کوه‌کن کُند ائیله‌میش مین تیشه‌نی بیر داغ ایلن – محمد فضولی بغدادی

کوه‌کن کُند ائیله‌میش مین تیشه‌نی بیر داغ ایلن
من قۏپارېب سالمېشام مین داغې بیر دېرناغ ایلن
غم یۏلوندا من قالېب گئتدیسه مجنون یۏخ عجب
سایرویا دُشواردېر هم‌ره‌لیک ائتمک ساغ ایلن
گَردِ راهېن وئرمه‌سه گؤز یاشېنا تسکین نۏلا
توتماق اۏلماز بؤیله سیلابېن یۏلون تۏپراغ ایلن
غم اۏغورلار عشق بازارېندا نقدِ عُمرۆمۆ
قېلماق اۏلماز سود سَودادا یامان اۏرتاغ ایلن
روضهٔ کویین‌ده تاپمېش‌دېر فضولی بیر مقام
کیم اۏنا جنّت قوشو یئتمه‌ز مین ایل اوچماغ ایلن
(محمد فضولی بغدادی)

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

[فرہادِ] کوہ کَن نے ایک کوہ [کو کھودنے] کے لیے ہزاروں تیشوں کو کُند کیا تھا، [جبکہ] میں نے ایک ناخُن کے ذریعے ہزاروں کوہوں کو کھود پھینکا ہے۔‌ (تیشہ = کُلہاڑی)
راہِ غم میں اگر مَیں [رُکا] رہ گیا اور مجنون چلا گیا تو عجب نہیں ہے۔۔۔ بیمار کے لیے تندُرُست کے ساتھ ہمراہی کرنا دُشوار ہے۔ (یعنی بیمار شخص، تندُرُست کے ساتھ ہمراہی نہیں کر پاتا۔)
اگر تمہاری راہ کی گَرد [میرے] اشکوں کو تسکین نہ دے تو کیا ہوا؟۔۔۔ ایسے سیلاب کی راہ کو خاک کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔
بازارِ عشق میں غم میری عُمر کی نقدی کو چُراتا ہے۔۔۔ بد ہمکار و شریک کے ساتھ سَودا و تجارت میں نفع [حاصل] نہیں کیا جا سکتا۔
تمہارے باغِ کُوچہ میں فُضولی نے ایک [ایسا] مقام پایا ہے کہ پرندۂ جنّت ہزار سال پرواز کے ساتھ [بھی] اُس تک نہیں پہنچے گا۔

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Kuhkən künd eyləmiş min tişəni bir dağ ilən,
Mən qoparıb salmışam min daği bir dırnağ ilən.
Qəm yolunda mən qalıb, getdisə Məcnun, yox əcəb,
Sayruya düşvardır həmrəhlik etmək sağ ilən.
Gərdi-rahin verməsə göz yaşinə təskin, nola.
Tutmaq olmaz böylə seylabın yolun toprağ ilən.
Qəm oğurlar eşq bazarında nəqdi-ömrümü,
Qılmaq olmaz sud sövdadə yaman ortağ ilən.
Rövzeyi-kuyində tapmışdır Füzuli bir məqam
Kim, ona cənnət quşu yetməz min il uçmağ ilən.

تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
Kûh-ken künd eylemiş bin tîşeni bir dağ ilen
Ben koparıp salmışım bin dağı bir tırnağ ilen
Gam yolunda ben kalıp gittiyse Mecnun yok aceb
Sayruya düşvârdır hemrehlik etmek sağ ilen
Gerd-i râhın vermese göz yaşına teskîn n’ola
Tutmak olmaz böyle seyl-âbın yolun toprağ ilen
Gam uğurlar aşk bâzârında nakd-i ömrümü
Kılmak olmaz sûd sevdâda yaman ortağ ilen
Ravzâ-i kûyunda tapmıştır Fuzûlî bir makâm
Kim ana cennet kuşu yetmez bin ıl uçmağ ilen

