مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان

۱۹۱۲ء میں طباعت کا آغاز کرنے والے وسطی ایشیا کے اولین فارسی نشریے ‘بخارائے شریف’ نے اپنے شمارۂ پانزدہم میں فارسی کو ‘مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان’ کہہ کر یاد کیا تھا:
"۔۔۔۔امارتِ بخارا دارای سه میلیون نفوس است، تا اکنون اهالیِ ترکستان و ماوراءالنهر یک روزنامه به زبانِ ملی و اسلامیِ خود نداشتند. حالا از غیرت و همتِ ملت‌پسندانهٔ چند نفر معارف‌پرور و ترقی‌خواهانِ بخارای شریف این رونامهٔ مسمّیٰ به ‘بخارای شریف’ به زبانِ فارسی، که زبانِ رسمیِ بخارا هست، تأسیس شده و از عدم به وجود آمده و به طبع و نشرِ آن اقدام نموده شد. حالا برای ۹-۱۰ میلیون نفوسِ اسلامیهٔ ترکستان و ماوراءالنهر همین یک روزنامه است و فقط.”
ترجمہ: "۔۔۔۔۔امارت بخارا کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، [لیکن] تا حال مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کا اپنی ملی و اسلامی زبان میں کوئی روزنامہ نہیں تھا۔ اب شہرِ بخارائے شریف کے چند معارف پرور و ترقی خواہ نفور کی ملت پسندانہ غیرت اور کوشش سے یہ ‘بخارائے شریف’ نامی روزنامہ فارسی زبان میں، کہ بخارا کی رسمی زبان ہے، تأسیس ہوا ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے اور اِس کے طبع و نشر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حالا ترکستان و ماوراءالنہر کے ۹۰-۱۰۰ لاکھ نفوسِ اسلامیہ کے برائے یہی ایک روزنامہ ہے اور بس۔”
ماخذ

سلام بر تو، ای زبانِ من!
سلام بر تو، ای شهرِ بخارای شریف!


بخارا میں شیعہ سنی نزاع کے بعد صدرالدین عینی کے منظوم تأثرات

۱۳۲۸ ہجری میں شہرِ بخارا کے شیعوں اور اہلِ سنت کے درمیان فرقہ ورانہ نزاع اور مناقشہ برپا ہو گیا تھا جس کے خاموش اور مہار ( = کنٹرول) ہو جانے کے بعد بابائے ادبیاتِ تاجک استاد صدرالدین عینی نے اِس فاجعے پر ایک تأثراتی نظم لکھی تھی جس کے چند اشعار اُنہوں نے اپنی کتاب ‘تاریخِ انقلابِ فکری در بخارا’ (۱۹۱۸ء) میں شامل کیے ہیں۔ اِسی کتاب کو ماخذ بناتے ہوئے اُنہی اشعار کے مفاہیم کو اپنی فہم کے بقدر اردو میں منتقل کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔

انقلابِ دهر و دورِ چرخِ و کارِ روزگار
درسِ عبرت می‌دهد با هر که باشد هوشیار
گر به نعمت، گر به محنت، گر به عزت، گر به ظلم
امتحان‌گاه است ما را صحنهٔ لیل و نهار
گر به کف شد دولتِ گیتی، نمی‌باید غرور
گر به سر شد محنتِ عالم، بباید اصطبار
شکر می‌باید، که از حدِ شمار افزون بوَد
نعمتِ حق را، که افزون است از حدِ شمار
ناسپاسی سر زند، استغفر الله العظیم
انتقامِ ایزدی را بُرد باید انتظار
وآن گه از آن شعله در یک دم نه تر ماند، نه خشک
وآن گه از آن باد در عالم نه گل ماند، نه خار
چون وزید امروز بادِ بی‌نیازیِ خدا
در بخارا بُرد از پیر و جوان صبر و قرار
فتنه‌ای افتاد، زایل گشت از تن‌ها شکیب
وقعه‌ای سر زد، که بیرون کرد از جان‌ها دِمار
فتنهٔ شیعی و سنی، که از این رو تا به حال
عالمِ اسلام چندین بار گشته تار و مار
خانمان‌ها زین الم این دفعه هم تاراج یافت
گل‌عذاران زین ستم این بار هم غلطیده خوار
رفت جانِ یک جهان بی‌چاره بر چنگِ اجل
ماند جسمِ یک گروه افتاده بر خنجر دوچار
کام‌ها شد از سمومِ محنت و غم تلخ و شور
دیده‌ها شد از هجومِ خونِ حسرت تنگ و تار
یأس حاصل شد چنان از زندگانی خلق را
هر که بر خود دید حالِ نزع و وقتِ احتضار
یا کریم از محضِ لطفِ عام و فضلِ شاملت
عفو کن نقصان و تقصیراتِ ما را درگذار
یا غفور، از ما نیاید پیشه، الّا معصیت
یا غنی، از ما نباشد تحفه، الّا افتقار
تا به کَی باشیم در کنجِ جهالت مستقیم؟
تا به کَی باشیم در فکرِ ذلالت استوار؟
تا به چندین ریختن خونِ برادر جای آب؟
تا کجا‌ها کوفتن بر فرقِ مادر جای مار؟
خودکُشی بهرِ چه؟ از بیگانگان آریم شرم
دوست‌آزاری چرا؟ از دشمنان داریم عار
خونِ مؤمن ریختن بر مؤمنین کَی شد روا؟
مالِ مسلم تاختن بر مسلمین کَی شد شعار؟
مسلم از مسلم سلامت باشد، این قولِ رسول
گفته‌است: "المؤمنونَ اِخوةٌ” – پروردگار
(صدرالدین عینی)

