قوسین چون نگویم ابرویِ مصطفیٰ را – نواب میر عثمان علی خان آصف‌جاه سابع

قوسین چون نگویم ابرویِ مصطفیٰ را
ما زاغ گفت ایزد آن چشمِ حق‌نما را
از طاعتِ الٰهی دیدم جمالِ احمد
وز حُبِّ مصطفایی دریافتم خدا را
هر کس که غوطه‌زن شد در قُلزُمِ محبت
دارم یقین که یابد آن دُرِّ بی‌بها را
ای مجمعِ کرامت از فیضِ تو چه دور است
شاها اگر نوازی درویشِ بی‌نوا را
گر آبرو تو خواهی ای دل به صِدقِ نیّت
در بحرِ حق فنا شو یابی دُرِ بقا را
جان را فدا نمایم بر روضهٔ مقدّس
گر آستانه‌بوسی گردد نصیب ما را
دریایِ فیضِ ساقی مُژده دهد به مستان
گیرید ساغرِ مَی یا ایُّها السُّکارا
ای خسروِ حسینان ای شاهِ نازنینان
روشن کن از تجلّی کاشانهٔ گدا را
ای تاج کج‌کُلاهان سلطانِ دین‌پناهان
بر حالِ زارِ عثمان چشمِ کرم خدا را
(نواب میر عثمان علی خان آصف‌جاه سابع)

ترجمہ:
میں ابروئے مصطفیٰ کو قوسین کیوں نہ کہوں کہ ایزد تعالیٰ نے اُس چشمِ حق نما کو ‘ما زاغ’ کہا ہے۔
میں نے طاعتِ الٰہی کے ذریعے جمالِ احمد دیکھا اور حُبِّ مصطفائی سے میں خدا تک پہنچا اور اُس کی ذات کو پہچانا۔
مجھے یقین ہے کہ جو بھی شخص بحرِ محبّت میں غوطہ زن ہوا، وہ اُس بیش قیمت دُر کو پا لے گا۔
اے وہ کہ جن کی ذات کریمی و سخاوت کی انجمن ہے! اے شاہ! آپ کے فیض سے کیا بعید ہے اگر آپ درویشِ بے نوا کو نواز دیں۔
اے دل! اگر تم آبرو چاہتے ہو تو صِدقِ نیّت کے ساتھ بحرِ حق میں فنا ہو جاؤ، تمہیں بقا کا دُر مل جائے گا
اگر ہمیں آستانہ بوسی نصیب ہو جائے تو میں [اپنی] جان کو روضۂ مقدس پر فدا کر دوں۔
ساقی کے فیض کا بحر مستوں کو مُژدہ دیتا ہے کہ ‘اے مستو! ساغرِ مَے تھام لیجیے۔’
اے خسروِ حسیناں! اے شاہِ نازنیناں! [اپنی] تجلّی سے کاشانۂ گدا کو منور کر دیجیے۔
اے تاجِ کج کُلاہاں! اے سلطانِ دیں پناہاں! عثمان کے حالِ زار پر خدارا نظرِ کرم کیجیے۔

× بیتِ اول میں سورۂ نجم کی آیت ۱۷ کی جانب اشارہ ہے۔
× دُر = موتی


تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل – امام بخش ناسخ

(تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل)
شاعرِ مُعجِزبیان مرزا قتیل
رفت ازین عالَم سویِ باغِ بهشت
کِلکِ ناسخ سالِ تاریخِ وفات
سعدیِ شیرازیِ ثانی نوشت
(امام بخش ناسخ)
× سعدیِ شیرازیِ ثانی = ۱۲۳۳ھ

ترجمہ:
شاعرِ مُعجِز بیاں میرزا قتیل اِس عالَم سے باغِ بہشت کی جانب روانہ ہو گئے؛ ناسخ کے قلم نے [اُن کا] سالِ تاریخِ وفات ‘سعدیِ شیرازیِ ثانی’ لکھا۔


ای خسروِ مه‌رویان، گل بیرجه گلستانه – سیّد ابوالقاسم نباتی (فارسی + ترکی)