Advertisements

محمد فضولی بغدادی کا ذکر بالآخر ایک پاکستانی اردو اخبار میں

جب میں نے انٹرنیٹ پر فارسی و تُرکی ادبیات کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی، اُس وقت تک پاکستان میں محمد فضولی بغدادی بالکل گُمنام شاعر تھے، حالانکہ وہ قومِ اتراک کے ایک عظیم ترین شاعر ہیں، اور اُن کا آذربائجان و تُرکیہ میں (نیز، تُرکستان اور عراقی و شامی تُرکوں میں بھی) وہی رُتبہ ہے جو فارسی گویوں میں جنابِ حافظ شیرازی کا ہے، یعنی تُرکی سرا شاعروں میں وہ معروف ترین ہیں، اور کلاسیکی تُرکی شاعری کا ہر قاری اُن کی شاعری سے آگاہی رکھتا ہے، اور اُن کی کئی ابیات اکثر تُرکی گویوں کو ازبر ہیں۔ علاوہ بریں، اُن کی فارسی شاعری بھی فصاحت و بلاغت اور شعری استعداد کے لِحاظ سے فُصَحائے عجم کی شاعری سے کم تر نہیں ہے۔ اِن چیزوں کے مدِّ نظر، میری اوّل روز سے کوشش رہی ہے کہ میں پاکستان میں جنابِ محمد فضولی بغدادی کے نام و آثار کی ترویج کرتا رہوں اور اِس مقصد کے لیے میں اُن کے فارسی و تُرکی اشعار کے ترجمے کرتا آیا ہوں۔ ارادہ تو یہ ہے کہ اگر مشیتِ الہٰی اجازت دے، اور مجھے فُرصت و موقع ملے، تو میں اُن کے کُل فارسی و تُرکی دواوین کا ترجمہ کروں گا۔ لیکن میں اِس وقت تک بھی اُن کی پانچ سو کے قریب فارسی و تُرکی ابیات کا ترجمہ کر چکا ہوں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دیکھنا میرے لیے باعثِ شادمانی ہے کہ انٹرنیٹ پر پاکستانیوں میں محمد فضولی بغدادی سے آشنائی کا آغاز ہو گیا ہے، اور اِمروز کئی مُحِبّانِ شعرِ فارسی اُن کے نام سے واقف ہیں، اور اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے ہیں۔ محمد فضولی بغدادی میرے پسندیدہ ترین تُرکی ادیب ہیں، اِس لیے مردُم کو اُن سے مُتعارف کرانا اپنی ادبی ذمّہ داری سمجھتا ہوں۔

اِمروز، بروزِ جمُعہ، سید شاہ زمان شمسی کی ایک تحریر «محسوسات و کیفیت کیا ہے؟» کے نام سے ایک اردو اخبار «وائس آف پاکستان» [ایک اردو اخبار کا نام انگریزی میں!] میں شائع ہوئی، جس میں اُنہوں نے فارسی نعتیہ شاعری پر چند کلمات لِکھے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اُس میں محمد فضولی بغدادی کی بھی نعتیہ ابیات، اُن کے نام کے ذکر کے ساتھ اور میرے ترجمے کی معیت میں، درج تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ، بے شک، یہ اردو تحریر محض چند انگُشت شُمار قاریوں کی نگاہوں ہی سے گُذری ہو گی، لیکن کیا یہ مُوَفّقیت و کامیابی کم ہے کہ فضولی بغدادی کا نام بالآخر ایک اردو اخبار کی بھی زینت بن گیا؟ ہرگز نہیں!

آرزو ہے کہ ایک روز جنابِ فضولی کا نام اِس مُلک بھی اُسی طرح شُہرت سے ہمکنار ہو گا جس طرح مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے دیگر دیاروں میں مشہور و معروف ہے۔

