasında kalıp Ferîdüddin Attar’ın Pend-nâme’siyle Sâdî’nin Gülistan ve Bostan’ı ve Hafız’ın Divanı daha ziyade şâyî oldu. Çünkü bunların lisanı daha düzgün ve zariftir. Mesnevî-i Mevlânâ’yı, tekkeler, Pend-nâme ile Gülistan ve Bostan’ı ve eş’âr-ı Hâfız’ı en ziyade medreseler ve mektepler neşir ve ta’mîm etti. Bu kitapların hepsine müteaddit ve mufassal şerhler yazılmıştır ve bu hususta o kadar tebzîr-i ikdâm edilmiştir ki mesela şârih Konevî himmetiyle ebyât-ı Hâfız’dan istinbat edilen meâni-i mutasavvıfânenin bir çoğu ve belki hepsi şâir-i Şîrâzî’nin hayâlinden bile geçmemiştir denilse ve bir de yemin edilse kimse kâzib ve hânis olmaz. Lisân-ı Fârisî dînimizde, hissimizde, fikir ve hayalimizde bu sûretle asırlarca yaşadı ve yaşattı. Başka bir muktedâ, arzu etseydik bile bulamazdık. Mukadderât-ı târihiyemiz, bize bunu teklif ve emretmişti.

Advertisements

اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی کی ترویج میں مولانا رُومی کا کردار

شادی آیدېن (از تُرکیہ) اپنے مقالے ‘فارسچا دیوان صاحیبی عۏثمان‌لې سولطان‌لارې و دیوان‌لارېنېن نۆسخالارې‘ (صاحبِ دیوانِ فارسی عُثمانی سلاطین اور اُن کے دیوانوں کے نُسخے) میں لکھتے ہیں:

"اناطولیہ اور دیگر عُثمانی سرزمینوں میں فارسی زبان و شاعری اور ایرانی ثقافت کے رواج کے دوام میں مولانا رومی کی فکر اور اُن کی تالیفات کا اثر بِسیار زیادہ ہے۔ مولانا کی شاعری، مولوی طریقت اور مولوی خانقاہیں اِن سرزمینوں میں فارسی زبان کے رواج اور اناطولیہ سے بیرون کے مِنطقوں میں بھی اِس کی اشاعت کا وسیلہ بنیں۔ چونکہ مولانا کی مثنوی اور غزلیات فارسی میں کہی گئی تھیں، لہٰذا زبانِ فارسی مولوی درویشوں کے لیے ایک مُقدّس زبان بن گئی تھی۔ تیرہویں صدی میں فارسی شاعروں، وزیروں، مُنشیوں اور حکومتی کارندوں سے مخصوص زبان تھی، لیکن مولوی خانقاہوں کے ذریعے یہ زبان عوامی طبقوں میں بھی داخل ہو گئی۔ جس طرح سُلطان کے قصْروں میں شاہنامہ خواں پائے جاتے تھے، اُسی طرح درویش کی مجلسوں میں بھی مولانا کی شاعری خوانْنے والے مثنوی خواں پائے جاتے تھے۔”

× مولوی = مولانا رُومی کے سلسلۂ طریقت سے منسوب

دانش نامۂ ایرانیکا کے مقالے ‘بوسنیا و ہرزگووینا‘ میں ایک جا حامد الگر لکھتے ہیں:

"دیگر عُثمانی سرزمینوں کی طرح بوسنیا و ہرزگووینا میں بھی صوفیانِ مولویہ مثنویِ معنوی کی ہمیشہ اُس کی اصلی زبان میں قرائت کرتے تھے؛ اُنہوں نے نہ صرف فارسی کو ایک نیم عباداتی زبان بنا دیا تھا، بلکہ تعلیم یافتہ اشرافیہ کے درمیان اِس کے عام رواج میں بھی بسیار زیاد کردار ادا کیا تھا۔”


آذربائجانی تُرکوں کی فارسی کی جانب رغبت – فریدون بیگ کؤچرلی

قفقازی آذربائجانی ادیب فریدون بیگ کؤچرلی اپنی کتاب ‘آذربایجان ادبیاتې’ (ادبیاتِ آذربائجان)، جو اُن کی وفات کے بعد ۱۹۲۵ء میں استانبول سے شائع ہوئی تھی، کی جلدِ اول میں لکھتے ہیں:

