سروِ چمنِ سروری افتاد ز پا، های – میرزا اسدالله خان غالب دهلوی (فارسی نوحہ + اردو ترجمہ)

سروِ چمنِ سروری افتاد ز پا، های
شد غرقه به خون، پیکرِ شاهِ شهدا، های
بر خاکِ ره افتاده تنی هست، سرش کو؟
آن رویِ فروزنده و آن زلفِ دوتا، های
عباسِ دلاور که در آن راهروی داشت
شمشیر به یک دست و به یک دست لِوا، های
آن قاسمِ گلگون‌کفنِ عرصهٔ محشر
وان اکبرِ خونین‌تنِ میدانِ وغا، های
آ‌ن اصغرِ دل‌خستهٔ پیکانِ جگردوز
وان عابدِ غم‌دیدهٔ بی‌برگ و نوا، های
ای قوتِ بازویِ جگرگوشهٔ زهرا!
دستِ تو به شمشیر شد از شانه جدا، های
ای شهره به دامادی و شادی که نداری
کافور و کفن، بگذرم از عطر و قبا، های
ای مظهرِ انوار! که بود اهلِ نظر را
دیدارِ تو، دیدارِ شهِ هر دو سرا، های
ای گُلبُنِ نورُستهٔ گلزارِ سیادت!
نایافته در باغِ جهان نشو و نما، های
ای منبعِ آن هشت که آرایشِ خلدند!
داغم، که رسن شد به گلویِ تو ردا، های
بالغ‌نظرانِ روشِ دینِ نبی، حیف
قدسی‌گهرانِ حرمِ شیرِ خدا، های
ماتم‌کده آن خیمهٔ غارت‌زدگان، حیف
غارت‌زده آن قافلهٔ آلِ عبا، های
آن تابشِ خورشید در آن گرم‌روی، حیف
وان طعنهٔ کفار در آن شورِ عزا، های
غالب! به ملایک نتوان گشت هم‌آواز
اندازهٔ آن کو که شوم نوحه‌سرا، های
(غالب دهلوی)

ترجمہ:
چمنِ سروری کا سرو زمین پر گر گیا، ہائے!۔۔۔ شاہِ شہدا کا پیکر خون میں غرق ہو گیا، ہائے!
خاکِ راہ پر ایک تنِ افتادہ موجود ہے، اُس کا سر کہاں ہے؟۔۔۔ ہائے، وہ فروزندہ چہرہ اور وہ زلفِ دوتا، ہائے!
ہائے وہ عباسِ دلاور کہ اُس سفر میں جس کے ایک دست میں شمشیر اور ایک دست میں پرچم تھا، ہائے!
وہ عرصۂ محشر کا گلگوں کفن قاسم، اور وہ میدانِ وغا کا خونیں تن اکبر، ہائے!
وہ جگردوز تیر سے دل خستہ اصغر، اور وہ غم دیدہ و بے برگ و نوا عابد، ہائے!
اے جگرگوشۂ زہرا کے قوتِ بازو! شمشیر سے تمہارا دست شانے سے جدا ہو گیا، ہائے!
اے دامادی و شادی کے باعث مشہور! کہ تمہارے پاس عطر و قبا تو دور، کافور و کفن بھی نہیں ہے، ہائے!
اے مظہر انوار! کہ آپ کا دیدار اہلِ نظر کے لیے شہِ ہر دو سرا کا دیدار تھا، ہائے!
اے گلزارِ سیادت کے گُلبُنِ نورُستہ! اے کہ جسے باغِ جہاں میں نشو و نما نہ ملی، ہائے!
اے اُن آٹھ [امامو‌‌ں] کے منبع، کہ جو آرائشِ خلد ہیں!۔۔۔ میں اِس غم سے داغ ہوں کہ رسن آپ کے گلو میں ردا بن گئی، ہائے!
روشِ دینِ نبی کے بالغ نظراں، حیف!۔۔۔۔ حرمِ شیرِ خدا کے قدسی گُہراں، ہائے!
غارت زدگاں کا خیمہ ماتم کدہ بن گیا، حیف!۔۔۔ وہ قافلۂ آلِ عبا غارت زدہ ہو گیا، ہائے!
اُس گرم رَوی میں وہ تابشِ خورشید، حیف!۔۔۔ اور اُس شورِ عزا میں وہ طعنۂ کفار، ہائے!
اے غالب! فرشتوں کا ہم آواز نہیں ہوا جا سکتا۔۔۔ اتنا مرتبہ و حد کہاں کہ میں نوحہ سرا ہو جاؤں، ہائے!