ترجمہ:
انقلابِ دہر و دورِ چرخ و کارِ روزگار ہر اُس شخص کو درسِ عبرت دیتے ہیں جو ہوشیار ہے۔
اگر نعمت کے ساتھ ہو، اگر رنج کے ساتھ ہو، اگر عزت کے ساتھ ہو، یا اگر ظلم کے ساتھ ہو، یہ لیل و نہار کا میدان ہمارے لیے امتحان گاہ ہے۔
اگر کف میں دولتِ گیتی آ جائے تو غرور نہیں کرنا چاہیے؛ اور اگر رنجِ عالَم کا آغاز ہو جائے، تو صبر کرنا چاہیے۔
حدِ شمار سے افزوں نعمتِ حق کا شکر (بھی) حدِ شمار سے زیادہ ہونا چاہیے۔
اگر ناشکری شروع ہو جائے، استغفر اللہ العظیم، تو پس انتقامِ ایزدی کا منتظر رہنا چاہیے۔
اور پھر اُس وقت اُس شعلے سے ایک ہی لمحے میں نہ تر باقی رہتا ہے، نہ خشک؛ اور اُس وقت اُس باد سے عالم میں نہ گل باقی رہتا ہے نہ خار۔
آج جب خدا کی بے نیازی کی باد حرکت میں آئی تو بخارا میں وہ پیر و جواں سے صبر و قرار لے گئی۔
ایک فتنہ گرا، جس سے جسموں سے صبر زائل ہو گیا؛ ایک واقعہ سرزد ہوا، جس نے جانوں کو ہلاک کر دیا۔
شیعہ و سنی کا فتنہ کہ جس کے باعث تا حال عالمِ اسلام کئی بار تار و مار ہوا ہے۔
اِس الم سے اِس دفعہ بھی خانماں تاراج ہو گئے؛ اِس ستم سے اِس بار بھی گل عذاراں خوار حالت میں غلطیدہ ہو گئے۔
ایک عالَم کی جاں بے چارگی کے ساتھ موت کے چنگل میں چلی گئی؛ ایک گروہ کا جسم خنجر سے دوچار ہو کر بے اختیار غلطاں ہو گیا۔
سمومِ رنج و غم سے تالو تلخ و شور ہو گئے؛ ہجومِ خونِ حسرت سے دیدے تنگ و تار ہو گئے۔
مردم کو زندگانی سے ایسی مایوسی ہو گئی کہ ہر کسی کو خود پر حالتِ نزع اور وقتِ احتضار نظر آنے لگا۔
یا کریم! محض اپنے لطفِ عام و فضلِ شامل سے ہماری کوتاہی کو عفو کر اور ہماری تقصیروں سے درگذر فرما۔
یا غفور! ہمارا پیشہ بجز معصیت کچھ نہیں ہے؛ یا غنی! ہمارا تحفہ بجز تہی دستی کچھ نہیں ہے۔
ہم کب تک گوشۂ جہالت میں قائم رہیں گے؟ ہم کب تک فکرِ ذلالت میں استوار رہیں گے؟
تا چند آب کی بجائے خونِ برادر بہتا رہے گا؟ تاکجا سانپ کی بجائے فرقِ مادر پر ضرب لگائی جاتی رہے گی؟
خودکُشی کس لیے؟ ہمیں بیگانوں سے شرم آتی ہے؛ دوست آزاری کیوں؟ ہمیں دشمنوں سے عار محسوس ہوتی ہے۔
مؤمنوں پر مؤمن کا خون بہانا کب روا ہو گیا؟ مسلم کے مال کو غارت کرنا مسلموں کا کب سے شعار ہو گیا؟
"مسلم، مسلم سے سلامت ہے”، یہ قول رسول ہے؛ جبکہ پروردگار نے "المؤمنونَ اِخوةٌ” کہا ہے۔