"کئچمیش‌ده شوکت و قوت صاحبی اۏلان ایران دولتی مدتِ متمادیه ایله تمامی آذربایجان ولایتینه صاحب‌لیک و حکم‌ران‌لېق ائدیب‌دیر. آذربایجان تۆرک‌لری بو دولتِ عظیمه‌نین تحتِ حکومتینده خیلی زمان زندگان‌لېق ائدیب‌دیر. بو جهته ایرانېن نفوذ و تأثیری آذربایجان تۆرک‌لرینه حددن زیاده اۏلوب‌دور. بو تأثیرات ظاهری، یعنی هیئت و قیافت‌ده، طرزِ لباس و خوراک‌ده و سایر اوضاعی و احوال‌ده و امرِ معاش‌ده گؤرسندیڲی کیمی، باطنی و معنوی صورت‌ده دخی اۏلوب‌دور که، اۏن‌لار اخلاق و اطواردا، آیین و آداب‌دا، لسان و ادبیات‌دا مشاهده اۏلونان اثرلردیر. معلوم اۏلا که، آذربایجان تۆرک‌لری هر دیل‌دن زیاده خۏش‌لادېغې، میل و رغبت گؤستردیڲی فارس دیلی اۏلوب‌دور. "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شکر است، ترکی – هنر است” – دئدیک‌ده بیزیم تۆرک‌لر عرب لسانېنې تعریف ائدیب و تۆرک دیلینده سؤیله‌مڲی هنر بیلیب، هر ایکی دیل‌دن زیاده میل و هوس گؤستردیک‌لری ‘شکر’ اۏلوب‌دور که، فارس دیلیندن عبارت‌دیر. بو دیلین زیاده شیرین و خۏش شیوه‌لی اۏلماغېنا بیر کسین شبهه‌سی یۏخ‌دور. اۏنا بناءً بیزیم مکتب‌لرده بو آخر وقت‌لارا کیمی تعلیم و تدریس فارس دیلینده اۏلوب، اوشاق‌لارېمېزېن اۏخودوغو فارس کتاب‌لارې اۏلوب‌دور. نوشته‌جات و مرسولاتېمېز دخی بو دیل‌ده جاری اۏلوب، تۆرک دیلینه آرتېق میل و رغبت گؤرسه‌نیل‌مه‌ییب‌دیر. آذربایجانېن ایرانا متعلق حصه‌لرینده ایندی دخی تعلیم و تدریس و کتابت فارس دیلینده ایشله‌نیر. زافقازیادا آنا دیلی آنجاق آز وقت‌دان بری‌دیر که، آذربایجان تۆرک‌لری‌نین دقّتی‌نی جلب ائدیب، اؤزۆ اۆچۆن بیر نوع حرمت و اهمیت کسب ائتمڲه باشلایېب‌دېر.”

