تُرکِیَوی ادیب «علی نِہاد تارلان» کے ساتھ لاہور میں پیش آیا ایک دلچسپ واقعہ

"«اقبال اکادمی» کی جانب سے عظیم مُتفکّر [علّامہ اقبال] کے نام پر منعقد کردہ یادگاری جلسہ اختتام ہو گیا تھا۔ روزِ فردا پاکستان کے صدر نے شرفِ ملاقات بخشا۔ جنابِ صدر نے پوچھا کہ کیا میں لاہور – جہاں پر اقبال کا مقبرہ ہے – جا چکا ہوں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ "موسم بِسیار گرم ہے، میں جسارت نہیں کر پاتا۔” ظاہراً دو روز قبل وہاں زوردار بارشیں ہو چکیں تھیں، اور لاہور کا موسم مُعتدل ہو گیا تھا۔ اُس شب قصرِ صدارت کی طرف سے اقبال اکادمی کو اِس صورتِ حال کی اطلاع دی گئی، اور مجھ کو لاہور لے جانے کا امر فرمایا گیا۔ میں نے بھی اس موقع کو گنوانا نہ چاہا۔ روزِ فردا میری رفاقت کرنے والے محترم ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کے ساتھ میں لاہور چلا گیا۔ دانشگاہِ پنجاب کے شُعبۂ زبان و ادبیاتِ فارسی کے رئیس پروفیسر محمد باقر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں لاہور کے ایک کبیر و مُحتشَم مُسافرخانے میں ٹھہرا۔ میں اِس قدر پُرجوش، اور «اقبال» سے اِس قدر پُر تھا کہ کیا بتاؤں!
شب کے وقت میں نے اقبال کے بارے میں مثنویِ [رُومی] کے وزن میں «قونیۂ ثانی» عنوان کے ساتھ ایک نظم لِکھی۔ میں شب کو سو نہ سکا۔ صُبح کے وقت عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر مُسافرخانے میں آئے۔ میں نے جوش و ہیجان کے ساتھ اُن کو نظم سُنانا چاہی۔ ہنوز میں نے بیتِ اوّل ہی سُنائی تھی کہ وہ دونوں یک دہن ہو کر «واه واه» کہنے لگے۔
میں نے اِس چیز کو اِس طرح فہم کیا:
"یہ شخص ایک تُرک ہے۔ اِس کو خوش گُمانی ہے کہ اِس نے فارسی شاعری لِکھی ہے۔ افسوس! افسوس!۔۔” لیکن میں نے اپنی شعرخوانی کو روکا نہیں، جاری رکھا۔ چند ابیات پر وہ اِس «واه واه» کی تکرار کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ میری آواز تنگ و خفیف ہو گئی۔ میری رُوحیات مُضطرب ہو گئیں۔ ناراحتی کے باعث میں عرَق میں غرق ہو گیا۔ بالآخر نظم ختم ہو گئی۔ محمد باقر نے عبدالحمید عرفانی سے کہا: "الامان!! ہم اِس کو لاہور کے جریدوں میں شائع کریں گے۔ خارق العادت شاعری ہے!” اور مجھ سے کہا: "اِس نظم کو اپنی دست خطی سے لکھ دیجیے۔ تاکہ ہم دانشگاہ کے مجموعے میں اُس کی تصویری نقل چھاپیں۔” سوچیے میری حالت کو!۔۔۔ بعد میں مَیں سمجھا کہ یہ «واه، واه» بِسیار زیبا، آفرین کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اُس روز ہم نے مزارِ اقبال کی زیارت کی۔ ہمارے پہلو میں وہاں کے چند شُعَراء بھی موجود تھے۔ مزار میں مجھ سے نظم خوانوائی (پڑھوائی) گئی۔ بعد ازاں، پاکستان کے بُزُرگ ترین ادبی مجموعے «ہِلال» نے بھی شائع کی۔
زندگی کی طرح طرح کی تجلّیاں ہیں۔ کون کہتا کہ سالوں بعد مَیں مزارِ مولانا رُومی کے احاطے میں «اقبال» اور «نفْعی» کے نام پر ایک ایک دفتر کی تأسیس کے لیے مِلّی وزارتِ تعلیم سے رجوع کروں گا اور یہ پیش نِہاد (تجویز) قبول ہو جانے کے بعد وہ دفاتر فعالیّت کا آغاز کر دیں گے۔۔۔ اور قونیہ بھی لاہورِ ثانی ہو جائے گا۔۔۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

