افغانستان اور زبانِ فارسی

پاکستان میں کئی افراد کا گمان یہ ہے کہ گویا افغانستان ایک مکمل طور پر پشتون ملک ہے یا یہ کہ وہاں صرف پشتو بولی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان ایک کثیر نژادی اور کثیر لسانی ملک ہے اور ملکی آئین بھی اِس چیز کو تسلیم کرتا ہے۔ افغانستان کا قانونیِ اساسی کہتا ہے:
"ملتِ افغانستان اِن نژادی گروہوں پر مشتمل ہے: پشتون، تاجیک، ہزارہ، اُزبک، ترکمن، بلوچ، پشئی، نورستانی، ایماق، عرب، قرغیز، قزلباش، گوجر، براہوی و دیگران۔”
اکثر افراد اِس سے بھی لاعلم ہیں کہ افغانستان میں نہ صرف زبانِ فارسی بولی اور سمجھی جاتی ہے، بلکہ وہ ملک میں سرکاری زبان کے طور پر بھی رائج ہے۔ افغانستان کے قانونِ اساسی کے مطابق پشتو اور فارسی دونوں ہی کُل ملک کی سرکاری زبانیں ہیں:
"پشتو، دری، ازبکی، ترکمنی، بلوچی، پشئی، نورستانی، پامیری اور ملک میں رائج دیگر زبانوں میں سے پشتو اور دری [فارسی] ریاست کی رسمی زبانیں ہیں۔
جن منطقوں میں مردُم کی اکثریت ازبکی، ترکمنی، پشئی، نورستانی، بلوچی یا پامیری میں تکلم کرتی ہے، وہاں پشتو اور دری کے علاوہ وہ زبان تیسری رسمی زبان ہے۔”

افغانستان کی سرزمین پر سرکاری و رسمی زبان کے طور پر فارسی کا استعمال غزنوی دور سے ہوتا چلا آ رہا ہے۔

جہاں تک افغانستان کے مختلف نژادی گروہوں اور فارسی گویوں کے تناسب کی بات ہے، تو مجھے وارسا، لہستان (پولینڈ) میں موجود افغان سفارت خانے کی ویب گاہ پر یہ لکھا نظر آیا:
"سی آئی اے کے اطلاعات نامۂ جہان کے مطابق افغانستان میں نژادی گروہوں کا تناسب تقریباً یہ ہے:
پشتون ۴۲٪، تاجیک ۲۷٪، ہزارہ ۹٪، ازُبک ۹٪، ایماق ۴٪، ترکمن ۳٪، بلوچ ۲٪، دیگر ۴٪”

"ہِرات اور فراہ کے شہری علاقوں میں ایک بڑی تاجک آبادی موجود ہے۔ یہ حنفی سنی مسلمان قوم دری زبان بولتی ہے (جو ۵۰% سے زیادہ افغانوں میں بولی جاتی ہے) اور اِس قوم نے مرورِ زمانہ کے ساتھ تُرک ثقافتی عناصر اپنا لیے ہیں۔”
ماخذ

یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں صرف تاجک ہی فارسی نہیں بولتے، بلکہ ہزاراؤں، ایماقوں، قزلباشوں اور افغان عربوں کی زبان بھی فارسی ہے۔ نیز، کابل اور ہِرات جیسے شہروں میں کئی خانوادے ایسے موجود ہیں جو نسلاً تو پشتون ہیں، لیکن اُن میں گفتاری زبان کے طور پر فارسی مستعمَل ہے۔ افغاستان کا سابق شاہی خاندان محمدزائی اِس کی سب سے خوب مثال ہے۔
بہ علاوہ، مختلف زبانیں بولنے والے افغانوں کے درمیان ارتباط کے لیے فارسی کا استعمال ہوتا ہے، لہٰذا تقریباً ہر افغان شخص فارسی سمجھ سکتا ہے۔


آلِ سلجوق اور فارسی زبان

"اپنے پیشروؤں غزنویوں کی طرح، سلجوقیوں اور اُن کے تُرک جنگجوؤں کو جلد ہی اُس فارسی ثقافت نے مسخَّر کر لیا جسے حال ہی میں فردوسی نے اپنی اوج پر پہنچایا تھا۔ اُنہوں نے سریعاً فارسی کو تعلیم یافتگان کی زبان کے طور پر، اور پھر بہ زودی روزمرہ زندگی کی زبان کے طور پر اپنا لیا۔ یہ خود اہلِ فارس نہیں، بلکہ آلِ سلجوق تھے جنہوں نے اِس زبان کو وہ وقار بخشا تھا جو سطحِ مرتفعِ فارس سے کہیں دورتر پھیل گیا اور جس نے بالآخر تُرک ثقافت کو ایک خاص خصوصیت عطا کی، جس کے آثار تا امروز نمایاں ہیں۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۰)

