سورۂ اخلاص کے پانچ منظوم فارسی ترجمے

سرآغازِ گفتار نامِ خداست
که رحمت‌گر و مهربان خلق راست
بگو او خدایی‌ست یکتا و بس
که هرگز ندارد نیازی به کس
نه زاد و نه زاییده شد آن اِلٰه
نه دارد شریکی خدا هیچ‌گاه
(امید مجد)

ترجمہ:
گفتار کی ابتدا و سرآغاز خدا کا نام ہے
جو خلق پر رحمت گر و مہربان ہے
کہو کہ وہ خدا یکتا ہے اور بس
کہ جسے ہرگز کسی کی نیاز نہیں ہے
نہ اُس اِلٰہ نے متوّلد کیا اور نہ وہ متولّد ہوا
نہ خدا کا ہرگز کوئی شریک ہے

———————-

به نامِ خداوندِ هر دو جهان
که بخشنده است و بسی مهربان
بگو (ای پیمبر به مخلوقِ ما)
بُوَد او به عالم یگانه خدا
خدایی که او را نباشد نیاز
(ولی دستِ هر کس به سویش دراز!)
نزاده‌ست و زاییده هرگز نشد
ورا هم شبیهی و همتا نبُد
(سید رِضا ابوالمعالی کرمانشاهی)

ترجمہ:
خداوندِ ہر دو جہاں کے نام سے
جو رحیم ہے اور بسے مہربان ہے
[اے پیغمبر! ہماری مخلوق سے] کہو
کہ وہ عالَم میں یگانہ خدا ہے
وہ خدا کہ جسے نیاز نہیں ہے
(لیکن ہر کسی کا دست اُس کی جانب دراز ہے!)
نہ اُس نے متولّد کیا ہے اور نہ وہ ہرگز متوّلد ہوا
اور اُس کا کوئی شبیہ و ہمتا بھی نہیں رہا

———————-

ابتدایِ سخن به نامِ خدا
مِهر‌وَرزنده و عطابخشا
گو خدایِ جهان بُوَد یکتا
و ندارد به کس نیاز خدا
او نه کس زاید و نه کس او را
و کسی نیست بهرِ او همتا
(شهاب تشکّری آرانی)

ترجمہ:
سُخن کی ابتدا خدا کے نام سے
[جو] مہربان اور عطا بخشنے والا [ہے]
کہو کہ خدائے جہاں یکتا ہے
اور خدا کو کسی سے نیاز نہیں ہے
وہ نہ کسی کو متولّد کرتا ہے اور نہ کوئی اُس کو
اور کوئی اُس کا ہمتا نہیں ہے

———————-

مى‌کنم گفتار را آغاز با نامِ خدا
آنکه بس بخشنده و هم مهربان باشد به ما
اى پیمبر گو بُوَد یکتا خداوندِ جهان
بى‌نیازِ مُطلق است آن ذاتِ یکتا بى‌گمان
که نه زاده و نه زاییده شده او هیچ‌گاه
و ندارد کُفْو و همتا هرگز آن یکتا اِلٰه
(صدّیقه روحانی ‘وفا’)

ترجمہ:
میں گفتار کا آغاز خدا کے نام سے کرتی ہوں
جو ہم پر بِسیار رحیم و مہربان ہے
اے پیغمبر! کہو کہ خداوندِ جہاں یکتا ہے
بے شک وہ ذاتِ یکتا بے نیازِ مُطلق ہے
کہ نہ اُس کی ہرگز کوئی اولاد ہے اور نہ وہ ہرگز متولّد ہوا ہے
اور اُس خدائے یکتا کا ہرگز کوئی مثل و ہمتا نہیں ہے

———————-

بگو: او هست اللهِ یگانه
خداوندی که او را حاجتش نه
نه‌اش زاده، نه زاد از فردِ دیگر
نه اور را هیچ کس همتا [و همسر]
(کرم خدا امینیان)

ترجمہ:
کہو: وہ خدائے یگانہ ہے
وہ خداوند کہ جسے حاجت نہیں ہے
نہ اُس کا کوئی زادہ ہے، نہ وہ کسی فردِ دیگر سے متولّد ہوا ہے
نہ کوئی اُس کا ہمتا و ہمسر ہے

× ‘همسر’ سے مراد ‘برابر و مساوی’ بھی ہو سکتا ہے، اور ‘زن و شوهر’ بھی۔

Advertisements

الحمد لواهب المکارم – محمد فضولی بغدادی (فارسی حمد و دعا + ترجمہ)

محمد فضولی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی مثنوی ‘لیلیٰ و مجنون’ کہنہ تُرکی ادبیات کی معروف ترین مثنوی ہے۔ جالبِ توجہ چیز یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی اُس تُرکی مثنوی کا کا آغاز فارسی حمد و دعا سے کیا ہے، اور تُرکی زبان میں حمد وہ اگلے باب میں لے کر آئے ہیں۔ زبانِ فارسی اور حضرتِ فضولی بغدادی کے تمام محبّوں کی خدمت میں وہ فارسی حمد ترجمے کے ساتھ پیش کر رہا ہوں۔

بو حضرتِ عزّت‌دن حمد ایله استمدادِ مطالب‌دیر و آثارِ شُکر ایله استدعایِ سترِ معایب‌دیر

الحَمدُ لِواهِبِ المکارِم
والشُّکرُ لِصاحِبِ المراحِم
وهُوَ الاَزَلیُّ فی البِدایه
وهُوَ الاَبَدیُّ فی النِهایه
قد شاعَ بِصُنعِهِ بیانُه
ما اعظمَ فی البقاءِ شأنُه
سبحان الله زهی خداوند
بی‌شِبه و شریک و مثل و مانند
مشّاطهٔ نوعَروسِ عالَم
گوهرکَشِ سِلکِ نسلِ آدم
صرّافِ جواهرِ حقایق
کشّافِ غوامضِ دقایق
پیداکُنِ هر نهان که باشد
پنهان‌کُنِ هر عیان که باشد
معمارِ بنایِ آفرینش
سیراب‌کُنِ ریاضِ بینش
یا رب مددی که دردمندم
آشفته و زار و مُستمندم
از فیضِ هنر خبر ندارم
جز بی‌هنری هنر ندارم
شُغلِ عجبی گرفته‌ام پیش
پیش و پسِ او تمام تشویش
سنگی‌ست به راهم اوفتاده
بحری‌ست مرا هراس داده
توفیقِ تواَم اگر نباشد
ور لطفِ تو ره‌بر نباشد
مشکل که در این گریوهٔ تنگ
لعلی بِدر آرم از دلِ سنگ
مشکل که مراد رخ نماید
زین بحر دُری به دستم آید
آن کن که دلم فروغ گیرد
لوحم رقمِ صفا پذیرد
آیینهٔ خاطرم شود پاک
روشن گردد چراغِ ادراک
قُفلِ درِ آرزو بِتابم
هر چیز طلب کنم بِیابم
بخشد به ریاضِ دولتم آب
ابرِ کرمِ رسول و اصحاب
(محمد فضولی بغدادی)

ترجمہ:
یہ حضرتِ خدائے بزرگوار سے حمد کے ساتھ حاجات کی مدد خواہی، اور شُکر کے ساتھ معائب کی سترپوشی کی استدعا ہے

تمام ستائشیں مکارم اور کرم عطا کرنے والی ذاتِ خدا کے لیے، اور تمام شُکر رحمتوں اور مہربانیوں کے مالک کے لیے ہیں۔ وہ ذات ابتداء کے لحاظ سے ازلی اور انتہا کے لحاظ سے ابدی ہے۔ اُس کی خالقیت و آفریدگاری سے اُس کا بیان جہان میں فراگیر ہوا ہے۔ بقا کے اعتبار سے اُس کی شان کتنی اعلٰی ہے! سبحان اللہ! زہے خداوند! جو بے شبیہ و بے شریک و بے مثل و مانند ہے۔ وہ عَروسِ عالَم کا آرائش گر ہے۔ وہ نسلِ آدم کے سِلک (دھاگے) میں گوہر پرونے والا ہے۔ وہ جواہرِ حقائق کا صرّاف ہے۔ وہ باریک نُکتوں کا کشّاف ہے۔ وہ ہر نہاں چیز کو ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ہر عیاں چیز کو پنہاں کرنے والا ہے۔ وہ عمارتِ آفرینش کا معمار ہے۔ وہ ریاضِ بینش و بصارت کا سیراب کُن ہے۔ یا رب ذرا مدد کرو کہ میں دردمند، آشفتہ، زار، اور ملول و پریشان ہوں۔ مجھے فیضِ ہنر کی خبر نہیں ہے۔ بجز بے ہنری میرے پاس کوئی ہنر نہیں ہے۔ میں نے ایک عجیب کار شروع کیا ہے، جس کے پیش و پس میں تشویش ہی تشویش ہے۔ یہ ایک سنگ ہے جو میری راہ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک بحر ہے جس نے مجھے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ اگر تمہاری توفیق مجھے نصیب نہ ہو، اور اگر تمہارا لطف میرا راہبر نہ ہو، تو مشکل ہے کہ میں اِس کوہِ تنگ میں سنگ کے دل سے کوئی لعل برآمد کر سکوں۔ اور مشکل ہے کہ میری مراد مجھے اپنا رُخ دکھائے، اور اِس بحر سے کوئی دُر میرے دست میں آ جائے۔ کچھ ایسا کرو کہ میرا دل تابندگی پا جائے، میری لوح پر پاکیزگی درج ہو جائے، میرا آئینۂ قلب و ذہن پاک ہو جائے، اور میرا چراغِ ادراک روشن ہو جائے۔ اور [جب] میں درِ آرزو کا قُفل گھماؤں تو جو بھی چیز طلب کرو‌‌ں اُسے حاصل کر لوں۔ اور میرے باغِ بخت پر رسول (ص) اور اصحاب (رض) کا ابرِ کرم آب برسائے۔
× فراگیر = ہر جگہ پھیلا ہوا

استدعایِ سترِ معایب‌

ایک نسخے میں ‘استدعایِ سترِ معایب’ کی بجائے ‘استتارِ معایب’ نظر آیا ہے جس کا ترجمہ ‘معائب کا اِخفاء’ ہے۔