× تُرکی زبان میں «واه!» افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «نفْعی» = دیارِ آلِ عُثمان کے ایک مشہور شاعر کا تخلُّص

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

صدرِ پاکستان کی جانب سے علی نہاد تارلان کو دیا گیا «ستارۂ امتیاز» اُن کے سُپُرد کرتے وقت پاکستان کے سفیرِ اعلیٰ جناب س. م. حسن نے یہ فرمایا تھا:

"پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تارلان تُرکیہ کے مُمتاز ترین کلاسیکی عالموں میں سے ایک ہیں۔ وہ چالیس سالوں سے تُرکی و فارسی زبانیں سِکھا رہے اور رُبع صدی سے دانشگاہِ استانبول میں کلاسیکی تُرکی ادبیات کی کُرسیِ اُستادی پر مشغول ہیں۔ وہ فقط ایران اور پاکستان میں نہیں، بلکہ مغربی مُستشرقین کے درمیان بھی فارسی ادبیات میں صاحبِ صلاحیت کے طور پر معروف ہیں۔ اِس کے علاوہ، پروفیسر تارلان «اقبال» کے موضوع پر تُرکیہ میں اہم ترین مُتخصِّص ہونے کے ساتھ ساتھ، یہاں پاکستان کے مِلّی شاعر کو مُتعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والے شخص ہیں۔ اقبال کی تصنیفوں «پیامِ مشرق» اور «اسرار و رُموز» کا ترجمہ کرنے کے ذریعے سے اُنہوں نے پاکستان کے اِس عظیم شاعر کا پیغام ہم وطنوں کو سُنایا اور تشریح کیا ہے۔ پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان معنوی و ثقافتی رابطوں کو قوی تر کرنے کے لیے اُن کی خِدمات کے پیشِ نظر وہ ۱۹۵۷ء میں اقبال اکادمی کی جانب سے کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسۂ اقبال کی صدارت کرنے کے لیے پاکستان مدعو ہوئے تھے۔
"پروفیسر علی نہاد تارلان کی، پاکستان کے مِلّی شاعر کو برادر تُرک مِلّت سے مُتعارف کرانے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کی قدردانی میں پاکستان کے صدرِ مملکت نے کو اُن کو «ستارۂ امتیاز» سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی قابلیتوں میں تمایُز دِکھانے والے عالِموں کو دیے جانے والا یہ نشان پروفیسر علی نہاد تارلان کو دینے سے مَیں بِسیار شادمانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ نشان، باہمی تاریخی و روایتی دوستی کے رابطے رکھنے والے مُلکوں تُرکیہ اور پاکستان کو یک دیگر کے مزید نزدیک قریب لانے کی راہ میں کوششیں کرنے والے تُرک دانشوَروں کو ہمارا احترام پیش کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

جس طرح ایران پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان جغرافیائی پُل ہے، اُسی طرح زبانِ فارسی کو بھی پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان حلقۂ واصِل کہا جا سکتا ہے۔ تُرکِیہ کے ادبیات شِناسوں کی ایک کثیر تعداد فارسی زبان جانتی ہے، کیونکہ فارسی کے علم کے بغیر کلاسیکی و عُثمانی تُرکی ادبیات کا مُطالعہ قریباً ناممکن ہے۔ فارسی پاکستان اور تُرکیہ ہر دو مُلکوں کی کلاسیکی ادبی زبان ہے۔

Advertisements

تاریخِ وفاتِ اقبالِ لاهوری – نظمی تبریزی

همانا در سِپِهرِ فضل و دانش
فروزان آفتابی بود اقبال
به «لاهور» این‌چنین آتش‌زبانی
نیارد بعد از این دورِ مه و سال
نمیرد این‌چنین شاعر که شعرش
سراسر درسِ اخلاق است و اعمال
تو گویی: جز مرادِ مردُم او را،
نبود از شاعری مقصود و آمال
ولی در قیدِ هستی داشت حالی
که مُرغانِ قفس را نیست آن حال
گُشود از این چمن چون مُرغِ روحش
به سویِ گُلشنِ جنّت پر و بال
به تاریخش رقم زد کِلکِ «نظمی»
«علی باشد پناه و پُشتِ اقبال»
۱۳۱۷هش
(نظمی تبریزی)