ای خسروِ مه‌رُویان، گل بیرجه گلستانه
تا مِهرِ رُخت پرتَو، سالسېن گُل و ریحانه
آن نرگسِ جادویت، سالدې منی صحرایه
ابرویِ کمان‌دارت، ائتدی منی دیوانه
ساقی ز کرم جامی، لطف ائیله منِ زاره
در دورِ سرت گردم، بیر دور ائله مستانه
برخیز و خرامان کن، اۏل قامتِ دل‌جویت
این عاشقِ مجنون را، بیرجه دۏلو پیمانه
بِگْذر به سرِ لیلی، بو دین و بو مذهب‌دن
خاکِ رهِ رندان شو، اۏل خادمِ میخانه
دوش از غمِ دل یک دم، بیر داغه گذر ائتدیم
افتاد رهم ناگه، بیر طُرفه بیابانه
قربانِ سرت ساقی، باخ بیر منِ مخموره
بِاللهِ قُمِ العجِّل، دؤندۆ اۆرڲیم قانه
خالِ حبشی‌رنگت، ائتدی گۆنۆمۆ قاره
آنِ لعلِ شَکَر‌پاشت، بیر رحمه گلیر یا نه؟
ای بلبلِ غم‌دیده، گلدی ڲینه فصلِ گُل
برخیز و بِزن چهچه، گل شور ایله افغانه
شیرینِ شَکَر‌لب کَی، دېشقارې چېخار ائودن
تا غُلغُله اندازد، بو گنبدِ گردانه
در ریختنِ خونم، تعجیل ائله‌مه چۏخ دا
ناحق‌کُشی، خون‌ریزی، لایق‌دی‌می سلطانه؟
ای کافرِ سنگین‌دل، بیر پرده گؤتۆر اۆزدن
تا طعنه زند حُسنت، خورشیدِ درخشانه
رفتن ز سرِ کویت، بیر امردی چۏخ مشکل
حاشا که جدا از شمع، هرگز اۏلا پروانه
از تارِ خمِ زلفت، سال بۏینوما زنجیری
در گوشهٔ ابرویت، سالدې منی زندانه
آن ساغرِ زرّین را، ساقی منه وئرسین بیر
تا اینکه زنم پایی، بو مُلکِ سلیمانه
مستانه بیاور مَی، سرگرم ائله عُشّاقې
یک دم بِکُن احسانی، بو جمعِ پریشانه
برخیز نباتی را، بیر جام ایله قېل سرمست
آن گاه تماشا کن، بو مرغِ خوش‌اَلحانه
(سید ابوالقاسم نباتی)

