یاد باد، آن شورِ آغازِ محبت یاد باد – لایق شیرعلی

یاد باد، آن شورِ آغازِ محبت یاد باد،
یاد باد، احساسِ اعجازِ محبت یاد باد.
بینِ دو دل – بینِ دو سیّارهٔ شور و جنون
در فضایِ شوق پروازِ محبت یاد باد.
سینه‌ام چون کورهٔ پُرآتشی درمی‌گرفت،
آن همه سوزِ دل و سازِ محبت یاد باد.
بهرِ یک نازَش نمی‌گُنجید جانم در بدن،
آن جوانی‌ها و آن نازِ محبت یاد باد.
در دلم صد بحرِ طوفانی تو گویی جای داشت،
آن تلاطم‌هایِ جان‌بازِ محبت یاد باد.
گر من امروزم ز مجروحانِ کارستانِ درد،
بازوانِ قادراندازِ محبت یاد باد.
در دلم امروز غیرِ مُشتِ آه و درد نیست،
زان دلی، که بود انبازِ محبت، یاد باد!
(لایق شیرعلی)
۱۹۸۶ء

ترجمہ:
یاد بخیر! محبّت کے آغاز کے اُس شور و آشوب کی یاد بخیر!۔۔۔ یاد بخیر! محبّت کے اعجاز کے احساس کی یاد بخیر!
اُس وقت کی یاد بخیر کہ جب دو دِلوں کے درمیان، [یعنی] شور و جنون کے دو سیّاروں کے درمیان فضائے شوق میں محبّت پرواز کرتی تھی!
میرا سینہ ایک کُورۂ پُرآتش کی طرح جلا کرتا تھا۔۔۔۔ اُس سب سوزِ دل و سازِ محبّت کی یاد بخیر!
اُس کے ایک ناز کے لیے میری جان بدن میں نہیں سمایا کرتی تھی۔۔۔ اُن جوانیوں اور اُس نازِ محبّت کی یاد بخیر!
[اگر] تم [دیکھتے تو] کہتے کہ [گویا] میرے دل میں صدہا بحرِ طوفانی سمائے ہوئے تھے۔۔۔ محبّت کے اُن جاں باز تلاطُموں کی یاد بخیر!
اگر[چہ] میں اِمروز کارخانۂ درد کے زخمیوں میں سے ہوں۔۔۔ محبّت کے ماہر و توانا بازوؤں کی یاد بخیر!
میرے دل میں اِمروز مُشت بھر آہ و درد کے بجز [کچھ] نہیں ہے۔۔۔ اُس دل کی یاد بخیر کہ جو محبّت کا ہمدم و رفیق تھا!

× کُورہ = بھٹّی
× اِمروز = آج

Advertisements

عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است – لایق شیرعلی

عمرِ شاعر گرچه کوته، عمرِ شعرِ او دراز است،
جانِ شاعر در نیاز و روحِ شاعر بی‌نیاز است.
می‌خورد غم‌های عالَم بیش از غم‌های جانش،
کارِ شاعر کار نی، خود‌کاهی و سوز و گداز است.
حق بجوید سال‌ها، ناحق بسوزد عمرها،
گرچه بیزار است از افسانه، باز افسانه‌ساز است.
در دلِ او مردگان و زندگان پهلویِ هم،
آمد و رفتِ نَفَس‌هایش گُسیل و پیشواز است.
قامتش خم گشته باشد گر ز بارِ زندگی،
پیشِ فردا از همه امروزیان او سرفراز است.
گرچه بنشیند میانِ چاردیوارِ خیال
از همه او تیزپرواز، از همه او پیش‌تاز است.
۲۶/۶/۱۹۷۷
(لایق شیرعلی)

ترجمہ:
شاعر کی عمر اگرچہ کوتاہ ہوتی ہے، لیکن اُس کے شعر کی عمر دراز ہے؛ شاعر کی جان نیازمند، جبکہ اُس کی روح بے نیاز ہوتی ہے۔
وہ اپنی جان کے غم سے زیادہ دنیا کے غم کھاتا ہے؛ شاعر کا کام، کام نہیں، بلکہ خودکاہی و سوز و گداز ہے۔
وہ سالوں حق تلاش کرتا ہے اور عمروں ناحق جلتا ہے؛ اگرچہ وہ افسانے سے بیزار ہے، لیکن پھر بھی وہ افسانہ ساز ہوتا ہے۔
اُس کے دل میں مردے اور زندے پہلو بہ پہلو رہتے ہیں؛ اُس کی سانسوں کی آمد و رفت [در حقیقت] الوداع و استقبال ہیں۔
اگرچہ اُس کی قامت زندگی کے بار سے خم ہو چکی ہو، لیکن فردا کے سامنے وہ تمام آج کے لوگوں سے زیادہ سرفراز ہے۔
اگرچہ وہ خیال کی چاردیواری میں بیٹھتا ہے، لیکن وہ سب سے زیادہ تیزپرواز اور سب سے زیادہ تیزقدم ہوتا ہے۔