"۔۔۔آلِ سلجوق وہ اوّلین حکمران تھے جنہوں نے ایرانی قوم کی ثقافت کو مافوقِ قومیت وقار بخشا تھا۔ یہ وقار بہ تدریج اُن ناموں میں بھی نمودار ہوا جو اِس تُرک شاہی سلسلے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے منتخب کیے گئے۔ سلجوقیوں میں، خصوصاً سلجوقیانِ رُوم میں، اب نام فارسی قہرَمانی افسانوں سے اخذ کیے جانے لگے تھے۔”
(کیمبرج تاریخِ اسلام، جلدِ اول الف: مرکزی اسلامی سرزمینیں زمانۂ قبل از اسلام سے جنگِ عظیمِ اول تک، صفحہ ۱۵۱)

"چونکہ تُرک سلجوقوں کی اپنی کوئی اسلامی روایت یا قوی ادبی میراث نہیں تھی، لہٰذا اُنہوں نے اپنے ایرانی اسلامی معلّموں کی ثقافتی زبان کو اپنا لیا۔ اِس طرح ادبی فارسی تمام ایران میں پھیل گئی، اور عربی زبان اُس ملک میں فقط دینی علوم کی کتابوں تک محدود رہ گئی۔”
(ماخذ: دانش نامۂ بریتانیکا)


فارسی اور دیگر سلطنتی زبانیں

دنیا میں جتنی بھی قدیم سلطنتی زبانیں گذری اور ایک وسیع قطعۂ زمین میں رائج رہی ہیں اُن کا اِس برتر مقام پر نائل ہونے کا سبب عموماً یہ رہا ہے کہ وہ زبانیں بولنے والے ایک خاص موقع پر عظیم سیاسی قوت سے بہرہ مند رہے ہیں۔ عربی اگر جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر عراق سے مراکش تک پھیلی ہے تو اِس کا بنیادی سبب دورِ خلافتِ راشدہ اور اموی و عباسی دور کی فتوحات ہیں۔ اگر اسکندر دنیا فتح کرنے نہ نکلتا تو یونانی زبان و ثقافت بھی اِتنی رائج نہ ہوتی۔ اگر رومیوں کی عظیم الشان سلطنت قائم نہ ہوتی تو شاید لاطینی بھی ایک علاقائی زبان ہی رہتی، کبھی یورپی برِ اعظم کی مشترک علمی و تمدنی زبان اور کیتھولک مسیحیت کی عباداتی زبان نہ بنتی۔ سنسکرت اور چینی زبانیں بھی سنسکرت گویوں اور چینی گویوں کی سیاسی قوت کی وجہ سے وسیع و عریض منطقوں پر بالادست رہیں۔ جدید دور میں بھی جتنی نوآبادیاتی زبانیں مثلاً انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، روسی وغیرہ ہیں اُنہوں نے بھی اپنی اپنی سیاسی حاکمیت کے باعث ممالکِ مستعمرہ پر غلبہ پایا ہے۔ امّا و صد امّا، بلقان سے بنگال اور دکن سے وولگا تک کے علاقوں میں صدیوں تک غالب رہنے والی فارسی زبان کو فارسی بولنے والوں نے نہیں، بلکہ ایک دیگر قوم یعنی ترکوں نے اپنی زبان کے طور پر اپنا کر اطراف و اکناف میں پھیلایا ہے۔ اگر سامانیوں سے قطعِ نظر کر لیا جائے تو دس صدیوں تک یہ تُرک سلطنتیں ہی تھیں جنہوں نے اِس زبان کی مسلسل ترویج و گُستَرِش کی تھی اور اِسے اپنی اپنی قلمروؤں میں واحد رسمی و درباری زبان کے طور پر نافذ کر رکھا تھا اور وہی سلطنتیں فارسی زبان و ثقافت کی برترین حامی تھیں۔ اگر تُرکوں کی شمشیر نہ ہوتی تو آج خود ایران کے بھی ایک کثیر حصے میں فارسیِ دری کا وجود نہ ہوتا، کیونکہ تُرک سلجوقی سلطنت ہی اِس نئی ادبی زبان کے ماوراءالنہر و خراسان سے ایران میں آنے اور وہاں رائج ہونے کا باعث بنی تھی۔ القصّہ، سلطنتی زبانوں کی فہرست میں فارسی اِس لحاظ سے منفرد ہے کہ اِس کے سیاسی پشت و پناہ وہ تھے جو خود ابتداءً فارسی نہیں بولتے تھے۔