ترجمہ:
اے خُسروِ ماہ رُویاں! ذرا ایک بار گلستان میں آؤ تاکہ تمہارا خورشیدِ رُخ گُل و ریحان پر [اپنا] پرتَو ڈالے۔
تمہاری اُس نرگس جیسی چشمِ جادوگر نے مجھے صحرا میں ڈال دیا ہے؛ [اور] تمہارے ابروئے کماں دار نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے۔
اے ساقی! از راہِ کرم ایک جام مجھ زار کو عطا کرو اور لطف کرو۔۔۔ میں تمہارے سر کے گِرد گردش کروں (یعنی تم پر قربان جاؤں)، ایک گردشِ [جام] ایسی مستانہ کرو۔ (یا ایک مستانہ گردشِ جام کرو۔)
اُٹھو اور اپنی اُس قامتِ دلجو کو خراماں کرو؛ [اور] اِس عاشقِ مجنوں کو ایک پیمانۂ پُر عطا کرو۔
لیلی کی راہ میں تم اِس دین اور اِس مذہب سے گذر جاؤ (یعنی اِن کو ترک کر دو)۔۔۔ خاکِ راہِ رنداں ہو جاؤ اور خادمِ میخانہ بن جاؤ۔
گذشتہ شب میں نے غمِ دل کے باعث ایک لمحے کے لیے ایک کوہ کی جانب گذر گیا۔۔۔ ناگاہ میری راہ ایک عجیب بیابان کی جانب چلی گئی۔
اے ساقی! میں تمہارے سر پر قربان جاؤں! مجھ مخمور پر ایک نگاہ ڈالو!۔۔۔ خدارا! اُٹھو اور جلدی کرو، میرا دل خون ہو گیا ہے۔
تمہارے سیاہ رنگ خال نے میرے روز کو سیاہ کر دیا ہے؛ تمہارا وہ لبِ لعلِ شَکَر افشاں ذرا رحم کرے گا یا نہیں؟
اے بلبلِ غم دیدہ! دوبارہ فصلِ گُل آ گئی؛ اُٹھو، چہچہاؤ، اور شور و فغاں کرو۔
شیرینِ شَکَر لب اپنے خانے (گھر) سے کب بیرون نکلے گی؟۔۔۔۔ تاکہ وہ اِس گنبد جیسے چرخِ گردوں میں شور و غُلغُلہ برپا کر دے۔
[اے یار!] میرے خون بہانے میں [اِتنی] زیادہ تعجیل مت کرو؛ ناحق قتل کرنا اور خوں ریزی کیا سلطان کے لیے مناسب ہیں؟
اے کافرِ سنگین دل! ذرا اپنے رُخ سے پردہ ہٹاؤ تاکہ تمہارا حُسن خورشیدِ درخشاں کو طعنہ مارے۔
تمہارے کوچے سے جانا ایک مشکل امر تھا۔۔۔ حاشا کہ پروانہ کبھی شمع سے جدا ہو!
اپنے تارِ خَمِ زلف سے میری گردن میں زنجیر ڈال دو۔۔۔ [اُس نے] تمہارے گوشۂ ابرو میں مجھے زندان میں ڈال دیا ہے۔
ساقی کو چاہیے کہ اُس ساغرِ زرّیں کو ایک بار مجھے دے تا یہ کہ میں اِس مُلکِ سلیماں پر پُشتِ پا مار دوں۔
مست حالت میں شراب لے آؤ اور عاشقوں کو سرگرم کر دو۔۔۔ اِس جمعیتِ پریشاں پر ایک لمحہ ذرا احسان کرو۔
اُٹھو [اور] نباتی کو ایک جام کے ساتھ سرمست کرو۔۔۔ اُور پھر اِس مُرغِ خوش اَلحان کا نظارہ کرو۔

لاطینی خط میں:
Ey xösrövi-məhruyan, gəl bircə gülüstanə,
Ta mehri-rüxət pərtöv, salsın gülü reyhanə.
On nərgisi-caduyət, saldı məni səhrayə,
Əbruyi-kəmandarət, etdi məni divanə.
Saqi, zi kərəm cami, lütf eylə məni-zarə,
Dər dövri-sərət gərdəm, bir dövr elə məstanə.
Bərxizü xuraman kün, ol qaməti-dilcuyət.
In aşiqi-Məcnunra bircə dolu peymanə.
Bügzər bəsəri-Leyli, bu dinü bu məzhəbdən,
Xaki-rahi-rindan şo, ol xadimi-meyxanə.
Duş əz qəmi-dil yek dəm bir dağə güzar etdim,
Oftad rəhəm nagəh bir türfə biyabanə.
Qurbani-sərət, saqi, bax bir məni-məxmurə,
Billahi, qümil əccil, döndü ürəyim qanə.
Xali-həbəşirəngət etdi günümü qarə,
On lə’li-şəkərpaşət bir rəhmə gəlir ya nə?
Ey bülbüli-qəmdidə, gəldi yenə fəsli-gül,
Bərxizü bezən çəh-çəh, gəl şur ilə əfğanə.
Şirini-şəkər ləb key dışqarı çıxar evdən.
Ta ğülğülə əndazəd bu günbədi-gərdanə.
Dər rixtəni-xunəm tə’cil eləmə çox da,
Nahəqküşi, xunrizi layiqdimi sultanə?
Ey kafəri-səngindil, bir pərdə götür üzdən.
Ta tə’nə zənəd hüsnət xurşidi-dirəxşanə.
Rəftən zi səri-kuyət bir əmrdi çox müşkül.
Haşa ki, coda əz şəm, hərgiz ola pərvanə.
Əz tari-xəmi-zülfət sal boynuma zənciri,
Dər guşeyi-əbruyət saldı məni zindanə.
On sağəri-zərrinra saqi mənə versin bir.
Tainki zənəm payi bu mülki-Süleymanə.
Məstanə biyavər mey, sərgərm elə üşşaqi,
Yek dəm bekün ehsani bu cəm’i pərişanə.
Bərxiz Nəbatira, bir cam ilə qıl sərməst,
Ongah tamaşa kün bu mürği-xoşəlhanə.