Advertisements

تاریخِ وفاتِ مرزا اسدالله خان غالب دهلوی – منیر شکوه‌آبادی

آن غالبِ دهلوی کلیمِ دوران!
سلطانِ سخن غلامِ آلِ یٰسین
در نظمِ زبانِ فارسی نامیِ دهر
در نثر به مسندِ افاداتِ مکین
برداشته رَخت ازین سرای فانی
یا رب برسانیش به فردوسِ برین
دنیاست سیه به دیدهٔ اهلِ سخن
در برجِ لحد چو رفت آن مِهرِ مبین
تاریخ وفاتِ او چنین گفت منیر
آه افصحِ عصر و حیف ثانیِ حزین
۱۲۸۵ه

(منیر شکوه‌آبادی)

ترجمہ:
وہ غالبِ دہلوی، وہ کلیمِ دوراں؛ سلطانِ سخن، غلامِ آلِ محمد؛ نظمِ زبانِ فارسی میں مشہورِ زمانہ؛ نثر میں ارشاداتِ ‘مکین’ کی مسند پر؛ اُس نے اِس سرائے فانی سے رختِ سفر باندھ لیا ہے؛ یا رب! اُسے فردوسِ بریں میں پہنچا دینا؛ وہ مِہرِ مبیں جب سے برجِ لحد میں گیا ہے، اہلِ سخن کے دیدوں میں دنیا سیاہ ہے؛ ‘منیر’ نے اُس کی تاریخِ وفات یوں کہی: ‘آہ افصحِ عصر و حیف ثانیِ حزین!’


میں فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیوں کرتا ہوں؟

جب اردو محفل پر ایک محترم دوست نے یہ رائے دی کہ مجھے ‘پس ازاں’ کی بجائے اردو میں رائج تر ترکیب ‘بعد ازاں’ کا استعمال کرنا چاہیے تو میں نے جواب میں یہ لکھا تھا:

برادرِ بزرگ و گرامیِ من!
خیالات کی ایک رَو آج مسلسل میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی جسے اب میں آپ کی خدمت میں بصد نیاز عرض کر رہا ہوں۔ جب انگریزی، ہندی، مراٹھی، اور معلوم نہیں کن کن زبانوں کے الفاظ کی زبانِ اردوئے معلٌیٰ پر یلغار جاری ہے اور اس زبانِ عالی وقار کا جمال روز بہ روز کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے تو در ایں حال میرے فارسی الفاظ و ترکیبات کے اردو میں مجاہدانہ استعمال کو مستحسن بات ماننی چاہیے کہ میرا اس سے قصد صرف اپنی زبان کو دوبارہ اورنگِ علو پر متمکن کرنا ہے۔ ہمارے مستند اور کوثر و تسنیم سے شستہ زبان میں تحریر و تصنیف کرنے والے اردو نویس ادبی اسلاف نے تاریخ کے کسی دور میں بھی فارسی (اور عربی) الفاظ پر در بند نہیں رکھا اور نہ اُنہیں اردو سے جدا ہی مانا اور جس فارسی لفظ کو مناسب سمجھا اور جس وقت بھی مناسب سمجھا اُسے اپنی تحریر کی زیب و زینت بنایا۔ مثلاً غالب اور اقبال نے (خدا ان دونوں اور ان جیسے تمام فارسی دوست مرحومین پر رحمت نازل کرے) متعدد ایسے فارسی الفاظ و تراکیب کا استعمال کیا ہے جو اُن سے قبل کسی نے استعمال نہیں کیے تھے۔ بعد میں وہی نفیس الفاظ ہماری معیاری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ اور آج ہم اپنی جس زبان پر ناز کرتے ہیں وہ انہیں جیسے ذی شعور و ذی شان ادباء کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور انہیں کی ساختہ ادبی زبان کو آج مثالی تصور کیا جاتا ہے۔
میرے لیے اردو صرف ابلاغ کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ یہ میری شناخت کا ایک جزء اور میرے اسلاف کی مجروح میراث بھی ہے، جسے میں التیام دے کر اپنی آیندہ نسلوں کے سپرد کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ اپنی زبان کی زشتی سے قے، اس کی زبوں حالی پر افسوس، اور اس کی کم مایگی پر آہِ حسرت کرنے کی بجائے زبانِ اردوئے معلٌیٰ کی ملکیت اور اس سے وابستگی پر فخر کر سکیں۔ اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اردو میری انفرادی و ملی شناخت کا بھی جزء ہے لہٰذا ایسی شخصی زبان کی ساخت بھی ہمیشہ میرے پیش نظر رہتی ہے جس میں میری انفرادی و ملی شناخت بخوبی منعکس ہو سکے۔ چونکہ فارسی ہمارے ادبی اسلاف، از جملہ خسرو، بیدل، فیضی، واقف، آرزو، غالب، ذوق، ناسخ، اقبال، شاہ ولی اللہ، انیس، دبیر، ولی، حالی، مولانا محمد حسین آزاد، شبلی نعمانی وغیرہم کی ادبی و تمدنی و قلبی زبان رہی ہے، اور چونکہ میں خود اس زبانِ شیریں اور اس کے کہنہ ادب کو عزیز از جان رکھتا ہوں، اس لیے میں نے ایک لحظہ بھی فارسی الفاظ و تراکیب کی نسبت بیگانگی کا احساس نہیں کیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جب سے لکھنا شروع کیا ہے میں نے فارسی الفاظ سے ہرگز امتناع نہیں کیا اور میں اسی اصول پر عمل پیرا رہا ہوں کہ فارسی زبان کے ہر لفظ کا استعمال اردو میں جائز بلکہ بعض اوقات نیکوتر ہے۔ اردو کے عہدِ طلائی کے ادباء و شعراء کا یہی شیوہ تھا اور میں اُن کے وارث اور شاگرد کے طور پر اسی روش پر کاربند رہتا آیا ہوں۔
میں اگر آج ‘پس ازاں‘ جیسی کوئی ترکیب استعمال کرتا ہوں تو اس امید کے ہمراہ کرتا ہوں کہ ایامِ آتیہ میں یہ معیاری ادبی زبان کا حصہ بن کر اردو کی پُرمایگی و زیبائی کا سبب بنے گی۔
با کمالِ محبت و خلوص و احترام!
والسلام مع الاکرام!


فارسی فقط ایرانی شیعوں کی زبان نہیں ہے

جب میں نے اردو محفل پر ایک جگہ دیکھا کہ فارسی زبان کو فقط ایرانی شیعوں سے مخصوص کیا جا رہا ہے تو جواب میں یہ لکھا تھا:

زبانِ فارسی کا تعلق صرف ایران سے نہیں ہے، بلکہ افغانستان اور تاجکستان کی بھی یہ سرکاری زبان ہے۔ خود ایران میں بھی صرف فارسی بولنے والی نہیں بستے، بلکہ وہ بھی ایک کثیر اللسانی ملک ہے اور وہاں ترکی، کردی، عربی، مازندرانی، گیلکی، لُری، بلوچی وغیرہ درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ایران میں ترکی زبان بولنے والوں کی تعداد ہی تیس فیصد کے نزدیک ہے۔
فارسی زبان کو ایرانی شیعوں تک محدود کرنا بھی سخت ناانصافی ہے۔ ایران میں صفویوں کے – جو در حقیقت خود ترک تھے – اقتدار پر آنے سے قبل پورے فارسی گو اور فارسی زدہ خطے میں صرف ناصر خسرو اور فردوسی ہی ایسے دو بزرگ فارسی شعرا گذرے ہیں جو شیعہ تھے – ناصر خسرو بھی اثناعشری نہیں بلکہ فاطمی اسماعیلی تھے۔ اِن کے علاوہ حافظ، سعدی، رومی، امیر خسرو، جامی وغیرہ سمیت سارے فارسی گو شعراء اہلِ سنت و جماعت تھے۔ فارسی زبان اپنی ادبی شکل کی ابتداء کے لیے جن ماوراءالنہری سامانی امیروں کی مرہونِ منت ہے وہ بھی راسخ الاعتقاد سنی مسلمان تھے اور فارسی کو اطراف و اکناف میں پھیلانے اور رائج کرنے والے غزنوی، مغل، تیموری، سلجوق، تغلق، غوری، خوارزمی، آصف شاہی، عثمانی، شیبانی، منغیت وغیرہ شاہی سلسلے سب کے سب حنفی اہلِ سنت مذہب کے حامل تھے۔ ماوراءالنہر ایک ہزار سال تک فارسی زبان و ادب کا مرکز رہا ہے اور وہاں کے تاجک اور ازبک صدیوں سے اس زبان کو اپنی حیات کا جز بنائے ہوئے ہیں لیکن یہی ماوراءالنہر کا فارسی خطہ ساتھ ہی ایک ہزار سال تک حنفی سنی مذہب کا بھی مرکز اور درس گاہ رہا ہے جس کی وجہ سے مرزا غالب نے بھی ایک رباعی میں کہا تھا: ‘شیعی کیونکر ہو ماوراءالنہری’۔۔۔
اگر ایرانیوں کی زبان ہونے کی وجہ سے فارسی صرف ایرانی شیعوں کی زبان سمجھی جانے لگی ہے تو پھر افغانستان اور تاجکستان کے مردم فارسی گو کیوں ہیں اور حامد کرزئی اور اشرف غنی فارسی میں تقریریں کیوں کرتے ہیں؟ میں خود ایک غیر ایرانی پاکستانی سنی ہوں، لیکن میں فارسی زبان و ادب و تمدن کا عاشقِ والہ و صادق ہوں اور اِسے اپنے اسلاف کی جاودانی میراث سمجھتا ہوں۔
نیز، دنیا بھر کے تمام شیعوں کو فارسی زبان سے لاینفک طور پر منسلک کرنا بھی قطعاً نادرست ہے۔ آذربائجان اور اناطولیہ کے شیعہ ترکی گو ہیں، حالانکہ ترکی عثمانی خلافت کی سرکاری و درباری زبان تھی؛ اور عراق، بحرین اور لُبنان کے سب شیعہ عربی بولتے ہیں، اور یہ تو واضح ہی ہے کہ عربی زبان اموی اور عباسی خلافتوں کی سرکاری زبان تھی۔ پاکستان میں بھی شیعہ فارسی نہیں بلکہ اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو سمیت دوسری کئی زبانیں بولتے ہیں اور عالموں اور محققوں کو چھوڑ کر پاکستانی شیعہ آبادی فارسی سے نابلد ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ فارسی ایرانیوں کی زبان ضرور ہے، لیکن یہ صرف اُن ہی کی زبان نہیں ہے بلکہ دو اور (سنی اکثریت) ملک ایسے ہیں جو فارسی کو اپنی زبان مانتے ہیں۔