مُلّا نصرالدین اور فارسی زبان

امروز یہ پُرمزاح حکایت ترکی زبان میں پڑھنے کو ملی:

ملّا نصرالدین ایک گفتگو میں شامل ہوا۔ یہاں وہاں کی اور آب و ہوا کی باتیں ہونے لگیں۔ گفتگو کے دوران وہاں موجود ایک شخص نے اُس سے کہا:
"خواجۂ من، آپ کی خواجگی پر ہمیں کوئی کلام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آپ فارسی نہیں جانتے! اِسی باعث مسجد میں دیے جانے والے آپ کے وعظ اِس قدر پُرکیف و پُرلذت نہیں ہوتے!"
جب دیگر افراد بھی اِن سخنوں کی تائید کرنے لگے تو ملّا نے پوچھا:
"آپ نے کیسے فیصلہ کر لیا کہ میں فارسی نہیں جانتا؟”
وہاں موجود مردم نے کہا:
"اگر جانتے ہیں تو کوئی فارسی بیت سنائیے!”
ملّا نے فوراً یہ دو سطریں پڑھیں:
"Mor menekşe boynun eğmiş uyurest
Kafir soğan kat kat urba giyirest!”
(بنفشی گُلِ بنفشہ کی گردن خمیدہ ہے اور وہ سویا ہوا ہے؛ کافر پیاز نے تہ بہ تہ جامہ پہنا ہوا ہے۔)
جب ملّا یہ شعر سنا چکا تو سامعین نے اعتراضں کرتے ہوئے پوچھا:
"خواجہ، اِس میں فارسی کہاں ہے؟”
ملّا نے ہنستے ہوئے یہ جواب دیا:
"آخر میں آپ کو ‘است’ نظر نہیں آ رہے؟”

ماخذ

× ملّا کا پورا شعر ترکی میں ہے، صرف دونوں مصرعوں کے آخر میں ‘است’ فارسی کا ہے۔
× بَنَفشی = وائلٹ


زبانِ من فارسی‌ست

دِیروز میں نے تاجکستانی فیس بُکی گروہ ‘زبانِ پارسی‘ پر یہ چند فارسی سطریں لکھی تھیں:

درست است که اردو زبانِ مادریِ من است، ولی کسی از من نپرسیده بود که من کدام زبانی را می‌خواهم داشته باشم. این فقط از تصادفِ تولّد بود که زبانم شد اردو. اگر در اختیارِ من بود، حتماً ترجیح می‌دادم که هنگامِ تولّدم زبانِ فارسی را برای خود انتخاب کنم، چون زبانِ روحیهٔ من غیر از زبانِ فارسی نیست، و وابستگی و پیوستگی که به زبانِ فارسی احساس می‌کنم، به هیچ زبانِ دیگر هرگز احساس نمی‌کنم.
حالا من زبانِ فارسی را به اختیارِ کاملِ خود به طورِ زبانِ خود منتخَب کرده‌ام، و اکنون خود را ‘فارسی‌زبان’ می‌پندارم، نه ‘اردوزبان’. و آرزو دارم که به‌زودی فارسی را تا آن حدّی فرا بگیرم که هرچه که بخواهم در نوشته‌های خود به رشتهٔ تحریر بکشم، قادر باشم که برای نوشتنِ آن از زبانِ فارسیِ فاخر استفاده کنم.

فارسی را پاس می‌داریم زیرا گفته‌اند
قدرِ زر زرگر شناسد، قدرِ گوهر گوهری

ترجمہ:
درست ہے کہ اردو میری مادری زبان ہے، لیکن کسی نے مجھ سے نہیں پوچھا تھا کہ میں کون سی زبان رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ فقط حادثۂ ولادت کے سبب تھا کہ میری زبان اردو ہو گئی۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں حتماً ترجیح دیتا کہ اپنے تولّد کے وقت زبانِ فارسی کو خود کے لیے انتخاب کروں، کیونکہ میری روح کی زبان صرف فارسی ہے، اور جو وابستگی و پیوستگی میں زبانِ فارسی سے محسوس کرتا ہوں، وہ کسی بھی دیگر زبان سے ہرگز محسوس نہیں کرتا۔
حالا میں نے زبانِ فارسی کو اپنے کامل اختیار کے ساتھ زبانِ خود کے طور پر منتخَب کر لیا ہے، اور اب میں خود کو ‘فارسی زبان’ تصور کرتا ہوں، نہ کہ ‘اردو زبان’۔ اور میری آرزو ہے کہ بہ زُودی فارسی کو اِس حد تک سیکھ لوں کہ اپنے نوشتہ جات کے اندر جو کچھ بھی رشتۂ تحریر میں کشیدہ کرنا چاہوں، اُس کو لکھنے کے لیے زبانِ فارسیِ فاخر کا استعمال کر سکوں۔

