تاریخِ وفاتِ اقبالِ لاهوری – نظمی تبریزی

همانا در سِپِهرِ فضل و دانش
فروزان آفتابی بود اقبال
به «لاهور» این‌چنین آتش‌زبانی
نیارد بعد از این دورِ مه و سال
نمیرد این‌چنین شاعر که شعرش
سراسر درسِ اخلاق است و اعمال
تو گویی: جز مرادِ مردُم او را،
نبود از شاعری مقصود و آمال
ولی در قیدِ هستی داشت حالی
که مُرغانِ قفس را نیست آن حال
گُشود از این چمن چون مُرغِ روحش
به سویِ گُلشنِ جنّت پر و بال
به تاریخش رقم زد کِلکِ «نظمی»
«علی باشد پناه و پُشتِ اقبال»
۱۳۱۷هش
(نظمی تبریزی)

بے شک! اقبال آسمانِ فضل و دانش میں ایک خورشیدِ فروزاں تھا۔۔۔ گردشِ ماہ و سال لاہور میں اِس کے بعد ایسا کوئی آتش زباں نہیں لائے گی۔۔۔ ایسا شاعر [ہرگز] نہ مرے گا، کہ جس کی شاعری سراسر درسِ اَخلاق و اعمال ہے۔۔۔ گویا مردُم کی آرزو و مُراد [کی برآوردگی] کے بجز، اُس کا شاعری سے [کوئی دیگر] ہدف و مقصد نہ تھا۔۔۔ لیکن جب تک وہ قیدِ ہستی میں تھا، وہ ایسی [شوریدہ] حالت رکھتا تھا جو مُرغانِ قفس میں [بھی] نہیں ہوتی۔۔۔ جب اُس کے طائرِ روح نے اِس چمن سے گُلشنِ جنّت کی جانب بال و پر کھولے تو ‘نظمی’ کے خامے نے اُس کی تاریخ کے لیے [یہ] رقم کیا: حضرتِ علی اقبال کی پُشت و پناہ ہوں!

Advertisements

اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے تاجکستانی سفیر کی ملاقات

پاکستان میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف مشرق کے عظیم شاعر و مفکر محمد اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے ملاقات کے لیے گئے۔ وزارتِ امورِ خارجۂ تاجکستان کے دفترِ مطبوعات کی اطلاع کے مطابق، شیر علی جانانوف نے چھ اکتوبر کو شہرِ لاہور کے دورے کے دوران محمد اقبال کے رشتے داروں، بالخصوص اُن کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال  سے ملاقات کی۔
تاجک سفیر نے جاوید اقبال کے ساتھ اس ہم نشینی میں اُنہیں اُن کے والد کی چند تازہ نشر شدہ کتابیں، از جملہ ‘کلیاتِ فارسیِ اقبال’، ‘جاوید نامہ’ اور اُن کی بزرگ فلسفی-فقہی تصنیفات میں سے ایک ‘احیائے فکرِ دینی در اسلام’، کہ جو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی ہدایت پر دوشنبہ میں شائع ہوئی تھیں، تحفے کے طور پر پیش کیں۔
محمد اقبالِ لاہوری کا شمار انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز کے ادبیات کے درجۂ اول کے شاعروں کے زمرے میں ہوتا ہے، کہ جنہوں نے اپنی فطری استعداد اور اپنے سخن کے اعجاز سے شعرِ عجم کو نَفَس تازہ بخشا ہے۔ اُنہوں نے زبانِ فارسی کو سرزمینِ ہند و پاکستان میں از سرِ نو زندہ کیا اور مسلمانوں اور بالعموم دنیا کے ستم دیدہ لوگوں کو آزادی کا پیام پہنچایا۔ اقبال نے اس عظیم کارنامے کے وسیلے سے اپنا نام جریدۂ عالَم میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
اسلام آباد میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف گذشتہ ہفتے کے اواخر میں ایک رسمی سفر کے تحت پاکستان کے شہر لاہور گئے تھے۔ اُنہوں نے اس سفر کے دوران جامعۂ پنجاب کا بھی دورہ کیا اور اُس کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر کامران سے ملاقات انجام دی۔ اس ملاقات میں جانبَین نے دونوں ملکوں کے مکاتبِ عالی کے مابین تعاون کی ترقی کے مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ فکر کیا۔ یہ جامعۂ مذکور اس ملک کی بڑی درسگاہوں میں سے ایک ہے جس کی تاسیس سال ۱۸۸۲ء میں ہوئی تھی۔

(منبع: تاجک اخبار ‘آزادگان’)
تاریخ: ۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

======================
یہ خبر ویسے تو اب پرانی ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ کل ہی نظر آئی تھی، سو اسے اردو میں ترجمہ کر کے پیش کر دیا تاکہ پاکستان اور فارسی گو ملک تاجکستان کے مابین لسانی و ثقافتی روابط کو نمایاں کیا جا سکے۔