یادی از گذشته – فروغ فرخ‌زاد

(یادی از گذشته)
(گذشتہ زمانے کی ایک یاد)

شهری‌ست در کنارهٔ آن شطِّ پُرخروش
با نخل‌هایِ درهم و شب‌هایِ پُر ز نور
شهری‌ست در کنارهٔ آن شطّ و قلبِ من
آنجا اسیرِ پنجهٔ یک مردِ پُرغرور
اُس پُرخروش نہر کے کنارے ایک شہر ہے۔۔۔ جس کے نخل درہم و آشفتہ اور جس کی شبیں پُرنور ہیں۔۔۔۔ اُس نہر کے کنارے ایک شہر ہے اور میرا دل وہاں ایک پُرغرور مرد کے پنجے کا اسیر ہے۔

شهری‌ست در کنارهٔ آن شطّ که سال‌هاست
آغوشِ خود به رویِ من و او گشوده‌است
بر ماسه‌هایِ ساحل و در سایه‌هایِ نخل
او بوسه‌ها ز چشم و لبِ من ربوده‌است
اُس نہر کے کنارے ایک شہر ہے کہ جس نے سالوں میرے اور اُس کے جانب اپنی آغوش کھولی ہے۔۔۔۔ ساحل کی ریگ پر اور نخل کے سایوں میں اُس [مرد] نے میری چشم و لب سے بوسے چرائے ہیں۔۔۔۔

آن ماه دیده‌است که من نرم کرده‌ام
با جادویِ محبتِ خود قلبِ سنگِ او
آن ماه دیده‌است که لرزیده اشکِ شوق
در آن دو چشمِ وحشی و بیگانه‌رنگِ او
[اُس شہر کا] وہ ماہ دیکھ چکا ہے کہ میں نے اپنی محبّت کے جادو سے اُس [مرد] کے قلبِ سنگیں کو نرم کر دیا تھا۔۔۔ وہ ماہ دیکھ چکا ہے کہ اُس [مرد] کی اُن دو وحشی و مثلِ بیگانہ چشموں میں اشکِ شوق لرزا تھا۔۔۔
× ماہ = چاند

ما رفته‌ایم در دلِ شب‌هایِ ماهتاب
با قایِقی به سینهٔ امواجِ بی‌کران
بِشْکُفته در سکوتِ پریشانِ نیمه‌شب
بر بزمِ ما نگاهِ سپیدِ ستارگان
ہم مہتابی نیم شبوں میں کشتی کے ساتھ بے کراں موجوں کے سینے پر چلے تھے۔۔۔۔ نیم شب کے سکوتِ پریشاں میں ہماری بزم پر ستاروں کی سفید نگاہیں کِھلی تھیں۔۔۔

بر دامنم غُنوده چو طفلی و من ز مِهر
بوسیده‌ام دو دیدهٔ در خواب رفته را
در کامِ موج دامنم افتاده‌است و او
بیرون کشیده دامنِ در آب رفته را
وہ میرے دامن پر کسی طِفل کی مانند سویا تھا اور میں نے محبّت سے [اُس کی] دو سوئی ہوئی چشموں کو بوسہ دیا تھا۔۔۔ میرا دامن موج کے دہن میں چلا گیا تھا، اور اُس نے [میرے] آب میں جا چُکے دامن کو بیرون کھینچا تھا۔۔۔۔

اکنون منم که در دلِ این خلوت و سکوت
ای شهرِ پُرخروش، تُرا یاد می‌کنم
دل بسته‌ام به او و تو او را عزیز دار
من با خیالِ او دلِ خود شاد می‌کنم
اب میں ہوں کہ اِس خلوت و سکوت کے اندر، اے شہرِ پُرخروش، تم کو یاد کرتی ہوں۔۔۔ میں اُس [مرد] سے دل بستہ ہوں۔۔۔ تم اُس کو عزیز رکھو۔۔۔ میں اُس کے خیال کے ساتھ اپنے دل کو شاد کرتی ہوں۔

(فُروغ فرُّخ‌زاد)
تهران – شهرِیورماه ۱۳۳۳
(۱۹۵۴ء)

Advertisements

تبِ زردِ خزان

ایرانی شاعرہ فروغ فرّخزاد کی نظم ‘گُذَران’ سے ایک اقتباس:

"آن‌چنان آلوده‌ست
عشقِ غم‌ناکم با بیمِ زوال
که همه زندگی‌ام می‌لرزد
چون ترا می‌نگرم
مثلِ این است که از پنجره‌ای
تک‌درختم را، سرشار از برگ،
در تبِ زردِ خزان می‌نگرم
مثلِ این است که تصویری را
رویِ جریان‌هایِ مغشوشِ آبِ روان می‌نگرم”
(فروغ فرخزاد)

اِس طرح آلودہ ہے
میرا غم ناک عشق خوفِ زوال کے ساتھ
کہ میری کُل زندگی لرزتی ہے
جب میں تمہیں دیکھتی ہوں
تو ایسا لگتا ہے کہ کسی دریچے سے
اپنے تنہا درخت کو، پتّوں سے سرشار،
خزاں کی تبِ زرد میں دیکھ رہی ہوں
ایسا لگتا ہے کہ کسی تصویر کو
بہتے پانی کے آشفتہ بہاؤ پر دیکھ رہی ہوں
× تبِ زرد = زرد بُخار


بوسه – فروغ فرخزاد

(بوسه)

در دو چشمش گناه می‌خندید
بر رخش نورِ ماه می‌خندید
در گذرگاهِ آن لبانِ خموش
شعله‌ای بی‌پناه می‌خندید

شرم‌ناک و پر از نیازی گنگ
با نگاهی که رنگِ مستی داشت
در دو چشمش نگاه کردم و گفت:
باید از عشق حاصلی برداشت

سایه‌ای رویِ سایه‌ای خم شد
در نهان‌گاهِ رازپرورِ شب
نفسی رویِ گونه‌ای لغزید
بوسه‌ای شعله زد میانِ دو لب

(فروغ فرخزاد)

(بوسہ)

اُس کی دو آنکھوں میں گناہ ہنس رہا تھا
اُس کے چہرے پر ماہ کا نور ہنس رہا تھا
اُن خاموش لبوں کی گذرگاہ میں
ایک بے یاور شعلہ ہنس رہا تھا

شرمائے ہوئے اور ایک گونگی نیاز سے پُر
مستی کا رنگ رکھنے والی ایک نگاہ کے ساتھ
میں نے اُس کی دو آنکھوں میں نگاہ کی اور اُس نے کہا:
عشق سے ایک ثمر چُن لینا چاہیے۔

ایک سایہ ایک سائے پر خم ہوا
شب کی راز پرور نہاں گاہ میں
ایک سانس ایک گال پر پھسلی
ایک بوسے نے دو لبوں کے درمیان آگ لگا دی

(فروغ فرخزاد)

× فارسی میں ‘حاصل’ زراعتی محصول کو کہتے ہیں، جبکہ ‘برداشتن’ فصل کی کٹائی اور جمع آوری کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ ‘باید از عشق حاصلی برداشت’ کا دقیق تر ترجمہ یہ ہو گا: عشق کی کِشت زار سے کوئی پیداوار حاصل کر لینی چاہیے۔


حلقه – فروغ فرخزاد

[حلقه]

دخترک خنده کنان گفت که چیست
رازِ این حلقهٔ زر
رازِ این حلقه که انگشتِ مرا
این چنین تنگ گرفته‌ست به بر

رازِ این حلقه که در چهرهٔ او
این همه تابش و رخشندگی است
مرد حیران شد و گفت:
حلقهٔ خوش‌بختی‌ست، حلقهٔ زندگی است

همه گفتند: مبارک باشد
دخترک گفت: دریغا که مرا
باز در معنیِ آن شک باشد

سال‌ها رفت و شبی

زنی افسرده نظر کرد بر آن حلقهٔ زر
دید در نقشِ فروزندهٔ او
روزهایی که به امیدِ وفای شوهر
به هدر رفته، هدر

زن پریشان شد و نالید که وای
وای، این حلقه که در چهرهٔ او
باز هم تابش و رخشندگی است
حلقهٔ بردگی و بندگی است

(فروغ فرخزاد)
تهران – بهار ۱۳۳۴هش

[حلقہ]
چھوٹی لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا کہ کیا ہے
اس زرّیں حلقے کا راز
اس حلقے کا راز کہ جس نے میری انگشت کو
اس قدر تنگی سے آغوش میں لیا ہوا ہے

اس حلقے کا راز کہ جس کے چہرے میں
اتنی زیادہ تابش و رخشندگی ہے
مرد حیران ہوا اور کہا:
خوش بختی کا حلقہ ہے، زندگی کا حلقہ ہے