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔


روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس


جامی خراسان اور ماوراءالنہر کے درمیان حلقۂ وصل تھے

تاجکستان میں واقع جمہوریۂ اسلامیِ افغانستان کے سفارت خانے میں عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک محفل منعقد ہوئی جس میں ادیبوں، نقادوں، روزنامہ نگاروں اور ملکی دارالحکومت دوشنبہ میں مقیم افغانستان، تاجکستان اور ایران کے دانشوروں نے شرکت کی۔ آغاز میں قاری مرزائی نے کلامِ مجید سے چند آیات کی تلاوت کر کے فضائے محفل کو منور کیا۔
پھر افغانستان و تاجکستان کے قومی ترانوں کے احترام میں حاضرین کھڑے ہوئے اور ترانوں کو سنا۔ بعد میں تاجکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے حاضرین کو خیر مقدم کہتے ہوئے اس اجتماع کو ‘محفلِ عشق و فرہنگ’ کا نام دیا اور شرکت کرنے والوں کی خدمت میں افغانستان کے صدر اشرف غنی احمد زئی کے سلام اور احترامات پیش کیے۔ اُنہوں نے کہا: "وہ (یعنی صدر) یہ باور رکھتے ہیں کہ ہم ایک مشترکہ ثقافتی و تمدنی قلمرو میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ جس طرح ہم ایک مشترک تاریخی سرنوشت رکھتے ہیں، اُسی طرح ہمیں مداوم ثقافتی سفارت کاری کی مدد سے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے نزدیک آنے اور ایک متحد منطقہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔”
پھر ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے شرکاء کے سامنے افغانستان کے وزیرِ امورِ خارجہ جناب ضرار احمد عثمانی کا نوشتہ پیام پڑھا۔ اُس میں لکھا گیا تھا کہ "مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمۃ اللہ علیہ کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کی تجلیل کا مطلب دینی، ثقافتی اور تمدنی شناخت کی اور ہمزبانی و ہمدلی کی تجلیل ہے۔ میرے اعتقاد میں افغانستان اور تاجکستان کے درمیان روابط کی مشروعیت ایک واحد شناخت پر مبنی ہے، جس کی مشترک دین، زبان اور ثقافت کے شاخصوں سے تعریف کی جاتی ہے۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایک ایسا بزرگ آئینہ ہیں جس میں دو ملتوں کی ہم دلی اور ہم آوازی نظر آتی ہے۔
سلطان حسین میرزا بایقرا کی مقتدرانہ رہبری اور میر علی شیر نوائی کی رفاقت میں حضرتِ جامی پندرہویں صدی عیسوی میں اپنے ‘نفحات الانس’ اور ‘ہفت اورنگ’ کی مدد سے تیموری تمدن کی اساس رکھ پائے تھے۔ تاریخ اس واقعیت کی بیان گر ہے۔ لہٰذا مولانا جامی اور ہفت اورنگ کی یہ پاسداری، عشق و ایماں اور ثقافت کی پاسداری ہے۔ یہ اُن لوگوں کی ہم دلی و ہم آوازی کی پاسداری ہے جو خرد ورزی، صلح جوئی، ہم زیستی، فراست اور اپنی نورانی ثقافتوں کے ہمراہ ایک ساتھ صمیمانہ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔ اور جن کی ثقافت پرور تحمل پذیری و رواداری کی ‘بوئے جوئے مولیاں’ مشترک تاریخ کی کیاری میں جاری رہی ہے۔”
ڈاکٹر عبدالغفور آرزو نے مولانا جامی کی شخصیت کے بارے میں مزید کہا: "وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جو اپنے عشق کے باعث شہرۂ آفاق ہیں۔ شمس الدین محمد حافظ اگر ‘لسان الغیب’ سے متصف ہیں، بیدل ‘ابوالمعانی ‘سے متصف ہیں، تو جامی بھی ‘خاتم الشعراء’ سے ملقب ہیں۔جامی کیوں بزرگ ہے؟ میں بتاتا ہوں جامی کیوں بزرگ ہے۔ ہم اپنی تاریخی، ثقافتی و تمدنی قلمرو میں جامی جیسی کسی شخصیت کا مشکل ہی سے سراغ پا سکتے ہیں۔
جامی اجتماعی مصلح ہے، جامی دین کے میدان کا محقق ہے، جامی اسلام شناسی کے میدان میں ممتاز ہے، جامی عرفانِ نظری و عملی کے میدان میں بے گمان ایک بلند قامت شخصیت ہے، جامی ابنِ عربی کا شاگرد ہے اور اس کے ساتھ ہی ابنِ عربی کی تالیفات کی شرح میں بلاتردید اُس کو کوئی ہمتا نہیں ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کی نشان دہ ہیں کہ جامی بزرگ ہے۔
بالخصوص چنگیز، منگول اور تیموری فتنوں کے بعد، کہ جب تیمور کی آل کشور کشائی اور آتش کشی میں مشغول تھی تو یہی جامی تھے جنہوں نے تیموری خاندان سے سلطان حسین میرزا بایقرا جیسے علم و ثقافت پرور اور بلند قامت چہرے کو اوپر ابھارا تھا۔ جامی ہرات اور سمرقند کے مابین حلقۂ وصل تھے۔ چنگیزی فتنوں کے بعد عرفان محض خانقاہی بن گیا تھا۔ جامی نے ابنِ عربی کے عرفان کا اُس کی تمام ابعاد کے ساتھ احیا کیا۔”
صدرالدین عینی کے نام پر قائم دانشگاہِ دولتیِ آموزگاری کے رئیسِ عالی عبدالجبار رحمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ جامی کا پندرہویں صدی عیسوی کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتا ہے اور اُن کے احوال اور تالیفات کے متعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان میں بہت ساری تحقیقات انجام پا چکی ہیں۔ جامی کے غنی اور مضامین سے پُر اشعار انسان اور اور مقامِ انسان کے بارے میں تازہ و سلیم فکروں پر مشتمل ہیں۔
جامی کے سمرقند کی جانب سفر اور وہاں اُن کی تحصیل نے اُن کی زندگی پر بڑا اثر ڈالا تھا۔ جامی کے استاد سعدالدین کاشغری نے جامی کی معرفت سے آشنا ہونے کے بعد یہ لکھا تھا کہ جامی سے دانش مندی میں بالاتر کوئی انسان بھی آمو دریا کو پار کر کے اس طرف نہیں آیا ہے۔ عبدالرحمٰن جامی نے سمرقند میں بہت سے علمائے علم و فنون سے آشنائی حاصل کی تھی اور اُن سے زمانے کے علوم سیکھے تھے۔ اسی سمرقند ہی میں وہ نقشبندی طریقت سے نزدیکی سے متعارف ہوئے تھے اور بعد میں عرفان کی جانب اُن کی توجہ بیشتر ہو گئی تھی۔
بعداً انہوں نے بزرگانِ عرفان کے بارے میں ‘نفحات الانس’ نامی کتاب لکھی تھی۔ جامی کی ایک اور خدمت علمی بحث و مناظرہ کی تشکیل اور انجام دہی تھی جس کے بعد میں سودمند نتائج نکلے۔ عبدالرحمٰن جامی کو سعدی شیرازی کے ہمراہ معلمِ اخلاق کہا جاتا ہے۔ پروفیسر عبدالجبار رحمان نے اس بات پر بھی فخر ظاہر کیا کہ سوویت دور میں اُنہیں یہ موقع میسر آیا تھا کہ ہرات میں اقامت کر سکیں اور جہانِ ادب و عرفان کے اس بزرگ مرد کے مقبرے کی زیارت سے شرف یاب ہو سکیں۔
بعد میں تاجکستان میں مقیم معروف ایرانی خبرنگار اور سخنور بانو یگانہ احمدی نے جامی کی ‘ہفت اورنگ’ سے دو کوتاہ اقتباسات خوبصورت طریقے سے حاظرین کے سامنے پیش کیے۔
تاجک دانشمند پروفیسر عبدالنبی ستارزادہ نے کہا کہ "شعراء معمولاً تین گروہوں میں گروہ بندی کیے جاتے ہیں: شاعرانِ شاعر، شاعرانِ عالم اور شاعرانِ عارف۔ اس گروہ بندی کی نظر سے مولانا جامی شاعرانِ عالم و عارف کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب بھی ہم مولانا جامی کی تالیفات کا مطالعہ کریں، تو ہمیں اُن تالیفات کا تمام جہات سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ بعض محققوں نے جامی کی میراث کو تنہا اُن کے شاعر ہونے کے حوالے سے یا پھر اُن کے عارف ہونے یا عالم ہونے کے حوالے سے سراہا ہے۔
جن لوگوں نے صرف اُن کے شعروں کے حوالے سے ان کا استاد رودکی، حافظ، سعدی، مولوی، نظامی، اور دوسرے بزرگ شاعروں سے تقابل کیا ہے، انہوں نے یہ کہا ہے کہ وہ ضعیف شاعر ہیں۔ اور جن لوگوں نے صرف اُن کی بطور ایک عارف ارزیابی کی ہے، انہوں نے کہا ہے اُن کے عارفانہ اشعار کو مولوی، سنائی یا عطار کے عارفانہ اشعار کے برابر میں نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک یہ ارزیابی چنداں منصفانہ نہیں ہے۔ مولانا جامی کی تصنیفات پر ہر جہت سے نظر ڈالنی چاہیے۔”
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جامی کے چھ سو سالہ یومِ ولادت کے موقع پر کی گئی تقریر میں جامی شناسی پر بخوبی ایک نظر ڈالی۔ اُنہوں نے اس بات کا تحلیل و تجزیہ کیا کہ جامی شناسی تا‌ حال کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ نیز انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جامی شناسی کے رشد و ارتقاء میں تاجک جامی شناسوں خاص طور پر استادِ مرحوم اعلیٰ خان افصح زاد کا حصہ قابلِ قدر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ کہا کہ ہم نے جامی کو ایران، افغانستان، تاجکستان اور دیگر مقامات میں ابھی تک درست طور پر نہیں پہچانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکادمیِ علومِ تاجکستان نے جامی کے چھ سو سالہ جشن کے موقع پر ‘آثارِ جامی’ کے نام سے چودہ جلدی کتاب نشر کے لیے آمادہ کی ہے۔ ان کتابوں میں حضرتِ جامی کے کتب و رسائل جمع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامی کے جملہ آثار کی ماہیت اُن کی انسان دوستی نے معیّن کی ہے:
ای که می‌پرسی بهترین کس کیست؟
گویم از قولِ بهترین کسان
بهترین کس کسی بوَد، که ز خلق
بیش باشد به خلق نفع‌رسان
دانشگاہِ ہرات کے استاد محمد داؤد منیر نے اپنی تقریر میں جامی کے اشعار پر محققوں کی جانب سے کی گئی داوری کے بارے میں گفتگو کی۔ موقع کی مناسبت سے انہوں نے غزلیاتِ جامی کے متعلق اپنی ہی نادر تحقیقات میں سے بھی کچھ حصے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔
افغانستان کے ایک جامی شناس محی الدین نظامی نے اپنی تقریر کے آغاز میں افغان شاعر استاد خلیل اللہ خلیلی کے مولانا جامی کی توصیف میں کہے گئے وہ اشعار پڑھے جو اُنہوں نے مولانا جامی کے پانچ سو پچاس سالہ جشن کے موقع پر لکھے تھے۔
پیغمبرانِ معنی روشن‌گرانِ فکرند
در هر کجا تپد دل باشد جهانِ جامی
ابرار سبحه سازند، احرار تحفه آرند
خاکِ مزارِ جامی، نقدِ روانِ جامی
برخاست بادِ شوقی از جانبِ سمرقند
کز بوی مشک‌بیزش شد زنده جانِ جامی
از غزنه تا بخارا وز وخش تا هرات است
هم جلوه‌گاهِ جامی، هم آشیانِ جامی
تجلیلِ این بزرگان تعظیمِ علم و فضل است
فرخنده باد این جشن بر پیروانِ جامی​
محفل کے اختتام پر حاضرین سفارت خانۂ افغانستان کے ایوانِ ‘ہفت اورنگ’ میں افغانستان کے چیرہ دست ہنرمند جناب شجاع محمد فقیری کی نمائش کے لیے پیش کردہ نقاشیوں سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

(منبع: تاجک اخبار ‘روزگار’)
خبر کی تاریخ: ۱۴ نومبر ۲۰۱۴ء


تاشقند میں مولانا جامی کا چھ سو سالہ جشن

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ۲۸ نومبر ۲۰۱۴ء کو مشرق زمین کے معروف و خوش کلام شاعر و مصنف مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک ادبی و ثقافتی محفل منعقد ہوئی۔ جمہوریۂ ازبکستان کے بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے اساسی ایوان میں برپا ہونے والی اس محفل میں اہلِ علم و ادب، شاعروں، نویسندوں، استادوں اور طالب علموں، اور ازبکستان میں مقیم تاجکستانی سفارت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس باشکوہ مجلس کے شرکاء نے تمدنِ انسانی کے خزینے میں اضافہ کرنے والے اور یادگار کے طور پر نیک نام چھوڑنے والے اس زبردست ادیب و عالم کی شائستہ خدمات کو بہت اہم بتلایا۔ عالمی ثقافت کی غنی سازی میں اور (اُن کے تربیتی و اخلاقی شاہکار ‘بہارستان’ کے حوالے سے) تربیتی مقاصد کی تشکیل میں اس نابغۂ سخن کے کردار کی بہت بلند درجے میں قدر دانی کی گئی۔ انسانِ کامل کے وصف میں اور مختلف طبقوں کے انسانوں کی منفعت کی خاطر تحریر شدہ مولانا عبدالرحمٰن جامی کی جملہ تالیفات، اور اسی طرح اعلیٰ دنیاوی اقدار – مثلاً انسان پروری، وطن دوستی، صادقانہ رفاقت، اور مختلف قوموں کے مابین ہم سازی و ہم بستگی – کی برقراری میں اس سخنور کے نقشِ شایاں کی شرح و تفسیر کی گئی۔ معاشرے کے مقدس ترین فرد ‘زنِ مادر’ کی فضیلت کے حامی ان شاعر کے آثارِ منظوم مندرجہ ذیل مصرعوں کے ہمراہ موردِ ستائش قرار پائے:
سر ز مادر مکش که تاجِ شرف
گردی از راهِ مادران باشد
خاک شو زیرِ پای او که بهشت
در قدمگاهِ مادران باشد
مکاتب کے بچوں نے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی گوناگوں نوعی اور مضامین سے پُر تصنیفات اور اُن کی گراں قدر تالیفات میں سے چند حصوں کی قرائت کی۔ ازبکستان کی معروف و ممتاز فارسی گو گلوکاراؤں منیرہ محمد اور گل چہرہ بقا نے اپنے دلنشین سرودوں سے محفل کو خاص شکوہ و رنگ بخشا۔
اسی طرح، مولانا عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے رواں سال ازبکستان میں ‘رسالۂ عروض’ اور ‘عبدالرحمٰن جامی‌نینگ ایجاد عالمی’ نامی کتابیں فارسی اور ازبکی زبانوں میں نشر ہوئیں، جن میں شاعروں، مصنفوں اور دیگر اہلِ علم و ثقافت کے مقالات جمع کیے گئے ہیں۔
ازبکستان میں تاجکستان کے سفیر مظفر حُسین نے دو برادر اقوام تاجکوں اور ازبکوں کے درمیان روایتی اور دوستانہ روابط کی برقراری میں اس گوہرشناس ادیب کے عالی کردار کی بھی بڑی قدر دانی کی۔ تاجکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی قدردانی پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے خصوصی طور پر تاجکستان کے صدر کی طرف سے ۲۰۱۴ء کے سالِ عبدالرحمٰن جامی کے طور پر اعلان کیے جانے کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی ملک میں اور ملک سے باہر اس سلسلے میں برپا کی جانے والی مختلف محافل اور کوششوں کا تاکیداً ذکر کیا۔ انہوں نے اس طرح کی مشترک علمی و ادبی محفلوں کو زمانے کے تقاضوں کا جوابدہ نام دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ ثقافتی نشستیں دو ہم جوار ملکوں کے لوگوں کو نزدیک کرتی ہیں اور ساتھ ہی دوجانبہ دوستانہ تعلقات کی استواری و ترویج کے راستے میں پُل کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔

(منبع: تاجک اخبار ‘خاور’)
خبر کی تاریخ: ۲ دسمبر ۲۰۱۴ء