ترجمہ:
"گذشتہ زمانوں میں شوکت و قوت کی مالک دولتِ ایران نے مُدّتِ مدید تک تمام ولایتِ آذربائجان پر مِلکیت و حکمرانی کی ہے۔ آذربائجانی تُرکوں نے اِس دولتِ عظیمہ کی حکومت کے تحت کئی زمانوں تک زندگانی کی ہے۔ اِس وجہ سے آذربائجانی تُرکوں پر ایران کا نفوذ و اثر حد سے زیادہ ہوا ہے۔ یہ تأثیرات جس طرح ظاہری صورت میں یعنی ہیئت و قیافہ میں، طرزِ لباس و خوراک میں اور دیگر اوضاع و احوال میں اور امرِ معاش میں نظر آتی ہیں، اُسی طرح باطنی و معنوی صورت میں بھی ہوئی ہیں، جن کا مشاہدہ اخلاق و اطوار میں، رُسوم و آداب میں، لسان و ادبیات میں ہوتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جو زبان آذربائجانی تُرکوں کو ہر زبان سے زیادہ پسند آئی ہے اور جس کی جانب اُنہوں نے سب سے زیادہ مَیل و رغبت دکھائی ہے وہ زبانِ فارسی ہے۔ "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شَکَر است، تُرکی – هنر است” کہتے ہوئے ہمارے تُرکوں نے عربی زبان کی تعریف کی ہے اور تُرکی زبان میں بات کرنے کو ہُنر جانا ہے، لیکن اِن دونوں زبانوں سے زیادہ مَیل و رغبت اُنہوں نے ‘شَکَر’، یعنی فارسی کی جانب دِکھائی ہے۔ اِس زبان کے بِسیار شیرین و خوش طرز ہونے کے بارے میں کسی شخص کو کوئی شُبہہ نہیں ہے۔ لہذا ہمارے مکاتب میں اِن آخر وقتوں تک تعلیم و تدریس فارسی زبان میں ہوتی رہی اور ہمارے اطفال فارسی کتابیں خوانتے (پڑھتے) رہے ہیں۔ ہمارے نوِشتہ جات اور مراسلات بھی اِس زبان میں جاری ہوتے رہے ہیں، اور تُرکی زبان کی جانب زیادہ مَیل و رغبت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ آذربائجان کے جو حصّے ایران میں ہیں، اُن میں ہنوز تعلیم و تدریس و کتابت فارسی زبان میں انجام پاتی ہے۔ قفقاز [یعنی قفقازی آذربائجان] میں مادری زبان نے محض چند زمانے قبل ہی آذربائجانی تُرکوں کی توجُّہ کو جلب کر کے اپنے لیے ایک طرح کا احترام و اہمیت کسب کرنا شروع کیا ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Keçmişdə şövkət və qüvvət sahibi olan İran dövləti müddəti-mütəmadiyyə ilə təmami Azərbaycan vilayətinə sahiblik və hökmranlıq edibdir. Azərbaycan türkləri bu dövləti-əzimənin təhti-hökumətində xeyli zaman zindəganlıq edibdir. Bu cəhətə İranın nüfuz və tə’siri Azərbaycan türklərinə həddən ziyadə olubdur. Bu tə’sirat zahiri, yə’ni hey’ət və qiyafətdə, tərzi-libas və xörəkdə və sair övza’i və əhvalda və əmri-məaşda görsəndiyi kimi, batini və mə’nəvi surətdə dəxi olubdur ki, onlar əxlaq və ətvarda, ayin və adabda, lisan və ədabiyyatda müşahidə olunan əsərlərdir. Mə’lum ola ki, Azərbaycan türkləri hər dildən ziyadə xoşladığı, meyl və rəğbət göstərdiyi fars dili olubdur. "Ləfz – ləfzi-ərəbəst, farsi – şəkərəst, türki – hünərəst” – dedikdə bizim türklər ərəb lisanınını tə’rif edib və türk dilində söyləməyi hünər bilib, hər iki dildən ziyadə meyl və həvəs göstərdikləri "şəkər” olubdur ki, fars dilindən ibarətdir. Bu dilin ziyadə şirin və xoş şivəli olmağına bir kəsin şübhəsi yoxdur. Ona binaən bizim məktəblərdə bu axır vaxtlara kimi tə’lim və tədris fars dilində olub, uşaqlarımızın oxuduğu fars kitabları olubdur. Nəviştəcat və mərsulatımız dəxi bu dildə cari olub, türk dilinə artıq meyl və rəğbət görsənilməyibdir. Azərbaycanın İrana mütəəlliq hissələrində indi dəxi tə’lim və tədris və kitabət fars dilində işlənir. Zaqafqaziyada ana dili ancaq az vaxtdan bəridir ki, Azərbaycan türklərinin diqqətini cəlb edib, özü üçün bir növ hörmət və əhəmiyyət kəsb etməyə başlayıbdır.


ایران میں تُرکوں اور فارْسوں کی باہم متعاون ہم زیستی – بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول زادہ

بانیِ جمہوریۂ آذربائجان محمد امین رسول‌زاده اپنے مقالے ‘ایران تۆرک‌لری: ۳’ (تُرکانِ ایران: ۳) میں، جو اوّلاً عثمانی سلطنت کے مجلّے ‘تۆرک یوردو’ (تُرک وطن) میں ۱۳۲۸ھ/۱۹۱۲ء میں شائع ہوا تھا، لکھتے ہیں:

"ایران‌دا تۆرک‌لر، نه روسیادا اۏلدوغو گیبی محکوم و نه ده تۆرکیه‌ده اۏلدوغو گیبی حاکم بیر ملّت دئڲیل‌دیرلر.
ایران تۆرک‌لری، اصل ایران‌لې اۏلان فارس‌لارلا حقوق‌دا مساوی وطن‌داش حالینده بولونویۏرلار: عینې حق‌لارې، عینی امتیازلارې حائزدیرلر؛ اؤگه‌ی‌لیک چکمزلر.
بئش یۆز سنه‌دن بری ایران‌دا حکمران اۏلان پادشاه‌لار هپ تۆرک عِرقېندان گلدیلر؛ بوگۆن اجرایِ سلطنت ائدن قاچار سُلاله‌سی ده تۆرکمن قبیله‌لریندن بیر قبیله‌یه منسوب‌دور. فقط ایران حکم‌دار‌لارېنېن تۆرک اۏلماسې تۆرک‌لره خصوصی بیر امتیاز بخش ائتمه‌دیڲی گیبی، فارس ملّتینین تضییقینه ده سبب اۏلمامېش‌دېر.
حکم‌دارلارېن تۆرک‌لۆڲۆنه رغماً مملکتین لسانِ رسمی‌سی فارسی قالمېش و مراسم و تشریفات‌دا هپ فارسی عنعناتې مُحافظه اۏلونموش‌دور. ایران‌دا فارس‌لار، تۆرک‌لرین قوّت‌لی بازولارېنا، جنگاور‌لیک سجیه‌لرینه دایانمېش‌لار، تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینین معنویتینه استناد ائیله‌میشلر و بو صورت‌له تشریکِ مساعی ائده‌رک ایران حکومتِ حاضره‌سی‌نی وجودا گتیرمیش‌لردیر.
فارس‌لار تۆرک حکم‌دارلارې کندی ملیّت‌لرینه مُعارض بولمادېق‌لارېندان اۏن‌لارې ملّی ایران پادشاه‌لارې گیبی تقدیس ائتمیش‌لر؛ تۆرک‌لر ده فارس مدنیّتینی و فارس لسانېنې ملّی بیر لسانِ ادبی گیبی قبول ائیله‌میشلردیر. بو صورت‌له بئش یۆز سنه‌دن بری شاه‌لېق تختېندا بیر تۆرک خانې اۏتورویۏرسا دا گرک بو خان‌لار، گرک‌سه تۆرک اهالی ایران‌لې‌لاش‌مېش، یعنی فارس‌لار طرفېندان تمثیل اۏلونموش‌دور. جزئی مقدار‌دا تۆرکمن‌لردن باشقا تۆرک‌لر، یعنی آذربایجان‌لې‌لار و قاشقایی‌لر ایرانېن مذهبِ رسمی‌سی اۏلان شیعی‌لیڲه تابع‌دیرلر.
شیعی‌لیک ایران تۆرک‌لرینی اۏ قدر فارس‌لاشدېرمېش‌دېر که، شیمدی اۏن‌لار کندی‌لرینی تۆرک‌لشمیش فارس، یعنی اصلا‌ً ایران‌لې تلقّی ائدرلر!”

