آذربائجانی تُرکوں کی فارسی کی جانب رغبت – فریدون بیگ کؤچرلی

قفقازی آذربائجانی ادیب فریدون بیگ کؤچرلی اپنی کتاب ‘آذربایجان ادبیاتې’ (ادبیاتِ آذربائجان)، جو اُن کی وفات کے بعد ۱۹۲۵ء میں استانبول سے شائع ہوئی تھی، کی جلدِ اول میں لکھتے ہیں:

"کئچمیش‌ده شوکت و قوت صاحبی اۏلان ایران دولتی مدتِ متمادیه ایله تمامی آذربایجان ولایتینه صاحب‌لیک و حکم‌ران‌لېق ائدیب‌دیر. آذربایجان تۆرک‌لری بو دولتِ عظیمه‌نین تحتِ حکومتینده خیلی زمان زندگان‌لېق ائدیب‌دیر. بو جهته ایرانېن نفوذ و تأثیری آذربایجان تۆرک‌لرینه حددن زیاده اۏلوب‌دور. بو تأثیرات ظاهری، یعنی هیئت و قیافت‌ده، طرزِ لباس و خوراک‌ده و سایر اوضاعی و احوال‌ده و امرِ معاش‌ده گؤرسندیڲی کیمی، باطنی و معنوی صورت‌ده دخی اۏلوب‌دور که، اۏن‌لار اخلاق و اطواردا، آیین و آداب‌دا، لسان و ادبیات‌دا مشاهده اۏلونان اثرلردیر. معلوم اۏلا که، آذربایجان تۆرک‌لری هر دیل‌دن زیاده خۏش‌لادېغې، میل و رغبت گؤستردیڲی فارس دیلی اۏلوب‌دور. "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شکر است، ترکی – هنر است” – دئدیک‌ده بیزیم تۆرک‌لر عرب لسانېنې تعریف ائدیب و تۆرک دیلینده سؤیله‌مڲی هنر بیلیب، هر ایکی دیل‌دن زیاده میل و هوس گؤستردیک‌لری ‘شکر’ اۏلوب‌دور که، فارس دیلیندن عبارت‌دیر. بو دیلین زیاده شیرین و خۏش شیوه‌لی اۏلماغېنا بیر کسین شبهه‌سی یۏخ‌دور. اۏنا بناءً بیزیم مکتب‌لرده بو آخر وقت‌لارا کیمی تعلیم و تدریس فارس دیلینده اۏلوب، اوشاق‌لارېمېزېن اۏخودوغو فارس کتاب‌لارې اۏلوب‌دور. نوشته‌جات و مرسولاتېمېز دخی بو دیل‌ده جاری اۏلوب، تۆرک دیلینه آرتېق میل و رغبت گؤرسه‌نیل‌مه‌ییب‌دیر. آذربایجانېن ایرانا متعلق حصه‌لرینده ایندی دخی تعلیم و تدریس و کتابت فارس دیلینده ایشله‌نیر. زافقازیادا آنا دیلی آنجاق آز وقت‌دان بری‌دیر که، آذربایجان تۆرک‌لری‌نین دقّتی‌نی جلب ائدیب، اؤزۆ اۆچۆن بیر نوع حرمت و اهمیت کسب ائتمڲه باشلایېب‌دېر.”