ہم زبانِ فارسی کی پاس داری و احترام کرتے ہیں کیونکہ یہ بات زباں زد ہے کہ زر کی قدر زرگر اور گوہر کی قدر گوہری ہی پہچانتا ہے۔

× دِیروز = گذشتہ روز
× فارسی‌زبان = وہ شخص جس کی زبان فارسی ہو
× اردوزبان = وہ شخص جس کی زبان اردو ہو


فارسی: علامہ اقبال کی روح کی زبان

محمدجان شکوری بخارایی کی کتاب ‘خراسان است اینجا’ (۱۹۹۶ء) پر تقریظ میں معروف تاجک شاعر لایق شیرعلی لکھتے ہیں:
"… یکی از دانش‌مندانِ معاصرش به علامهٔ اقبال می‌گوید: اشعارِ شما برای ما زندگی‌بخش و آزادی‌بخش است، شما رهنمای ما هستید، ما فارسی نمی‌دانیم، شما به اردو شعر بگویید. اقبال به زبانِ انگلیسی چنین پاسخ می‌دهد: ‘این اشعار به من به زبانِ فارسی الهام می‌شود، زبانِ روحیهٔ من فارسی است.'”
ترجمہ: "۔۔۔علامہ اقبال کے ایک ہم عصر دانش مند نے اُن سے کہا: آپ کے اشعار ہمارے لیے زندگی بخش و آزادی بخش ہیں، آپ ہمارے رہنما ہیں، ہم فارسی نہیں جانتے، آپ اردو میں شعر کہیے۔ اقبال نے انگریزی میں یوں جواب دیا: ‘یہ اشعار مجھ پر فارسی زبان میں الہام ہوتے ہیں، میری روح کی زبان فارسی ہے۔'”

علامہ اقبال کی مانند، میری روح کی زبان بھی صرف اور صرف فارسی ہے۔


مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان

۱۹۱۲ء میں طباعت کا آغاز کرنے والے وسطی ایشیا کے اولین فارسی نشریے ‘بخارائے شریف’ نے اپنے شمارۂ پانزدہم میں فارسی کو ‘مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان’ کہہ کر یاد کیا تھا:
"۔۔۔۔امارتِ بخارا دارای سه میلیون نفوس است، تا اکنون اهالیِ ترکستان و ماوراءالنهر یک روزنامه به زبانِ ملی و اسلامیِ خود نداشتند. حالا از غیرت و همتِ ملت‌پسندانهٔ چند نفر معارف‌پرور و ترقی‌خواهانِ بخارای شریف این رونامهٔ مسمّیٰ به ‘بخارای شریف’ به زبانِ فارسی، که زبانِ رسمیِ بخارا هست، تأسیس شده و از عدم به وجود آمده و به طبع و نشرِ آن اقدام نموده شد. حالا برای ۹-۱۰ میلیون نفوسِ اسلامیهٔ ترکستان و ماوراءالنهر همین یک روزنامه است و فقط.”
ترجمہ: "۔۔۔۔۔امارت بخارا کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، [لیکن] تا حال مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کا اپنی ملی و اسلامی زبان میں کوئی روزنامہ نہیں تھا۔ اب شہرِ بخارائے شریف کے چند معارف پرور و ترقی خواہ نفور کی ملت پسندانہ غیرت اور کوشش سے یہ ‘بخارائے شریف’ نامی روزنامہ فارسی زبان میں، کہ بخارا کی رسمی زبان ہے، تأسیس ہوا ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے اور اِس کے طبع و نشر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حالا ترکستان و ماوراءالنہر کے ۹۰-۱۰۰ لاکھ نفوسِ اسلامیہ کے برائے یہی ایک روزنامہ ہے اور بس۔”
ماخذ

سلام بر تو، ای زبانِ من!
سلام بر تو، ای شهرِ بخارای شریف!