اسرائیل نے گذشتہ سالوں کی نسبت ۲۰۱۴ء میں سب سے زیادہ فلسطینی مارے

اقوامِ متحدہ کے ایک رُوداد نامے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء میں مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر قبضے کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ فلسطینی شہری سال ۲۰۱۴ء میں مارے ہیں۔
دفترِ اقوامِ متحدہ برائے ہم آہنگیِ امورِ انسان دوستانہ کے سالانہ روداد نامے کے مطابق [۲۰۱۴ء میں] غزہ پٹی، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ۲۳۱۴ فلسطینی مارے گئے اور ۱۷۱۲۵ فلسطینی زخمی ہوئے۔ جبکہ ۲۰۱۳ء میں فلسطینی کشتگان کی تعداد ۳۹ اور مجروحوں کی تعداد ۳۹۶۴ تھی۔
ہلاکتوں میں اس قابلِ ملاحظہ اضافے کا سب سے بڑا سبب جولائی اور اگست میں بھڑکنے والا غزہ پٹی کا مناقشہ تھا جو ۲۲۲۰ اہالیِ غزہ کی اموات پر منتج ہوا۔ ان میں سے ۱۴۹۲ کشتگان عام شہری اور ۶۰۵ کشتگان محارب جنگجو تھے، جبکہ ۱۲۳ کشتگان کی تصدیق نہیں ہو پائی تھی۔
اس جنگ کے عروج پر گیارہ ہزار سے زیادہ افراد زخمی اور تقریباً پانچ لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے تھے، جن میں سے ایک لاکھ افراد تا حال بے گھر ہیں۔
مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بھی ہلاکتوں کی تعداد میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ۵۸ فلسطینی ہلاک اور ۶۰۲۸ فلسطینی زخمی ہوئے۔ ۲۰۰۷ء کے بعد سے اسرائیلی قوتوں کی جانب سے مارے جانے والے لوگوں کی یہ بالاترین تعداد تھی، جبکہ زخمیوں کی یہ تعداد بھی بعد از ۲۰۰۵ء سب سے زیادہ ہے۔
زیادہ تر [خوں ریز] واقعات سال کے دوسرے نصف میں محمد ابو خضیر کے اغوا اور قتل کے نتیجے میں مشرقی یروشلم میں روزانہ شورشوں اور احتجاجوں کے برپا ہونے کے بعد رُو پذیر ہوئے۔
سولہ سالہ خضیر کو جولائی میں، ایک ماہ قبل تین اسرائیلی نوجوانوں کے مغوی ہو کر مارے جانے کے بعد، اغوا کر کے قتل کیا گیا تھا۔
‘پارہ پارہ زندگیاں’ نامی اس روداد نامے میں سابق دو سالوں کے مقابلے میں پچھلے سال فلسطینی زخمیوں، قیدیوں اور بے گھروں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ درج ہے۔
اس روداد نامے میں اسرائیلی مسلح قوتوں کی جانب سے مہلک اسلحوں کے استعمال میں اضافے پر توجہ دلائی گئی ہے، جو تقریباً ساری اموات اور اٹھارہ فیصد زخموں کا سبب رہا تھا۔
اسرائیلی شہریوں – زیادہ تر آبادکاروں – اور محافظ قوتوں کے خلاف فلسطینی حملوں میں بھی ۲۰۱۴ء میں اضافہ ہوا اور اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد چار سے بڑھ کر بارہ ہو گئی۔ آبادکاروں کے تشدد کے نتیجے میں فلسطینی ہلاکتوں اور زخموں میں افزائش نظر آئی، البتہ فلسطینی جائدادوں اور زمینوں کے نقصانات پر منتج ہونے والے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔
اسرائیلی حکّام کے ہاتھوں مقدمے کے بغیر انتظامی حراست میں موجود فلسطینیوں کی تعداد میں سال ۲۰۱۴ء میں چوبیس فیصد اضافہ ہوا، لیکن قیدی بچوں کی تعداد میں تقلیل واقع ہوئی۔ سالِ گذشتہ ہر ماہ اوسطاً ۱۸۵ بچے حراست میں رہے، جبکہ یہ تعداد ۲۰۱۳ء میں چھ فیصد زیادہ یعنی ۱۹۷ تھی۔ ۲۰۱۴ء میں چودہ سال سے کم عمر کوئی بھی بچہ فوجی حراست میں نہیں رکھا گیا۔