ترجمہ:
"گذشتہ زمانوں میں شوکت و قوت کی مالک دولتِ ایران نے مُدّتِ مدید تک تمام ولایتِ آذربائجان پر مِلکیت و حکمرانی کی ہے۔ آذربائجانی تُرکوں نے اِس دولتِ عظیمہ کی حکومت کے تحت کئی زمانوں تک زندگانی کی ہے۔ اِس وجہ سے آذربائجانی تُرکوں پر ایران کا نفوذ و اثر حد سے زیادہ ہوا ہے۔ یہ تأثیرات جس طرح ظاہری صورت میں یعنی ہیئت و قیافہ میں، طرزِ لباس و خوراک میں اور دیگر اوضاع و احوال میں اور امرِ معاش میں نظر آتی ہیں، اُسی طرح باطنی و معنوی صورت میں بھی ہوئی ہیں، جن کا مشاہدہ اخلاق و اطوار میں، رُسوم و آداب میں، لسان و ادبیات میں ہوتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ جو زبان آذربائجانی تُرکوں کو ہر زبان سے زیادہ پسند آئی ہے اور جس کی جانب اُنہوں نے سب سے زیادہ مَیل و رغبت دکھائی ہے وہ زبانِ فارسی ہے۔ "لفظ – لفظِ عرب است، فارسی – شَکَر است، تُرکی – هنر است” کہتے ہوئے ہمارے تُرکوں نے عربی زبان کی تعریف کی ہے اور تُرکی زبان میں بات کرنے کو ہُنر جانا ہے، لیکن اِن دونوں زبانوں سے زیادہ مَیل و رغبت اُنہوں نے ‘شَکَر’، یعنی فارسی کی جانب دِکھائی ہے۔ اِس زبان کے بِسیار شیرین و خوش طرز ہونے کے بارے میں کسی شخص کو کوئی شُبہہ نہیں ہے۔ لہذا ہمارے مکاتب میں اِن آخر وقتوں تک تعلیم و تدریس فارسی زبان میں ہوتی رہی اور ہمارے اطفال فارسی کتابیں خوانتے (پڑھتے) رہے ہیں۔ ہمارے نوِشتہ جات اور مراسلات بھی اِس زبان میں جاری ہوتے رہے ہیں، اور تُرکی زبان کی جانب زیادہ مَیل و رغبت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ آذربائجان کے جو حصّے ایران میں ہیں، اُن میں ہنوز تعلیم و تدریس و کتابت فارسی زبان میں انجام پاتی ہے۔ قفقاز [یعنی قفقازی آذربائجان] میں مادری زبان نے محض چند زمانے قبل ہی آذربائجانی تُرکوں کی توجُّہ کو جلب کر کے اپنے لیے ایک طرح کا احترام و اہمیت کسب کرنا شروع کیا ہے۔”

لاطینی رسم الخط میں:
"Keçmişdə şövkət və qüvvət sahibi olan İran dövləti müddəti-mütəmadiyyə ilə təmami Azərbaycan vilayətinə sahiblik və hökmranlıq edibdir. Azərbaycan türkləri bu dövləti-əzimənin təhti-hökumətində xeyli zaman zindəganlıq edibdir. Bu cəhətə İranın nüfuz və tə’siri Azərbaycan türklərinə həddən ziyadə olubdur. Bu tə’sirat zahiri, yə’ni hey’ət və qiyafətdə, tərzi-libas və xörəkdə və sair övza’i və əhvalda və əmri-məaşda görsəndiyi kimi, batini və mə’nəvi surətdə dəxi olubdur ki, onlar əxlaq və ətvarda, ayin və adabda, lisan və ədabiyyatda müşahidə olunan əsərlərdir. Mə’lum ola ki, Azərbaycan türkləri hər dildən ziyadə xoşladığı, meyl və rəğbət göstərdiyi fars dili olubdur. "Ləfz – ləfzi-ərəbəst, farsi – şəkərəst, türki – hünərəst” – dedikdə bizim türklər ərəb lisanınını tə’rif edib və türk dilində söyləməyi hünər bilib, hər iki dildən ziyadə meyl və həvəs göstərdikləri "şəkər” olubdur ki, fars dilindən ibarətdir. Bu dilin ziyadə şirin və xoş şivəli olmağına bir kəsin şübhəsi yoxdur. Ona binaən bizim məktəblərdə bu axır vaxtlara kimi tə’lim və tədris fars dilində olub, uşaqlarımızın oxuduğu fars kitabları olubdur. Nəviştəcat və mərsulatımız dəxi bu dildə cari olub, türk dilinə artıq meyl və rəğbət görsənilməyibdir. Azərbaycanın İrana mütəəlliq hissələrində indi dəxi tə’lim və tədris və kitabət fars dilində işlənir. Zaqafqaziyada ana dili ancaq az vaxtdan bəridir ki, Azərbaycan türklərinin diqqətini cəlb edib, özü üçün bir növ hörmət və əhəmiyyət kəsb etməyə başlayıbdır.

