اۏل مُشک‌بو غزاله اخلاصېم ائیله واضح – محمد فضولی بغدادی

اۏل مُشک‌بو غزاله اخلاصېم ائیله واضح
بلِّغْ صبا سلاماً مِسْكِيّةَ الروایِح
اۏلغاج حبیبه واصل بیزدن هم اۏلما غافل
لا تَقْطَعِ الرّسائِل، لا تَکْتُمِ الصّرایِح
یۆزده سِرِشک قانې سؤیله‌ر غمِ نِهانی
قد تَظْهَرُ المعانی بِالْخَطِّ فی اللَوایِح
من مُبتلایِ هجران، من‌دن ایراق جانان
والْعُمْرُ كَيْفَ ما کانْ مِثْلُ الرِیاحِ رایِح
عشقین، فضولیِ زار، ترک ائتمک اۏلدو دُشوار
یا عارِفاً بِما صارْ لا تُكْثِرِ النّصایِح
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
اے بادِ صبا! اُس غزالِ مُشک بو پر میرا اِخلاص واضح کر دو، اور اُس کو میری جانب سے مُشک بو سلام پہنچا دو۔
حبیب سے واصل ہو جانے کے بعد ہم سے بھی غافل مت ہو جانا!۔۔۔ مُکاتَبت کو قطع مت کرنا، اور جو کچھ [تمہارے دل میں] صریح باتیں ہوں، اُن کو پِنہاں مت کرنا!
چہرے پر اشکِ خونیں غمِ نہانی بیان کر دیتا ہے۔۔۔ لَوحوں پر معانی خط و سطر کے توسُّط سے ظاہر ہوتے ہیں۔
میں مُبتلائے ہجراں ہوں، اور جاناں مجھ سے دور ہے۔۔۔ عُمر جیسی بھی ہو، باد کی طرح حرَکت کر کے گُذر جاتی ہے۔
اے فضولیِ زار! اُس کے عشق کو ترک کرنا دُشوار ہو گیا ہے۔۔۔ اے موجودات و اشیاء سے آگاہ و مُطّلِع شخص! زیادہ نصیحتیں مت کرو!

لاطینی رسم الخط میں:
Ol müşkbu qəzalə ixlasım eylə vazeh,
Bəlliğ, səba, səlamən miskiyyətər-rəvayeh.
Olğac həbibə vasil, bizdən həm olma qafil,
La təqtəir-rəsail, la təktümis-sərayeh.
Yüzdə sirişk qanı, söylər qəmi-nihani,
Qəd təzhərül-mə’ani bil-xətti fil ləvayeh.
Mən mübtəlayi-hicran, məndən iraq canan.
Vəl-ömrü keyfə ma kan mislür-riyahi rayeh.
Eşqin, Füzuliyi-zar, tərk etmək oldu düşvar
Ya arifən bima sar, la tüksirin-nəsayeh

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن

میں عربی زیادہ نہیں جانتا، اور مندرجۂ بالا غزلِ مُلمّع کے عربی مصرعوں کا ترجمہ میں نے تُرکی ترجمے کے توسُّط سے کیا ہے۔ اگر عربی مصرعوں کے ترجمے میں کسی قسم کی غلطی ہو تو لُطفاً مطّلع کر دیجیے گا، اور اگر اعراب میں کوئی غلطی نظر آئے تو از رُوئے کرم اُس سے بھی آگاہ کر دیجیے گا۔

Advertisements

محمد فضولی بغدادی کی سِتائش میں ایک بند

ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی ‘جۏشغون’ اپنے تُرکی منظومے ‘عزیز شهریارا سلام’ (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں محمد فضولی بغدادی کی سِتائش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«فۆضولی» شاعیردن، گل یاد ائیله‌یک،
درین معنالې شئعرلرین، دینله‌یک،
اۏنون هۆنرلرین‌دن نه سؤیله‌یک،
عرب‌ده، فارسی‌دا، تۆرکی‌ده اوستاد؛
شئعرده دیکلله‌دیب، اۆستۆن بیر بۆنیاد.
(حُسین‌قُلی کاتبی ‘جۏشغون’)
آؤ، ہم فُضولی شاعر کو یاد کریں
[آؤ] اُس کے عمیق معانی والے اشعار کو سُنیں
اُس کے ہُنر کے بارے میں ہم کیا کہیں؟
وہ عربی، فارسی و تُرکی میں اُستاد [تھا]
اُس نے شاعری میں ایک عالی بُنیاد قائم کی

