عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است – لایق شیرعلی

عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است،
جانِ شاعر در نیاز و روحِ شاعر بی‌نیاز است.
می‌خورد غم‌های عالَم بیش از غم‌های جانش،
کارِ شاعر کار نی، خود‌کاهی و سوز و گداز است.
حق بجوید سال‌ها، ناحق بسوزد عمرها،
گرچه بیزار است از افسانه، باز افسانه‌ساز است.
در دلِ او مردگان و زندگان پهلویِ هم،
آمد و رفتِ نَفَس‌هایش گُسیل و پیشواز است.
قامتش خم گشته باشد گر ز بارِ زندگی،
پیشِ فردا از همه امروزیان او سرفراز است.
گرچه بنشیند میانِ چاردیوارِ خیال
از همه او تیزپرواز، از همه او پیش‌تاز است.
۲۶/۶/۱۹۷۷
(لایق شیرعلی)

ترجمہ:
شاعر کی عمر اگرچہ کوتاہ ہوتی ہے، لیکن اُس کے شعر کی عمر دراز ہے؛ شاعر کی جان نیازمند، جبکہ اُس کی روح بے نیاز ہوتی ہے۔
وہ اپنی جان کے غم سے زیادہ دنیا کے غم کھاتا ہے؛ شاعر کا کام، کام نہیں، بلکہ خودکاہی و سوز و گداز ہے۔
وہ سالوں حق تلاش کرتا ہے اور عمروں ناحق جلتا ہے؛ اگرچہ وہ افسانے سے بیزار ہے، لیکن پھر بھی وہ افسانہ ساز ہوتا ہے۔
اُس کے دل میں مردے اور زندے پہلو بہ پہلو رہتے ہیں؛ اُس کی سانسوں کی آمد و رفت [در حقیقت] الوداع و استقبال ہیں۔
اگرچہ اُس کی قامت زندگی کے بار سے خم ہو چکی ہو، لیکن فردا کے سامنے وہ تمام آج کے لوگوں سے زیادہ سرفراز ہے۔
اگرچہ وہ خیال کی چاردیواری میں بیٹھتا ہے، لیکن وہ سب سے زیادہ تیزپرواز اور سب سے زیادہ تیزقدم ہوتا ہے۔

× خودکاہی = اپنے آپ کو گھٹانا


ای طبیعت – لایق شیر علی

ای طبیعت!
روزِ دفنم
باز یک آن زنده‌ام کن.
تا بدانم، دوستانم
در چه حالند،
تا بگویم، در عزای
من ننالند.

یک نظر تا بینم از اعدای من
کیست در خود شادمان
از مردنِ اعضای من.
بنگرم، از دشمنانم
کیست حاضر در سرِ
تابوت و می‌گرید ز شادی –
زهرخندی بهرِ او تقدیم سازم،
وز سرِ تابوتِ خود
دورش برانم…

بارِ دیگر بنگرم
بر چشمِ یارم،
پس روم آسوده
بر کنجِ مزارم…

(لایق شیرعلی)

اے طبیعت!
میرے دفن کے روز
مجھے دوبارہ ایک لمحہ زندہ کرنا۔
تاکہ میں جان لوں کہ میرے دوست
کس حال میں ہیں،
تاکہ میں کہہ دوں کہ میرے غم میں
وہ نالہ نہ کریں۔

تاکہ ایک نظر دیکھ لوں کہ میرے اعدا میں سے
کون اندر ہی اندر شادمان ہے
میرے اعضاء کی موت پر۔
تاکہ دیکھ لوں کہ میرے دشمنوں میں سے
کون سرِ تابوت حاضر ہے
اور خوشی سے رو رہا ہے –
اُسے ایک زہرخند پیش کروں،
اور اپنے تابوت کے سرہانے سے
اُسے دور بھگا دوں۔۔۔

دوبارہ نگاہ ڈالوں،
اپنے یار کی چشم پر،
پھر آسودہ چلے جاؤں،
اپنے مزار کے گوشے پر۔۔۔

× طبیعت = نیچر


فارسی: علامہ اقبال کی روح کی زبان

محمدجان شکوری بخارایی کی کتاب ‘خراسان است اینجا’ (۱۹۹۶ء) پر تقریظ میں معروف تاجک شاعر لایق شیرعلی لکھتے ہیں:
"… یکی از دانش‌مندانِ معاصرش به علامهٔ اقبال می‌گوید: اشعارِ شما برای ما زندگی‌بخش و آزادی‌بخش است، شما رهنمای ما هستید، ما فارسی نمی‌دانیم، شما به اردو شعر بگویید. اقبال به زبانِ انگلیسی چنین پاسخ می‌دهد: ‘این اشعار به من به زبانِ فارسی الهام می‌شود، زبانِ روحیهٔ من فارسی است.'”
ترجمہ: "۔۔۔علامہ اقبال کے ایک ہم عصر دانش مند نے اُن سے کہا: آپ کے اشعار ہمارے لیے زندگی بخش و آزادی بخش ہیں، آپ ہمارے رہنما ہیں، ہم فارسی نہیں جانتے، آپ اردو میں شعر کہیے۔ اقبال نے انگریزی میں یوں جواب دیا: ‘یہ اشعار مجھ پر فارسی زبان میں الہام ہوتے ہیں، میری روح کی زبان فارسی ہے۔'”

علامہ اقبال کی مانند، میری روح کی زبان بھی صرف اور صرف فارسی ہے۔