ترجمہ:
"ایران میں تُرکان نہ تُرکانِ رُوسیہ کی طرح ایک محکوم، اور نہ تُرکانِ تُرکیہ کی طرح ایک حاکم ملّت ہیں۔
ایران کے تُرکان اصل ایرانیوں یعنی فارْسوں کے ہم وطن ہیں اور اُن کے مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ وہ ویسے ہی حقوق اور ویسے ہی امتیازات کے مالک ہیں اور سوتیلے پن کا نشانہ نہیں بنتے۔
گذشتہ پانچ صدیوں سے ایران میں حکمرانی کرنے والے تمام پادشاہوں کا تعلق تُرک نسل و قوم سے تھا؛ موجودہ زمانے میں سلطنت کا اِجرا کرنے والا خاندانِ قاجار بھی ایک تُرکمن قبیلے سے منسوب ہے۔ لیکن ایران کے حکمرانوں کے تُرک ہونے نے نہ تُرکوں کو کوئی خصوصی امتیاز و برتری عطا کی ہے، اور نہ اِس کے باعث ملّتِ فارْس کسی محدودیت و فِشار میں مبتلا ہوئی ہے۔
حکمرانوں کے تُرک ہونے کے باوجود مملکت کی رسمی زبان فارسی رہی ہے، اور مراسم و تشریفات میں بھی تمام فارسی روایات محفوظ رکھی گئی ہیں۔ ایران میں فارْسوں نے تُرکوں کے باقوّت بازوؤں اور اُن کی جنگاور فطرت پر تکیہ کیا ہے، جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدّن و ثقافت کی معنویات پر اِستِناد کیا ہے اور اس طرح تشریکِ مساعی کرتے ہوئے وہ ایران کی موجودہ حکومت کو وجود میں لائے ہیں۔
تُرک حکمرانوں کے ملّیتِ فارْس کے مُعارِض و مُخالف نہ ہونے کے باعث فارْسوں نے اُن تُرک حکمرانوں کی ایران کے ملّی پادشاہوں کی مانند تقدیس کی ہے؛ جبکہ تُرکوں نے فارْس تمدن و ثقافت اور فارسی زبان کو ایک ملّی ادبی زبان کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اور اس طرح گذشتہ پانچ صدیوں سے اگرچہ تختِ شاہی پر کوئی تُرک خان بیٹھ رہا ہے، لیکن خواہ یہ خانان ہوں یا تُرک اہالی ہوں، دونوں ہی ایرانی شدہ ہو گئے ہیں، یعنی فارْسوں کی طرف سے نمائندے بنتے رہے ہیں۔ تُرکمَنوں کی ایک غیر اہم تعداد کے بجز دیگر تُرکان، یعنی آذربائجانیان اور قشْقائیان ایران کے رسمی مذہب شیعیت کے تابع ہیں۔
شیعیت نے ایران کے تُرکوں کو اِس قدر فارْس شُدہ کر دیا ہے کہ اب وہ خود کو تُرک شدہ فارْس، یعنی اصلاً ایرانی مانتے ہیں!”

لاطینی رسم الخط میں:
"İran’da Türkler, ne Rusya’da olduğu gibi mahkum ve ne de Türkiye’de olduğu gibi hakim bir millet değildirler.
İran Türkleri, asıl İranlı olan Farslarla hukukta müsavi vatandaş halinde bulunuyorlar: Aynı hakları, aynı imtiyazları haizdirler; ögeylik çekmezler.
Beş yüz seneden beri İran’da hükümran olan padişahlar hep Türk ırkından geldiler; bugün icra-yı saltanat eden Kaçar sülalesi de Türkmen kabilelerinden bir kabileye mensuptur. Fakat İran hükümdarlarının Türk olması Türklere hususi bir imtiyaz bahşetmediği gibi, Fars milletinin tazyikine de sebep olmamıştır.
Hükümdarların Türklüğüne rağmen memleketin lisan-ı resmisi Farisi kalmış ve merasim ve teşrifatta hep Farisi an’anatı muhafaza olunmuştur. Iran’da Farslar, Türklerin kuvvetli bazularına, cengaverlik seciyelerine dayanmışlar, Türkler de Fars medeniyetinin ma’neviyetine istinad eylemişler ve bu suretle teşrik-i mesa’i ederek İran hükümet-i hazırasını vücuda getirmişlerdir.
Farslar Türk hükümdarları kendi milliyetlerine mu’arız bulmadıklarından onları milli İran padişahları gibi takdis etmişler; Türkler de Fars medeniyetini ve Fars lisanını milli bir lisan-ı edebi gibi kabul eylemişlerdir. Bu suretle beş yüz seneden beri şahlık tahtında bir Türk hanı oturuyorsa da gerek bu hanlar, gerekse Türk ahali İranlılaşmış, yani Farslar tarafından temsil olunmuştur. Cüz’i miktarda Türkmenlerden başka Türkler, yani Azerbaycanlılar ve Kaşkayiler İran’ın mezheb-i resmisi olan şiiliğe tabi’dirler.
Şiilik İran Türklerini o kadar farslaştırmıştır ki, şimdi onlar kendilerini Türkleşmiş Fars, yani aslen İranlı telakki ederler!..”


