محمد فضولی بغدادی کی نظر میں غزلِ خوب کی خصوصیات

محمد فضولی بغدادی اپنے ایک تُرکی قطعے میں غزل کے بارے میں فرماتے ہیں:

(قطعه)
اۏلدور غزل که فیضی اۏنون عام اۏلوب مُدام
آرایشِ مجالسِ اهلِ قبول اۏلا
وِردِ زبانِ اهلِ صفا و سُرور اۏلوب
مضمونو ذوق‌بخش و سریعُ‌الحُصول اۏلا
اۏندان نه سُود کیم اۏلا مُبهم عبارتی
هر یئرده اِستِماعین ائدنلر ملول اۏلا
(محمد فضولی بغدادی)

غزل وہ ہے کہ جس کا فیض ہمیشہ عام ہو اور جو مجالسِ اہلِ قبول کی آرائش ہو۔
[جو ہمیشہ] اہلِ صفا و سُرور کا وِرد زباں ہو اور جس کا مضمون ذوق بخش اور سریع الحصول (آسان فہم) ہو۔
اُس [غزل] سے کیا فائدہ کہ جس کی عبارت مُبہم ہو اور ہر جگہ اُس کو سننے والے ملول ہو جائیں؟

Oldur ğəzəl ki, feyzi onun am olub müdam,
Arayişi-məcalisi-əhli-qəbul ola.
Virdi-zəbani-əhli-səfavü sürur olub,
Məzmunu zövqbəxşü səri’ül-hüsul ola.
Ondan nə sud kim, ola mübhəm ibarəti,
Hər yerdə istima’in edənlər məlul ola.


الحمد لواهب المکارم – محمد فضولی بغدادی (فارسی حمد و دعا + ترجمہ)

محمد فضولی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ کہنہ تُرکی ادبیات کی معروف ترین مثنوی ہے۔ جالبِ توجہ چیز یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اُس تُرکی مثنوی کا کا آغاز فارسی حمد و دعا سے کیا ہے، اور تُرکی زبان میں حمد وہ اگلے باب میں لے کر آئے ہیں۔ زبانِ فارسی اور حضرتِ فضولی بغدادی کے تمام محبّوں کی خدمت میں وہ فارسی حمد ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

بو حضرتِ عزّت‌دن حمد ایله استمدادِ مطالب‌دیر و آثارِ شُکر ایله استدعایِ سترِ معایب‌دیر

الحَمدُ لِواهِبِ المکارِم
والشُّکرُ لِصاحِبِ المراحِم
وهُوَ الاَزَلیُّ فی البِدایه
وهُوَ الاَبَدیُّ فی النِهایه
قد شاعَ بِصُنعِهِ بیانُه
ما اعظمَ فی البقاءِ شأنُه
سبحان الله زهی خداوند
بی‌شِبه و شریک و مثل و مانند
مشّاطهٔ نوعَروسِ عالَم
گوهرکَشِ سِلکِ نسلِ آدم
صرّافِ جواهرِ حقایق
کشّافِ غوامضِ دقایق
پیداکُنِ هر نهان که باشد
پنهان‌کُنِ هر عیان که باشد
معمارِ بنایِ آفرینش
سیراب‌کُنِ ریاضِ بینش
یا رب مددی که دردمندم
آشفته و زار و مُستمندم
از فیضِ هنر خبر ندارم
جز بی‌هنری هنر ندارم
شُغلِ عجبی گرفته‌ام پیش
پیش و پسِ او تمام تشویش
سنگی‌ست به راهم اوفتاده
بحری‌ست مرا هراس داده
توفیقِ تواَم اگر نباشد
ور لطفِ تو ره‌بر نباشد
مشکل که در این گریوهٔ تنگ
لعلی بِدر آرم از دلِ سنگ
مشکل که مراد رخ نماید
زین بحر دُری به دستم آید
آن کن که دلم فروغ گیرد
لوحم رقمِ صفا پذیرد
آیینهٔ خاطرم شود پاک
روشن گردد چراغِ ادراک
قُفلِ درِ آرزو بِتابم
هر چیز طلب کنم بِیابم
بخشد به ریاضِ دولتم آب
ابرِ کرمِ رسول و اصحاب
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
یہ حضرتِ خدائے بزرگوار سے حمد کے ساتھ حاجات کی مدد خواہی، اور شُکر کے ساتھ معائب کی سترپوشی کی استدعا ہے