× خودکاہی = اپنے آپ کو گھٹانا


ای طبیعت – لایق شیر علی

ای طبیعت!
روزِ دفنم
باز یک آن زنده‌ام کن.
تا بدانم، دوستانم
در چه حالند،
تا بگویم، در عزای
من ننالند.

یک نظر تا بینم از اعدای من
کیست در خود شادمان
از مردنِ اعضای من.
بنگرم، از دشمنانم
کیست حاضر در سرِ
تابوت و می‌گرید ز شادی –
زهرخندی بهرِ او تقدیم سازم،
وز سرِ تابوتِ خود
دورش برانم…

بارِ دیگر بنگرم
بر چشمِ یارم،
پس روم آسوده
بر کنجِ مزارم…

(لایق شیرعلی)

اے طبیعت!
میرے دفن کے روز
مجھے دوبارہ ایک لمحہ زندہ کرنا۔
تاکہ میں جان لوں کہ میرے دوست
کس حال میں ہیں،
تاکہ میں کہہ دوں کہ میرے غم میں
وہ نالہ نہ کریں۔

تاکہ ایک نظر دیکھ لوں کہ میرے اعدا میں سے
کون اندر ہی اندر شادمان ہے
میرے اعضاء کی موت پر۔
تاکہ دیکھ لوں کہ میرے دشمنوں میں سے
کون سرِ تابوت حاضر ہے
اور خوشی سے رو رہا ہے –
اُسے ایک زہرخند پیش کروں،
اور اپنے تابوت کے سرہانے سے
اُسے دور بھگا دوں۔۔۔

دوبارہ نگاہ ڈالوں،
اپنے یار کی چشم پر،
پھر آسودہ چلے جاؤں،
اپنے مزار کے گوشے پر۔۔۔

× طبیعت = نیچر


فارسی: علامہ اقبال کی روح کی زبان

محمدجان شکوری بخارایی کی کتاب ‘خراسان است اینجا’ (۱۹۹۶ء) پر تقریظ میں معروف تاجک شاعر لایق شیرعلی لکھتے ہیں:
"… یکی از دانش‌مندانِ معاصرش به علامهٔ اقبال می‌گوید: اشعارِ شما برای ما زندگی‌بخش و آزادی‌بخش است، شما رهنمای ما هستید، ما فارسی نمی‌دانیم، شما به اردو شعر بگویید. اقبال به زبانِ انگلیسی چنین پاسخ می‌دهد: ‘این اشعار به من به زبانِ فارسی الهام می‌شود، زبانِ روحیهٔ من فارسی است.'”
ترجمہ: "۔۔۔علامہ اقبال کے ایک ہم عصر دانش مند نے اُن سے کہا: آپ کے اشعار ہمارے لیے زندگی بخش و آزادی بخش ہیں، آپ ہمارے رہنما ہیں، ہم فارسی نہیں جانتے، آپ اردو میں شعر کہیے۔ اقبال نے انگریزی میں یوں جواب دیا: ‘یہ اشعار مجھ پر فارسی زبان میں الہام ہوتے ہیں، میری روح کی زبان فارسی ہے۔'”

علامہ اقبال کی مانند، میری روح کی زبان بھی صرف اور صرف فارسی ہے۔


من ‌نمی‌میرم – لائق شیرعلی

[من ‌نمی‌میرم]

تا نگیرم خون‌بهای جملهٔ قربانیان را،
تا نبخشم عمرِ آزادی همه زندانیان را،
تا نیابم راهِ دل‌های تمامِ زندگان را،
تا نبردارم به دوشم دوش‌بارِ این زمان را،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نشویم داغِ دل‌ها را به خونابِ دلم،
تا نیابم من ز دنیا دُرِّ نایابِ دلم،
تا نکابم صبح را از چشمِ بی‌خوابِ دلم،
تا نگویم داستانِ تازهٔ بابِ دلم،
من ‌نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نیاراید جوانی‌ام جهانِ پیر را،
تا نبندم با سرودم پیشِ راهِ تیر را،
تا نگیرم با قلم پیشِ دمِ شمشیر را،
تا نبنویسم ز نو من نامهٔ تقدیر را،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا نسازم هیکلی بر یادگارِ مادرم،
تا نگردم همسرِ بامِ جهانِ کشورم،
تا نگردد مطلعِ عمرِ ابد بام و درم،
نشکند تا تشنگیِ تشنه را شعرِ ترم،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا دمی، که آفتاب از شرق بنماید طلوع،
تا دمی، که رودها از کوهسار آید فرو،
تا دمی، که زندگی باشد به راهِ آرزو،
تا دمی، که شعرِ حافظ باشد و جام و سبو،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

تا ندانم، که پس از من خوانده شعرم را کسی
خواب می‌بیند مرا، می‌پرسد این آواز کیست؟
تا ندانم زندگی را بعدِ من ره تا کجاست،
تا ندانم صاحبِ دنیا پس از من باز کیست،
من نمی‌میرم،
من نخواهم مرد!

با دو چشمِ نورپالا،
با دو دستِ رزق‌پیما،
با دلِ دردآشنا و با سرِ پرشور و سودا،
تا قلم را پل نسازم در میانِ ساحلِ
امروز و فردا،
من نخواهم مرد عاجز،
من نخواهم مرد هرگز!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

========

[میں نہیں مروں گا]

جب تک میں تمام فداکاروں کا خوں بہا نہ لے لوں،
جب تک میں تمام زندانیوں کو ایک آزاد عمر نہ بخش دوں،
جب میں میں تمام زندوں کے دلوں کی راہ نہ پا لوں،
جب تک میں اس زمانے کا بارِ دوش اپنے شانوں پر نہ اٹھا لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں دلوں کے داغ کو اپنے دل کے خوناب سے نہ دھو لوں،
جب تک میں دنیا سے اپنے دل کا نایاب دُر حاصل نہ کر لوں،
جب تک میں صبح کو اپنے دل کی بے خواب چشم سے شق نہ کر لوں،
جب تک میں اپنے دل کے باب کی تازہ داستان نہ کہہ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میری جوانی جہانِ پیر کو آراستہ نہ کر لے،
جب تک میں اپنے سُرودوں سے تیر کی راہ نہ روک لوں،
جب تک میں قلم سے شمشیر کی دھار کُند نہ کر لوں،
جب تک میں از سرِ نو نامۂ تقدیر نہ لکھ لوں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک میں اپنی مادر کی یادگار پر ایک مجسمہ نہ بنا لوں،
جب تک میں اپنے ملک کے بامِ جہاں کے برابر نہ ہو جاؤں،
جب تک میرے بام و در ابدی عمر کے مطالع نہ بن جائیں،
جب تک میرے تر اشعار پیاسے کی پیاس نہ بجھا دیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

اُس لحظے تک کہ مشرق سے آفتاب طلوع ہوتا رہے،
اُس لحظے تک کہ کوہسار سے دریا نیچے اترتے رہیں،
اُس لحظے تک کہ زندگی آرزو کی راہ پر گامزن رہے،
اُس لحظے تک کہ حافظ کے اشعار اور جام و سبو رہیں،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد کوئی شخص میرے اشعار پڑھ کر
مجھے خواب میں دیکھے گا، اور پوچھے گا کہ یہ صدا کون سی ہے؟
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد زندگی کی راہ کہاں تک ہے،
جب تک یہ نہ جان لوں کہ میرے بعد صاحبِ دنیا دوبارہ کون ہے،
میں نہیں مرتا،
میں نہیں مروں گا!

دو نُورپالا آنکھوں کے ساتھ،
دو رزق پیما ہاتھوں کے ساتھ،
درد آشنا دل اور پُرتلاطم و جُنوں سر کے ساتھ،
جب تک کہ میں قلم کو پُل نہ بنا لوں
امروز و فردا کے ساحلوں کے درمیان،
میں عاجز نہیں مروں گا،
میں ہرگز نہیں مروں گا!

(لائق شیرعلی)
۱۹۶۸ء

* بامِ جہاں = تاجکستانی صوبے بدخشاں اور وہاں موجود کوہ ہائے پامیر کا لقب
* مطالِع = مطلع (یعنی طلوع ہونے کی جگہ) کی جمع
* نُورپالا = نور کو صاف کرنے والا
* رزق پیما = رزق کی پیمائش کرنے والا