مأخذِ متن


الحمد لواهب المکارم – محمد فضولی بغدادی (فارسی حمد و دعا + ترجمہ)

محمد فضولی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ کہنہ تُرکی ادبیات کی معروف ترین مثنوی ہے۔ جالبِ توجہ چیز یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اُس تُرکی مثنوی کا کا آغاز فارسی حمد و دعا سے کیا ہے، اور تُرکی زبان میں حمد وہ اگلے باب میں لے کر آئے ہیں۔ زبانِ فارسی اور حضرتِ فضولی بغدادی کے تمام محبّوں کی خدمت میں وہ فارسی حمد ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

بو حضرتِ عزّت‌دن حمد ایله استمدادِ مطالب‌دیر و آثارِ شُکر ایله استدعایِ سترِ معایب‌دیر

الحَمدُ لِواهِبِ المکارِم
والشُّکرُ لِصاحِبِ المراحِم
وهُوَ الاَزَلیُّ فی البِدایه
وهُوَ الاَبَدیُّ فی النِهایه
قد شاعَ بِصُنعِهِ بیانُه
ما اعظمَ فی البقاءِ شأنُه
سبحان الله زهی خداوند
بی‌شِبه و شریک و مثل و مانند
مشّاطهٔ نوعَروسِ عالَم
گوهرکَشِ سِلکِ نسلِ آدم
صرّافِ جواهرِ حقایق
کشّافِ غوامضِ دقایق
پیداکُنِ هر نهان که باشد
پنهان‌کُنِ هر عیان که باشد
معمارِ بنایِ آفرینش
سیراب‌کُنِ ریاضِ بینش
یا رب مددی که دردمندم
آشفته و زار و مُستمندم
از فیضِ هنر خبر ندارم
جز بی‌هنری هنر ندارم
شُغلِ عجبی گرفته‌ام پیش
پیش و پسِ او تمام تشویش
سنگی‌ست به راهم اوفتاده
بحری‌ست مرا هراس داده
توفیقِ تواَم اگر نباشد
ور لطفِ تو ره‌بر نباشد
مشکل که در این گریوهٔ تنگ
لعلی بِدر آرم از دلِ سنگ
مشکل که مراد رخ نماید
زین بحر دُری به دستم آید
آن کن که دلم فروغ گیرد
لوحم رقمِ صفا پذیرد
آیینهٔ خاطرم شود پاک
روشن گردد چراغِ ادراک
قُفلِ درِ آرزو بِتابم
هر چیز طلب کنم بِیابم
بخشد به ریاضِ دولتم آب
ابرِ کرمِ رسول و اصحاب
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
یہ حضرتِ خدائے بزرگوار سے حمد کے ساتھ حاجات کی مدد خواہی، اور شُکر کے ساتھ معائب کی سترپوشی کی استدعا ہے