سید شاہ زمان شمسی کی تحریر کا ربط
اخباری صفحے کا ربط

پس نوشت: یہی تحریر «صحافت»، «ہجوم»، اور «طالبِ نظر» میں بھی شائع ہوئی تھی۔


غیر از درت پناه نداریم، یا نبی – محمد فضولی بغدادی

غیر از درت پناه نداریم، یا نبی
جز تو اُمیدگاه نداریم، یا نبی
تا بُرده‌ایم سویِ تو ره جز طریقِ تو
رُویی به هیچ راه نداریم، یا نبی
بهرِ ظُهورِ لُطفِ عمیمت وسیله‌ای
غیر از فغان و آه نداریم، یا نبی
روزِ جزا تویی چو شفیعِ گُناهِ ما
اندیشه از گُناه نداریم، یا نبی
در امْر و نهْی هرچه به ما حُکم کرده‌ای
حق است و اِشتِباه نداریم، یا نبی
بر لُطفِ توست تکیه نه بر طاعتی که ما
داریم گاه و گاه نداریم، یا نبی
مُلکِ وُجود مُنتظِم از فیضِ عدلِ توست
غیر از تو پادشاه نداریم، یا نبی
بسته‌ست جُرم‌هایِ فضولی زبانِ ما
غیر از تو عُذرخواه نداریم، یا نبی
(محمد فضولی بغدادی)

اے نبی! ہم آپ کے در کے بجز کوئی پناہ نہیں رکھتے۔۔۔ اے نبی! ہم آپ کے بجز کوئی اُمیدگاہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! جب سے ہم آپ کی جانب عازمِ راہ ہوئے ہیں، ہمارا رُخ آپ کی راہ کے بجز کسی بھی راہ کی جانب نہیں ہے۔
اے نبی! آپ کے لُطفِ عام کے ظُہور کے لیے ہم آہ و فغاں کے بجز کوئی وسیلہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! چونکہ روزِ جزا ہمارے گُناہ کے شفیع آپ ہیں، ہم کو گُناہ کی فِکر نہیں ہے۔
اے نبی! امْر و نهی میں آپ نے جو کچھ بھی ہم کو حُکم کیا ہے، وہ حق ہے اور ہم کو [اِس بارے میں] شُبہہ نہیں ہے۔
اے نبی! ہمیں آپ کے لُطف پر تکیہ و اعتماد ہے، [اپنی اُس ناقِص] اطاعت و بندگی پر نہیں، جو گاہے ہوتی ہے اور گاہے نہیں۔
اے نبی! مُلکِ وُجود آپ کے عدل کے فَیض سے انتظام یافتہ و ترتیب یافتہ ہے۔۔۔ ہم آپ کے بجز کوئی پادشاہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! ‘فُضولی’ کے جُرموں نے ہماری زبان کو باندھ دیا ہے۔۔۔ ہم آپ کے بجز کوئی عُذرخواہ نہیں رکھتے۔


"میں نے عربی، تُرکی و فارسی میں شاعری کی” – محمد فضولی بغدادی

امیرِ شعرِ تُرکی «محمدِ فُضولی بغدادی» اپنے دیوانِ فارسی کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

"گاهی به اشعار عربی پرداختم و فصحای عرب را به فنون تازی فی‌الجمله محظوظ ساختم. و آن بر من آسان نمود، زیرا زبان مباحثهٔ علمی من بود. و گاهی در میدان ترکی سمند طبیعت دواندم و ظریفان ترک را به لطافت گفتار ترکی تمتّعی رسانیدم. آن نیز چندان تشویشم نداد. چون به سلیقهٔ اصلی من موافق افتاد. و گاهی به رشتهٔ عبارت فارسی گهر کشیدم و از آن شاخسار، میوهٔ کام دل چیدم.”

ترجمہ:
"گاہے میں عربی شعر گوئی میں مشغول ہوا، اور خُلاصۂ کلام یہ کہ میں نے فُصَحائے عرب کو مُختلف فنونِ عربی سے محظوظ کیا۔ اور یہ میرے لیے آسان رہا، کیونکہ [عربی] میرے علمی مباحث کی زبان تھی۔ اور گاہے میں نے میدانِ تُرکی میں اسپِ طبیعت دوڑایا اور ظریفانِ تُرک کو گُفتارِ تُرکی کی لطافت سے مُتَمتّع کیا۔ اُس نے بھی مجھ کو زیادہ پریشانی نہ دی۔ چونکہ [تُرکی شاعری] میرے ذوقِ اصلی کے موافق واقع ہوئی۔ اور گاہے میں نے رِشتۂ عبارتِ فارسی میں گُوہر پِروئے اور اُس شاخسار سے میوۂ مُرادِ دل چُنا۔”