Füzuli şairdən, gəl yad eyləyək,
Dərin mə’nalı şe’rlərin, dinləyək,
Onun hünərlərindən na söyləyək,
Ərəbdə, Farsida, Türkidə ustad;
Şe’rdə dikəllədib, üstün bir bünyad.

× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔


هیچ سُنبُل سُنبُلِ زُلفۆن کیمی مُشکین دئڲیل – محمد فضولی بغدادی

هیچ سُنبُل سُنبُلِ زُلفۆن کیمی مُشکین دئڲیل
نافهٔ چینی ساچېن تک دئرلر امّا چین دئڲیل
وار گُل برگینده هم الحق نزاکت بیرله رنگ
لیک جان‌پرور لبِ لعلین کیمی شیرین دئڲیل
مهربان دئرلر سنی اغیاره لیکن من اۏنا
باور ائتمن کیم سنه مِهر ائیله‌مک آیین دئڲیل
خوب‌لر محرابِ ابروسینه قېلمازسان سُجود
دینینی دؤندرگیل ای زاهد که یاخشې دین دئڲیل
تا فضولی قامت و رُخسارېنا وئرمیش کؤنۆل
مایلِ سرو و هواخواهِ گُل و نسرین دئڲیل
(محمد فضولی بغدادی)

کوئی بھی سُنبُل تمہارے سُنبُلِ زُلف کی مانند مُشکیں نہیں ہے۔۔۔ نافۂ چِین کو تمہاری زُلف جیسا کہتے ہیں، لیکن [یہ] حقیقت نہیں ہے۔
بے شک! برگِ گُل میں بھی نزاکت و رنگ موجود ہے، لیکن [وہ] تمہارے جاں پروَر لبِ لعل کی مانند شیریں نہیں ہے۔
[مردُم] تم کو اغیار کی جانب مہربان کہتے ہیں لیکن میں اُس پر یقین نہیں کرتا کیونکہ مِہربانی و محبّت کرنا تمہاری طرز و روِش نہیں ہے۔
[اگر] تم خُوبوں کے محرابِ ابرو کی جانب سجدہ نہیں کرتے۔۔۔ اے زاہد! اپنے دین کو تبدیل کر لو کہ [یہ] خوب دین نہیں ہے۔
جب سے فضولی نے تمہارے قامت و رُخسار کو دل دیا ہے، وہ سرْو کی جانب مائل، اور گُل و نسرین کا آرزومند نہیں ہے۔
× نافۂ چِین = چِینی آہُو کی ناف سے نکلنے والا مُشک

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Hiç sünbül sünbüli-zülfün kimi mişkin degil,
Nafeyi-Çini saçın tək derlər, əmma çin degil.
Var gül bərgində həm əlhəq, nəzakət birlə rəng,
Leyk, canpərvər ləbi-lə’lin kimi şirin degil.
Mehriban derlər səni əğyarə, lakin mən ona
Bavər etmən kim, sənə mehr eyləmək ayin degil.
Xublər mehrabi-əbrusinə qılmazsan sücud,
Dinini döndərgil, ey zahid, ki, yaxşı din degil.
Ta Füzuli qamətü rüxsarına vermiş könül,
Maili-sərvü həvaxahi-gülü nəsrin degil.

تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
Hiç sünbül sünbül-i zülfün kimi müşgin değil
Nâfe-i Çin’i saçın tek derler ammâ çin değil
Var gül berginde hem el-hak nezâket birle reng
Lik can-perver leb-i lâ’lin kimi şîrin değil
Mihr-ban derler seni ağyâra likin ben ana
Bâver etmen kim sana mihr eylemek âyin değil
Hûblar mihrâb-i ebrûsuna kılmazsan sücûd
Dinini döndergil ey zâhid ki yahşı din değil
Tâ Fuzûlî kâmet ü ruhsârına vermiş gönül
Mâ’il-i serv ü hevâ-hâh-i gül ü nesrin değil

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن


محمد فضولی بغدادی کی نظر میں غزلِ خوب کی خصوصیات

محمد فضولی بغدادی اپنے ایک تُرکی قطعے میں غزل کے بارے میں فرماتے ہیں:

(قطعه)
اۏلدور غزل که فیضی اۏنون عام اۏلوب مُدام
آرایشِ مجالسِ اهلِ قبول اۏلا
وِردِ زبانِ اهلِ صفا و سُرور اۏلوب
مضمونو ذوق‌بخش و سریعُ‌الحُصول اۏلا
اۏندان نه سُود کیم اۏلا مُبهم عبارتی
هر یئرده اِستِماعین ائدنلر ملول اۏلا
(محمد فضولی بغدادی)

غزل وہ ہے کہ جس کا فیض ہمیشہ عام ہو اور جو مجالسِ اہلِ قبول کی آرائش ہو۔
[جو ہمیشہ] اہلِ صفا و سُرور کا وِرد زباں ہو اور جس کا مضمون ذوق بخش اور سریع الحصول (آسان فہم) ہو۔
اُس [غزل] سے کیا فائدہ کہ جس کی عبارت مُبہم ہو اور ہر جگہ اُس کو سننے والے ملول ہو جائیں؟

Oldur ğəzəl ki, feyzi onun am olub müdam,
Arayişi-məcalisi-əhli-qəbul ola.
Virdi-zəbani-əhli-səfavü sürur olub,
Məzmunu zövqbəxşü səri’ül-hüsul ola.
Ondan nə sud kim, ola mübhəm ibarəti,
Hər yerdə istima’in edənlər məlul ola.


الحمد لواهب المکارم – محمد فضولی بغدادی (فارسی حمد و دعا + ترجمہ)

محمد فضولی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ کہنہ تُرکی ادبیات کی معروف ترین مثنوی ہے۔ جالبِ توجہ چیز یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اُس تُرکی مثنوی کا کا آغاز فارسی حمد و دعا سے کیا ہے، اور تُرکی زبان میں حمد وہ اگلے باب میں لے کر آئے ہیں۔ زبانِ فارسی اور حضرتِ فضولی بغدادی کے تمام محبّوں کی خدمت میں وہ فارسی حمد ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

بو حضرتِ عزّت‌دن حمد ایله استمدادِ مطالب‌دیر و آثارِ شُکر ایله استدعایِ سترِ معایب‌دیر

الحَمدُ لِواهِبِ المکارِم
والشُّکرُ لِصاحِبِ المراحِم
وهُوَ الاَزَلیُّ فی البِدایه
وهُوَ الاَبَدیُّ فی النِهایه
قد شاعَ بِصُنعِهِ بیانُه
ما اعظمَ فی البقاءِ شأنُه
سبحان الله زهی خداوند
بی‌شِبه و شریک و مثل و مانند
مشّاطهٔ نوعَروسِ عالَم
گوهرکَشِ سِلکِ نسلِ آدم
صرّافِ جواهرِ حقایق
کشّافِ غوامضِ دقایق
پیداکُنِ هر نهان که باشد
پنهان‌کُنِ هر عیان که باشد
معمارِ بنایِ آفرینش
سیراب‌کُنِ ریاضِ بینش
یا رب مددی که دردمندم
آشفته و زار و مُستمندم
از فیضِ هنر خبر ندارم
جز بی‌هنری هنر ندارم
شُغلِ عجبی گرفته‌ام پیش
پیش و پسِ او تمام تشویش
سنگی‌ست به راهم اوفتاده
بحری‌ست مرا هراس داده
توفیقِ تواَم اگر نباشد
ور لطفِ تو ره‌بر نباشد
مشکل که در این گریوهٔ تنگ
لعلی بِدر آرم از دلِ سنگ
مشکل که مراد رخ نماید
زین بحر دُری به دستم آید
آن کن که دلم فروغ گیرد
لوحم رقمِ صفا پذیرد
آیینهٔ خاطرم شود پاک
روشن گردد چراغِ ادراک
قُفلِ درِ آرزو بِتابم
هر چیز طلب کنم بِیابم
بخشد به ریاضِ دولتم آب
ابرِ کرمِ رسول و اصحاب
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
یہ حضرتِ خدائے بزرگوار سے حمد کے ساتھ حاجات کی مدد خواہی، اور شُکر کے ساتھ معائب کی سترپوشی کی استدعا ہے