خبر کا ماخذ: دا گارڈین
تاریخ: ۲۷ مارچ ۲۰۱۵ء
مترجم: حسان ضیاء خان

* روداد نامہ = رپورٹ


شناختی کارڈ – محمود درویش

فلسطینی شاعر محمود درویش کی مشہور نظم بطاقة هوية (شناختی کارڈ) کا اردو ترجمہ پیشِ خدمت ہے:

شناختی کارڈ

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا شناختی کارڈ نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور نواں بچہ موسمِ گرما کے بعد دنیا میں آ جائے گا
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور یارانِ محنت کش کے ہمراہ پتھر کی کان میں کام کرتا ہوں
میرے آٹھ بچے ہیں
میں اُن کے لیے
نان اور ملبوسات اور کاپیاں
پتھروں سے باہر نکالتا ہوں۔۔۔
میں تمہاری چوکھٹ سے خیرات نہیں مانگتا
نہ خود کو تمہارے آستانوں پر حقیر ہی بناتا ہوں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں
میں ایک ایسی سرزمین میں صابر ہوں
جہاں ہر کوئی وفورِ غضب میں زندگی بسر کرتا ہے
پیدائشِ زمانہ سے قبل
ادوار کے شروع ہونے سے قبل
سرو اور زیتون سے قبل
اور گھاس کے اگنے سے قبل
میری جڑیں اس زمین میں پنجہ گاڑ چکی تھیں

میرے باپ کا تعلق ہل چلانے والے خاندان سے ہے
کسی نجیب خاندان سے نہیں
میرا دادا کسان تھا
بے حسب و بے نسب!
قبل اس کے کہ وہ مجھے کتاب پڑھنا سکھائے
اُس نے مجھے سورج کا طلوع ہونا سکھایا
میرا گھر پہرے دار کی کوٹھری کے مانند ہے
شاخوں اور سرکنڈوں سے بنا ہوا
پس کیا تم میری حیثیت سے راضی ہو؟
میرا صرف نام ہے
کوئی لقب نہیں

درج کرو!
میں عرب ہوں
بالوں کا رنگ: کوئلے کی طرح سیاہ
آنکھوں کا رنگ: بھورا
اور میری شناختی علامات:
میرے سر پر عربی رومال اور اُس پر سیاہ حلقہ ہے
جو کہ محکم پتھر کی مانند ہے
اور لمس کرنے والے کے ہاتھ کو چھیل ڈالتا ہے
میری پسندیدہ ترین غذائیں
روغنِ زیتون اور پھلیاں ہیں
میرا پتا:
میں ایک دور و دراز اور فراموش شدہ گاؤں سے ہوں
جس کی سڑکیں بے نام ہیں
اور جس کے تمام رجال مزرعات اور پتھر کی کانوں میں کام کرتے ہیں
پس کیا تم غصہ کرو گے؟

درج کرو!
میں عرب ہوں
اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے ہیں
اور وہ زمین بھی
جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کاشت کاری کیا کرتا تھا
تم نے میرے لیے اور میرے تمام پوتوں کے لیے
کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہے
سوائے ان پتھروں کے۔۔۔
تو کیا تمہاری حکومت
– جیسا کہ کہا گیا ہے –
ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

لہٰذا
درج کرو
صفحۂ اول پر سب سے اوپر:
میں لوگوں سے نفرت نہیں کرتا
نہ کسی پر تجاوز ہی کرتا ہوں
لیکن۔۔۔
جب مجھے بھوک لگے گی
تو غاصب کا گوشت کچا چبا جاؤں گا
خبردار رہو۔۔۔
خبردار رہو۔۔۔
میری بھوک سے
اور میرے غصے سے!

(محمود درویش)
۱۹۶۴ء