تمام ستائشیں مکارم اور کرم عطا کرنے والی ذاتِ خدا کے لیے، اور تمام شُکر رحمتوں اور مہربانیوں کے مالک کے لیے ہیں۔ وہ ذات ابتداء کے لحاظ سے ازلی اور انتہا کے لحاظ سے ابدی ہے۔ اُس کی خالقیت و آفریدگاری سے اُس کا بیان جہان میں فراگیر ہوا ہے۔ بقا کے اعتبار سے اُس کی شان کتنی اعلٰی ہے! سبحان اللہ! زہے خداوند! جو بے شبیہ و بے شریک و بے مثل و مانند ہے۔ وہ عَروسِ عالَم کا آرائش گر ہے۔ وہ نسلِ آدم کے سِلک (دھاگے) میں گوہر پرونے والا ہے۔ وہ جواہرِ حقائق کا صرّاف ہے۔ وہ باریک نُکتوں کا کشّاف ہے۔ وہ ہر نہاں چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ہر عیاں چیز کو پنہاں کرنے والا ہے۔ وہ عمارتِ آفرینش کا معمار ہے۔ وہ ریاضِ بینش و بصارت کا سیراب کُن ہے۔ یا رب ذرا مدد کرو کہ میں دردمند، آشفتہ، زار، اور ملول و پریشان ہوں۔ مجھے فیضِ ہنر کی خبر نہیں ہے۔ بجز بے ہنری میرے پاس کوئی ہنر نہیں ہے۔ میں نے ایک عجیب کار شروع کیا ہے، جس کے پیش و پس میں تشویش ہی تشویش ہے۔ یہ ایک سنگ ہے جو میری راہ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک بحر ہے جس نے مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اگر تمہاری توفیق مجھے نصیب نہ ہو، اور اگر تمہارا لطف میرا راہبر نہ ہو، تو مشکل ہے کہ میں اِس کوہِ تنگ میں سنگ کے دل سے کوئی لعل برآمد کر سکوں۔ اور مشکل ہے کہ میری مراد مجھے اپنا رُخ دکھائے، اور اِس بحر سے کوئی دُر میرے دست میں آ جائے۔ کچھ ایسا کرو کہ میرا دل تابندگی پا جائے، میری لوح پر پاکیزگی درج ہو جائے، میرا آئینۂ قلب و ذہن پاک ہو جائے، اور میرا چراغِ ادراک روشن ہو جائے۔ اور [جب] میں درِ آرزو کا قُفل گھماؤں تو جو بھی چیز طلب کرو‌‌ں اُسے حاصل کر لوں۔ اور میرے باغِ بخت پر رسول (ص) اور اصحاب (رض) کا ابرِ کرم آب برسائے۔
× فراگیر = ہر جگہ پھیلا ہوا

استدعایِ سترِ معایب‌

ایک نسخے میں ‘استدعایِ سترِ معایب’ کی بجائے ‘استتارِ معایب’ نظر آیا ہے جس کا ترجمہ ‘معائب کا اِخفاء’ ہے۔


ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم – محمد فضولی بغدادی کی ایک تُرکی رباعی

ای فیض‌رسانِ عرب و تُرک و عجم
قېلدېن عربی افصحِ اهلِ عالَم
ائتدین فُصَحایِ عجمی عیسیٰ‌دم
بن تُرک‌زبان‌دان التفات ائیله‌مه کم
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Еy fеyzrəsani-ərəbü türkü əcəm
Qıldın ərəbi əfsəhi-əhli-aləm
Еtdin füsəhayi-əcəmi Isadəm
Bən türkzəbandan iltifat еyləmə kəm