تمام ستائشیں مکارم اور کرم عطا کرنے والی ذاتِ خدا کے لیے، اور تمام شُکر رحمتوں اور مہربانیوں کے مالک کے لیے ہیں۔ وہ ذات ابتداء کے لحاظ سے ازلی اور انتہا کے لحاظ سے ابدی ہے۔ اُس کی خالقیت و آفریدگاری سے اُس کا بیان جہان میں فراگیر ہوا ہے۔ بقا کے اعتبار سے اُس کی شان کتنی اعلٰی ہے! سبحان اللہ! زہے خداوند! جو بے شبیہ و بے شریک و بے مثل و مانند ہے۔ وہ عَروسِ عالَم کا آرائش گر ہے۔ وہ نسلِ آدم کے سِلک (دھاگے) میں گوہر پرونے والا ہے۔ وہ جواہرِ حقائق کا صرّاف ہے۔ وہ باریک نُکتوں کا کشّاف ہے۔ وہ ہر نہاں چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ہر عیاں چیز کو پنہاں کرنے والا ہے۔ وہ عمارتِ آفرینش کا معمار ہے۔ وہ ریاضِ بینش و بصارت کا سیراب کُن ہے۔ یا رب ذرا مدد کرو کہ میں دردمند، آشفتہ، زار، اور ملول و پریشان ہوں۔ مجھے فیضِ ہنر کی خبر نہیں ہے۔ بجز بے ہنری میرے پاس کوئی ہنر نہیں ہے۔ میں نے ایک عجیب کار شروع کیا ہے، جس کے پیش و پس میں تشویش ہی تشویش ہے۔ یہ ایک سنگ ہے جو میری راہ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک بحر ہے جس نے مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اگر تمہاری توفیق مجھے نصیب نہ ہو، اور اگر تمہارا لطف میرا راہبر نہ ہو، تو مشکل ہے کہ میں اِس کوہِ تنگ میں سنگ کے دل سے کوئی لعل برآمد کر سکوں۔ اور مشکل ہے کہ میری مراد مجھے اپنا رُخ دکھائے، اور اِس بحر سے کوئی دُر میرے دست میں آ جائے۔ کچھ ایسا کرو کہ میرا دل تابندگی پا جائے، میری لوح پر پاکیزگی درج ہو جائے، میرا آئینۂ قلب و ذہن پاک ہو جائے، اور میرا چراغِ ادراک روشن ہو جائے۔ اور [جب] میں درِ آرزو کا قُفل گھماؤں تو جو بھی چیز طلب کرو‌‌ں اُسے حاصل کر لوں۔ اور میرے باغِ بخت پر رسول (ص) اور اصحاب (رض) کا ابرِ کرم آب برسائے۔
× فراگیر = ہر جگہ پھیلا ہوا

استدعایِ سترِ معایب‌

ایک نسخے میں ‘استدعایِ سترِ معایب’ کی بجائے ‘استتارِ معایب’ نظر آیا ہے جس کا ترجمہ ‘معائب کا اِخفاء’ ہے۔


ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم – محمد فضولی بغدادی کی ایک تُرکی رباعی

ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم
قېلدېن عربی افصحِ اهلِ عالَم
ائتدین فُصَحایِ عجمی عیسیٰ‌دم
بن تُرک‌زبان‌دان التفات ائیله‌مه کم
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Еy fеyzrəsani-ərəbü türkü əcəm
Qıldın ərəbi əfsəhi-əhli-aləm
Еtdin füsəhayi-əcəmi Isadəm
Bən türkzəbandan iltifat еyləmə kəm

ترجمہ:
اے عرب و تُرک و عجم کو فیض پہنچانے والے [خدا]! تم نے عرب کو افصحِ عالَمِین بنایا؛ تم نے فُصَحائے عجم کو عیسیٰ نَفَس کیا؛ [پس] مجھ تُرک زبان سے [اپنی] اِلتِفات و توجہ کم مت کرنا۔
× تُرک زبان = وہ شخص جس کی زبان تُرکی ہو

× یہ رباعی محمد فضولی بغدادی کی کتاب ‘حدیقۃ السُعَداء’ کے دیباچے سے مأخوذ ہے۔


ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی – محمد فضولی بغدادی (نعت)

بحر = فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی
نبی اول وقت که بالفعل گرکمزدی نبی
سیدِ ابطحی و مکّی و اُمّی و ذکی
هاشمی و مدنی و قُرشی و عربی
سبقتِ ذات ایله ایوانِ رسالت صدری
شرفِ اصل ایله فهرستِ رُسُل منتخبی
عزمِ چرخ ائتدی مسیحا که بولا معراجین
یئتمه‌دی منزلِ مقصودا طریقِ طلبی
انبیادا کیمه سن تک بو میسّردیر کیم
آدمه وجهِ مُباهات اولا عزِّ نسبی
خلفِ معتبرِ آدم و حوّا سنسن
جَعَل اللهُ فَداءً لَکَ اُمّی وَاَبی
یا نبی! قیلما فضولینی قاپیندان محروم
عفو قیل وار ایسه درگاهدا ترکِ ادبی
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی خط میں:
Ey vücudun əsəri, xilqəti-əşya səbəbi!
Nəbi ol vəqt ki, bilfe’l gərəkməzdi nəbi.
Seyyidi-əbtəhiyü məkkiyü ümmiyü zəki,
Haşimiyü mədəniyü qürəşiyü ərəbi.
Səbqəti-zat ilə eyvani-risalət sədri,
Şərəfi-əsl ilə fehristi-rüsul müntəxəbi.
Əzmi-çərx etdi Məsiha ki, bula me’racın,
Yetmədi mənzili-məqsudə təriqi-tələbi.
Ənbiyada kimə sən tək bu müyəssərdir kim,
Adəmə vəchi-mübahat ola izzi-nəsəbi.
Xələfi-mö’təbəri-Adəmü Həvva sənsən,
Cə’ələllahü fədaən ləkə ümmi və əbi.
Ya Nəbi, qılma Füzulini qapından məhrum,
Əfv qıl, var isə dərgahdə tərki-ədəbi.

ترجمہ:
اے کہ آپ کے وجود کا اثر تمام اشیاء کی تخلیق کا سبب ہے۔ آپ اُس وقت بھی نبی تھے جب ہنوز کسی نبی کی ضرورت نہ تھی۔
اے آپ کہ سیدِ ابطحی، مکّی، اُمّی، ذکی، ہاشمی، مدنی، قریشی اور عربی ہیں۔
آپ اپنی ذات کی سبقت کے ساتھ ایوانِ رسالت کے صدر ہیں؛ جب کہ اپنے اصل کے شرف کے ساتھ رسولوں کی فہرست میں برگزیدہ ہیں۔
مسیح نے آپ کی معراج تک پہنچے کے لیے چرخ کا عزم کیا تھا؛ لیکن اُن کی راہِ طلب منزلِ مقصود تک نہ پہنچ سکی۔
انبیاء میں آپ کی طرح کسے یہ میسّر ہوا ہے کہ اُس کے نسب کی ارجمندی حضرت آدم کے لیے باعثِ افتخار ہو۔
آدم و حوا کے محترم فرزند و جانشین آپ ہیں؛ اللہ میرے مادر و پدر کو آپ پر فدا کرے!
یا نبی! فضولی کو اپنے در سے محروم مت کیجیے؛ اگر آپ کی درگاہ میں اُس سے کوئی ترکِ ادب ہو گیا ہو تو عفو کیجیے۔