اۏل مُشک‌بو غزاله اخلاصېم ائیله واضح – محمد فضولی بغدادی

اۏل مُشک‌بو غزاله اخلاصېم ائیله واضح
بلِّغْ صبا سلاماً مِسْكِيّةَ الروایِح
اۏلغاج حبیبه واصل بیزدن هم اۏلما غافل
لا تَقْطَعِ الرّسائِل، لا تَکْتُمِ الصّرایِح
یۆزده سِرِشک قانې سؤیله‌ر غمِ نِهانی
قد تَظْهَرُ المعانی بِالْخَطِّ فی اللَوایِح
من مُبتلایِ هجران، من‌دن ایراق جانان
والْعُمْرُ كَيْفَ ما کانْ مِثْلُ الرِیاحِ رایِح
عشقین، فضولیِ زار، ترک ائتمک اۏلدو دُشوار
یا عارِفاً بِما صارْ لا تُكْثِرِ النّصایِح
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
اے بادِ صبا! اُس غزالِ مُشک بو پر میرا اِخلاص واضح کر دو، اور اُس کو میری جانب سے مُشک بو سلام پہنچا دو۔
حبیب سے واصل ہو جانے کے بعد ہم سے بھی غافل مت ہو جانا!۔۔۔ مُکاتَبت کو قطع مت کرنا، اور جو کچھ [تمہارے دل میں] صریح باتیں ہوں، اُن کو پِنہاں مت کرنا!
چہرے پر اشکِ خونیں غمِ نہانی بیان کر دیتا ہے۔۔۔ لَوحوں پر معانی خط و سطر کے توسُّط سے ظاہر ہوتے ہیں۔
میں مُبتلائے ہجراں ہوں، اور جاناں مجھ سے دور ہے۔۔۔ عُمر جیسی بھی ہو، باد کی طرح حرَکت کر کے گُذر جاتی ہے۔
اے فضولیِ زار! اُس کے عشق کو ترک کرنا دُشوار ہو گیا ہے۔۔۔ اے موجودات و اشیاء سے آگاہ و مُطّلِع شخص! زیادہ نصیحتیں مت کرو!

لاطینی رسم الخط میں:
Ol müşkbu qəzalə ixlasım eylə vazeh,
Bəlliğ, səba, səlamən miskiyyətər-rəvayeh.
Olğac həbibə vasil, bizdən həm olma qafil,
La təqtəir-rəsail, la təktümis-sərayeh.
Yüzdə sirişk qanı, söylər qəmi-nihani,
Qəd təzhərül-mə’ani bil-xətti fil ləvayeh.
Mən mübtəlayi-hicran, məndən iraq canan.
Vəl-ömrü keyfə ma kan mislür-riyahi rayeh.
Eşqin, Füzuliyi-zar, tərk etmək oldu düşvar
Ya arifən bima sar, la tüksirin-nəsayeh

وزن: مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن

میں عربی زیادہ نہیں جانتا، اور مندرجۂ بالا غزلِ مُلمّع کے عربی مصرعوں کا ترجمہ میں نے تُرکی ترجمے کے توسُّط سے کیا ہے۔ اگر عربی مصرعوں کے ترجمے میں کسی قسم کی غلطی ہو تو لُطفاً مطّلع کر دیجیے گا، اور اگر اعراب میں کوئی غلطی نظر آئے تو از رُوئے کرم اُس سے بھی آگاہ کر دیجیے گا۔


محمد فضولی بغدادی کی سِتائش میں ایک بند

ایرانی آذربائجانی شاعر حُسین‌قُلی کاتبی ‘جۏشغون’ اپنے تُرکی منظومے ‘عزیز شهریارا سلام’ (عزیز شہریار کو سلام) کے ایک بند میں محمد فضولی بغدادی کی سِتائش کرتے ہوئے کہتے ہیں:
«فۆضولی» شاعیردن، گل یاد ائیله‌یک،
درین معنالې شئعرلرین، دینله‌یک،
اۏنون هۆنرلرین‌دن نه سؤیله‌یک،
عرب‌ده، فارسی‌دا، تۆرکی‌ده اوستاد؛
شئعرده دیکلله‌دیب، اۆستۆن بیر بۆنیاد.
(حُسین‌قُلی کاتبی ‘جۏشغون’)
آؤ، ہم فُضولی شاعر کو یاد کریں
[آؤ] اُس کے عمیق معانی والے اشعار کو سُنیں
اُس کے ہُنر کے بارے میں ہم کیا کہیں؟
وہ عربی، فارسی و تُرکی میں اُستاد [تھا]
اُس نے شاعری میں ایک عالی بُنیاد قائم کی

Füzuli şairdən, gəl yad eyləyək,
Dərin mə’nalı şe’rlərin, dinləyək,
Onun hünərlərindən na söyləyək,
Ərəbdə, Farsida, Türkidə ustad;
Şe’rdə dikəllədib, üstün bir bünyad.

× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔


هیچ سُنبُل سُنبُلِ زُلفۆن کیمی مُشکین دئڲیل – محمد فضولی بغدادی

هیچ سُنبُل سُنبُلِ زُلفۆن کیمی مُشکین دئڲیل
نافهٔ چینی ساچېن تک دئرلر امّا چین دئڲیل
وار گُل برگینده هم الحق نزاکت بیرله رنگ
لیک جان‌پرور لبِ لعلین کیمی شیرین دئڲیل
مهربان دئرلر سنی اغیاره لیکن من اۏنا
باور ائتمن کیم سنه مِهر ائیله‌مک آیین دئڲیل
خوب‌لر محرابِ ابروسینه قېلمازسان سُجود
دینینی دؤندرگیل ای زاهد که یاخشې دین دئڲیل
تا فضولی قامت و رُخسارېنا وئرمیش کؤنۆل
مایلِ سرو و هواخواهِ گُل و نسرین دئڲیل
(محمد فضولی بغدادی)

کوئی بھی سُنبُل تمہارے سُنبُلِ زُلف کی مانند مُشکیں نہیں ہے۔۔۔ نافۂ چِین کو تمہاری زُلف جیسا کہتے ہیں، لیکن [یہ] حقیقت نہیں ہے۔
بے شک! برگِ گُل میں بھی نزاکت و رنگ موجود ہے، لیکن [وہ] تمہارے جاں پروَر لبِ لعل کی مانند شیریں نہیں ہے۔
[مردُم] تم کو اغیار کی جانب مہربان کہتے ہیں لیکن میں اُس پر یقین نہیں کرتا کیونکہ مِہربانی و محبّت کرنا تمہاری طرز و روِش نہیں ہے۔
[اگر] تم خُوبوں کے محرابِ ابرو کی جانب سجدہ نہیں کرتے۔۔۔ اے زاہد! اپنے دین کو تبدیل کر لو کہ [یہ] خوب دین نہیں ہے۔
جب سے فضولی نے تمہارے قامت و رُخسار کو دل دیا ہے، وہ سرْو کی جانب مائل، اور گُل و نسرین کا آرزومند نہیں ہے۔
× نافۂ چِین = چِینی آہُو کی ناف سے نکلنے والا مُشک

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Hiç sünbül sünbüli-zülfün kimi mişkin degil,
Nafeyi-Çini saçın tək derlər, əmma çin degil.
Var gül bərgində həm əlhəq, nəzakət birlə rəng,
Leyk, canpərvər ləbi-lə’lin kimi şirin degil.
Mehriban derlər səni əğyarə, lakin mən ona
Bavər etmən kim, sənə mehr eyləmək ayin degil.
Xublər mehrabi-əbrusinə qılmazsan sücud,
Dinini döndərgil, ey zahid, ki, yaxşı din degil.
Ta Füzuli qamətü rüxsarına vermiş könül,
Maili-sərvü həvaxahi-gülü nəsrin degil.

تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
Hiç sünbül sünbül-i zülfün kimi müşgin değil
Nâfe-i Çin’i saçın tek derler ammâ çin değil
Var gül berginde hem el-hak nezâket birle reng
Lik can-perver leb-i lâ’lin kimi şîrin değil
Mihr-ban derler seni ağyâra likin ben ana
Bâver etmen kim sana mihr eylemek âyin değil
Hûblar mihrâb-i ebrûsuna kılmazsan sücûd
Dinini döndergil ey zâhid ki yahşı din değil
Tâ Fuzûlî kâmet ü ruhsârına vermiş gönül
Mâ’il-i serv ü hevâ-hâh-i gül ü nesrin değil

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن