ایران میں تُرکی زبان کی تدریس

شہرِ شیراز میں شائع ہوئی تُرکی کتاب ‘مأذون قاشقایې شعرلری’ (اشعارِ مأذون قشقایی) پر لکھے گئے پیش لفظ میں ایران سے تعلق رکھنے والے اسداللہ مردانی رحیمی لکھتے ہیں:
"رېضا شاه زامانېندا تۆرک دیلینیڭ ائڲیتیمی ایران‌دا یاساق‌لاندې. بو یاساق‌لېق سوڭراکې حۆکۆمت یعنې محممد رېضا شاه پهلوی دؤنه‌مینده ده دوام ائتدی. آما سۏنوندا یاخلاشېق ۵۴ ایل‌دن سۏڭرا ۱۹۷۹ده ایسلام دئویریمی سۏنوج‌لارېندان دۏلایې، بو باسقې تۆرک دیلی اۆستۆندن گؤتۆرۆلدۆ. بو تارېخانچا آنجاق هنۆز تۆرک دیلی، مدرسه‌لرده درس وئریل‌مه‌ییر و فقط تبریز دانېش‌گاهېندا تۆرک دیلی و ادبیاتې بیر ریشته اۏلاراق تدریس اۏلماق‌دادېر.”
ترجمہ:
"رِضا شاہ کے زمانے میں تُرکی زبان کی تعلیم و تدریس ایران میں ممنوع قرار دے دی گئی۔ یہ ممانعت بعد میں آنے والی حکومت یعنی محمد رِضا شاہ پہلوی کے دور میں بھی جاری رہی۔ لیکن بالآخر تقریباً ۵۴ سال بعد ۱۹۷۹ء میں اسلامی انقلاب کے نتائج کے باعث یہ فِشار تُرکی زبان پر سے اُٹھا لیا گیا۔ لیکن ہنوز اِس روز تک تُرکی زبان مکتبوں میں تدریس نہیں کی جاتی، اور صرف دانشگاہِ تبریز میں تُرکی زبان و ادبیات ایک شُعبے کے طور پر تدریس ہوتا ہے۔”

Advertisements