ترجمہ:
اے عرب و تُرک و عجم کو فیض پہنچانے والے [خدا]! تم نے عرب کو افصحِ عالَمِین بنایا؛ تم نے فُصَحائے عجم کو عیسیٰ نَفَس کیا؛ [پس] مجھ تُرک زبان سے [اپنی] اِلتِفات و توجہ کم مت کرنا۔
× تُرک زبان = وہ شخص جس کی زبان تُرکی ہو

× یہ رباعی محمد فضولی بغدادی کی کتاب ‘حدیقۃ السُعَداء’ کے دیباچے سے مأخوذ ہے۔


ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی – محمد فضولی بغدادی (نعت)

بحر = فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی
نبی اول وقت که بالفعل گرکمزدی نبی
سیدِ ابطحی و مکّی و اُمّی و ذکی
هاشمی و مدنی و قُرشی و عربی
سبقتِ ذات ایله ایوانِ رسالت صدری
شرفِ اصل ایله فهرستِ رُسُل منتخبی
عزمِ چرخ ائتدی مسیحا که بولا معراجین
یئتمه‌دی منزلِ مقصودا طریقِ طلبی
انبیادا کیمه سن تک بو میسّردیر کیم
آدمه وجهِ مُباهات اولا عزِّ نسبی
خلفِ معتبرِ آدم و حوّا سنسن
جَعَل اللهُ فَداءً لَکَ اُمّی وَاَبی
یا نبی! قیلما فضولینی قاپیندان محروم
عفو قیل وار ایسه درگاهدا ترکِ ادبی
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی خط میں:
Ey vücudun əsəri, xilqəti-əşya səbəbi!
Nəbi ol vəqt ki, bilfe’l gərəkməzdi nəbi.
Seyyidi-əbtəhiyü məkkiyü ümmiyü zəki,
Haşimiyü mədəniyü qürəşiyü ərəbi.
Səbqəti-zat ilə eyvani-risalət sədri,
Şərəfi-əsl ilə fehristi-rüsul müntəxəbi.
Əzmi-çərx etdi Məsiha ki, bula me’racın,
Yetmədi mənzili-məqsudə təriqi-tələbi.
Ənbiyada kimə sən tək bu müyəssərdir kim,
Adəmə vəchi-mübahat ola izzi-nəsəbi.
Xələfi-mö’təbəri-Adəmü Həvva sənsən,
Cə’ələllahü fədaən ləkə ümmi və əbi.
Ya Nəbi, qılma Füzulini qapından məhrum,
Əfv qıl, var isə dərgahdə tərki-ədəbi.

ترجمہ:
اے کہ آپ کے وجود کا اثر تمام اشیاء کی تخلیق کا سبب ہے۔ آپ اُس وقت بھی نبی تھے جب ہنوز کسی نبی کی ضرورت نہ تھی۔
اے آپ کہ سیدِ ابطحی، مکّی، اُمّی، ذکی، ہاشمی، مدنی، قریشی اور عربی ہیں۔
آپ اپنی ذات کی سبقت کے ساتھ ایوانِ رسالت کے صدر ہیں؛ جب کہ اپنے اصل کے شرف کے ساتھ رسولوں کی فہرست میں برگزیدہ ہیں۔
مسیح نے آپ کی معراج تک پہنچے کے لیے چرخ کا عزم کیا تھا؛ لیکن اُن کی راہِ طلب منزلِ مقصود تک نہ پہنچ سکی۔
انبیاء میں آپ کی طرح کسے یہ میسّر ہوا ہے کہ اُس کے نسب کی ارجمندی حضرت آدم کے لیے باعثِ افتخار ہو۔
آدم و حوا کے محترم فرزند و جانشین آپ ہیں؛ اللہ میرے مادر و پدر کو آپ پر فدا کرے!
یا نبی! فضولی کو اپنے در سے محروم مت کیجیے؛ اگر آپ کی درگاہ میں اُس سے کوئی ترکِ ادب ہو گیا ہو تو عفو کیجیے۔


وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات – محمد فضولی بغدادی (ترکی + عربی نعت مع ترجمہ)

وصلین منه حیات وئریر، فرقتین ممات
سُبحانَ خالِقِی خَلَقَ المَوْتَ والحَیات
(آپ کا وصل مجھے زندگی بخشتا ہے جبکہ آپ کی فرقت موت؛ پاک ہے وہ میرا خالق جس نے موت اور حیات کو خلق کیا۔)