تمام ستائشیں مکارم اور کرم عطا کرنے والی ذاتِ خدا کے لیے، اور تمام شُکر رحمتوں اور مہربانیوں کے مالک کے لیے ہیں۔ وہ ذات ابتداء کے لحاظ سے ازلی اور انتہا کے لحاظ سے ابدی ہے۔ اُس کی خالقیت و آفریدگاری سے اُس کا بیان جہان میں فراگیر ہوا ہے۔ بقا کے اعتبار سے اُس کی شان کتنی اعلٰی ہے! سبحان اللہ! زہے خداوند! جو بے شبیہ و بے شریک و بے مثل و مانند ہے۔ وہ عَروسِ عالَم کا آرائش گر ہے۔ وہ نسلِ آدم کے سِلک (دھاگے) میں گوہر پرونے والا ہے۔ وہ جواہرِ حقائق کا صرّاف ہے۔ وہ باریک نُکتوں کا کشّاف ہے۔ وہ ہر نہاں چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ہر عیاں چیز کو پنہاں کرنے والا ہے۔ وہ عمارتِ آفرینش کا معمار ہے۔ وہ ریاضِ بینش و بصارت کا سیراب کُن ہے۔ یا رب ذرا مدد کرو کہ میں دردمند، آشفتہ، زار، اور ملول و پریشان ہوں۔ مجھے فیضِ ہنر کی خبر نہیں ہے۔ بجز بے ہنری میرے پاس کوئی ہنر نہیں ہے۔ میں نے ایک عجیب کار شروع کیا ہے، جس کے پیش و پس میں تشویش ہی تشویش ہے۔ یہ ایک سنگ ہے جو میری راہ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک بحر ہے جس نے مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اگر تمہاری توفیق مجھے نصیب نہ ہو، اور اگر تمہارا لطف میرا راہبر نہ ہو، تو مشکل ہے کہ میں اِس کوہِ تنگ میں سنگ کے دل سے کوئی لعل برآمد کر سکوں۔ اور مشکل ہے کہ میری مراد مجھے اپنا رُخ دکھائے، اور اِس بحر سے کوئی دُر میرے دست میں آ جائے۔ کچھ ایسا کرو کہ میرا دل تابندگی پا جائے، میری لوح پر پاکیزگی درج ہو جائے، میرا آئینۂ قلب و ذہن پاک ہو جائے، اور میرا چراغِ ادراک روشن ہو جائے۔ اور [جب] میں درِ آرزو کا قُفل گھماؤں تو جو بھی چیز طلب کرو‌‌ں اُسے حاصل کر لوں۔ اور میرے باغِ بخت پر رسول (ص) اور اصحاب (رض) کا ابرِ کرم آب برسائے۔
× فراگیر = ہر جگہ پھیلا ہوا

استدعایِ سترِ معایب‌

ایک نسخے میں ‘استدعایِ سترِ معایب’ کی بجائے ‘استتارِ معایب’ نظر آیا ہے جس کا ترجمہ ‘معائب کا اِخفاء’ ہے۔


فردوسی اور شیکسپیئر کے درمیان ایک شاعرانہ مضمون کا اشتراک

شاہنامہ میں فردوسی لکھتے ہیں کہ فریدون نے اپنے نوادے (پوتے) منوچہر کی ایسے ناز کے ساتھ پرورش کی تھی کہ وہ یہ بھی نہیں روا رکھتا تھا کہ منوچہر پر سے باد و ہوا گذرے اور اُس کے نازک بدن کو آزار پہنچائے:
"چنان پروریدش که باد و هوا
بر او برگذشتن ندیدی روا"
[فریدون] نے [منوچہر] کی ایسے پرورش کی وہ اُس پر سے باد و ہوا کے گذرنے کو بھی روا نہیں رکھتا تھا۔

ولیم شیکسپیئر نے بھی ‘ہیملٹ’ میں ایک جا ایسا ہی مضمون بیان کیا ہے۔ ہیملٹ اپنے وفات کردہ پدر کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:
"So loving to my mother
That he might not beteem the winds of heaven
Visit her face too roughly.”
"او آنقدر با مادرم مهربان بود
که حتی حاضر نبود اجازه دهد که نسیم‌های آسمانی
به تندی صورتش را بنوازند.
(مترجم: بهزاد جزایری)
"اُسے میری مادر کے ساتھ اِس قدر محبت تھی
کہ وہ حتیٰ یہ اجازت نہیں دیتا تھا کہ آسمانی ہوائیں
تُندی کے ساتھ اُس کے چہرے پر سے گذریں۔”


باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی – خلیفۂ عثمانی سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’

باز آشفته‌ام از کاکُلِ عنبربویی
بسته شد جان و دلم در گِرهِ ابرویی
از که پُرسم خبرش یا ز که جویم چه کنم
دلِ آواره که گم ساخته‌ام در کویی
آه از این دل که شد آشفتهٔ زلفِ سیه‌ای
داد از این دیده که آموخته شد با رُویی
او به صد لطف درونِ دلِ من جِلوه‌کُنان
منِ دیوانه نظر می‌کنم از هر سویی
خَلق گویند دلِ زارِ مُحِبّی که رُبود
راست گویم که فسون‌هایِ لبِ دل‌جویی
(سلطان سلیمان قانونی ‘مُحِبّی’)