"البانوی شہر ارگِری کے تمام افراد فارسی خواں ہیں” – عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کا مشاہدہ

میری نظر میں عُثمانی سلطنت کی ایک لائقِ تحسین ترین چیز یہ ہے کہ وہ زبان و ادبیاتِ فارسی کی، بلقان تک کے علاقوں میں سرایت و اشاعت کا باعث بنی تھی۔ سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ ہشتم میں عُثمانی البانیہ کے شہر ارگِری کے مردُم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اکثریّا خلقې اربابِ معارف و شُعَرایِ مؤلّفین‌لردیر. باخُصوص بُکایی و فغانی و نالِشی و سُکوتی و فضایی نام شُعَرالار حالا بو شهرده موجودلاردېر کیم هر بیری بیرر فن‌ده یدِ طُولالارېن عیان ائتمیش‌لردیر، امّا نالِشی پنج‌بیت‌ده و قصیده‌پردازلېق‌ده لانظیردیر.
و اکثریّا خلقې مُحِبِّ خاندان اۏلوپ ‘یا علی’ دئر اۏتورور، ‘یا علی’ دئر قالقار. جُمله فارسی‌خوان اۏلوپ مُحبِّ خاندان اۏلدوق‌لارېندان بیر فرقه‌سې نِهانی‌جه مُعاویه‌یه سبّ ائدۆپ یزیده آشکاره لعنت ائدرلرمیش امّا استماع ائتمه‌دیم.”

ترجمہ:
"شہر کے اکثر مردُم اربابِ معارف اور شُعَرائے مُؤلفّین کے زُمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص بُکائی، فغانی، نالِشی، سُکوتی، اور فضائی تخلُّص والے شُعَراء اِس وقت اِس شہر میں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک ایک فن میں یدِ طُولیٰ عیاں کر چکا ہے، لیکن نالِشی پنج بیت (پنج بیتی غزل) اور قصیدہ پردازی میں بے نظیر ہے۔
اور اُس کے اکثر مردُم مُحبِّ خاندانِ [علی] ہیں، اور وہ ‘یا علی’ کہتے ہوئے اُٹھتے اور ‘یا علی’ کہتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ تمام افراد فارسی خواں ہیں، اور مُحبِّ خاندانِ [علی] ہونے کے باعث ظاہراً اُن میں سے ایک گروہ بطورِ نِہانی مُعاویہ پر سبّ کرتا ہے، اور یزید پر آشکارا لعنت کرتا ہے، لیکن میں نے [خود] نہیں سُنا۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Ekseriyyâ halkı erbâb-ı ma‘ârif ve şu‘arâ-yı mü’ellifînlerdir. Bâhusûs Bükâyî ve Figanî ve Nâlişî ve Sükûtî ve Feza‘î nâm şu‘arâlar hâlâ bu şehirde mevcûdlardır kim her [bir]i birer fende yed-i tûlâların ayân etmişlerdir, ammâ Nâlişî penç-beytde ve kasîdeperdâzlıkda lâ-nazîrdir.
Ve ekseriyyâ halkı muhibb-i Hânedân olup “yâ Alî” der oturur, “yâ Alî” der kalkar. Cümle Fârisî-hân olup muhibb-i Hânedân olduklarından bir fırkası nihânîce Mu‘âviye’ye sebb edüp Yezîd’e âşikâre la‘net ederlermiş ammâ istimâ‘ etmedim.


فارسی اور اردو کی باہمی قرابت کا ایک فائدہ

فارسی اور اردو کی باہمی قرابت و نزدیکی کا ایک فائدہ یہ ہے اگر فارسی سے نابلَد اردو داں شخص کے پیش میں کوئی فارسی بیت اردو ترجمے کے ساتھ رکھ دی جائے تو وہ فارسی سے بخوبی واقفیت نہ رکھنے کے باوجود فارسی بیت کی شیریں زبانی اور عالی معنائیت سے بطورِ وافر محظوظ و لذّت اندوز ہو جاتا ہے اور کئی ساعتوں تک اُس شاعری کے سِحر میں مُبتلا رہتا ہے۔ بہ علاوہ، ترجمہ و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد وہ فارسی بیت اُس اردو داں شخص کو اپنی ہی زبان جیسی مانوس لگنے لگتی ہے، اور بہ آسانی یاد بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ اب ذرا تصوُّر کیجیے کہ اگر فارسی شاعری میں دلچسپی رکھنے والا اردو داں فرد زبانِ فارسی کو بھی کماحقُّہُ جان لے تو عظیم فارسی شاعری سے اُس کی لذّت گیری میں کس حد تک اضافہ ہو جائے گا اور شعرِ فارسی سے حِظ یابی کا عالَم اُس کے لیے کیا سے کیا ہو جائے گا؟ یقیناً ویسا شخص بھی پس امام بخش ناسخ کی مانند مُسلسل یہی کہتا رہے گا کہ:
مست ناسخ مجھے رکھتا ہے کلامِ حافظ
میرے ساغر میں بجز بادۂ شیراز نہیں

فارسی زبان و ادبیات زندہ باد!


