امیر خسرو، حافظ، اور جامی کی ستائش میں کہا گیا امیر علی شیر نوائی کا قطعہ

اوچ کیشی‌نینگ سۉزی نشئه و معنی‌سی‌دین اۉز سۉزی‌ده چاشنی اثبات قیلماق و بو معنی‌دین مباهات قیلماق

غزل‌ده اوچ کیشی طوری‌دور اول نوع
کیم آن‌دین یخشی یۉق نظم احتمالی
بیری مُعجز بیان‌لیغ ساحرِ هند
که عشق اهلینی اۉرتر سۉز و حالی
بیری عیسیٰ نفَس‌لیک رندِ شېراز
فنا دَیری‌ده مست و لااُبالی
بیری قُدسی اثرلیک عارفِ جام
که جامِ جم‌دورور سینغان سفالی
نوایی نظمی‌غه باقسانگ، اېمس‌تور
بو اوچ‌نینگ حالی‌دین هر بَیتی خالی
همانا کۉزگودور کیم عکس سالمیش
انگه اوچ شۉخ مه‌وش‌نینگ جمالی
(امیر علی‌شیر نوایی)

تین اشخاص کے سُخن کے نشہ و معنی سے اپنے سُخن میں چاشنی [ہونے] کا اثبات کرنا اور اِس موضوع پر فخر کرنا

غزل میں تین اشخاص کی طرز اُس طرح کی ہے کہ اُن سے بہتر نظم و شاعری کا احتمال نہیں ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک مُعجز بیاں ساحرِ ہند [امیر خسرو] ہے کہ جس کا سوز و حال اہلِ عشق کو سوزاں کرتا ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک عیسیٰ نفَس رندِ شیراز [حافظ] ہے، جو دَیرِ فنا میں مست و لااُبالی ہے۔۔۔ اُن میں سے ایک قُدسی نشاں عارفِ جام [جامی] ہے، کہ جس کا شکستہ جامِ سفال [بھی] جامِ جم ہے۔۔۔ اگر تم نوائی کی نظم کی جانب نگاہ کرو [تو تمہیں معلوم ہو گا کہ] اُس کی کوئی بھی بیت اِن تینوں کے حال و کیفیّت سے خالی نہیں ہے۔۔۔ یقیناً وہ [ایک] آئینے [کی مانند] ہے کہ جس پر [اُن] تین ماہ وَشانِ شوخ کے جمال نے عکس ڈالا ہے۔

UCH KISHINING SO’ZI NASH’A VA MA’NISIDIN O’Z SO’ZIDA CHOSHNI ISBOT QILMOQ VA BU MA’NIDIN MUBOHOT QILMOQ

G’azalda uch kishi tavridur ul nav’
Kim, andin yaxshi yo’q nazm ehtimoli.
Biri mu’jiz bayonlig’ sohiri hind
Ki, ishq ahlini o’rtar so’zu holi.
Biri Iso nafaslik rindi Sheroz,
Fano dayrida mastu louboli.
Biri qudsi asarlik orifi Jom
Ki, jomi Jamdurur sing’an safoli.
Navoiy nazmig’a boqsang, emastur,
Bu uchning holidin har bayti xoli.
Hamono ko’zgudurkim, aks solmish,
Anga uch sho’x mahvashning jamoli.

Advertisements

محمد فضولی بغدادی کی نظر میں غزلِ خوب کی خصوصیات

محمد فضولی بغدادی اپنے ایک تُرکی قطعے میں غزل کے بارے میں فرماتے ہیں:

(قطعه)
اۏلدور غزل که فیضی اۏنون عام اۏلوب مُدام
آرایشِ مجالسِ اهلِ قبول اۏلا
وِردِ زبانِ اهلِ صفا و سُرور اۏلوب
مضمونو ذوق‌بخش و سریعُ‌الحُصول اۏلا
اۏندان نه سُود کیم اۏلا مُبهم عبارتی
هر یئرده اِستِماعین ائدنلر ملول اۏلا
(محمد فضولی بغدادی)

غزل وہ ہے کہ جس کا فیض ہمیشہ عام ہو اور جو مجالسِ اہلِ قبول کی آرائش ہو۔
[جو ہمیشہ] اہلِ صفا و سُرور کا وِرد زباں ہو اور جس کا مضمون ذوق بخش اور سریع الحصول (آسان فہم) ہو۔
اُس [غزل] سے کیا فائدہ کہ جس کی عبارت مُبہم ہو اور ہر جگہ اُس کو سننے والے ملول ہو جائیں؟

Oldur ğəzəl ki, feyzi onun am olub müdam,
Arayişi-məcalisi-əhli-qəbul ola.
Virdi-zəbani-əhli-səfavü sürur olub,
Məzmunu zövqbəxşü səri’ül-hüsul ola.
Ondan nə sud kim, ola mübhəm ibarəti,
Hər yerdə istima’in edənlər məlul ola.


تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل – امام بخش ناسخ

(تاریخِ وفاتِ مرزا قتیل)
شاعرِ مُعجِزبیان مرزا قتیل
رفت ازین عالَم سویِ باغِ بهشت
کِلکِ ناسخ سالِ تاریخِ وفات
سعدیِ شیرازیِ ثانی نوشت
(امام بخش ناسخ)
× سعدیِ شیرازیِ ثانی = ۱۲۳۳ھ

ترجمہ:
شاعرِ مُعجِز بیاں میرزا قتیل اِس عالَم سے باغِ بہشت کی جانب روانہ ہو گئے؛ ناسخ کے قلم نے [اُن کا] سالِ تاریخِ وفات ‘سعدیِ شیرازیِ ثانی’ لکھا۔


حضرتِ یوسف کے تین پیراہن اور رودکی

حضرتِ یوسف (ع) کی داستان میں تین پیراہنوں کا ذکر آیا ہے: وہ پیراہن کہ جسے اُن کے برادران خون آلود کر کے والد کے نزدیک لائے تھے کہ یوسف کو گُرگ نے چیر پھاڑ ڈالا ہے؛ وہ پیراہن کہ جو زلیخا کے ہاتھوں پُشت سے چاک ہوا تھا؛ اور وہ پیراہن کہ جو چشمِ یعقوب (ع) کی نابینائی ختم ہونے کا سبب بنا۔ رُودکی سمرقندی نے ایک قطعے میں حضرت یوسف کے تین پیراہنوں کی جانب خوبصورتی سے اشارہ کیا ہے:

نگارینا، شنیدستم که گاهِ محنت و راحت
سه پیراهن سَلَب بوده‌ست یوسف را به عمر اندر
یکی از کَید شد پُرخون، دوم شد چاک از تهمت
سوم یعقوب را از بوش روشن گشت چشمِ تر
رُخم مانَد بدان اول، دلم مانَد بدان ثانی
نصیبِ من شود در وصل آن پیراهنِ دیگر؟
(رودکی سمرقندی)

اے محبوب! میں نے سنا ہے کہ رنج و راحت کے موقعوں پر تین پیراہن یوسف کی زندگی میں اُن کا لباس رہے تھے۔ ایک تو مکر و فریب سے خون سے پُر ہو گیا تھا، دوسرا تہمت کی وجہ سے چاک ہو گیا تھا، اور تیسرا وہ تھا کہ جس کی بو سے یعقوب کی چشمِ تر روشن ہوئی تھی۔۔۔ میرا پُرخون چہرہ پہلے پیراہن کی مانند ہے، جبکہ میرا دلِ چاک اُس دوسرے پیراہن کی مانند ہے۔۔۔ اب کیا وہ تیسرا پیراہن مجھے وصل کے موقع پر کبھی نصیب ہو گا؟


اقبال – علی اکبر دهخدا

اقبال

در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد:
"صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم – سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم / آن روز که رویِ دهخدا را دیدیم.”
و استاد نیز مرتجلاً قطعهٔ زیر را می‌سراید و عرضه می‌دارد:
زان گونه که پاکستان با نابغهٔ دوران
اقبالِ شهیرِ خویش بر شرق همی‌نازد،
زیبد وطنِ ما نیز، بر خویش همی‌بالد
واندر چمنِ معنی، چون سرو سرافرازد
زان روی که چون اقبال خواهد که سخن گوید
گنجینهٔ قلبِ خود با گفته بپردازد
از بعدِ وطن‌تاشان، کس را بجز ایرانی
شایسته نبیند تا، با وی سخن آغازد
دُرهایِ ثمینِ خود در دُرجِ دری ریزد
از پهنهٔ این میدان جولان‌گهِ خود سازد

ترجمہ:
۲۲ اپریل ۱۹۵۱ء کے روز پاکستانی سفارت خانے میں پاکستان کے مشہور شاعر اور مفکر اقبال لاہوری کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ جشن میں پاکستانی ثقافتی دستے نے دہخدا کے حضور میں یہ رباعی پڑھی:
صد شکر کہ ہم نے یارِ آشنا کو دیکھا؛ سرحلقۂ زمرۂ وفا کو دیکھا؛ ہم تجلیِ الٰہی سے سرمست ہو گئے؛ جس روز کہ ہم نے چہرۂ دہخدا کو دیکھا۔”
استاد دہخدا نے بھی فی البدیہہ مندرجۂ ذیل قطعہ کہا اور پیش کیا:
جس طرح پاکستان نابغۂ دوران یعنی اپنے مشہور و نامدار اقبال کے ساتھ مشرق زمین کے سامنے ناز کرتا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن (ایران) کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ خود پر ناز کرے اور چمنِ معنی میں سرو کی طرح سر بلند کرے۔ کیونکہ جب اقبال نے سخن کہنا اور اپنے قلب کے گنجینے کو لب کشائی کر کے خالی کرنا چاہا، اُس نے اپنے ہم وطنوں کے بعد ایرانیوں کے سوا کسی کو اِس لائق نہ سمجھا کہ وہ اُن کے ساتھ سخن کا آغاز کرے۔ اُس نے اپنے قیمتی دُر فارسی کے صندوقچے میں ڈالے اور اِس میدان کی وسعت سے اپنی جولانگاہ بنائی۔

شهیر: نامی، مشهور
پرداختن: خالی کرن
وطن‌تاش = هم‌وطن [یہ ترکی لفظ ہے۔]
ثمین = گران‌بها
دُرج = جعبهٔ کوچکی که در آن جواهر و زینت‌آلات می‌گذارند. [وہ صندوقچہ جس میں جواہر و آلاتِ زینت رکھتے ہیں۔]

ماخذ:
گزینهٔ اشعار و مقالاتِ علامه دهخدا
انتخاب و شرح: دکتر حسن احمد گیوی
چاپِ اول: ۱۳۷۲هش/۱۹۹۳ء