Advertisements

صدیقہ بلخی: امیر علی شیر نوائی اور اُن کے نام پر منعقد ہونے والے مؤتمر کا مشترک ہدف محبت کے بیج بونا تھا

افغانستان کی رکنِ ایوانِ بالا صدیقہ بلخی نے اخبار کے خبرنگار سے اپنی گفتگو کے دوران مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں میدانِ ادب و ثقافت کے مفکروں کے ایک جگہ جمع ہونے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور انہوں نے اس موقع کو مؤتمر میں شریک افغانستانی مفکروں کے لیے بہت قیمتی اور مفید شمار کیا۔
امیر علی شیر نوائی مؤتمر کی مہمانِ خصوصی نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے مہمانوں کے مابین احساسِ محبت کی ایجاد کو امیر علی شیر نوائی کی اصل خواہش اور تمدنی میدان کے علماء کی باہمی نشست کا منطقی نتیجہ سمجھا۔
اس طرح کے جلسوں کی اہمیت کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر اُنہوں نے جواب دیا: "زمانۂ حاضر میں خطے کے ہمسایہ اور مسلمان و ہم زبان ممالک ایک دوسرے کے تفکروں اور خیالات کے حامی ہیں۔ اگر خطے کے لوگوں کو امیر علی شیر نوائی جیسی کسی شخصیت سے اُس طرح متعارف کرایا جائے جس طرح کے تعارف کے وہ مستحق ہیں تو وہ شخصیت باہمی نزدیکی کا محور بن سکتی ہے۔”
انہوں نے اضافہ کیا: "امیر علی شیر نوائی ایک ازبک، افغانستانی یا ایرانی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس خطے کی دیگر تاریخی شخصیات مثلاً خواجہ عبداللہ انصاری، سنائی غزنوی، اور مولانا بلخی رومی کی طرح ایک ماورائے سرحد فرد ہیں جو کسی خاص ملک سے تعلق نہیں رکھتے۔”
صدیقہ بلخی نے امیر علی شیر نوائی کی ذات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اُنہوں نے کسی مخصوص ملک یا قوم سے تعلق کو اپنی تالیفات کی فضائے فکر سے خارج کر دیا تھا اور آج اُن کی یاد میں اس مؤتمر کا انعقاد اس بات کی نشانی ہے کہ اس منطقے اور منطقے کے باہر بھی تمدنی نزدیکی کے لیے اُن کی تدبیریں کامیاب رہی ہیں۔”
افغانستان کی اس سیاسی-ثقافتی شخصیت نے کہا: "امیر علی شیر نوائی جیسے لوگ مشترکہ عوامی شخصیتیں ہیں اور یہ کسی خاص ملک کی اختصاصی ملکیت نہیں ہیں۔ ان جیسے لوگوں کے افکار و خیالات اس تمدنی علاقے کے مختلف ملکوں کے جوانوں کو متوجہ کرنے اور اُن میں باہمی نزدیکی کا جذبہ پیدا کرنے کی توانائی رکھتے ہیں۔”
اُنہوں نے کہا: "آپ دیکھیے کہ مختلف ملکوں سے جو مہمان یہاں حاضر ہوئے ہیں اور جن کے درمیان یہاں محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے، وہ اسی نگاہ اور اثر کے ساتھ اپنے ملکوں کو لوٹیں گے اور یہ چیز نیک بختیوں کا باعث بنے گی۔”
صدیقہ بلخی نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ ہمیں ایرانی، افغانستانی، ازبکی، تاجکی جیسے کلمات کے استعمال کے بجائے وحدتِ زبانی کی طرح ڈالنے کی سعی اور منطقے کی مختلف اقوام اور گوناگوں زبانوں کو باہم نزدیک کرنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے۔

خبر کا منبع
تاریخ: ۱۰ فروری ۲۰۱۵ء