ترجمہ:
میں دوبارہ کسی کاکُلِ عنبر بُو کے باعث آشفتہ ہوں؛ میری جان و دل ایک ابرو کی گِرہ میں بندھ گئے ہیں۔
جو دلِ آوارہ میں نے کسی کوچے میں گُم کر دیا ہے، اُس کی خبر کس سے پوچھوں؟ یا کس سے تلاش کروں؟ کیا کروں؟
آہ یہ دل جو کسی زلفِ سیاہ کا آشفتہ ہو گیا ہے!؛ فریاد اِس چشم سے جو کسی چہرے کی خُو گرفتہ ہو گئی ہے!
وہ بصد لُطف میرے دل کے اندر جلوہ کُناں ہیں؛ [جبکہ] میں دیوانہ ہر جانب سے نگاہ کر رہا ہوں۔
خَلق کہتی ہے کہ ‘مُحِبّی’ کا دلِ زار کس نے چُرایا ہے؟ راست کہتا ہوں کہ ایک لبِ دل جُو کے افسُونوں نے۔

مأخذ: تذکرۂ گلشنِ شعراء، احدی بغدادی (تُرکی)


یا من بدا جمالک فی کل ما بدا – عبدالرحمٰن جامی

یا مَنْ بَدا جَمالُكَ فِي كُلِّ ما بَدا
بادا هزار جانِ مقدّس تو را فدا
می‌نالم از جداییِ تو دم به دم چو نَی
وین طُرفه‌تر که از تو نَیَم یک نَفَس جدا
عشق است و بس که در دو جهان جلوه می‌کند
گاه از لباسِ شاه و گه از کِسوتِ گدا
یک صوت بر دو گونه همی‌آیدت به گوش
گاهی ندا همی‌نِهیش نام و گه صدا
برخیز ساقیا ز کرم جُرعه‌ای بِریز
بر عاشقانِ غم‌زده زان جامِ غم‌زُدا
زان جامِ خاص کز خودی‌ام چون دهد خلاص
در دیدهٔ شُهود نمانَد به جز خدا
جامی رهِ هُدیٰ به خدا غیرِ عشق نیست
گفتیم والسّلامُ علیٰ تابِعِ الهُدیٰ
(عبدالرحمٰن جامی)

ترجمہ:
اے وہ کہ تمہارا جمال ہر اُس چیز میں ظاہر ہے جو وجود میں آئی ہے؛ ہزار جانِ گرامی تم پر فدا ہوں!
میں تمہاری جدائی کے باعث مسلسل نَے کی طرح نالہ و زاری کرتا رہتا ہوں؛ اور عجیب تر بات یہ ہے کہ میں تم سے ایک لحظے کے لیے بھی جدا نہیں ہوں۔ ×
[یہ] عشق ہے اور بس، جو دو جہاں میں جلوہ کرتا ہے؛ کبھی شاہ کے لباس [کے وسیلے] سے اور کبھی گدا کے جامے [کے وسیلے] سے۔۔۔
ایک [ہی] آواز دو طرزوں پر تمہارے گوش میں آتی ہے؛ گاہے تم اُس کا نام ندا رکھتے ہو اور گاہے صدا۔ ×
اُٹھو، اے ساقی، [اور] از راہِ کرم غم زدہ عاشقوں کی جانب اُس غم مٹانے والے جام سے ایک جُرعہ اُنڈیلو۔ ×
اُس جامِ خاص سے کہ جب وہ مجھے اپنی خودی و انانیت سے نجات دے دے تو دیدۂ شُہود میں بجز خدا کچھ نہ رہے۔
اے جامی! خدا کی قسم، عشق کے سوا کوئی راہِ ہدایت نہیں ہے؛ ہم نے کہہ دیا، پس ہدایت و راہِ راست کے پیرَو پر سلام ہو!

× نَے = بانسری × گوش = کان × جُرعہ = گھونٹ
× یہ غزل عبدالرحمٰن جامی کے دیوانِ اول ‘فاتحۃ الشباب’ کی اولین غزل ہے۔