سب نے کہا: مبارک ہو
چھوٹی لڑکی نے کہا: افسوس کہ مجھے
ابھی بھی اس کے معنی میں شک ہے

کئی سال گزر گئے اور ایک شب

ایک افسردہ زن نے اُس زرّیں حلقے پر نظر کی
اُس کے فروزندہ نقش میں اُس نے دیکھے
وہ ایام جو شوہر کی وفا کی امید میں
ضائع ہو گئے تھے، ضائع۔۔۔

زن پریشان ہوئی اور نالہ زن ہوئی کہ وائے
وائے، یہ حلقہ – کہ جس کے چہرے میں
ابھی بھی تابش و رخشندگی ہے –
غلامی و بندگی کا حلقہ ہے

(فروغ فرخزاد)
تہران – ۱۹۵۵ء

× ‘حلقہ’ انگشتری کو بھی کہتے ہیں۔


اسیر – فروغ فرخزاد

(اسیر)

ترا می‌خواهم و دانم که هرگز
به کامِ دل در آغوشت نگیرم
تویی آن آسمانِ صاف و روشن
من این کنجِ قفس، مرغی اسیرم
مجھے تمہاری آرزو ہے (لیکن) میں جانتی ہوں کہ جیسا میرا دل چاہتا ہے اُس طرح تمہیں آغوش میں نہیں لے پاؤں گی۔ تم وہ صاف اور روشن آسمان ہو جبکہ میں قفس کے اس کنارے میں ایک اسیر پرندہ ہوں۔

ز پشتِ میله‌های سرد و تیره
نگاهِ حسرتم حیران به رویت
در این فکرم که دستی پیش آید
و من ناگه گشایم پر به سویت
ان سرد اور تاریک جالیوں کے پیچھے سے میری پُرحسرت نگاہیں تمہارے چہرے کی جانب حیرانی سے تاک رہی ہیں۔ میں اس فکر میں ہوں کہ کوئی ہاتھ سامنے آئے اور میں اچانک تمہاری جانب پر پھیلا دوں۔

در این فکرم که در یک لحظه غفلت
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ مردِ زندانبان بخندم
کنارت زندگی از سر بگیرم
میں اس فکر میں ہوں کہ ایک غفلت کے لمحے میں اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں اور مردِ زندان بان کی آنکھوں کے سامنے (اُس کی ناکامی ظاہر کرنے کے لیے) خندہ زن ہوں۔ بعد ازاں، تمہارے پہلو میں نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر دوں۔

در این فکرم من و دانم که هرگز
مرا یارای رفتن زین قفس نیست
اگر هم مردِ زندانبان بخواهد
دگر از بهرِ پروازم نفس نیست
میں اس فکر میں تو ہوں لیکن میں جانتی ہوں کہ مجھ میں ہرگز اس قفس کو چھوڑنے کی توانائی نہیں ہے۔ اگر داروغۂ زندان بھی یہ چاہے تب بھی اب مجھ میں پرواز کے لیے سانس باقی نہیں رہی ہے۔

ز پشتِ میله‌ها، هر صبحِ روشن
نگاهِ کودکی خندد به رویم
چو من سر می‌کنم آوازِ شادی
لبش با بوسه می‌آید به سویم
ان جالیوں کے پیچھے سے ہر صبحِ روشن ایک بچّے کی نگاہیں میرے چہرے کے سامنے مسکراتی ہیں۔ میں جب بھی خوشی کا نغمہ شروع کرتی ہوں تو اُس کے لب بوسے کے ہمراہ مری جانب آتے ہیں۔

اگر ای آسمان خواهم که یک روز
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ کودکِ گریان چه گویم
ز من بگذر، که من مرغی اسیرم
اے آسمان! اگر میں چاہوں کہ ایک روز اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں تو پھر میں (اُس) طفلِ گریاں کی آنکھوں سے کیا کہوں گی: (کیا یہ کہ) مجھے چھوڑ دو کہ میں ایک اسیر پرندہ ہوں؟

من آن شمعم که با سوزِ دلِ خویش
فروزان می‌کنم ویرانه‌ای را
اگر خواهم که خاموشی گزینم
پریشان می‌کنم کاشانه‌ای را
میں وہ شمع ہوں کہ اپنے دل کے سوز سے ایک ویرانے کو فروزاں کرتی ہوں۔ (لیکن) اگر میں چاہوں کہ خاموشی اختیار کر لوں تو میں ایک کاشانے کو درہم برہم کر دوں گی۔

(فروغ فرخزاد)