هجرانینه تحمّل ائدن وصلینی بولور
طوبیٰ لِمَن یُساعِدُهُ الصّبرُ والثبات
(آپ کے ہجر کو تحمل کرنے والا بالآخر آپ کے وصل سے بہرہ مند ہوتا ہے؛ وہ شخص کیا ہی خوش قسمت ہے جس کی اس سلسلے میں صبر و استقامت مدد کرتے ہیں۔)

مهرین‌دیر اقتنایِ مقاصد وسیله‌سی
ماشاءَ مَنْ اَرادَ، بِهِ الفَوْزُ والنَّجات!
(آپ کی محبت حصولِ مقاصد کا وسیلہ ہے؛ (انسان) جو کچھ چاہے، اور جس چیز کا ارادہ کرے اُس میں کامیابی و نجات آپ کی محبت کے ذریعے ہی سے حاصل ہوتی ہے۔)

تؤکموش ریاضِ طبعیمه بارانِ شوقینی
مَنْ اَنزَلَ المِیاهَ وَاَحْیٰی بِهِ النّبات
(جو ذات پانی برسا کر پودوں کو زندہ کرتی ہے، اُسی نے میرے باغِ فطرت میں آپ کے اشتیاق کی بارش برسائی ہے۔)

حق آفرینشه سبب ائتدی وجودینی
اَوجَبْتَ بِالظُّهورِ ظُهُورَ المُکَوَّنات
(حق تعالیٰ نے آپ کے وجود کو آفرینش کا سبب بنایا، اور آپ اپنے ظہور سے کُل ہستی کے ظہور کا باعث بنے۔)

ایزد سریرِ حُسنه سَنی قیلدی پادشاه
اعلیٰ کَمالَ ذاتِكَ فی اَحْسَنِ الصِّفات
(خدا نے تختِ حسن پر آپ کو بادشاہ کیا اور آپ کی ذات کے کمال کو صفاتِ اعلیٰ سے رفعت بخشی۔)

قیلدین ادایِ نعت، فضولی تمام قیل
کَمِّلهُ بالسّلامِ وتَمِّمْهُ بالصّلاة
(اے فضولی! تم نے نعت کی ادائیگی کی، اب اسے تمام کرو؛ اس نعت کو اب سلام کے ساتھ مکمل کر لو اور اس کا صلوات کے ساتھ اختتام کرو۔)

(محمد فضولی بغدادی)

× اس نعت کے ہر شعر کا پہلا مصرع ترکی میں ہے، جبکہ دوسرا مصرع عربی میں۔ ایسے دولسانی کلام کے لیے فارسی میں ملمّع کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ترکی مصرعوں کا ترجمہ میں نے خود براہِ راست کیا ہے، جبکہ عربی مصرعوں کا اردو ترجمہ ترکی ترجمے سے کیا گیا ہے۔

۲۰۰۵ء میں جمہوریۂ آذربائجان کے دارالحکومت باکو سے شائع ہونے والے دیوانِ ترکیِ فضولی میں یہ نعتیہ غزل لاطینی خط میں یوں درج ہے:
Vəslin mənə həyat verir, firqətin məmat
Sübhanə xaliqi xələqəl movtə vəl-həyat
Hicranına təhəmmül edən vəslini bulur
Tuba limən yusaidühüs-səbrü vəs-səbat
Mehrindir iqtinai-məqasid vəsiləsi
Ma şaə mən əradə, bihil-fovzu vən-nəcat
Tökmüş riyazi-təb’imə barani-şövqini
Mən ənzələl-miyahə və əhya bihin-nəbat
Həq afərinişə səbəb etdi vücudini
Əvcəbtə biz-zühuri zühurəl-mükəvvənat
İyzəd səriri-hüsnə səni qıldı padişah
Ə’la kəmalə zatikə fi əhsənis-sifat
Qıldın ədayi-nə’t, Füzuli, təmam qıl
Kəmmilhu bis-səlami və təmmimhu bis-səlat