فارسی اور تُرکی کی باہمی قُربت – علی بیگ حُسین زادہ

آذربائجانی-تُرکِیَوی مُصنّف علی بیگ حُسین زادہ قفقازی آذربائجان سے شائع ہونے والے تُرکی مجلّے ‘فُیوضات’ میں سال ۱۹۰۶ء میں لکھتے ہیں:

"قومیت بحثینه گلینجه معلوم‌دور که، روسیا اهالیسی‌نین بیر قسمی تۆرک‌لردن عبارت اۏلدوغو کیمی، ایرانېن دا بۆتۆن جهتِ شمالیه‌سی بالخاصّه آذربایجان قطعه‌سی تۆرک‌دۆر.
ایرانېن ایالتِ جنوبیه‌سینه گلینجه بورادا ساکن اۏلان فارس‌لارېن عادت، اخلاق و حتیٰ لسانجا تۆرک‌لردن اۏ قدر فرق‌لری یۏخدور، حتیٰ لسانجا دییوریز، چۆنکه هر ایکی دیل مسلمان‌لاشدېغې اۆچۆن بیر-بیرلرینه اۏ قدر تقرُّب ائتمیشدیر که، جُزئی بیر همّت‌له فارس تۆرکۆن، تۆرک فارسېن لسانېنې آ‌نلایا بیلیر، چۆنکه فرق لغت‌لرده اۏلمایېب آنجاق قواعدده‌دیر. مثال اۆچۆن بیر جمله ایراد ائده‌ییم:
فارس دئییر: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تۆرک دئییر: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”
(علی بیگ حُسین‌زاده، فُیوضات، ۱۹۰۶ء)

ترجمہ:
"قومیت کے موضوع پر آیا جائے تو واضح ہے کہ جس طرح اہالیِ رُوس کا ایک حصّہ تُرکوں پر مشتمل ہے، اُسی طرح ایران کی کُل شمالی سَمت، خصوصاً قطعۂ آذربائجان تُرک ہے۔
جہاں تک ایران کے جنوبی صوبوں کا تعلق ہے، وہاں سُکونت رکھنے والے فارس عادات، اخلاق، اور حتیٰ زبان کے لحاظ سے تُرکوں سے زیادہ فرق نہیں رکھتے، ہم کہہ رہے ہیں حتیٰ زبان کے لحاظ سے، کیونکہ دونوں زبانیں مُشرّف بہ اسلام ہو جانے کے باعث ایک دوسرے سے اِس قدر قریب آ گئی ہیں کہ اِک ذرا سی کوشش سے فارس تُرک کی، اور تُرک فارس کی زبان فہم کر سکتا ہے، کیونکہ فرق الفاظ میں نہیں، فقط قواعد میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک جملہ پیش کر رہا ہوں:
فارس کہتا ہے: این جریده که اهلِ قفقاس قرائت می‌کند، به لسانِ تُرکی مُحرِّر است.
تُرک کہتا ہے: بو جریده که، اهلِ قفقاس قرائت ائدییۏر، لسانِ تُرکی اۆزره مُحرِّردیر.”

"Qövmiyyət bəhsinə gəlincə məlumdur ki, Rusiya əhalisinin bir qismi türklərdən ibarət olduğu kimi, İranın da bütün cəhəti-şimaliyyəsi, bilxassə Azərbaycan qitəsi türkdür.
İranın əyaləti-cənubiyyəsina gəlincə burada sakin olan farsların adət, əxlaq və hətta lisanca türklərdən o qədər fərqləri yoxdur, hətta lisanca diyoriz, çünki hər iki dil müsəlmanlaşdığı üçün bir-birlərina o qədər təqarrüb etmişdir ki, cüzi bir himmətlə fars türkün, türk farsın lisanını anlaya bilir, çünki fərq lüğətlərdə olmayıb ancaq qəvaiddədir. Misal üçün bir cümlə irad edəyim:
Fars deyir: İn cəridə ke əhle-Qafqas qeraət mikonəd, be lesane-torki mühərrir əst.
Türk deyir: Bu cəridə ki, əhli-Qafqas qiraət ediyor, lisani-türki üzrə mühərrirdir.”​