بے شک! اقبال آسمانِ فضل و دانش میں ایک خورشیدِ فروزاں تھا۔۔۔ گردشِ ماہ و سال لاہور میں اِس کے بعد ایسا کوئی آتش زباں نہیں لائے گی۔۔۔ ایسا شاعر [ہرگز] نہ مرے گا، کہ جس کی شاعری سراسر درسِ اَخلاق و اعمال ہے۔۔۔ گویا مردُم کی آرزو و مُراد [کی برآوردگی] کے بجز، اُس کا شاعری سے [کوئی دیگر] ہدف و مقصد نہ تھا۔۔۔ لیکن جب تک وہ قیدِ ہستی میں تھا، وہ ایسی [شوریدہ] حالت رکھتا تھا جو مُرغانِ قفس میں [بھی] نہیں ہوتی۔۔۔ جب اُس کے طائرِ روح نے اِس چمن سے گُلشنِ جنّت کی جانب بال و پر کھولے تو ‘نظمی’ کے خامے نے اُس کی تاریخ کے لیے [یہ] رقم کیا: حضرتِ علی اقبال کی پُشت و پناہ ہوں!


اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے تاجکستانی سفیر کی ملاقات

پاکستان میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف مشرق کے عظیم شاعر و مفکر محمد اقبالِ لاہوری کے خانوادے سے ملاقات کے لیے گئے۔ وزارتِ امورِ خارجۂ تاجکستان کے دفترِ مطبوعات کی اطلاع کے مطابق، شیر علی جانانوف نے چھ اکتوبر کو شہرِ لاہور کے دورے کے دوران محمد اقبال کے رشتے داروں، بالخصوص اُن کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال  سے ملاقات کی۔
تاجک سفیر نے جاوید اقبال کے ساتھ اس ہم نشینی میں اُنہیں اُن کے والد کی چند تازہ نشر شدہ کتابیں، از جملہ ‘کلیاتِ فارسیِ اقبال’، ‘جاوید نامہ’ اور اُن کی بزرگ فلسفی-فقہی تصنیفات میں سے ایک ‘احیائے فکرِ دینی در اسلام’، کہ جو تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی ہدایت پر دوشنبہ میں شائع ہوئی تھیں، تحفے کے طور پر پیش کیں۔
محمد اقبالِ لاہوری کا شمار انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز کے ادبیات کے درجۂ اول کے شاعروں کے زمرے میں ہوتا ہے، کہ جنہوں نے اپنی فطری استعداد اور اپنے سخن کے اعجاز سے شعرِ عجم کو نَفَس تازہ بخشا ہے۔ اُنہوں نے زبانِ فارسی کو سرزمینِ ہند و پاکستان میں از سرِ نو زندہ کیا اور مسلمانوں اور بالعموم دنیا کے ستم دیدہ لوگوں کو آزادی کا پیام پہنچایا۔ اقبال نے اس عظیم کارنامے کے وسیلے سے اپنا نام جریدۂ عالَم میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
اسلام آباد میں تاجکستان کے سفیر شیر علی جانانوف گذشتہ ہفتے کے اواخر میں ایک رسمی سفر کے تحت پاکستان کے شہر لاہور گئے تھے۔ اُنہوں نے اس سفر کے دوران جامعۂ پنجاب کا بھی دورہ کیا اور اُس کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر کامران سے ملاقات انجام دی۔ اس ملاقات میں جانبَین نے دونوں ملکوں کے مکاتبِ عالی کے مابین تعاون کی ترقی کے مسائل پر گفتگو اور تبادلۂ فکر کیا۔ یہ جامعۂ مذکور اس ملک کی بڑی درسگاہوں میں سے ایک ہے جس کی تاسیس سال ۱۸۸۲ء میں ہوئی تھی۔

(منبع: تاجک اخبار ‘آزادگان’)
تاریخ: ۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

======================
یہ خبر ویسے تو اب پرانی ہو گئی ہے، لیکن مجھے یہ کل ہی نظر آئی تھی، سو اسے اردو میں ترجمہ کر کے پیش کر دیا تاکہ پاکستان اور فارسی گو ملک تاجکستان کے مابین لسانی و ثقافتی روابط کو نمایاں کیا جا سکے۔